غزل،اک پھول سے تھے نین ملائے ہزار حیف،شاعر :صفدر بھٹی
نقطہ نظر
مصنف:
غزل،
اک پھول سے تھے نین ملائے ہزار حیف
اُس پھول نے جو رنگ دکھائے ہزار حیف
اک گل ستاں میں رکھی سکونت ہزار شوق
اُس گل ستاں نے گل جو کھلائے ہزار حیف
تنکے محبتوں کے رکھے جس بھی شاخ پر
کچھ اس ادا سے اُس نے گرائے ہزار حیف
ہم نے کشاد رکھا ہے سینہ تمام عمر
تم نے مگر نہ تیر چلائے ہزار حیف
کیسا جگر ملا ہے ہمیں بھی مصاحبان
وقفِ ہزار رنج برائے ہزار حیف
نقش و نگار و قامتِ زیبا، خرامِ ناز
افسون کار چشم کے سائے ہزار حیف
جن نے کیا تھا پہلے اسے یار خون خون
دل پھر وہ سوئے خواب جگائے ہزار حیف
جتنی حیات گزری رہی تشنگی مدام
کوئی نہ چار گھونٹ پلائے ہزار حیف
صفدر ہمیشہ ہم نے گزاری یوں زندگی
اپنوں کی محفلوں میں پرائے ہزار حیف





