منگل، 20 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

ہماری نسل خوش ہے یا ۔۔۔۔ تحریر: زینب جہانزیب اعوان

نقطہ نظر
zainab jahazeb

کبھی آپ نے غور کیا ہے کہ آج ہمارے پاس خوشیاں بانٹنے کے پہلے سے کہیں زیادہ ذرائع موجود ہیں، مگر اس کے باوجود دلوں میں ایک عجیب سی اداسی محسوس ہوتی ہے؟ ہم اپنی زندگی کے خوب صورت لمحوں کو تصویروں میں محفوظ کرتے ہیں، مسکراتے چہروں کے ساتھ اپنی موجودگی کا اعلان کرتے ہیں اور دنیا کو بتاتے ہیں کہ ہم کتنے خوش ہیں۔ لیکن کبھی کبھی دل میں یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا ہم واقعی خوش ہیں یا صرف خوش دکھائی دینے کی کوشش کر رہے ہیں؟


یہ سوال کسی ایک فرد کا نہیں، ہماری پوری نسل کا ہے۔ ایک ایسی نسل جو دنیا بھر کی معلومات تک رسائی رکھتی ہے، چند لمحوں میں ہزاروں لوگوں سے رابطہ کر سکتی ہے، لیکن شاید اپنے دل کی بات سننے اور کسی دوسرے کے سامنے بیان کرنے کے لیے پہلے سے زیادہ تنہا ہو گئی ہے۔


ذرا اپنے اردگرد دیکھیے۔ کسی محفل میں بیٹھے لوگ ایک دوسرے کے ساتھ موجود تو ہوتے ہیں، مگر ان کی توجہ کہیں اور ہوتی ہے۔ کوئی اپنی تصویر بنانے میں مصروف ہے، کوئی دوسروں کی زندگی دیکھ رہا ہے اور کوئی ان لمحوں کو بھی کیمرے میں محفوظ کرنا چاہتا ہے جنہیں کبھی صرف محسوس کیا جاتا تھا۔ ہم خوشی کے لمحوں میں بھی یہ سوچنے لگے ہیں کہ ہماری خوشی دوسروں کو کیسی دکھائی دے گی۔ شاید یہی وہ مقام ہے جہاں زندگی جینے اور زندگی دکھانے کے درمیان فرق پیدا ہوتا ہے۔


مسئلہ سوشل میڈیا استعمال کرنے کا نہیں، بلکہ اس وقت شروع ہوتا ہے جب ہماری خوشی کا معیار ہماری اپنی کیفیت کے بجائے دوسروں کا ردِعمل بن جاتا ہے۔ جب کسی تصویر پر ملنے والی پسندیدگیاں ہمارے چہرے پر مسکراہٹ لے آئیں اور دوسروں کی کامیابی ہمیں اپنے حصے کی نعمتوں سے بے نیاز کر دے، تو ہمیں سوچنا چاہیے کہ کہیں ہم نے اپنی خوشی کی چابی دوسروں کے ہاتھ میں تو نہیں دے دی؟


آج کی نسل کے پاس خواب بھی ہیں اور انہیں پورا کرنے کی خواہش بھی، مگر ان خوابوں کے ساتھ توقعات کا ایک ایسا بوجھ بھی ہے جس کا اندازہ باہر سے نہیں لگایا جا سکتا۔ ہر کسی کو آگے بڑھنا ہے، اپنی قابلیت ثابت کرنی ہے اور اس دوڑ میں پیچھے نہیں رہنا جس کی منزل شاید کسی کو معلوم ہی نہیں۔ ایک کامیابی حاصل ہوتی ہے تو دوسری کی فکر شروع ہو جاتی ہے۔ ہم دوسروں کو آگے بڑھتا دیکھتے ہیں تو اپنی رفتار پر سوال اٹھانے لگتے ہیں۔


ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ ہمیں دوسروں کی زندگی کا صرف وہ حصہ دکھائی دیتا ہے جسے وہ دکھانا چاہتے ہیں۔ ان کی پریشانیاں، ناکامیاں اور اندرونی کشمکش اکثر ان تصویروں کا حصہ نہیں بنتیں۔ ہم ان کی زندگی کے چند روشن لمحوں کا موازنہ اپنی پوری زندگی سے کرنے لگتے ہیں اور پھر اپنے ہی حصے کی خوشیوں کو کم سمجھ بیٹھتے ہیں۔


لیکن ہماری نسل کی بے سکونی کی وجہ صرف سوشل میڈیا نہیں۔ معاشی مشکلات، روزگار کی فکر، مستقبل کی غیر یقینی صورتِ حال اور خاندان کی توقعات بھی نوجوانوں کے ذہنی سکون پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ بہت سے نوجوان بظاہر ہنستے اور معمولاتِ زندگی انجام دیتے دکھائی دیتے ہیں، لیکن اندر ہی اندر ایسے سوالات سے الجھ رہے ہوتے ہیں جن کے جواب انہیں کہیں نہیں ملتے۔


کچھ لوگ اپنی پریشانی اس لیے بیان نہیں کرتے کہ انہیں کمزور سمجھا جائے گا، اور کچھ اس لیے خاموش رہتے ہیں کہ وہ دوسروں کو اپنی مشکلات سے پریشان نہیں کرنا چاہتے۔ ہم نے ایک ایسا ماحول بنا دیا ہے جہاں خوش دکھائی دینا، خوش ہونے سے زیادہ ضروری محسوس ہونے لگا ہے۔ ہمیں مسکراتے چہرے پسند ہیں، لیکن جب کوئی اپنی پریشانی بیان کرے تو ہم اسے فوراً مضبوط بننے اور آگے بڑھنے کا مشورہ دینے لگتے ہیں۔


شکر گزاری یقیناً ایک خوب صورت رویہ ہے، مگر کسی کے دکھ کو تسلیم کرنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ ہر اداسی کا حل چند نصیحتوں میں نہیں ملتا۔ بعض اوقات انسان کو کسی ایسے شخص کی ضرورت ہوتی ہے جو اس کی بات سنے، اس کے احساسات کو معمولی نہ سمجھے اور اسے اپنی کیفیت بیان کرنے پر شرمندہ نہ کرے۔


شاید ہماری نسل میں حساسیت کی کمی نہیں، بلکہ ایک دوسرے کو سمجھنے کے لیے وقت اور توجہ کم ہوتی جا رہی ہے۔ ہم رابطے میں رہتے ہیں، مگر ہر رابطہ تعلق نہیں بنتا۔ ہم دوسروں کی زندگیوں کے بارے میں بہت کچھ جانتے ہیں، لیکن ان کے دل میں کیا چل رہا ہے، اس سے بے خبر رہ جاتے ہیں۔


تو کیا ہماری نسل خوش نہیں؟ ایسا بھی نہیں۔ آج کے نوجوان خواب دیکھتے ہیں، محبت کرتے ہیں، کامیابیاں حاصل کرتے ہیں اور مشکل وقت میں ایک دوسرے کا سہارا بھی بنتے ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ ان کی خوشیوں کے ساتھ کچھ ایسے دباؤ بھی جڑ گئے ہیں جنہیں ہمیشہ بیان نہیں کیا جاتا۔ ان کی مسکراہٹیں جھوٹی نہیں ہوتیں، مگر ہر مسکراہٹ پوری کہانی بھی نہیں سناتی۔


ہمیں اپنی زندگی کو دوسروں کی زندگی جیسا بنانے کے بجائے اسے اپنی اصل صورت میں قبول کرنا سیکھنا ہوگا۔ ہر شخص کے حالات مختلف ہیں اور کامیابی کے معنی بھی مختلف ہو سکتے ہیں۔ کسی کے لیے بڑی کامیابی اہم ہے، تو کسی کے لیے گھر والوں کے ساتھ سکون سے بیٹھنا یا ایک مشکل دن کے بعد اطمینان سے سو جانا بھی بڑی نعمت ہے۔


آخر میں سوال وہی ہے: ہماری نسل خوش ہے یا صرف خوش دکھائی دیتی ہے؟


شاید ہم خوش بھی ہیں، اداس بھی، پُرامید بھی اور کہیں نہ کہیں تھکے ہوئے بھی۔ ہم زندگی سے بہت کچھ چاہتے ہیں، مگر اس سفر میں کبھی کبھی یہ بھول جاتے ہیں کہ زندگی صرف منزل حاصل کرنے کا نام نہیں، راستے میں خود کو سنبھالنے اور ایک دوسرے کا ہاتھ تھامنے کا نام بھی ہے۔


کیونکہ حقیقی خوشی ہر وقت مسکراتے رہنے میں نہیں، بلکہ اس اطمینان میں ہے کہ جب کبھی مسکرانا مشکل ہو جائے تو ہمیں اپنی اداسی چھپانے کی ضرورت نہ پڑے۔