Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

حرمین شریفین کی حرمت اور جذبہ ایمانی،تحریر:دانیال حسن چغتائی

نقطہ نظر
danial hassan

ارضِ مقدس مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ مسلمانوں کے عقیدے، روح اور ایمان کا مرکز و محور ہیں۔ بیت اللہ، جو کرۂ ارض پر اللہ تعالی کا پہلا گھر اور امن کا گہوارہ ہے، تمام اہل اسلام کی عقیدتوں کا سرچشمہ ہے۔ حال ہی میں سوشل میڈیا اور ذرائع ابلاغ پر یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے مکہ مکرمہ اور بیت اللہ کی طرف ڈرون اور میزائل حملوں کی کوششوں سے متعلق خبروں اور افواہوں نے عالمِ اسلام میں تشویش اور اضطراب کی شدید لہر دوڑا دی ہے۔ اگرچہ ان خبروں پر حوثیوں کی جانب سے تردید بھی سامنے آئی ہے لیکن عالمِ اسلام کے قلوب و اذہان میں حرمین شریفین کے تحفظ اور اس کی حرمت پر اٹھنے والی ہر میلی نگاہ کے خلاف جو غیرتِ ایمانی موجزن ہوئی ہے، اس نے ایک بار پھر مسلمانوں کے بیدار جذبے کا ثبوت دیا ہے۔

جب ہم یمن اور مکہ مکرمہ پر حملے کی تاریخ کا جائزہ لیتے ہیں تو ذہن خود بخود تاریخِ اسلام کے انتہائی عجیب اور سبق آموز واقعے یعنی عام الفیل کی طرف چلا جاتا ہے۔ یمن کے حبشی گورنر ابرہہ نے صنعاء میں عظیم الشان گرجا گھر تعمیر کروایا تاکہ عربوں کو مکہ کی بجائے اپنی طرف متوجہ کرے۔ جب اس کی یہ چال ناکام ہو گئی تو اس نے بیت اللہ کو نعوذ باللہ ڈھانے کا ارادہ کیا اور عظیم الشان ہاتھیوں کے لشکر کے ساتھ مکہ کی طرف پیش قدمی کی۔

جب ابرہہ کا لشکر مکہ کے قریب پہنچا تو اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دادا اور قریش کے سردار حضرت عبدالمطلب کے دو سو اونٹ ہانک لیے۔ حضرت عبدالمطلب جب ابرہہ سے ملاقات کے لیے گئے تو انہوں نے بیت اللہ کی حفاظت کی بھیک مانگنے کے بجائے صرف اپنے اونٹوں کی واپسی کا مطالبات رکھا۔ ابرہہ نے انتہائی تعجب کے ساتھ کہا: ”میں تو تمہارے اس گھر (کعبہ) کو گرانے آیا ہوں جو تمہارا اور تمہارے آباؤ اجداد کا مذہبی مرکز ہے، مگر تم اپنے اونٹوں کی بات کر رہے ہو؟

آپ نے نہایت ایمان افروز لہجے میں تاریخی جملہ فرمایا۔

میں اونٹوں کا مالک ہوں، لہذا مجھے اپنے اونٹوں کی فکر ہے اور اس گھر کا رب مالک ہے، وہ اپنے گھر کی حفاظت خود فرمائے گا۔

تاریخ گواہ ہے کہ اللہ رب العزت نے اپنے گھر کی حفاظت کے لیے کسی فوج کو نہیں بھیجا بلکہ ننھی ننھی ابابیلوں کے لشکر کو بھیج کر ابرہہ کی ہاتھیوں والی فوج کو کھائے ہوئے بھوسے کی طرح بنا دیا۔ تاریخ کا یہ سبق آج بھی تروتازہ ہے کہ جو شخص یا گروہ مکہ اور بیت اللہ کی طرف میلی نگاہ سے دیکھے گا، اس کا حشر ابرہہ سے مختلف نہیں ہوگا۔

بدقسمتی سے آج کے زمانے میں بھی یمن کے خطے سے مکہ مکرمہ اور جدہ کی طرف مختلف اوقات میں ڈرون اور بیلسٹک میزائل داغے جانے کی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں۔ اگرچہ عسکری گروہوں کی طرف سے تردید کے بیان بھی آتے ہیں، لیکن ایسے شکوک و شبہات اور کارروائیاں امتِ مسلمہ کے لیے سخت باعثِ تشویش ہیں۔

جدید دور کا ابرہہ چاہے کسی بھی روپ میں آئے اور کوئی بھی جدید ٹیکنالوجی یا ڈرون استعمال کرے لیکن اسے یہ یاد رکھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کا گھر نہ پہلے بے یار و مددگار تھا اور نہ آج ہے۔ اللہ تعالی آج بھی ابابیلیں پیدا کرنے اور اپنے گھر کی حفاظت کے غیبی سامان فراہم کرنے پر قادر ہے۔

پاکستان کے ہر کلمہ گو مسلمان کے دل میں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی محبت روح کی طرح بسی ہوئی ہے۔ ہماری نظریاتی اور جذباتی سرحدیں حرمین شریفین کے دفاع سے جڑی ہوئی ہیں۔ اگر کوئی خبیث عنصر، ملک یا تنظیم مکہ یا مدینہ کی طرف میلی آنکھ اٹھا کر دیکھے گی تو دنیا بھر کے مسلمان بالعموم اور پاکستان کے غیور کلمہ پڑھنے والے بالخصوص اپنی انفرادی و اجتماعی طاقت سے اس کی آنکھیں پھوڑنے کا جذبہ رکھتے ہیں۔حرمین کے تحفظ کے لیے پاکستان کا ہر بچہ، جوان اور بوڑھا اپنا مال، اپنی جان اور اپنی عزت قربان کرنے کے لیے ہر دم تیار ہے۔ مملکتِ سعودیہ عربیہ جو خادمِ حرمین شریفین کا شرف رکھتی ہے، اس نازک صورتحال میں پاکستان کے عوام اور تمام دینی و سیاسی طبقات پوری طرح ان کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔

ہم سعودی حکومت اور عالمِ اسلام کو یہ کامل یقین دلاتے ہیں کہ حرمین شریفین کی سرحدوں اور اس کی حرمت کے دفاع کے لیے پاکستان کا ہر شہری مجاہد کا کردار ادا کرے گا۔

اس قسم کے فتنوں اور خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے عالمِ اسلام کو فرقہ وارانہ، سیاسی اور جغرافیائی اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اتحاد کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ غیر اسلامی اور فتنہ پرور عناصر ہمیشہ امت کے اندرونی انتشار کا فائدہ اٹھا کر مقدس مقامات کو نشانہ بنانے کی مذموم کوشش کرتے ہیں۔ مسلم ممالک کو چاہیے کہ وہ حرمین کے دفاع کے لیے مضبوط اور مربوط دفاعی نظام تشکیل دیں۔

بین الاقوامی سطح پر اس بات کو واضح کیا جائے کہ حرمین شریفین پر کسی بھی قسم کا حملہ دنیا بھر کے سوا ارب سے زائد مسلمانوں کے خلاف اعلانیہ جنگ تصور کیا جائے گا۔

بیت اللہ اللہ کا گھر ہے اور اس کی عظمت و حرمت کی حفاظت کا وعدہ خود ربِ کائنات نے فرمایا ہے۔ ابرہہ کی تباہی اس بات کی ابدی گواہی ہے کہ اس پاک گھر پر حملہ کرنے والا کبھی پنپ نہیں سکتا۔ آج بھی اگر کوئی گمراہ یا فتنہ پرور گروہ ٹیکنالوجی کے زعم میں بیت اللہ کی طرف آگے بڑھنے کی کوشش کرے گا تو خدا کی لاٹھی اور مسلمانوں کا حیدری جذبہ اس کا ناپاک وجود مٹا دے گا۔ ہم سب مل کر اپنے رب سے یہ عہد کریں کہ ہم حرمین شریفین کے تحفظ، پاکیزگی اور پاسداری کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔ یا اللہ! اپنے گھر اور اپنے محبوب کے شہر کی حفاظت فرما اور حرمین کی طرف اٹھنے والے ہر ناپاک ہاتھ اور میلی نگاہ کو نیست و نابود فرما۔ (آمین)

رسائی کے اختیارات

Size: NORMAL