بدھ، 28 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

حقیقی عدل، تحریر:بینا علی

نقطہ نظر
bina ali

سورۃ المائدہ میں ارشاد ربانی ہے:

"اور تم انصاف کے ساتھ قائم رہو یہ تقویٰ کے زیادہ نزدیک ہے۔" انصاف کو تلاش کرنا بعض اوقات ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے بنجر زمین سے فصل کی امید رکھنا۔ ہمارا نظامِ انصاف گویا بانجھ ہو چکا ہے جو اپنی افادیت کھوتا جا رہا ہے۔ انصاف کی تلاش میں انسان منوں مٹی تلے دفن ہو جاتا ہے اور اس کی نسلیں بھی دہائیاں دیتی رہتی ہیں، مگر انصاف نہیں ملتا۔

سننِ ابی داؤد میں روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

"انصاف کرو کیونکہ انصاف اللہ کے ساتھ تعلق رکھتا ہے۔"

عدل و انصاف کے بارے میں اس سے بڑھ کر کیا مثال ہو سکتی ہے کہ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

"اگر میری بیٹی فاطمہ بھی چوری کرتے ہوئے پکڑی جاتی تو میں اس کے بھی ہاتھ کاٹ دیتا۔"

انصاف میں تاخیر انسان کے اندر شدید اضطراب پیدا کر دیتی ہے اور یہی اضطراب بعض اوقات اسے انتہائی اقدامات پر مجبور کر دیتا ہے۔ احاطۂ عدالت میں ہونے والے تشدد اور قتل و غارت اس کی واضح مثال ہیں۔ جب انصاف بروقت نہ ملے تو لوگ خود ہی انصاف کی مسند پر بیٹھنے لگتے ہیں جو معاشرے میں مزید بگاڑ اور انتشار کا باعث بنتا ہے۔لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ نظام ہمیشہ ایسا ہی رہے گا؟ ہرگز نہیں۔ نظامِ انصاف کو بہتر اور مؤثر بنایا جا سکتا ہے، بشرطیکہ سنجیدگی سے اصلاحات کی جائیں۔سب سے پہلے انصاف کی فراہمی میں تاخیر کو ختم کرنا ہوگا۔ مقدمات کا برسوں تک لٹکے رہنا ظلم کے مترادف ہے، اس لیے فوری اور بروقت فیصلوں کا نظام قائم کرنا ضروری ہے۔ دوسرا، عدلیہ کو ہر قسم کے دباؤچاہے وہ سیاسی ہو یا معاشرتی اس سے آزاد کرنا ہوگااور ہمارے آئین پاکستان میں بھی عدلیہ کی آزادی پر زور دیا گیا ہے تاکہ فیصلے صرف حق اور سچ کی بنیاد پر ہوں۔ عدلیہ غیر جانبدار رہ کر فیصلے دے ۔جب تک انصاف کے اداروں میں بدعنوانی موجود رہے گی، انصاف کا حصول ایک خواب ہی رہے گا۔ قانون سب کے لیے برابر ہونا چاہیے۔ امیر و غریب، طاقتور و کمزورسب ایک ہی ترازو میں تولے جائیں یہی حقیقی عدل ہے۔ جدید ٹیکنالوجی کا استعمال بھی نظامِ انصاف کو تیز اور شفاف بنا سکتا ہے جیسے ڈیجیٹل ریکارڈ، آن لائن سماعتیں اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال ۔

 ججز، وکلاء اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی اخلاقی اور پیشہ ورانہ تربیت کو بہتر بنایا جائے، تاکہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو دیانت داری سے نبھا سکیں۔ایسے عناصرِ کی حوصلہ شکنی ہو جو راہ انصاف میں رکاوٹیں کھڑی کریں ،اقربا پروری یا برادری ازم کو فروغ دیں۔حقیقت یہ ہے کہ انصاف کسی بھی معاشرے کی بنیاد ہوتا ہے۔ جہاں انصاف زندہ ہو وہاں امن، سکون اور اعتماد کی فضا قائم ہوتی ہے اور جہاں انصاف کمزور پڑ جائے، وہاں ظلم، بے چینی اور بداعتمادی جنم لیتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم نہ صرف نظام کی اصلاح کا مطالبہ کریں، بلکہ اپنی ذات میں بھی عدل کو اپنائیں، کیونکہ ایک منصفانہ معاشرہ فرد کی اصلاح سے ہی وجود میں آتا ہے۔