ہمارے بچے خوش کیوں نہیں؟ نوجوانوں میں خودکشی کا بڑھتا رجحان،تحریر:بینا علی
نقطہ نظر
ان تمام نوجوان بچوں کے نام جو زندگی کی رونقوں کو الوداع کہہ کر خاموشی سے موت کے گلے لگ گئے۔
مجھے نہیں پتہ سعاد کون ہے؟اس نوجوان کو نہ میں ذاتی طور پر جانتی ہوں بلکہ سوشل میڈیا پر کچھ پوسٹ نظر سے گزریں یقین جانیے طبیعت بوجھل ہو گئی ۔ اس طرح کے موضوعات کو زیرِ تحریر لاتے ہوئے لفظوں کی اذیت کا سارا زہر اپنے اندر اتارنا پڑتا ہے۔چھے سالہ عمر کے بعد جواں سال سعاد کے نام کچھ تحریر کرتے ہوئے بہت دل بوجھل ہو گیا۔زندگی کی رونقوں کو جیے بنا خود کو موت کی تاریکیوں کے حوالے کر دینا ایک المیہ ہے۔کیا ہوا؟ کب ؟ کیوں ؟کیسے؟ کس وجہ سے؟ یہ میرا موضوع ہی نہیں بس نقصان ایسا ہے جس کا ازالہ ممکن نہیں۔
ہمارے بچے خوش کیوں نہیں؟
آج کی نوجوان نسل میں خودکشی کا بڑھتا ہوا رجحان لمحہ فکریہ ہے۔90 سے پہلے تک کی جو نسلیں گزریں ہیں انہیں زندگی کے لیے جدوجہد بھی زیادہ کرنی پڑی ہےاور محدود ضروریاتِ زندگی کے باوجود انہوں نے آج کی نسل سے زیادہ پرسکون زندگیاں گزاریں۔
آج ہر جدید ٹیکنالوجی ہے ہر سہولت میسر ہے پھر بھی آج کا نوجوان خوش نہیں ہے بیزار ہے۔ زندگی گزارتا ہے جینا نہیں چاہتا۔
ایک گھر میں رہتے ہوئے فاصلے بڑھ گئے۔سوشل میڈیا کی حد تک تو ہم سوشل ہو گئے ہیں لیکن خاندانی نظام میں ہم تنہائی کا شکار ہیں۔ایک ہی چھت کے نیچےچار لوگ اور چاروں کی دنیا الگ۔باپ موبائل میں، ماں ڈرامے میں، بچہ گیم میں اور محبت؟ وہ کہیں بیچ میں مر گئی۔
ہم نے ایک جملہ رٹ لیا ہے: "وہ رابطہ نہیں کرتا میں کیوں کروں"۔ یہی جملہ قبرستان تک لے جاتا ہے۔ ہمارے بچے ٹوٹ کیوں رہے ہیں؟
تنہائی کا زہر: ہجوم میں بھی اکیلا ہونا۔ دل کی بات سننے والا کوئی نہیں۔
موازنہ اور احساسِ کمتری: سوشل میڈیا پر دوسروں کی جھوٹی خوشی دیکھ کر اپنی زندگی کو ناکام سمجھنا۔
رشتوں کا ٹوٹنا: خاندانی نظام کا بکھرنا، بڑوں کی شفقت کا ختم ہونا۔
ناکامی کا خوف: نمبر، نوکری، محبت... ہر جگہ جیتنا ہے ہار کا آپشن ہی نہیں۔
دین سے دوری: جب دل کا رابطہ اللہ سے ٹوٹ جائے تو سکون کہاں سے آئے گا؟
یاد رکھیں خودکشی چند سیکنڈز کی سوچ ہوتی ہے۔ ان چند سیکنڈز میں آپ کسی کو میسر آ جائیں تو وقتی طور پر سوچ کا زاویہ تبدیل ہو سکتا ہے۔
اس بات کو ترک کر دیں کہ "وہ رابطہ نہیں کرتا میں کیوں کروں"۔ جو نہیں کرتا اس کے مزید قریب ہوں، اس کی پرائیویسی کو مزید ڈسٹرب کریں لیکن اکیلا نہ چھوڑیں۔جو خود کو محدود کرے اس کے قریب ہو جائیں اس کا درد بانٹیں۔ زندگی میں ساتھ رو لینا بہتر ہے بجائے اس کے آپ اس کے جنازے پہ بیٹھ کے آنسو بہائیں۔خدارا اپنے بچوں کو وقت دیں موبائل نہیں۔ انہیں نوکری کا طعنہ نہیں گلے لگانا دیں۔ پوچھیں "بیٹا آج دل کیسا ہے؟"۔فلاں کے بچے نے اتنے نمبر لے لیے ۔خدارا نمبر گیم سے باہر آئیں۔چار کاندھوں کو دینے کے بجائے زندگی میں ایک کاندھا کافی ہوتا ہے اگر جیتے جی دے دیا جائے۔یقین کریں آپ کا ایک جملہ کسی کی زندگی بچا سکتا ہے۔دوستوں کا ذکر نہ ہو تو یہ تحریر ادھوری ہے۔خاندان تو اللہ دیتا ہے پر دوست ہم خود چنتے ہیں۔
سچا دوست کون ہے؟
سچا دوست وہ ہے جو تمہاری خاموشی کو پڑھ لے۔ جو تمہارے "میں ٹھیک ہوں" کے پیچھے چھپا طوفان دیکھ لے۔ایک دوست کی روز کی "کیسی ہو یا کیسے ہو؟" کسی ڈاکٹر کی دوا سے زیادہ اثر کرتی ہے۔
ایک دوست کا "میں ہوں ناں" خودکشی کے اس چند سیکنڈ والے خیال کو شکست دے دیتا ہے۔
امی ابو کی یکے بعد دیگرے وفات اور کچھ مزید سانحات نے میری ذہنی صحت کو شدید متاثر کیا۔
عینی دوسری جماعت سے میری دوست تھی اور اب جب کہ ہم دو دہائیوں سے زیادہ عمر گزار چکے ہیں وہ اب بھی میری دوست ہے۔ اس نے مجھ سے رابطہ نہیں ختم کیا جبکہ میں ہمیشہ محدود رابطوں میں رہی۔ وہ اب تک میرا پتہ خبر رکھے ہوئے ہے اور کونسلنگ بھی کرتی رہتی ہے۔اور جیسے ہی اسے یہ لگا مجھے ذہنی اور جذباتی طور پر اس کی ضرورت ہے اس نے اپنا آج کا قیمتی دن ،اپنا وقت مجھے دیا ۔مجھے رات دس بجے کال کر کے ساتھ دن گزارنے کی دعوت دی اور میرا ہر بہانہ مسترد کر دیا۔بتانے کا مقصد صرف یہ ہے کہ حلقہ احباب بہت وسیع نہ سہی کا از کم کوئی ایک ایسا ہمدرد دوست تو ہو جو آپ کے بتائے بنا جان جائے آپ کو اس کی ضرورت ہے۔
نوجوانوں سے ایک بات:
خدارا ایسے دوست بنو جو زندہ رکھیں جو تھام لیں۔
اور اگر تمہارا کوئی دوست اچانک خاموش ہو گیا ہے محدود ہو گیا ہےیا ہنسنا چھوڑ گیا ہے تو اس کی پرائیویسی کا احترام چھوڑیں اسے تنگ کریں اس کے سر پر سوار ہو جائیں لیکن اسے اکیلا مت چھوڑیں۔
کیونکہ قبر پر پھول رکھنے سے بہتر ہے زندگی میں اس کے ہاتھ میں ہاتھ رکھنا۔
جنازے پر رونے سے بہتر ہے زندگی میں اس کے ساتھ رونا۔زندگی اللہ پاک کا دیا ہوا وہ تحفہ ہے جو ایک بار ملنی ہے جی کے گزاریں کسی کے لیے اتنی جذباتی وابستگی نہ رکھیں کہ آپ اس کے نہ ملنے پر جی نہ پائیں۔والدین کے لیے آپ کل کائنات اور محبت کا محور ہیں۔ان کے چہروں کو بار بار دیکھ لیا کریں کیوں کے جب آپ زندگی جیے بنا مر جاتے ہیں تو وہ جیتے جی مر جاتے ہیں۔





