Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

ہوتا ہے شب و روز تماشا مرے آگے،تحریر:سید آزاد گیلانی

نقطہ نظر

ایک جملہ جسے شہرہ آفاق ڈاکٹر اسرار احمد مرحوم اور لیجنڈری اشفاق احمد مرحوم سے منسوب کیا جاتا ہے ،


ہم لوگ نیک بننا نہیں، صرف نیک دکھنا اور نیک کہلانا چاہتے ہیں، اور یہ منافقت کا سب سے اعلیٰ درجہ ہے۔


اس میں ہمارے عہد کا ایک بڑا المیہ پوشیدہ ہے۔ ہم نے اپنی شخصیت سنوارنے سے زیادہ اس کی نمائش پر توجہ مرکوز کر لی ہے۔ چہرے مہذب، گفتگو شائستہ اور دعوے بلند ہیں، مگر جب مفاد اور آزمائش کا وقت آتا ہے تو کردار کے پردے گرنے لگتے ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ معاشرے میں برے لوگ کیوں ہیں؛ سوال یہ ہے کہ برائی کو بھی اچھائی کا لباس پہننے کی ضرورت کیوں محسوس ہونے لگی ہے؟


ہماری روزمرہ زندگی میں اس تماشے کے مناظر عام ہیں۔ کوئی دیانت داری کی تلقین کرتا ہے، مگر موقع ملتے ہی دوسرے کا حق مار لیتا ہے۔ کوئی احترامِ انسانیت کی بات کرتا ہے، مگر اپنے سے کمزور شخص کی تذلیل کرتا ہے۔ کوئی رشتوں کی حرمت کا علم اٹھاتا ہے، لیکن مفاد سامنے آتے ہی برسوں کی محبت بھول جاتا ہے۔ زبان پر اصول، عمل میں استثنا؛ دوسروں کے لیے سخت معیار اور اپنے لیے ہر غلطی کی معقول توجیہ۔ یوں لگتا ہے جیسے ہم نے زندگی گزارنے سے زیادہ زندگی دکھانے کی مشق کر لی ہے۔


یہ رویہ کسی ایک طبقے تک محدود نہیں۔ سیاست، تجارت، تعلیم اور سماجی تعلقات، ہر جگہ قول و فعل کا تضاد دکھائی دیتا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ لوگ ہمیں سچا اور مخلص سمجھیں، خواہ ہمارے اپنے اعمال ان دعووں کی گواہی نہ دیتے ہوں۔ ہم دوسروں کے کردار کا فیصلہ چند لمحوں میں کر لیتے ہیں، مگر اپنے تضادات کے لیے دلیلیں تراشنے میں دیر نہیں لگاتے۔ دوسرے کا جھوٹ بددیانتی، اپنا جھوٹ مجبوری؛ دوسرے کی بدتمیزی بدتہذیبی، اپنی بدتمیزی اشتعال کا نتیجہ!


دوسروں پر انگلی اٹھانے سے پہلے ہمیں اپنے آپ سے بھی پوچھنا چاہیے: کیا ہم دوسروں کو دھوکا دیتے دیتے خود اپنے ساتھ بھی اداکاری کر رہے ہیں؟ کیا ہم واقعی وہی ہیں جو دنیا کو دکھائی دیتے ہیں، یا اپنے ہی تراشے ہوئے ایک خوب صورت فریب میں زندگی گزار رہے ہیں؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ دوسروں کو مطمئن کرتے کرتے ہم نے اپنے ضمیر کو بھی خاموش رہنے کا عادی بنا لیا ہے؟


سوشل میڈیا نے اس طرزِ عمل کو ایک نیا اسٹیج دے دیا ہے۔ نیکی کی تصویر، خیرخواہی کا پیغام اور انسان دوستی کا اعلان لمحوں میں ہزاروں لوگوں تک پہنچ سکتا ہے۔ مسئلہ نیکی کو ظاہر کرنے میں نہیں، بلکہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب دکھائی دینے والی شخصیت اور حقیقی کردار میں فاصلہ بڑھ جائے۔ کسی ضرورت مند کی مدد قابلِ تحسین ہے، لیکن اگر مقصد اس کی مشکل کم کرنے سے زیادہ اپنی بڑائی دکھانا ہو تو نیکی کی روح مجروح ہوتی ہے۔ خاموشی سے کیا گیا ایک عمل کبھی کبھی بلند آواز اعلان سے کہیں زیادہ معتبر ہوتا ہے۔


تاہم ہر نمایاں نیکی کو دکھاوا سمجھنا بھی ناانصافی ہے۔ آج بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو اختیار کے باوجود کمزور کا حق نہیں مارتے، نقصان برداشت کر لیتے ہیں مگر اصول نہیں بیچتے، اور تنہائی میں بھی وہی رہتے ہیں جو لوگوں کے سامنے دکھائی دیتے ہیں۔ یہی لوگ امید کی وہ شمع ہیں جو بتاتی ہے کہ کردار ابھی زندہ ہے۔


اصلاح کا آغاز دوسروں پر انگلی اٹھانے سے نہیں، اپنے گریبان میں جھانکنے سے ہوتا ہے۔ ہمیں خود سے پوچھنا چاہیے: کیا میرا رویہ تنہائی میں بھی وہی ہے جو لوگوں کے سامنے ہے؟ کیا میں اپنے مفاد کے خلاف بھی انصاف کر سکتا ہوں؟ کیا اپنی غلطی تسلیم کرنے کا حوصلہ رکھتا ہوں؟ اگر یہ سوال ہمیں بے چین کرتے ہیں تو اس بے چینی سے فرار نہیں ہونا چاہیے؛ ممکن ہے یہی زندہ ضمیر کی پہلی دستک ہو۔


کردار کی تعمیر بڑے دعووں سے نہیں، روزمرہ کے چھوٹے فیصلوں سے ہوتی ہے۔ دکان دار درست تولے، تاجر وعدہ نبھائے، افسر اختیار کو امانت سمجھے، استاد اپنے عمل سے دیانت سکھائے اور والدین نصیحت کے ساتھ اپنی مثال بھی پیش کریں۔ بچوں کو سچائی کا درس دے کر خود جھوٹ بولیں یا احترام کی تلقین کرکے کمزوروں کی تذلیل کریں تو ہماری باتیں اپنی تاثیر کھو دیتی ہیں۔ الفاظ راستہ دکھاتے ہیں، کردار اس پر چلنا سکھاتا ہے۔


معاشرے کو بھی اپنی ترجیحات بدلنا ہوں گی۔ شہرت، دولت اور خوش گفتاری کے ساتھ دیانت، انصاف اور ذمہ داری کو بھی عزت ملنی چاہیے۔ غلطی کرنے والے کو اصلاح کا موقع دیا جائے، مگر مصلحت کے نام پر غلطی کو درست نہ کہا جائے۔ ہمیں ایسا ماحول بنانا ہوگا جہاں سچ بولنا باعثِ شرمندگی، غلطی ماننا کمزوری اور دیانت داری نقصان کا دوسرا نام نہ ہو۔


ہم اکثر ظاہری مرتبے اور شہرت کے سحر میں انسان کی اصل قدر، یعنی کردار، کو نظرانداز کر دیتے ہیں، حالاں کہ انسان کی بڑائی اس کے قد، منصب یا دعووں سے نہیں، اس کے عمل سے متعین ہوتی ہے۔ اسی حقیقت کو شاعر نے یوں بیان کیا ہے:


بات کردار کی ہوتی ہے وگرنہ عارفؔ

قد میں سایہ بھی انساں سے بڑا ہوتا ہے


ہم ایک سراب کے پیچھے بھاگ رہے ہیں؛ اب حقیقت شناسی اور خود احتسابی ناگزیر ہے۔ معاشرتی اصلاح کا آغاز دوسروں کو بدلنے کے مطالبے سے نہیں، خود کو بدلنے کے فیصلے سے ہوتا ہے۔


قوموں کا زوال اس وقت شروع نہیں ہوتا جب ان میں برے لوگ پیدا ہوتے ہیں، بلکہ اس وقت جب برائی معمول بن جائے اور اچھائی محض دکھاوے کا نام رہ جائے۔


اب فیصلہ ہمیں کرنا ہے: ہم زندگی کے اسٹیج پر اداکاری کرتے رہیں گے یا اسٹیج سے اتر کر اپنے کردار کی تعمیر کریں گے؟ مصنوعی چہروں کی چمک آنکھوں کو خیرہ تو کر سکتی ہے، مگر اعتماد پیدا نہیں کر سکتی۔ معاشرے نعروں اور دعووں سے نہیں، کردار اور عمل سے بنتے ہیں۔


کیونکہ جب کردار رخصت ہو جائے تو اداکاری کتنی ہی شاندار کیوں نہ ہو، معاشرے کو سنوار نہیں سکتی؛ صرف اس کے زوال پر پردہ ڈال سکتی ہے۔


ہم میں سے ہر ایک کو صرف اپنی اصلاح کرنی ہے ، گھر ، محلہ ، گاؤں ، معاشرہ،قوم و ملک خود ٹھیک ہوتے جائیں گے ۔