حسابِِ زندگی: فکری اور مزاحیہ انشائیہ،تحریر:یاسمین اختر طوبیٰ
نقطہ نظر
انسان نے جب سے ہوش سنبھالا، حساب اس کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑا ہوا ہے۔ پہلے وہ بکریاں گنتا تھا، کھیت کی پیداوار ناپتا تھا اور بازار میں دکاندار کی معصومیت کا اندازہ لگاتا تھا۔ وقت گزرا تو حساب نے بھی ترقی کی اور تختی، سلیٹ سے نکل کر دفتروں، بازاروں، ایوانوں اور انسانی تعلقات تک پہنچ گیا۔ اب یوں محسوس ہوتا ہے کہ دنیا کا سارا کاروبار دو ہی اصولوں پر چل رہا ہے: جمع اور تفریق۔ باقی تمام علوم شاید انہی کی ذیلی شاخیں ہیں۔
جمع کا نام سنتے ہی خوش حالی، فراوانی اور آسودگی کا خیال آتا ہے۔ آدمی سمجھتا ہے کہ دو میں دو ملیں گے تو چار بنیں گے اور زندگی کے مسائل بھی اسی آسانی سے حل ہو جائیں گے مگر یہ ریاضی کی کتاب ہے، زندگی نہیں۔ زندگی میں جمع کے لیے انگلیوں کے ساتھ جیب اور کبھی قسمت کا تعاون بھی ضروری ہوتا ہے۔
ایک عام ملازم کو دیکھیے۔ مہینے کے آغاز میں تنخواہ ملتی ہے تو اس کے چہرے پر ایسی رونق آتی ہے جیسے ویرانے میں بہار آ گئی ہو۔ وہ کاغذ قلم لے کر بیٹھتا ہے اور مکان کا کرایہ، بجلی کا بل، بچوں کی فیس، راشن، دوائی اور سفر کے اخراجات جمع کرنے لگتا ہے۔ ابھی جمع مکمل نہیں ہوتی کہ تنخواہ تفریق کی نذر ہو جاتی ہے۔ مہینے کے آخر میں رقم غائب اور حساب باقی رہ جاتا ہے۔ وہ حیران ہوتا ہے کہ آمدنی وہیں کھڑی ہے مگر اخراجات ترقی کی کئی منازل طے کر چکے ہیں۔
ہمارے ہاں جمع کا ایک دلچسپ اصول یہ بھی ہے کہ آمدنی کم ہو تو اخراجات خود بخود بڑھ جاتے ہیں۔ ضروریات گویا قسم کھا چکی ہیں کہ وہ آدمی کی جیب سے دو قدم آگے چلیں گی۔ غریب کی آمدنی بڑھانے کے مشورے بہت ملتے ہیں مگر ضروریات گھٹانے کا مشورہ کوئی نہیں دیتا۔ شاید ضروریات بھی عزتِ نفس رکھتی ہیں اور اپنی توہین برداشت نہیں کرتیں۔
تجارت میں جمع کی بڑی اہمیت ہے۔ دو دکانیں مل کر بڑا کاروبار بناتی ہیں اور دو ذہین دماغ مل کر نئی راہیں نکالتے ہیں لیکن جب نیت خراب ہو جائے تو جمع بھی تماشا بن جاتی ہے۔ اشیا کی قیمتیں بڑھتی رہتی ہیں، منافع میں اضافہ ہوتا رہتا ہے اور خریدار کی قوتِ خرید کم ہوتی جاتی ہے۔ دکاندار اپنی کامیابی پر خوش اور خریدار اپنی بے بسی پر افسردہ ہوتا ہے۔ دونوں حساب جانتے ہیں، فرق صرف یہ ہے کہ ایک کے کھاتے میں منافع اور دوسرے کے حصے میں صبر آتا ہے۔
کچھ ذہین لوگ جمع کا مطلب دولت کمانا نہیں بلکہ دوسروں کی دولت کو اپنے اختیار میں لانا سمجھتے ہیں۔ ان کے پاس جادو کی چھڑی نہیں ہوتی، صرف تعلقات، عہدے اور مواقع ہوتے ہیں۔ وہ ان تینوں کو اس مہارت سے جمع کرتے ہیں کہ ایک ایسی عمارت کھڑی ہو جاتی ہے جس کی بنیاد کا نقشہ کسی کو دکھائی نہیں دیتا۔ ان کی کامیابی کا راز یہ ہے کہ وہ ہر چیز کا حساب رکھتے ہیں، سوائے اس سوال کے کہ اس حساب کی قیمت کون ادا کرے گا۔
جمع کی ایک مقبول قسم زبانی جمع بھی ہے۔ کسی محفل میں ملک کے مسائل چھیڑ دیجیے، ترقی کے منصوبے اس تیزی سے جمع ہوں گے کہ سننے والا سمجھے گا، خوش حالی دروازے پر کھڑی ہے۔ سڑکیں بن جائیں گی، تعلیم عام ہو گی، ادارے سدھر جائیں گے اور انصاف گھر گھر پہنچ جائے گا۔ مگر محفل ختم ہوتے ہی منصوبے اپنی جگہ رہ جاتے ہیں اور لوگ اپنے مسائل کے ساتھ گھروں کو لوٹ جاتے ہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ بعض اوقات کام کرنے سے زیادہ کام کا حساب لگانا اہم سمجھا جاتا ہے۔
حساب کا دوسرا بڑا قاعدہ تفریق ہے، جو جمع سے کہیں زیادہ پیچیدہ فن ہے۔ جمع میں چیزیں ملائی جاتی ہیں جبکہ تفریق میں فاصلے تلاش کیے جاتے ہیں۔ زبان الگ ہو، لباس مختلف ہو، رسم و رواج جدا ہوں یا خیالات میں معمولی سا اختلاف ہو، انسان فوراً حساب کی تختی نکال لیتا ہے اور دوسروں سے اپنا فرق گنوانے لگتا ہے۔
عجیب بات یہ ہے کہ انسان اپنی ذات میں خامیوں کا پورا ذخیرہ لیے پھرتا ہے مگر دوسروں کی خامیاں اسے دور سے نظر آ جاتی ہیں۔ اپنی غلطی کو حالات کا نتیجہ اور دوسرے کی غلطی کو کردار کی خرابی قرار دیتا ہے۔ اپنے لیے رعایت اور دوسروں کے لیے سختی کا اصول اپناتا ہے۔ یوں تفریق شروع ہوتی ہے تو انصاف کا ترازو بھی ایک طرف جھک جاتا ہے۔
معاشرے میں تفریق کا ایک طریقہ انسانوں کو زبان، علاقے، عقیدے اور طبقے کے خانوں میں بانٹ دینا ہے۔ ہر شخص کو باور کرایا جاتا ہے کہ اس کا خانہ سب سے معتبر ہے اور دوسرے خانوں کے لوگ کسی نہ کسی کمی کا شکار ہیں۔ اس تقسیم سے فائدہ کس کو پہنچتا ہے، یہ سوال اکثر حساب کی کتاب میں درج ہی نہیں ہوتا۔ لوگ اپنے اپنے خانوں کی حفاظت میں لگ جاتے ہیں اور ان ہاتھوں کو بھول جاتے ہیں جو مل کر بڑے کام انجام دے سکتے تھے۔
گھروں میں بھی تفریق کا فن خوب رائج ہے۔ چار افراد رہتے ہوں تو ہر شخص دوسرے کی ذمہ داریوں کا حساب رکھتا ہے، اپنی ذمہ داریوں کا نہیں۔ ایک کہتا ہے کہ میں نے کل برتن دھوئے تھے، دوسرا یاد دلاتا ہے کہ وہ پرسوں سودا لایا تھا، تیسرا اپنے پرانے احسانات کی فہرست کھول دیتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ گھر کا سکون منہا اور شکایتوں کا انبار لگ جاتا ہے۔ کسی کو خیال نہیں آتا کہ تھوڑی سی محبت جمع کر لی جاتی تو شکایتیں تفریق کرنے کی نوبت ہی نہ آتی۔
کبھی تفریق خاموشی سے بھی ہوتی ہے۔ دوست بات کرنا کم کر دیتے ہیں، بھائی ایک دوسرے کی خوشی میں شریک ہونا چھوڑ دیتے ہیں اور ہمسائے اجنبی بن جاتے ہیں۔ کوئی بڑا حادثہ پیش نہیں آتا، بس چھوٹی چھوٹی بدگمانیاں جمع ہوتی رہتی ہیں اور تعلقات میں قربت منہا ہوتی جاتی ہے۔ جب احساس ہوتا ہے تو رشتوں کو دوبارہ جوڑنے کے لیے برسوں کی محنت درکار ہوتی ہے۔
تفریق کی ایک سخت صورت وہ ہے جس میں طاقت ور کسی کمزور کو جگہ خالی کرنے کا حکم دے دیتا ہے۔ کبھی دلیل کے نام پر، کبھی اختیار کے زور پر اور کبھی ایسے فیصلوں کے ذریعے جن میں متاثرہ شخص کی آواز سنی ہی نہیں جاتی۔ طاقت ور کے ہاتھ میں حساب کی تختی ہو تو کمزور محض ایک عدد بن کر رہ جاتا ہے۔ فیصلہ کرنے والے کے نزدیک مسئلہ حل ہو چکا ہوتا ہے لیکن قیمت ادا کرنے والے کے لیے مسئلہ وہیں سے شروع ہوتا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ جمع اور تفریق ایک دوسرے کی ضد ہونے کے باوجود اکثر ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ آدمی اپنے فائدے جمع کرتا ہے تو دوسروں کے حصے کم ہوتے جاتے ہیں۔ اپنے اختیارات بڑھاتا ہے تو کسی دوسرے کی آزادی گھٹتی جاتی ہے۔ اپنی تعریفوں کا ذخیرہ جمع کرتا ہے تو دوسروں کی محنت نظرانداز ہونے لگتی ہے۔ یوں ایک شخص کی جمع، دوسرے کی تفریق بن جاتی ہے۔ اصل مسئلہ اعداد میں نہیں، بلکہ اس ہاتھ میں ہے جو انہیں ترتیب دیتا ہے۔
تاہم جمع ہمیشہ اچھی اور تفریق ہمیشہ بری نہیں ہوتی۔ علم، تجربہ، محبت اور اعتماد میں اضافہ ہو تو جمع بامعنی بن جاتی ہے۔ اس کے برعکس نفرت، تکبر، لالچ اور تعصب میں کمی آئے تو تفریق بھی ایک مثبت عمل بن جاتی ہے۔ اصل سوال یہ نہیں کہ کون سا قاعدہ استعمال ہوا بلکہ یہ ہے کہ کس چیز کو بڑھایا اور کس چیز کو کم کیا گیا۔
کاش حساب کی کتاب میں ایک نیا باب بھی شامل ہو: دوسروں کے دکھ کو اپنے احساس میں جمع کرنے اور خود غرضی کو اپنے کردار سے منہا کرنے کا باب۔ اس کتاب میں منافع صرف روپے پیسے سے نہ ناپا جائے بلکہ اس سکون سے بھی ناپا جائے جو کسی دوسرے کے چہرے پر مسکراہٹ بن کر ابھرتا ہے۔ نقصان صرف خالی جیب کو نہ سمجھا جائے، بلکہ اس وقت کو بھی نقصان مانا جائے جو نفرت، ضد اور بے مقصد مقابلے میں ضائع ہوتا ہے۔
آخرکار زندگی کا بہترین حاصلِ جمع وہ نہیں جس میں صرف ہماری جیب بھاری ہو بلکہ وہ ہے جس میں دوسروں کے حصے کی خوشی بھی بڑھ جائے۔ سب سے مفید تفریق وہ نہیں جو انسان کو انسان سے جدا کرے بلکہ وہ ہے جو اس کے اندر موجود برائیوں کو کم کر دے۔
دنیا کی تختی پر ہر شخص اپنا حساب لکھ رہا ہے مگر اصل ضرورت یہ سوچنے کی ہے کہ اس حساب سے کسی کی زندگی میں کیا اضافہ ہو رہا ہے اور کس کی زندگی سے کیا منہا کیا جا رہا ہے۔ کیونکہ انسانیت کے نام پر حاصلِ جمع ہی وہ اصل جواب ہے جسے جانے بغیر حساب مکمل نہیں ہوتا۔
مزید پڑھیں





