تعلیم کی زبان یا زبان کی تعلیم؟تحریر: مریم خان
نقطہ نظر
ہمارے تعلیمی نظام نے ترقی کی ایک عجیب تعریف وضع کر لی ہے۔ اب بچے کی ذہانت کا اندازہ اس کے علم، مشاہدے یا سوچنے کی صلاحیت سے نہیں بلکہ اس بات سے لگایا جاتا ہے کہ وہ انگریزی کتنی روانی سے بولتا ہے۔ بچہ اگر انگریزی میں دو چار جملے بول دے تو والدین خوشی سے پھولے نہیں سماتے اور اگر وہ اپنی قومی زبان میں کوئی خوبصورت خیال پیش کرے تو اسے معمولی بات سمجھ کر نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔ گویا علم کی پہچان بدل گئی ہے۔ اب ذہانت کا تعلق دماغ سے کم اور زبان سے زیادہ جوڑ دیا گیا ہے۔
کبھی تعلیم کا مقصد انسان کو باشعور بنانا، اس کی شخصیت سنوارنا اور اسے معاشرے کا مفید فرد بنانا سمجھا جاتا تھا۔ آج تعلیم کا تصور بڑی حد تک اچھے اسکول، مہنگی فیس، انگریزی نصاب، نمایاں نمبروں اور اعلیٰ ڈگریوں تک محدود ہوتا جا رہا ہے۔ والدین اپنی استطاعت سے بڑھ کر بچوں کو ایسے اداروں میں داخل کرواتے ہیں جہاں انگریزی بولنے کا ماحول ہو۔ یہ خواہش اپنی جگہ درست ہے کہ بچے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہوں لیکن اس دوڑ میں ہم یہ بھولتے جا رہے ہیں کہ زبان علم حاصل کرنے کا ذریعہ ہے، علم کا متبادل نہیں۔
ہمارے معاشرے میں انگریزی کو محض ایک زبان نہیں بلکہ سماجی برتری کی علامت بنا دیا گیا ہے۔ ایک بچہ اگر اردو میں بہترین انداز سے گفتگو کرے تو اس کی بات کو اتنی اہمیت نہیں دی جاتی جتنی کسی دوسرے بچے کی ٹوٹی پھوٹی انگریزی کو مل جاتی ہے۔ بعض اوقات محسوس ہوتا ہے کہ ہم بچے کی قابلیت نہیں بلکہ اس کے لہجے سے متاثر ہوتے ہیں۔ یہی رویہ آہستہ آہستہ بچوں میں احساسِ کمتری پیدا کرتا ہے۔ وہ اپنی زبان میں بات کرتے ہوئے جھجکتے ہیں اور انگریزی بولنے کو اپنی شخصیت کی کامیابی سمجھنے لگتے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ہم بچوں کو انگریزی سکھانے کے لیے تو بے شمار وسائل خرچ کرتے ہیں لیکن انہیں اپنی زبان سے محبت اور اس میں اظہار کا سلیقہ سکھانے کے لیے اتنی توجہ نہیں دیتے۔ کئی تعلیمی اداروں میں اردو محض ایک لازمی مضمون کی حیثیت رکھتی ہے۔ بچے امتحان کے لیے سوالات یاد کرتے ہیں، تشریحات رٹتے ہیں اور اچھے نمبر حاصل کر لیتے ہیں مگر جب انہیں اپنے خیالات پر چند سطریں لکھنے کو کہا جائے تو الفاظ ساتھ چھوڑ دیتے ہیں۔ یہ صورتِ حال صرف اردو تک محدود نہیں بلکہ ہمارے مجموعی تدریسی طریقے کی کمزوری بھی ظاہر کرتی ہے۔
اردو ہماری قومی زبان ہے اور اس کا ایک وسیع ادبی، تہذیبی اور فکری سرمایہ موجود ہے۔ اس زبان نے ہمیں غالب، اقبال، پریم چند، منٹو، عصمت چغتائی اور بے شمار ایسے ادیب دیے جنہوں نے انسانی زندگی کے مختلف پہلوؤں کو اپنے قلم سے محفوظ کیا۔ افسوس کہ نئی نسل کا ایک حصہ ان ناموں سے تو واقف ہے مگر ان کی تخلیقات پڑھنے کی عادت سے محروم ہوتا جا رہا ہے۔ ہم بچوں کو انگریزی الفاظ کے ہجے درست کروانے میں مصروف ہیں لیکن اردو کے محاورے، روزمرہ اور الفاظ کی لطافت ان کی گفتگو سے غائب ہوتی جا رہی ہے۔
یہاں سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ آخر ہم انگریزی سے اتنے مرعوب کیوں ہیں؟ کیا اس کی وجہ صرف عالمی ضرورت ہے یا ہمارے معاشرے میں قائم وہ طبقاتی تقسیم بھی ہے جس نے زبان کو عزت اور حیثیت کا پیمانہ بنا دیا ہے؟ ایک ہی شہر میں ایسے اسکول موجود ہیں جہاں بچوں کو جدید سہولتیں، تربیت یافتہ اساتذہ اور معیاری تعلیمی ماحول میسر ہے جبکہ دوسری طرف بہت سے سرکاری ادارے بنیادی سہولتوں اور تدریسی وسائل کی کمی کا سامنا کر رہے ہیں۔ اس فرق نے تعلیم کو یکساں مواقع فراہم کرنے کے بجائے بعض اوقات معاشرتی فاصلے مزید بڑھانے کا ذریعہ بنا دیا ہے۔
اس سے بھی زیادہ تشویش ناک بات یہ ہے کہ ہمارا نظام بچوں کو سوال کرنا کم اور جواب یاد کرنا زیادہ سکھاتا ہے۔ امتحانی کامیابی کو ذہانت کا حتمی ثبوت سمجھ لیا گیا ہے۔ ایک طالب علم کتاب کے کئی صفحات زبانی سنا سکتا ہے مگر کسی مسئلے پر اپنی رائے دینے میں دشواری محسوس کرتا ہے۔ اسے بتایا جاتا ہے کہ کیا لکھنا ہے لیکن یہ نہیں سکھایا جاتا کہ کیوں لکھنا ہے اور کیسے سوچنا ہے۔ یوں تعلیم کا سفر معلومات جمع کرنے تک محدود رہ جاتا ہے جبکہ شعور کی منزل کہیں پیچھے رہ جاتی ہے۔
تعلیم کا ایک بنیادی مقصد انسان کو اپنی ذات، اپنے معاشرے اور اپنے ماحول سے جوڑنا بھی ہے۔ جب بچہ اپنی زبان میں کسی تصور کو اچھی طرح سمجھتا ہے تو اس کے لیے سوال کرنا اور اپنی رائے قائم کرنا آسان ہو سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ابتدائی تعلیم میں بچے کی مانوس زبان کی اہمیت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان جیسے کثیراللسانی ملک میں یہ حقیقت مزید اہم ہو جاتی ہے جہاں بہت سے بچوں کی مادری زبان اردو نہیں بلکہ پشتو، پنجابی، سندھی، بلوچی، سرائیکی یا کوئی دوسری علاقائی زبان ہے۔ ہمیں اردو کے فروغ کے ساتھ ان زبانوں کی اہمیت کو بھی تسلیم کرنا ہوگا۔
اس کا ہرگز مطلب نہیں کہ انگریزی کی ضرورت ختم کر دی جائے۔ موجودہ دور میں انگریزی سائنس، ٹیکنالوجی، تحقیق اور بین الاقوامی روابط کے لیے ایک اہم ذریعہ ہے۔ ہمارے بچوں کو اس زبان میں بھی مہارت حاصل کرنی چاہیے تاکہ وہ عالمی سطح پر اپنی صلاحیتوں کا اظہار کر سکیں۔ اصل مسئلہ انگریزی سیکھنا نہیں بلکہ انگریزی کو علم اور ذہانت کا واحد معیار سمجھنا ہے۔ زبانیں انسان کی فکری دنیا کو وسیع کرتی ہیں، بشرطیکہ ہم انہیں برتری اور کمتری کی علامت نہ بنائیں۔
ہمیں اپنے نصاب اور تدریسی طریقوں پر بھی سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا۔ اردو کی کتابوں میں صرف سبق، خلاصے اور تشریحات شامل کر دینا کافی نہیں۔ بچوں کو آزادانہ مطالعے، تخلیقی تحریر، تقریر، مکالمے اور کہانی سنانے کے مواقع ملنے چاہییں۔ انہیں کتاب سے محبت سکھائی جائے، نہ کہ صرف امتحان میں آنے والے سوالات سے۔ اسکولوں میں ایسی لائبریریاں ہوں جہاں اردو اور دوسری زبانوں کی معیاری کتابیں دستیاب ہوں۔ اساتذہ کی تربیت پر توجہ دی جائے تاکہ وہ بچوں کو الفاظ یاد کروانے کے ساتھ ان الفاظ میں پوشیدہ مفہوم بھی سمجھا سکیں۔
ایک اور اہم پہلو والدین کا کردار ہے۔ ہم بچوں سے انگریزی میں گفتگو کرنے کی خواہش تو رکھتے ہیں لیکن کتنے گھروں میں انہیں اردو کی کہانیاں سنائی جاتی ہیں؟ کتنے والدین بچوں کے ساتھ بیٹھ کر کوئی اچھی کتاب پڑھتے ہیں؟ کتنے گھروں میں مطالعہ روزمرہ زندگی کا حصہ ہے؟ جب گھر میں کتاب کی جگہ صرف موبائل اور گفتگو کی جگہ مختصر پیغامات لے لیں تو زبان اور اظہار دونوں متاثر ہوتے ہیں۔ اس لیے تعلیمی اصلاحات صرف اداروں تک محدود نہیں رہ سکتیں۔ گھر کے ماحول میں بھی مطالعے اور بامعنی گفتگو کو جگہ دینا ہوگی۔
ہمیں یہ حقیقت تسلیم کرنی چاہیے کہ اچھی انگریزی بولنے والا ہر شخص لازماً صاحبِ علم نہیں ہوتا اور اردو یا کسی علاقائی زبان میں گفتگو کرنے والا شخص کم علم نہیں ہوتا۔ علم کی پہچان انسان کی سمجھ، دلیل، کردار اور مسائل حل کرنے کی صلاحیت سے ہوتی ہے۔ اگر ہماری تعلیم بچوں میں اعتماد، تجسس، برداشت اور تخلیقی سوچ پیدا نہیں کر رہی تو محض زبان کی تبدیلی سے اس کا معیار بلند نہیں ہو سکتا۔
تعلیم کو زبانوں کی جنگ بنانے کے بجائے ہمیں ایسا نظام تشکیل دینا چاہیے جس میں انگریزی عالمی رابطے کا ذریعہ ہو، اردو قومی سطح پر علمی و تہذیبی اظہار کی مضبوط زبان بنے اور مادری زبانیں بچے کی ابتدائی فکری نشوونما میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔ اس کے ساتھ سائنسی تعلیم، تحقیق، عملی مہارت اور اخلاقی تربیت کو بھی یکساں اہمیت دینا ہوگی۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے بچوں کے بستوں کا وزن بڑھانے کے بجائے ان کی سوچ کا دائرہ وسیع کریں۔ انہیں صرف امتحان پاس کرنا نہیں بلکہ زندگی کو سمجھنا سکھائیں۔ انہیں یہ اعتماد دیں کہ وہ کسی بھی زبان میں سوال کر سکتے ہیں، اپنی رائے پیش کر سکتے ہیں اور علم کی دنیا میں آگے بڑھ سکتے ہیں۔
آخر میں ایک سوال ہمارے پورے معاشرے کے سامنے کھڑا ہے۔ کیا ہم ایسی نسل تیار کرنا چاہتے ہیں جو انگریزی میں ہر بات کہہ سکے مگر اپنی بات سوچ نہ سکے؟
اگر ایسا نہیں تو ہمیں تعلیم کی ترجیحات بدلنا ہوں گی کیونکہ زبان علم تک پہنچنے کا راستہ ہے، منزل نہیں۔ اور جس تعلیمی نظام میں راستے ہی کو منزل سمجھ لیا جائے وہاں بچے الفاظ تو سیکھ جاتے ہیں مگر ان الفاظ سے اپنی دنیا تعمیر کرنا نہیں سیکھ پاتے۔
مزید پڑھیں





