غزل،اُس نے کہا غزل پہ مرصع ہزار داد،شاعر :صفدر بھٹی
نقطہ نظر
مصنف:
غزل
اُس نے کہا غزل پہ مرصع ہزار داد
ایسے سخن طراز کو اک زرنگار داد
سوچے کہ کس طرح سے تشکر کرے بیان
ایسی سخن شناسی پہ اک بے قرار داد
دل کے نگار خانہ میں رنجہ سی خواہشات
اے خوش جمال دیتی ہیں تجھ کو فگار داد
اشعار میں نہ خوبیِ آہنگ ہے نہ شوق
میں بھی بچھاؤں داد کو تو بھی پکار داد
ایسی جوان مردی کہ گھائل کیا غرور
سارا پری جمال کا اے حزن خوار داد
نظروں نے جب نظر سے ٹٹولا عمیقِ قلب
کرنے لگی جگر کو مسلسل شکار داد
ایسا پڑا ہے قحطِ جمالِ فنون و فکر
صفدر خموش بیٹھی ہے بس اشکبار داد
مزید پڑھیں





