غربت کا خاتمہ، انسانیت کا امتحان،تحریر: زینب جہانزیب اعوان
نقطہ نظر
ہر سال 17 اکتوبر کو غربت کے خاتمے کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ یہ دن محض کیلنڈر پر درج ایک تاریخ نہیں، بلکہ انسانیت کے اجتماعی ضمیر پر دستک دینے والا ایک سوال ہے۔ ایک ایسا سوال جس کا جواب اعداد و شمار، تقریروں اور عہد و پیمان سے آگے بڑھ کر ہمارے رویّوں اور عملی اقدامات میں تلاش کیا جانا چاہیے۔ آخر ہم ترقی کے کس مقام پر کھڑے ہیں، اگر آج بھی دنیا میں ایسے انسان موجود ہیں جن کے لیے دو وقت کی روٹی، صاف پانی، بنیادی تعلیم اور مناسب علاج کسی خواب سے کم نہیں؟
غربت کو عموماً خالی جیب، بھوکے پیٹ اور ضرورتوں سے محروم زندگی کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے، مگر اس کی حقیقت کہیں زیادہ وسیع اور پیچیدہ ہے۔ غربت صرف وسائل کی کمی نہیں، بلکہ مواقع سے محرومی، تعلیم تک محدود رسائی، بے روزگاری، غیر محفوظ رہائش اور بنیادی انسانی حقوق کے فقدان کا نام بھی ہے۔ جب ایک بچہ غربت کے باعث تعلیم حاصل نہیں کر پاتا، جب ایک ماں اپنے بیمار بچے کے علاج کے لیے بے بس ہو جاتی ہے، اور جب ایک باصلاحیت نوجوان محض وسائل کی عدم دستیابی کے سبب اپنے خوابوں کو دفن کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے، تو یہ صرف انفرادی المیے نہیں رہتے؛ یہ ہمارے اجتماعی نظام کے سامنے کھڑے سوال بن جاتے ہیں۔
المیہ یہ نہیں کہ دنیا میں وسائل کم ہیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ وسائل کی تقسیم میں انصاف اور مساوات کا فقدان ہے۔ کہیں دولت ضرورت سے زیادہ جمع ہوتی رہتی ہے اور کہیں ضرورتیں پوری کرنے کے لیے بھی ہاتھ پھیلانے پڑتے ہیں۔ کہیں کھانے کی اشیا ضائع کر دی جاتی ہیں اور کہیں انسان بھوک کے ہاتھوں اپنی زندگی کی توانائی کھو دیتا ہے۔ یہ تضاد ہمیں سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ کیا ترقی کا مطلب صرف بلند عمارتیں، وسیع شاہراہیں اور معاشی اعداد و شمار ہیں، یا اس کا اصل معیار یہ بھی ہے کہ معاشرے کا کمزور ترین فرد کس حال میں زندگی گزار رہا ہے؟
اسلام ہمیں محض غربت پر افسوس کرنے کی تعلیم نہیں دیتا، بلکہ ضرورت مندوں کے حقوق ادا کرنے اور معاشرتی انصاف قائم کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ نیکی یہ نہیں کہ تم اپنے چہرے مشرق یا مغرب کی طرف پھیر لو، بلکہ نیکی یہ ہے کہ انسان اللہ کی محبت میں اپنا مال رشتہ داروں، یتیموں، مسکینوں اور ضرورت مندوں پر خرچ کرے۔ (سورۃ البقرہ: 177) یہ تعلیم واضح کرتی ہے کہ عبادت کا حقیقی اثر انسان کے کردار اور دوسروں کے ساتھ اس کے برتاؤ میں بھی ظاہر ہونا چاہیے۔ زکوٰۃ، صدقات اور خیرات محض مالی معاملات نہیں، بلکہ ایک ایسے معاشرتی نظام کی بنیاد ہیں جس میں دولت چند ہاتھوں تک محدود رہنے کے بجائے ضرورت مندوں تک بھی پہنچتی ہے۔
تاہم غربت کے خاتمے کو صرف خیرات کی حدود میں مقید نہیں کیا جا سکتا۔ کسی بھوکے کو کھانا کھلانا یقیناً نیکی ہے، مگر ایسا نظام قائم کرنا جس میں اسے بار بار بھوک کا سامنا نہ کرنا پڑے، اجتماعی ذمہ داری ہے۔ کسی غریب بچے کو کتابیں فراہم کرنا قابلِ تحسین عمل ہے، لیکن ہر بچے کے لیے معیاری تعلیم کے مواقع پیدا کرنا ایک بنیادی ضرورت ہے۔ کسی بے روزگار کی مالی مدد کرنا وقتی سہارا بن سکتا ہے، مگر اسے باعزت روزگار کے قابل بنانا اس کی خودمختاری کی طرف اہم قدم ہے۔
اس کے ساتھ ایک پہلو ایسا بھی ہے جسے اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے: غربت کے شکار انسان کی عزتِ نفس۔ ضرورت مند کی مدد کرتے ہوئے اگر اس کی مجبوری کو تشہیر کا ذریعہ بنا لیا جائے، اس کی تصویر کے ذریعے اپنی سخاوت کی نمائش کی جائے یا اسے احساسِ کمتری میں مبتلا کر دیا جائے، تو مدد کا مقصد کہیں نہ کہیں مجروح ہو جاتا ہے۔ بھوک انسان کے جسم کو کمزور کرتی ہے، مگر تحقیر اس کے باطن پر ایسے زخم چھوڑ سکتی ہے جنہیں بھرنے میں مدتیں لگ جاتی ہیں۔ حقیقی ہمدردی وہ ہے جو کسی کی ضرورت پوری کرتے ہوئے اس کے وقار کی حفاظت بھی کرے۔
غربت کے خاتمے کا عالمی دن ہمیں دعوت دیتا ہے کہ ہم اپنے کردار کا جائزہ لیں۔ کیا ہم صرف غربت کے مناظر دیکھ کر افسوس کرتے ہیں، یا اس کے اسباب کو سمجھنے اور ان کے حل کے لیے بھی کوشش کرتے ہیں؟ کیا ہم ضرورت مندوں کو محض امداد کے مستحق سمجھتے ہیں، یا انہیں ایسے انسانوں کے طور پر دیکھتے ہیں جن میں صلاحیت، خواب اور آگے بڑھنے کی خواہش موجود ہے؟
غربت کا خاتمہ کسی ایک فرد، ادارے یا حکومت کی تنہا ذمہ داری نہیں؛ یہ مشترکہ عزم، منصفانہ پالیسیوں، معیاری تعلیم، روزگار کے مواقع اور سماجی شعور کا تقاضا کرتا ہے۔ جب تک معاشرے کا کمزور طبقہ ترقی کے ثمرات سے محروم رہے گا، ہماری خوش حالی ادھوری رہے گی۔
بالآخر، کسی معاشرے کی عظمت اس کی دولت کی مقدار سے نہیں، بلکہ اس کے کمزور افراد کو میسر تحفظ، احترام اور مواقع سے پہچانی جاتی ہے۔ غربت کا خاتمہ صرف خالی ہاتھوں کو بھرنے کا نام نہیں، بلکہ ہر انسان کو اس قابل بنانے کی جدوجہد ہے کہ وہ اپنی زندگی محتاجی کے خوف سے نہیں، وقار، امید اور خود اعتمادی کے ساتھ گزار سکے۔
مزید پڑھیں





