اقوامِ متحدہ کے 81 سال، عالمی امن، انصاف اور انسانی حقوق کا سفر،تحریر: کاشف خان
نقطہ نظر
دنیا کی تاریخ جنگوں، تباہی، انسانی المیوں اور طاقت کی کشمکش سے بھری پڑی ہے۔ انسان نے ترقی کے نام پر بلند عمارتیں تعمیر کیں، سائنس کے میدان میں حیرت انگیز کامیابیاں حاصل کیں، چاند تک رسائی ممکن بنائی اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے فاصلے سمیٹ دیے، لیکن اس کے باوجود آج بھی دنیا کے مختلف خطوں میں انسان امن، انصاف اور بنیادی حقوق کے حصول کے لیے جدوجہد کر رہا ہے۔ یہی وہ تلخ حقیقت ہے جو ہمیں اقوامِ متحدہ کے قیام کے مقاصد پر دوبارہ غور کرنے کی دعوت دیتی ہے۔
24 اکتوبر 1945 کو اقوامِ متحدہ کا قیام عمل میں آیا۔ دوسری عالمی جنگ کی ہولناکیوں نے دنیا کو یہ احساس دلایا کہ اگر قومیں باہمی اختلافات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کے بجائے جنگ کا راستہ اختیار کرتی رہیں تو انسانیت کا مستقبل ہمیشہ خطرات سے دوچار رہے گا۔ اقوامِ متحدہ کے قیام کا بنیادی مقصد عالمی امن و سلامتی کو برقرار رکھنا، قوموں کے درمیان دوستانہ تعلقات کو فروغ دینا، انسانی حقوق کا تحفظ اور عالمی مسائل کے حل کے لیے مشترکہ کوششوں کو ممکن بنانا تھا۔ 24 اکتوبر 2026 کو اس عالمی ادارے کے قیام کو 81 سال مکمل ہو چکے ہیں۔ یہ سفر کامیابیوں، مشکلات، امیدوں اور کئی اہم سوالات پر مشتمل ہے۔
اقوامِ متحدہ نے اپنے قیام سے لے کر آج تک دنیا میں امن کے قیام، انسانی امداد، صحت، تعلیم، بچوں کے حقوق، پناہ گزینوں کی مدد اور غربت کے خاتمے کے لیے مختلف سطحوں پر کردار ادا کیا ہے۔ اس کے ذیلی اداروں نے قدرتی آفات، جنگوں اور انسانی بحرانوں سے متاثرہ لاکھوں افراد تک امداد پہنچانے میں حصہ لیا۔ عالمی سطح پر بچوں کی تعلیم، خواتین کے حقوق، صحت عامہ اور پائیدار ترقی کے لیے بھی اہم اقدامات کیے گئے۔ ان کوششوں کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ دنیا کے کئی کمزور طبقات کے لیے بین الاقوامی تعاون امید کی ایک اہم کرن ثابت ہوا ہے۔
تاہم سوال یہ ہے کہ کیا 81 سال بعد دنیا واقعی اس امن کے قریب پہنچ چکی ہے جس کا خواب اقوامِ متحدہ کے بانیوں نے دیکھا تھا؟ کیا جنگوں کا خاتمہ ہو چکا ہے؟ کیا طاقتور اور کمزور ریاستوں کے لیے انصاف کے پیمانے یکساں ہیں؟ کیا انسانی حقوق کے عالمی اصول ہر خطے میں یکساں طور پر نافذ ہوتے ہیں؟ ان سوالات کے جواب تلاش کیے بغیر اقوامِ متحدہ کی حقیقی کامیابیوں کا جائزہ مکمل نہیں ہو سکتا۔
آج بھی دنیا کے مختلف حصوں میں مسلح تنازعات، بے گھر خاندانوں، بھوک، غربت اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے واقعات سامنے آتے رہتے ہیں۔ فلسطین سمیت متعدد تنازعات نے عالمی برادری کے سامنے سنگین انسانی اور اخلاقی سوالات کھڑے کیے ہیں۔ جنگوں میں سب سے زیادہ قیمت عام شہری ادا کرتے ہیں۔ بچے تعلیم سے محروم ہوتے ہیں، مائیں اپنے پیاروں کو کھو دیتی ہیں، خاندان اپنے گھروں سے بے دخل ہو جاتے ہیں اور کئی نسلیں خوف اور عدم تحفظ کے ماحول میں پروان چڑھتی ہیں۔ ایسے حالات میں عالمی اداروں کی ذمہ داری صرف بیانات جاری کرنا نہیں بلکہ انسانی جانوں کے تحفظ، امداد کی فراہمی اور بین الاقوامی قوانین کے احترام کے لیے مؤثر اقدامات کرنا بھی ہے۔
اقوامِ متحدہ کے نظام میں سلامتی کونسل کو عالمی امن و سلامتی برقرار رکھنے کی خصوصی ذمہ داری حاصل ہے، لیکن اس کے مستقل ارکان کو حاصل ویٹو کا اختیار بعض اوقات اہم فیصلوں کی راہ میں رکاوٹ بن جاتا ہے۔ جب کسی بڑے انسانی بحران پر عالمی برادری متفقہ اور مؤثر اقدام کرنے میں ناکام رہتی ہے تو عام انسان کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا عالمی انصاف واقعی سب کے لیے برابر ہے؟ اسی لیے اقوامِ متحدہ کے نظام میں اصلاحات، شفافیت اور جواب دہی کی ضرورت پر سنجیدگی سے غور کیا جانا چاہیے، تاکہ یہ ادارہ بدلتی ہوئی دنیا کے تقاضوں کے مطابق زیادہ مؤثر کردار ادا کر سکے۔
انسانی حقوق کا تحفظ بھی اقوامِ متحدہ کے بنیادی مقاصد میں شامل ہے۔ 10 دسمبر 1948 کو منظور ہونے والا انسانی حقوق کا عالمی اعلامیہ اس تصور کی علامت ہے کہ ہر انسان عزت، آزادی اور مساوی حقوق کا مستحق ہے۔ کسی شخص کے حقوق اس کے مذہب، نسل، زبان، رنگ، جنس یا معاشی حیثیت کی بنیاد پر کم نہیں کیے جا سکتے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ دنیا کے کئی معاشروں میں آج بھی مذہبی امتیاز، نسلی تعصب، خواتین کے ساتھ ناانصافی، بچوں سے مشقت اور غریبوں کے استحصال جیسے مسائل موجود ہیں۔ انسانی حقوق کے اصول اسی وقت بامعنی ثابت ہوں گے جب ان کا اطلاق محض دستاویزات تک محدود نہ رہے بلکہ عملی زندگی میں بھی نظر آئے۔
پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کے لیے اقوامِ متحدہ اور اس کے اداروں کا کردار خاص اہمیت رکھتا ہے۔ تعلیم، صحت، موسمیاتی تبدیلی، قدرتی آفات سے نمٹنے، پناہ گزینوں کی مدد اور پائیدار ترقی جیسے شعبوں میں بین الاقوامی تعاون قومی ترقی میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔ پاکستان سمیت تمام ممالک کو بھی چاہیے کہ وہ انسانی حقوق کے تحفظ، قانون کی حکمرانی، اقلیتوں کے احترام، تعلیم کے فروغ اور سماجی انصاف کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری کریں۔ عالمی امن صرف بین الاقوامی اداروں کی کوششوں سے قائم نہیں ہو سکتا؛ اس کے لیے ہر ریاست، ہر معاشرے اور ہر شہری کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
میرا یقین ہے کہ امن محض جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ ایک ایسا ماحول ہے جہاں انسان کو خوف کے بغیر جینے، عزت کے ساتھ روزگار حاصل کرنے، معیاری تعلیم پانے اور انصاف تک رسائی کا موقع میسر ہو۔ اگر کسی معاشرے میں بھوک، ناانصافی، نفرت اور محرومی عام ہو تو وہاں پائیدار امن کا خواب ادھورا رہتا ہے۔ اسی طرح عالمی امن کے لیے ضروری ہے کہ قومیں اختلافات کے باوجود ایک دوسرے کے وجود کا احترام کریں، مذاکرات کو ترجیح دیں اور انسانی جان کو سیاسی مفادات سے بالاتر سمجھیں۔
اقوامِ متحدہ کے 81 سال ہمیں یہ پیغام دیتے ہیں کہ عالمی امن ایک مسلسل جدوجہد ہے۔ اس ادارے کی کامیابی صرف اس کی عمر یا قراردادوں کی تعداد سے نہیں بلکہ اس بات سے ناپی جانی چاہیے کہ اس کی کوششوں سے کتنے انسانوں کی زندگیاں محفوظ ہوئیں، کتنے مظلوموں کو انصاف ملا اور کتنے تنازعات کو تباہ کن جنگوں میں تبدیل ہونے سے روکا گیا۔
آج دنیا کو نئے نعروں سے زیادہ عملی اقدامات، الزام تراشی سے زیادہ مکالمے اور طاقت کے مظاہرے سے زیادہ انصاف کی ضرورت ہے۔ اگر عالمی رہنما واقعی امن کے خواہاں ہیں تو انہیں اپنے مفادات سے بلند ہو کر انسانیت کے مشترکہ مستقبل کے بارے میں سوچنا ہوگا۔
اقوامِ متحدہ کے 81 سالہ سفر کا اصل سبق یہی ہے کہ امن کسی ایک ملک، قوم یا ادارے کی ذمہ داری نہیں بلکہ پوری انسانیت کا مشترکہ فرض ہے۔ ایک منصفانہ دنیا کی تعمیر اسی وقت ممکن ہے جب طاقتور کمزور کے حق کو تسلیم کرے، اختلاف کو دشمنی نہ بنایا جائے اور ہر انسان کی زندگی کو یکساں اہمیت دی جائے۔
مزید پڑھیں





