رات کے آخری پہر بارش کی بوندیں کھڑکی کے شیشے پر دستک دے رہی تھیں۔ مرین اپنے بستر کے قریب بیٹھی موبائل کی اسکرین کو دیکھ رہی تھی۔ واٹس ایپ پر سمیر کی آخری بار آن لائن ہونے کی اطلاع کئی گھنٹے پرانی تھی مگر اُس کی نظریں اب بھی اسی ایک نام پر جمی ہوئی تھیں، جیسے کسی معجزے کی منتظر ہوں۔
سمیر اور مرین کی محبت کو سات برس گزر چکے تھے۔ وہ اکثر کہا کرتا تھا؛ "مرین! اگر کبھی حالات نے ہمیں جدا کر بھی دیا تو میری محبت کو اپنے دل سے دور مت کرنا۔" مرین مسکرا کر جواب دیتی؛ "محبت کوئی کھلونا نہیں کہ دل بھر جانے پر چھوڑ دیا جائے۔"
لیکن وقت نے اُن دونوں کے لیے الگ راستے چن لیے۔
سمیر کے گھر والوں نے اُس کی شادی کہیں اور طے کر دی۔ اُس نے مرین سے وعدہ کیا کہ حالات بہتر ہوتے ہی واپس آئے گا۔ مرین نے اُس کی مجبوری کو محبت کا نام دیا اور اُسے رخصت کرتے ہوئے صرف اتنا کہا؛ "میں انتظار کروں گی۔"
پھر انتظار اُس کی زندگی کا معمول بن گیا۔
ہر صبح وہ موبائل اٹھا کر واٹس ایپ کھولتی، کبھی اُس کی طرف سے کوئی مختصر سا جملہ آ جاتا، کبھی کئی کئی ہفتے خاموشی رہتی۔ مرین ہر بار خود کو سمجھاتی کہ شاید وہ مصروف ہوگا، شاید حالات اجازت نہیں دیتے ہوں گے۔
اُس کے اپنے بھی تھک گئے تھے۔ ماں اکثر سمجھاتی، "بیٹی! زندگی کسی ایک شخص کے انتظار میں نہیں وقف کی جاتی۔"
مرین خاموشی سے ماں کی گود میں سر رکھ دیتی اور پوچھتی، "امّی! اگر وہ واپس آ گیا تو؟"
ماں کے پاس اس سوال کا کوئی جواب نہیں ہوتا۔
وقت گزرتا گیا۔ پھر ایک دن اُس کی ماں بھی دنیا سے رخصت ہو گئی۔ اب اُس گھر میں مرین کے ساتھ صرف یادیں رہ گئی تھیں۔ ماں کی جائے نماز، اُس کی عینک اور الماری میں تہہ کیا ہوا سفید دوپٹہ مریم کو ہر روز اُس کی جدائی کا احساس دلاتا۔
ایک شام موبائل پر سمیر کی ای میل موصول ہوئی۔ مرین نے بے چینی سے ای میل کھولی۔ کئی برسوں بعد سمیر نے ایک پیغام بھیجا تھا۔
اُس میں لکھا تھا:
"مرین! مجھے معاف کر دینا۔ میں زندگی کی مصروفیات میں تمہیں بھولنے کی کوشش کرتا رہا، مگر تم کبھی میرے دل سے نہ نکل سکیں۔ میری شادی ہو گئی، بچے بڑے ہو گئے، ذمہ داریاں پوری ہو گئیں، لیکن دل کا ایک گوشہ ہمیشہ تمہاری یاد میں خالی رہا۔ اب میں تم سے ملنا چاہتا ہوں۔ اگر تمہارے دل میں میرے لیے تھوڑی سی بھی جگہ باقی ہے تو مجھے ایک بار ملنے کی اجازت دے دینا۔"
مرین نے موبائل کو سینے سے لگا لیا۔ اُس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ اُس نے آئینے میں خود کو دیکھا، اپنے بکھرے بال سنوارے اور الماری سے وہ نیلا دوپٹہ نکالا جو سمیر کو پسند تھا۔
مگر خوشی ابھی اُس کی دہلیز تک پہنچی بھی نہ تھی کہ اگلے دن سمیر کا واٹس ایپ پیغام آ گیا۔
"مرین! مجھے افسوس ہے، میں اس بار بھی نہیں آ سکوں گا۔ گھر کے حالات اجازت نہیں دیتے۔ تم سمجھ سکتی ہو نا؟ بس دعا کرنا کہ کبھی فرصت ملے تو تم سے ملاقات ہو جائے۔"
مرین کے ہاتھ سے موبائل چھوٹتے چھوٹتے بچا۔
وہ دیر تک خاموش بیٹھی رہی۔ نہ آنسو نکلے، نہ کوئی شکوہ زبان پر آیا۔ جیسے اُس کے اندر رونے کی آخری طاقت بھی ختم ہو گئی ہو۔ اُس نے نیلا دوپٹہ واپس الماری میں رکھا اور کھڑکی کے پاس جا بیٹھی۔
اُس نے بھیگی آنکھوں سے آسمان کی طرف دیکھا اور ٹوٹے ہوئے لہجے میں بڑبڑائی:
"ایک غم اور سہی! شاید میری قسمت میں خوشیوں سے زیادہ غم ہی لکھے ہیں۔"
اُس رات مرین نے سمیر کو ایک ای میل لکھی:
"سمیر! میں تھک گئی ہوں تمہارا انتظار کرتے کرتے، خود کو سمجھاتے سمجھاتے اور ہر ٹوٹتی امید کو دوبارہ جوڑتے جوڑتے۔ تم جب چاہو واپس آ سکتے ہو مگر شاید اب تمہیں وہ مرین نہ ملے جو تمہارے ایک وعدے پر برسوں مسکراتی رہی تھی۔ اب میرے اندر بہت کچھ خاموش ہو چکا ہے۔"
ای میل لکھنے کے بعد اُس نے اسے پڑھا، پھر ارسال کرنے کے بجائے ڈرافٹس میں محفوظ کر دیا۔ وہ جانتی تھی کہ سمیر کے پاس اب بھی بے شمار مصروفیات ہیں۔ وہ محبت جو برسوں سے اُس کے اندر ایک چراغ کی طرح جل رہی تھی، اب بھی موجود تھی مگر اُس کی روشنی میں انتظار کا کوئی راستہ باقی نہیں رہا تھا۔
مرین کے موبائل کے ڈرافٹس میں محفوظ ای میل اس بات کا ثبوت ہے کہ بعض محبتیں انسان کو توڑ تو دیتی ہیں مگر اُس کے اندر کی محبت کو ختم نہیں کر پاتیں۔ انسان جینا تو سیکھ لیتا ہے مگر مسکرانا بھول جاتا ہے۔
مزید پڑھیں





