Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

ہمارا ضمیر کب جاگے گا؟تحریر :سید ساجد علی شاہ

نقطہ نظر
sajid ali shah

ہم آخر کب جاگیں گے؟ کب ہماری آنکھیں صرف تماشے دیکھنے کے بجائے حقیقت دیکھیں گی؟ کب ہمارے کان صرف دوسروں کی برائیاں سننے کے بجائے کسی بھوکے بچے کی سسکیاں سنیں گے؟ کب ہمارے دل کسی غریب باپ کے چہرے پر لکھی بے بسی پڑھیں گے؟ اور کب ہمارا ضمیر ہمیں رات کی تنہائی میں یہ سوال کرنے پر مجبور کرے گا کہ میں نے آج اللہ کی مخلوق کے لیے کیا کیا؟ ہم ایک ایسے معاشرے میں زندہ ہیں جہاں ایک طرف دسترخوانوں پر کھانے ضائع ہوتے ہیں اور دوسری طرف کئی گھروں میں چولہا جلنے کا انتظار کرتا رہتا ہے۔ کسی گھر میں بچے کھانے کی میز پر اپنی پسند کی چیز نہ ملنے پر ناراض ہوتے ہیں، تو کسی گھر میں ماں بچوں کو یہ کہہ کر سلا دیتی ہے کہ ’’بیٹا آج بھوک نہیں ہے۔‘‘ حالانکہ بھوک بچوں کو نہیں، ماں کو بھی لگی ہوتی ہے، مگر ماں اپنی بھوک چھپا لیتی ہے تاکہ بچے اپنے حصے کا آخری نوالہ کھا سکیں۔ ہم بازاروں میں مہنگائی کا شکوہ کرتے ہیں، بجلی کے بل دیکھ کر پریشان ہوتے ہیں، آٹا، دال، چینی اور سبزی کی قیمتوں پر بحث کرتے ہیں، لیکن کبھی اس مزدور کے گھر کا حساب نہیں لگاتے جس کی روزانہ کی اجرت پورے خاندان کے ایک دن کے اخراجات سے بھی کم پڑ جاتی ہے۔ وہ صبح سویرے مزدوری کی تلاش میں نکلتا ہے، شام کو خالی ہاتھ واپس آتا ہے تو اس کے بچے دروازے پر دوڑ کر آتے ہیں۔ ان کی آنکھوں میں ایک ہی سوال ہوتا ہے ’’ابا آج کیا لائے ہو؟‘‘ اور باپ مسکرا کر کہتا ہے ’’کچھ نہیں بیٹا، کل لے آؤں گا۔‘‘ یہ ’’کل‘‘ نہ جانے کتنے غریب گھروں میں برسوں سے نہیں آیا، ہم نے معاشی ترقی کو بڑی گاڑی، خوب صورت مکان، مہنگے لباس اور بھری ہوئی الماریوں سے ناپنا شروع کر دیا ہے۔ ہم بھول گئے کہ اصل ترقی وہ ہے جہاں کوئی بوڑھا باپ دوا کے لیے اپنی ضرورت کی چیز نہ بیچے، کوئی بیٹی جہیز نہ ہونے کی وجہ سے گھر میں بیٹھی نہ رہے، کوئی نوجوان روزگار نہ ملنے کے باعث مایوسی میں نہ ڈوبے، کوئی ماں اپنے بچوں کے مستقبل کی فکر میں رات بھر نہ روئے۔ ہمیں اپنے گریبان میں جھانکنے کی ضرورت ہے۔ ہم دوسروں کی غربت پر تقریریں کرتے ہیں، مگر اپنے اردگرد موجود ضرورت مند کو دیکھ کر نظریں چرا لیتے ہیں۔ ہم سوشل میڈیا پر انسانیت کے حق میں لمبی پوسٹیں لکھتے ہیں، مگر گلی کے نکڑ پر بیٹھے سفید بالوں والے مزدور سے کبھی نہیں پوچھتے کہ ’’بابا آج کام ملا؟‘‘ ہم مسجد میں صفِ اول کی جگہ کے لیے بے چین ہوتے ہیں، مگر مسجد سے باہر کسی بھوکے انسان کے لیے اپنے دسترخوان میں جگہ نہیں بناتے۔ ہم نفل پڑھتے ہیں، تسبیح پڑھتے ہیں، صدقہ و خیرات کی فضیلت بیان کرتے ہیں، مگر اپنے کاروبار میں ناپ تول کی کمی، ملاوٹ، جھوٹ اور دھوکے کو معمول سمجھ لیتے ہیں۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ اسلام صرف عبادات کا نام نہیں، اسلام معاملات کا بھی نام ہے۔ نماز ہمیں اللہ سے جوڑتی ہے، مگر وہی نماز ہمارے کردار میں امانت، دیانت، رحم اور انصاف بھی پیدا کرے تو اس کی روشنی معاشرے تک پہنچتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے یتیم کی کفالت، مسکین کی مدد، پڑوسی کے حقوق، مزدور کے حق اور کمزوروں کے ساتھ حسنِ سلوک کی تعلیم دی۔ قرآن ہمیں بار بار انسانیت، عدل، احسان اور محتاجوں کی خبر گیری کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ پھر سوال یہ ہے کہ ہم نے ان تعلیمات کو اپنی زندگی میں کہاں جگہ دی؟ آج ہمارا معاشرہ صرف معاشی بحران کا شکار نہیں، ضمیر کے بحران کا بھی شکار ہے۔ ہمیں خوفناک مہنگائی نظر آتی ہے، مگر خوفناک بے حسی نظر نہیں آتی۔ ہمیں غربت نظر آتی ہے، مگر غربت کے پیچھے چھپی عزتِ نفس نظر نہیں آتی۔ ہمیں کسی کے پھٹے ہوئے کپڑے دکھائی دیتے ہیں، مگر اس کے دل پر لگے زخم دکھائی نہیں دیتے۔ ہم کسی ضرورت مند کو چند روپے دیتے ہوئے ایسے محسوس کرتے ہیں جیسے اس پر احسان کر رہے ہیں، حالانکہ ممکن ہے اللہ تعالیٰ نے ہمارے مال میں اس کا حق رکھا ہو۔ کبھی کسی ایسے گھر کا دروازہ کھٹکھٹائیے جہاں شوہر کئی دن سے بے روزگار ہو۔ کبھی کسی بیوہ سے پوچھ کر دیکھیے کہ بچوں کی فیس کیسے ادا کرتی ہے۔ کبھی کسی یتیم کے سر پر ہاتھ رکھ کر دیکھیے کہ اس کی آنکھوں میں کتنی دعائیں چھپی ہوتی ہیں۔ کبھی کسی بیمار غریب کی دوا خرید کر دیکھیے، شاید آپ کو اپنی زندگی کی سب سے بڑی خوشی وہیں مل جائے۔ ہمیں اپنی ترجیحات بدلنی ہوں گی۔ اگر ہمارے گھر میں کھانے کی دس اقسام ہیں اور ہمارے پڑوس میں کوئی بھوکا سو رہا ہے تو ہمیں اپنے دسترخوان کے بارے میں سوچنا ہوگا۔ اگر ہماری الماری میں ایسے کپڑے موجود ہیں جو برسوں سے نہیں پہنے گئے اور کسی غریب کے بچے کے جسم پر کپڑا نہیں، تو ہمیں اپنی الماری سے سوال کرنا ہوگا۔ اگر ہم اپنے بچوں کی تعلیم پر لاکھوں خرچ کر سکتے ہیں تو کسی غریب بچے کی کتابوں کا ذمہ کیوں نہیں اٹھا سکتے؟ اگر ہم شادیوں پر لاکھوں روپے صرف چند گھنٹوں کی خوشی کے لیے خرچ کر سکتے ہیں تو کسی غریب بیٹی کے نکاح میں آسانی پیدا کیوں نہیں کر سکتے؟ اور اگر ہم روزانہ اپنے موبائل فون پر گھنٹوں گزار سکتے ہیں تو کیا چند منٹ کسی ضرورت مند انسان کی خبر گیری کے لیے نہیں نکال سکتے؟ یاد رکھیے! قیامت کے دن صرف یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ تم نے کتنا کمایا؛ یہ بھی پوچھا جائے گا کہ کہاں سے کمایا اور کہاں خرچ کیا۔ صرف یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ تمہارے پاس کتنا مال تھا؛ یہ بھی پوچھا جائے گا کہ تمہارے اردگرد کون بھوکا تھا اور تم نے کیا کیا۔ صرف یہ نہیں دیکھا جائے گا کہ تم نے کتنی عبادت کی؛ یہ بھی دیکھا جائے گا کہ تمہاری عبادت نے تمہارے اخلاق اور معاملات کو کتنا بدلا۔ ہمیں آج ہی اپنے ضمیر کو جگانا ہوگا۔ کسی غریب کی مدد کرتے وقت تصویر نہ بنائیں۔ کسی یتیم کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے کیمرہ نہ ڈھونڈیں۔ کسی بھوکے کو کھانا کھلاتے ہوئے اسے احساسِ کمتری نہ دیں۔ کسی مقروض کی مدد کریں تو اس کا قرض دنیا کے سامنے نہ بیان کریں۔ کسی مجبور کی عزت بچا سکتے ہیں تو اس کی مدد اس طرح کریں کہ اسے اپنی مجبوری کا احساس بھی نہ ہو، کیونکہ صدقہ صرف پیسہ دینے کا نام نہیں؛ کسی کے دل کو نہ توڑنا بھی صدقہ ہے، کسی پریشان شخص کی بات سن لینا بھی صدقہ ہے، کسی بھوکے کو کھانا کھلا دینا بھی صدقہ ہے، کسی بے سہارا کے لیے سہارا بن جانا بھی صدقہ ہے۔ آئیے آج خود سے ایک سوال کریں اگر میرے دروازے کے باہر کوئی بھوکا سو جائے اور مجھے خبر بھی ہو، تو کیا میرا ضمیر مجھے سکون سے سونے دے گا؟ اگر جواب ’’ہاں‘‘ ہے تو ہمیں اپنے دل کا علاج کرنا ہوگا اور اگر جواب ’’نہیں‘‘ ہے تو سمجھ لیجیے کہ ابھی ہمارے اندر انسانیت زندہ ہے، بس اسے مرنے نہ دیجیے۔ اپنے بچوں کو صرف مہنگے اسکول نہ دیں، انسانیت بھی سکھائیں۔ انہیں صرف کامیاب ہونے کا طریقہ نہ بتائیں، کسی ناکام انسان کا ہاتھ تھامنا بھی سکھائیں۔ انہیں صرف دولت کمانا نہ سکھائیں، حلال کمانا اور حقدار تک پہنچانا بھی سکھائیں۔ اپنے گھروں میں صرف خوب صورت پردے نہ لگائیں، دلوں پر پڑے خود غرضی کے پردے بھی ہٹائیں۔ کیونکہ ایک دن ہماری سانس رک جائے گی، گھر وہیں رہ جائے گا، دکان وہیں رہ جائے گی، بینک بیلنس وہیں رہ جائے گا، الماری کے کپڑے وہیں رہ جائیں گے، موبائل فون کسی اور کے ہاتھ میں ہوگا، مگر ہمارے ساتھ صرف ہمارا عمل جائے گا۔ اس دن نہ عہدہ کام آئے گا، نہ شہرت، نہ دولت، نہ سفارش۔ تب شاید ہم پکاریں گے: ’’یا اللہ! ایک موقع اور دے دے، ہم بدل جائیں گے۔‘‘ مگر وہ موقع نہیں ملے گا۔ اس لیے ابھی وقت ہے۔ کسی کے آنسو پونچھ لیجیے، کسی بھوکے کو کھانا دے دیجیے، کسی غریب بچے کی فیس ادا کر دیجیے، کسی بیوہ کے گھر راشن پہنچا دیجیے، کسی مقروض کی مدد کر دیجیے، کسی ناراض رشتے دار کو منا لیجیے، کسی کا حق واپس کر دیجیے، کسی سے معافی مانگ لیجیے اور سب سے بڑھ کر اپنے رب سے اپنا تعلق مضبوط کر لیجیے۔ کیونکہ شاید ہماری زندگی کی سب سے بڑی کامیابی یہ نہ ہو کہ دنیا ہمیں کتنا جانتی تھی، بلکہ یہ ہو کہ اللہ کی مخلوق ہمارے بعد ہمیں کتنی دعاؤں میں یاد کرتی تھی۔ اب فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے۔ ہم دولت کے پیچھے بھاگتے رہیں گے یا انسانیت کو بھی ساتھ لے کر چلیں گے؟ ہم صرف اپنے بچوں کا مستقبل بنائیں گے یا کسی غریب کے بچے کے مستقبل میں بھی روشنی کریں گے؟ ہم دوسروں کے زخم گنیں گے یا کسی کے زخم پر مرہم رکھیں گے؟ اور سب سے اہم سوال ہم آخر کب جاگیں گے؟ شاید جواب آج ہی دینا ہوگا، کیونکہ وقت گزر رہا ہے، زندگی گزر رہی ہے، لوگ رخصت ہو رہے ہیں اور نہ جانے ہماری باری کب آ جائے۔ اے انسان ،اپنے ضمیر کو جگا لے، اس سے پہلے کہ موت تجھے جگا دے۔

رسائی کے اختیارات

Size: NORMAL