Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

غربت: خالی جیب یا بند دروازہ ؟تحریر: نعیم خان

نقطہ نظر
naeem khan blog

عبدالعلیم خان کی سالگرہ کی تقریب ختم ہو چکی تھی۔ آئی پی پی کے اپر مال لاہور کے دفتر کا وسیع لان جو کچھ دیر پہلے سیاسی گہماگہمی سے آباد تھا اب ایک باوقار خاموشی میں ڈوب رہا تھا۔ کرسیاں میزیں اپنی جگہ سلیقے اور ترتیب میں لگی ہوئی تھیں اور عملہ اپنی ذمہ داری میں مصروف تھا یوں لگتا تھا جیسے تقریب ختم ہوئی ہے نظم نہیں۔

میں استاد جی کے ساتھ ایک پُرسکون گوشے میں بیٹھا دھیمی آواز میں گفتگو کر رہا تھا۔ ایک بزرگ کارکن رکے ، کرسی اٹھائی اور ہمارے پاس آ بیٹھے۔ پھر ایک مقامی رہنما اور دو نوجوان بھی شامل ہو گئے۔ چند ہی لمحوں میں کرسیاں ہمارے گرد ایک باوقار دائرہ بنا چکی تھیں۔

عملہ خاموشی سے چائے ، پانی ، کیک ، دہی بھلے اور سموسے رکھ گیا۔ یہاں نہ مائیک تھا ، نہ اسٹیج ، بس سوال تھے ، سنجیدہ چہرے تھے اور درمیان میں خاموش بیٹھے استاد جی۔

میں نے اپنے گرد دیکھا۔

مجھے یوں لگا تقریب ختم ہو چکی تھی مگر گفتگو ابھی شروع ہوئی تھی کیونکہ بعض محفلیں وقت گزارنے کے لیے نہیں ، سوچ جگانے کے لیے سجتی ہیں۔

بزرگ کارکن نے استاد جی کی طرف دیکھا اور پوچھا: “استاد جی ! غربت آخر ہے کیا ؟”

استاد جی نے چائے کا کپ میز پر رکھا۔ “غربت صرف یہ نہیں کہ انسان کی جیب میں پیسے کم ہوں۔ غربت یہ بھی ہے کہ اس کے پاس آگے بڑھنے کا راستہ نہ ہو۔”

وہ ذرا رکے۔

“جس کے پاس تعلیم نہیں ، صحت کی سہولت نہیں ، روزگار کا موقع نہیں ، انصاف تک آسان رسائی نہیں اور اپنی حالت بدلنے کا اختیار نہیں وہ صرف مالی طور پر غریب نہیں ، امکانات کے لحاظ سے بھی غریب ہے۔”

ایک پرجوش کارکن نے فوراً پوچھا: “لیکن استاد جی ! اگر آدمی محنت کرے تو کیا غربت ختم نہیں ہو سکتی ؟”

میں نے استاد جی کی طرف دیکھا۔ انہوں نے مسکرا کر کہا: “یہ سوال نعیم صاحب سے پوچھو۔”

میں نے کہا: “محنت غربت سے نکلنے کی بنیادی شرط ہے مگر ہر محنت کرنے والے کے لیے راستہ برابر نہیں ہوتا۔ ایک بچے کے پاس ذہانت ہو مگر اسکول نہ ہو ، ایک نوجوان کے پاس ہنر ہو مگر روزگار نہ ہو ، ایک کسان محنت کرے مگر اسے پانی ، بیج ، منڈی اور مناسب قیمت نہ ملے تو صرف اسے یہ کہہ دینا کہ زیادہ محنت کرو مسئلے کا پورا جواب نہیں۔”

محفل میں کئی سر اثبات میں ہلے۔

میں نے بات جاری رکھی: “غربت کو صرف فرد کی ناکامی سمجھنا آسان ہے مگر حقیقت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ بعض اوقات فرد محنت کرتا ہے مگر نظام اس کی محنت کو آگے بڑھنے کا راستہ نہیں دیتا۔”

ایک دوسرے نوجوان کارکن نے پوچھا: “تو کیا غربت نظام کی پیداوار ہے ؟”

“ہر غربت نہیں ، مگر غربت کا پھیلاؤ اکثر نظام سے ضرور جڑا ہوتا ہے۔”

میں نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا : “اگر وسائل محدود ہوں تو غربت ایک معاشی مسئلہ ہے۔ لیکن اگر وسائل موجود ہوں اور ان کی تقسیم ، مواقع اور اختیار چند ہاتھوں تک محدود ہو جائیں تو پھر یہ صرف غربت نہیں رہتی یہ ناانصافی بن جاتی ہے۔”

اسی دوران لان کے دوسرے سرے سے کچھ ہلچل ہوئی۔

شعیب صدیقی صاحب چند کارکنان کے ہمراہ آ رہے تھے۔

ان کی دائیں ٹانگ فریکچر تھی ، ہاتھ میں چھڑی تھی اور چلتے ہوئے ان کے چہرے پر درد صاف دکھائی دے رہا تھا مگر وہ رکنے کے بجائے ہماری طرف بڑھتے آئے۔

میں نے کہا: “شعیب صاحب ! آپ کو آرام کرنا چاہیے ۔”

وہ مسکرائے: “درد اپنی جگہ ، گفتگو اپنی جگہ۔ غربت کا موضوع ہو اور میں دور بیٹھا رہوں یہ کیسے ہو سکتا ہے ؟”

ایک ورکر نے ان کے لیے کرسی آگے کر دی۔

وہ بیٹھے تو کچھ دیر اپنی ٹانگ کو سہلاتے رہے۔

پھر بولے: “غربت صرف معاشی مسئلہ نہیں ، اخلاقی اور انسانی مسئلہ بھی ہے۔ اسلام نے غربت کو معمولی چیز نہیں سمجھا۔ ہمارے نبی کریم ﷺ نے بھی غربت ، محتاجی اور ذلت سے اللہ کی پناہ مانگی۔”

انہوں نے دعا کے الفاظ پڑھے:

“اللّٰهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْفَقْرِ وَالْقِلَّةِ وَالذِّلَّةِ…”

پھر کہا: “سوچنے کی بات یہ ہے کہ ایک ایسا معاشرہ جو اپنے کمزور انسان کو مسلسل محتاج اور بے اختیار رکھے وہ صرف اس کی جیب خالی نہیں کرتا ، اس کی عزتِ نفس بھی زخمی کرتا ہے۔”

استاد جی نے ان کی بات مکمل کی: “لیکن یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ غریب انسان کو برا سمجھنا درست نہیں۔ غربت انسان کا اخلاقی جرم نہیں۔ غربت ایک حالت ہے ، کردار نہیں۔”

شاہدرہ سے آئے ایک بزرگ سیاسی رہنما نے پوچھا: “ استاد جی ! آپ نے ایک دفعہ کہا تھا کہ غربت چکلے کھول دیتی ہے کیا یہ بات درست ہے ؟”

استاد جی کچھ دیر خاموش رہے۔

“میں نے کہا تھا مگر اس جملے کو درست معنی میں سمجھنا ضروری ہے۔ غربت خود کسی انسان کو بدکردار نہیں بناتی۔ لیکن شدید محرومی ، بھوک ، بے روزگاری ، استحصال ، تعلیم کی کمی اور سماجی تحفظ کا فقدان ایسے حالات ضرور پیدا کر سکتے ہیں جہاں جرائم اور انسانی استحصال بڑھنے لگیں۔ اس لیے ہمیں غریب کو موردِ الزام بنانے کے بجائے ان حالات کو سمجھنا چاہیے جو انسان کو کمزور بناتے ہیں۔”

شعیب صدیقی نے سر ہلایا: “اور یہی ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے۔”

ایک نوجوان نے سوال کیا: “پھر پاکستان میں غربت بڑھنے کی بنیادی وجہ کیا ہے ؟”

میں نے جواب دیا: “ایک وجہ نہیں کئی وجوہات ہیں۔ کمزور انسانی سرمایہ ، معاشی پالیسیوں کا بار بار بدلنا ، کمزور ادارہ جاتی نظم ، وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم ، محدود روزگار ، مہنگائی ، ناقص تعلیم ، صحت کی ناقص سہولتیں ، آبادی کا بڑھاؤ ، موسمیاتی خطرات اور بیرونی معاشی جھٹکے ؛ سب ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔”

میں نےبات جاری رکھتے ہوئے کہا۔

“ہماری ایک بڑی مشکل یہ بھی ہے کہ ہماری معیشت کئی بار تیز ہوتی ہے پھر بیرونی ادائیگیوں کا دباؤ بڑھتا ہے ، درآمدات مہنگی ہوتی ہیں ، زرمبادلہ کم ہوتا ہے اور ہمیں دوبارہ سخت فیصلوں کی طرف جانا پڑتا ہے۔ اس اتار چڑھاؤ میں سب سے زیادہ دباؤ عام آدمی پر پڑتا ہے۔”

شعیب صاحب نے پوچھا: “ترقی ہو بھی تو غربت کیوں باقی رہتی ہے ؟”

“کیونکہ صرف شرحِ نمو کافی نہیں۔”

میں نے کہا۔

“اگر معیشت بڑھ رہی ہو مگر اس کا فائدہ روزگار ، اجرت ، تعلیم ، صحت اور پیداواری مواقع میں عام آدمی تک نہ پہنچے تو اعداد و شمار بہتر ہو سکتے ہیں زندگی نہیں۔”

حالیہ عالمی بینک کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں تین ڈالر یومیہ سے کم آمدن کے پیمانے پر غربت کی شرح 2024 میں تقریباً 23 فیصد تھی۔ اسے پاکستان کی 48 فیصد آبادی کہنا درست نہیں؛ 48 فیصد کا حوالہ علاقائی انتہائی غریب آبادی میں پاکستان کے حصے سے متعلق تھا نہ کہ پاکستان کی اپنی آبادی کی شرح۔

ایک نوجوان کارکن نے فوراً پوچھا: “تو کیا ہماری معیشت بہتر ہو رہی ہے یا خراب ؟”

میں نے کہا: “دونوں باتیں ایک ساتھ درست ہو سکتی ہیں۔ معیشت بحران سے نکل سکتی ہے مگر عوام کی زندگی پر اس کا اثر ابھی کمزور ہو سکتا ہے۔”

ایشیائی ترقیاتی بینک نے 2026 کے لیے پاکستان کی معاشی نمو تقریباً 3.7 فیصد رہنے کا اندازہ دیا ہے، جبکہ 2027کے لیے بھی 3.7 فیصد کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ لیکن توانائی کی بلند قیمتیں ، بیرونی حالات اور ترسیلاتِ زر پر دباؤ جیسے خطرات موجود ہیں۔

میں نے کہا:

“یہ اعداد امید دیتے ہیں مگر یہ سوال بھی پوچھتے ہیں کہ اس نمو سے روزگار کتنا پیدا ہوگا ؟ غریب کی آمدن کتنی بڑھے گی ؟ بچے کتنے اسکول جائیں گے ؟ اور کتنے نوجوان اپنی قابلیت کے مطابق کام حاصل کر سکیں گے ؟”

ایک نوجوان نے پوچھا: “تو اصل دولت کیا ہے ؟”

میں نے کہا: “انسان۔”

استاد جی مسکرائے۔ بولے “وضاحت کرو۔”

میں نے کہا: “جس ملک کے پاس قدرتی وسائل ہوں مگر ہنرمند انسان نہ ہوں وہ اپنے وسائل دوسروں کے ہاتھوں میں دے سکتا ہے۔ لیکن جس ملک کے پاس تربیت یافتہ ، باصلاحیت اور دیانت دار انسان ہوں وہ محدود وسائل سے بھی نئی دولت پیدا کر سکتا ہے۔”

پھر میں نے کہا: “لینن سے ایک بات منسوب کی جاتی ہے کہ مستقبل اس کا ہے جس کے پاس نوجوان ہیں۔ میں اس میں ایک لفظ کا اضافہ کروں گا: مستقبل اس کا ہے جس کے پاس تربیت یافتہ نوجوان ہیں۔ صرف نوجوان آبادی دولت نہیں ، تربیت یافتہ نوجوان آبادی دولت ہے۔”

ایک بزرگ نے پوچھا: “اور ہمارے نوجوان؟”

میں نے جواب دیا: “یہی تو ہمارا سب سے بڑا سوال ہے۔”

پاکستان میں پانچ سے سولہ برس کے تقریباً دو کروڑ پچاس لاکھ بچے اسکول سے باہر ہیں۔ یہ صرف تعلیمی مسئلہ نہیں؛ یہ مستقبل کے دروازوں کے بند ہونے کا مسئلہ ہے۔

میں نے کہا: “آپ ایک ایسے بچے کو دیکھیں جو آج اسکول سے باہر ہے۔ ممکن ہے وہ کل کا انجینئر ہو ، ڈاکٹر ہو ، استاد ہو ، صنعت کار ہو ، سائنس دان ہو یا شاعر ہو۔ اگر غربت نے اس کا اسکول چھین لیا تو ہم نے صرف ایک بچے کو نہیں ایک ممکنہ مستقبل کو ضائع کیا۔”

استاد جی نے پوچھا: “تو کیا غربت نسل در نسل منتقل ہوتی ہے؟”

“اکثر ہو سکتی ہے۔”

میں نے جواب دیا۔

“غریب گھر میں پیدا ہونا بچے کا انتخاب نہیں۔ لیکن اگر اسے معیاری تعلیم ، مناسب خوراک ، صحت ، تحفظ اور ہنر کے مواقع نہ ملیں تو اس کی پیدائش ہی اس کے مستقبل کی حد بن سکتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں غربت ایک نسل سے دوسری نسل تک سفر کرتی ہے۔”

ایک نوجوان نے کہا: “پھر اس کا حل کیا ہے ؟”

میں نے کہا: “تعلیم اور تربیت۔ اور اس کے ساتھ انصاف ، صحت ، روزگار ، پیداواری معیشت ، بہتر ٹیکس نظام اور مستقل پالیسی بھی۔”

ایک بزرگ کارکن نے کہا: “ہماری ایک بڑی بیماری کرپشن بھی تو ہے۔”

میں نے کہا: “کرپشن صرف خزانے سے پیسہ چوری نہیں کرتی ، یہ غریب کا وقت بھی چوری کرتی ہے۔”

سب میری طرف دیکھنے لگے۔

“ایک غریب آدمی اگر اپنا جائز کام کرانے کے لیے دفتر کے چکر لگاتا رہے ، عدالت میں برسوں انتظار کرے ، علاج کے لیے سفارش ڈھونڈے اور نوکری کے لیے میرٹ کی بجائے تعلق تلاش کرے تو اس سے صرف پیسہ نہیں چھینا جا رہا اس کی زندگی کے قیمتی سال چھینے جا رہے ہیں۔”

استاد جی نے آہستہ سے کہا: “اور جس نظام میں انصاف دیر سے ملے وہاں طاقتور آدمی انتظار خرید لیتا ہے اور کمزور آدمی وقت ہار جاتا ہے۔”

یہ جملہ سنتے ہی محفل میں ایک عجیب خاموشی پھیل گئی۔

شعیب صدیقی نے اپنی زخمی ٹانگ کو ذرا سیدھا کیا اور بولے:“ہم غربت کا علاج خیرات سے کب تک کرتے رہیں گے ؟”

میں نے کہا: “خیرات ضروری ہو سکتی ہے مگر مستقل حل نہیں۔”

“بھوکے کو روٹی دینا انسانیت ہے مگر ایسا نظام بنانا جس میں انسان ہر روز روٹی کے لیے محتاج نہ ہو ریاستی ذمہ داری ہے۔”

میں نے آسمان کی طرف دیکھا۔ رات مزید گہری ہو چکی تھی۔

پھر میں نے کہا: “ شعیب بھائی ! شاید غربت کو سمجھنے کے لیے اسے خالی جیب نہیں ، ایک بند دروازہ سمجھنا چاہیے۔”

شعیب صدیقی صاحب نے میری طرف دیکھا۔

میں نے بات جاری رکھی: “خالی جیب صرف یہ بتاتی ہے کہ انسان کے پاس آج کیا نہیں ہے لیکن بند دروازہ یہ بتاتا ہے کہ اس کے سامنے کل کے کتنے راستے بند ہیں۔ ایک غریب بچہ صرف اس لیے غریب نہیں کہ اس کے گھر میں پیسے کم ہیں؛ وہ اس وقت زیادہ غریب ہوتا ہے جب اس کے سامنے تعلیم کا دروازہ بند ہو جائے۔ ایک نوجوان اس وقت زیادہ غریب ہوتا ہے جب اس کے پاس ہنر ہو مگر روزگار کا دروازہ بند ہو۔ ایک بیمار آدمی اس وقت زیادہ غریب ہوتا ہے جب علاج اس کی پہنچ سے باہر ہو جائے۔ اور ایک محنت کش اس وقت سب سے زیادہ غریب ہوتا ہے جب دن بھر کی محنت کے باوجود اس کے لیے بہتر زندگی کا دروازہ نہ کھلے۔”

میں نے ایک لمحے کے لیے توقف کیا۔ “پھر سوال یہ نہیں رہتا کہ غریب کے پاس کتنے روپے ہیں؛ سوال یہ بن جاتا ہے کہ اس کے سامنے کتنے دروازے کھلے ہیں۔”

محفل کے کئی چہرے سنجیدہ ہو گئے۔

“اسی لیے غربت کا علاج صرف کسی کے ہاتھ میں چند سکے رکھ دینا نہیں۔ اگر دروازہ بند رہے تو آج کی مدد کل پھر ختم ہو جائے گی۔ اصل کام یہ ہے کہ دروازہ کھولا جائے۔ تعلیم اس کی ایک چابی ہے ، انصاف دوسری ، صحت تیسری ، روزگار چوتھی اور برابر کے مواقع وہ چابی ہیں جو باقی سب چابیوں کو معنی دیتے ہیں۔”

ایک منچلا نوجوان بولا: “اور اگر دروازہ ہی نہ ہو؟”

میں مسکرایا۔ “پھر قوم کو دروازہ بنانا پڑتا ہے۔ کیونکہ جس معاشرے میں غریب کے لیے آگے بڑھنے کا کوئی راستہ نہ ہو ، وہاں غربت صرف فرد کی حالت نہیں رہتی پورے نظام کی ساخت بن جاتی ہے۔”

کچھ دیر خاموشی رہی۔

پھر میں نے کہا: “شاید قوم کی اصل دولت یہ نہیں کہ اس کے خزانے میں کتنا مال ہے ، اصل دولت یہ ہے کہ اس کے کتنے دروازے عام انسان کے لیے کھلے ہیں۔ اگر ایک قوم اپنے غریب بچے کے لیے علم کا دروازہ ، اپنے نوجوان کے لیے روزگار کا دروازہ ، اپنے بیمار کے لیے علاج کا دروازہ اور اپنے محنت کش کے لیے ترقی کا دروازہ کھول دے تو غربت آہستہ آہستہ اپنا راستہ کھو دیتی ہے۔ لیکن اگر دروازے بند ہوں تو دولت کے بڑے بڑے محل بھی غریبوں کے لیے دیوار ہی رہتے ہیں۔”

استاد جی نے گہری سانس لی اور بولے:

“تو خانِ اعظم ! غربت شاید خالی ہاتھ ہونے کا نام نہیں ، بند دروازے کے سامنے کھڑے رہنے کا نام ہے۔”

میں نے سر جھکا کر کہا: “اور ترقی شاید صرف دولت پیدا کرنے کا نام نہیں؛ ترقی یہ ہے کہ دروازے اتنے کھول دیے جائیں کہ انسان اپنی زندگی کا راستہ خود چن سکے۔”

شعیب صدیقی نے خاموشی سے سر ہلایا۔

رات کے اس پہر لان میں بیٹھے ان لوگوں کے سامنے شاید غربت کی ایک نئی تصویر بن چکی تھی۔

غربت صرف خالی جیب نہیں تھی۔ غربت ایک بند دروازہ تھی اور ترقی صرف اس دروازے کے باہر کھڑے لوگوں کو چند لمحوں کے لیے سہارا دینا نہیں تھی؛ ترقی تو یہ تھی کہ دروازہ کھول دیا جائے۔

میں نے آخری بار سب کی طرف دیکھا۔

“اصل سوال یہ نہیں کہ ہم نے غریب کو آج کیا دیا۔

اصل سوال یہ ہے کہ ہم نے اس کے لیے کل کا دروازہ کھولا یا نہیں ؟”