جمعرات، 22 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

اخلاص کی تلاش اور نیکی کی نمائش، تحریر:سائرہ علی

نقطہ نظر

جب نیکی عبادت سے زیادہ تشہیر اور کردار سے زیادہ تصویر بن جائے


انسانی زندگی کی خوب صورتی کا ایک بڑا راز یہ ہے کہ اس کے ظاہر اور باطن میں ہم آہنگی ہو۔ اس کے الفاظ اس کے خیالات کی ترجمانی کریں، اس کے اعمال اس کے کردار کی گواہی دیں اور اس کی نیکیوں میں انسانیت کی بھلائی کے ساتھ رضائے الٰہی کی طلب بھی شامل ہو۔ لیکن جب انسان کی توجہ نیکی کے حقیقی مقصد سے ہٹ کر اس کی نمائش پر مرکوز ہونے لگے، جب عبادت کی روح کے مقابلے میں اس کی تشہیر اہمیت اختیار کر لے اور جب کردار کی تعمیر سے زیادہ تصویر کی خوبصورتی مطلوب ہو، تو ایک ایسا تہذیبی بحران جنم لیتا ہے جس میں نیکی باقی تو رہتی ہے، مگر اس کی روح رفتہ رفتہ کمزور پڑنے لگتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں اخلاص کی تلاش، محض ایک مذہبی تصور نہیں رہتی بلکہ انسان کے اخلاقی، سماجی اور تہذیبی شعور کا بنیادی سوال بن جاتی ہے۔ اخلاص کا مفہوم یہ ہے کہ انسان اپنے عمل کو نیک نیتی، سچائی اور مقصد کی پاکیزگی کے ساتھ انجام دے۔ وہ بھلائی اس لیے کرے کہ بھلائی کرنا درست ہے، کسی ضرورت مند کی مدد اس لیے کرے کہ اس کی تکلیف کم ہو، عبادت اس لیے بجا لائے کہ اس کا تعلق اپنے رب سے مضبوط ہو، نہ کہ اس لیے کہ لوگ اسے نیک، متقی یا فیاض سمجھیں۔ اخلاص کی اصل خوبی یہ ہے کہ وہ انسان کو دوسروں کی نگاہوں سے آزاد کرکے اپنے ضمیر کے سامنے جواب دہ بناتا ہے۔ مخلص انسان کے لیے اس بات سے زیادہ اہم یہ ہوتا ہے کہ اس کا عمل کتنا سچا ہے، نہ کہ یہ کہ اس عمل کو کتنے لوگوں نے دیکھا، سراہا یا یاد رکھا۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے: "اور انہیں یہی حکم دیا گیا تھا کہ اللہ کی عبادت کریں، اسی کے لیے دین کو خالص کرتے ہوئے۔" (سورۃ البینہ: 5) اس آیت میں عبادت کی روح اور دینی عمل کی بنیاد واضح کر دی گئی ہے۔ نیکی کا اصل تعلق نیت، بندگی اور مقصد سے ہے۔ اسی طرح رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے: "اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔ (صحیح بخاری، صحیح مسلم) یہ اصول انسان کو یاد دلاتا ہے کہ کسی عمل کی ظاہری صورت اپنی جگہ اہم ہو سکتی ہے، لیکن اس کی اخلاقی و روحانی قدر کا تعین نیت سے بھی ہوتا ہے۔ بظاہر ایک ہی جیسے دو اعمال اپنے مقاصد کے فرق کی وجہ سے معنوی اعتبار سے مختلف ہو سکتے ہیں۔ تاہم عصر حاضر کا ایک نمایاں المیہ یہ ہے کہ ہم نے نیکی کے اظہار کو بعض اوقات نیکی کے احساس پر فوقیت دے دی ہے۔ کسی غریب کی مدد کی جائے تو کیمرہ حاضر ہوتا ہے، کسی بھوکے کو کھانا کھلایا جائے تو تصویر ضروری سمجھی جاتی ہے، کسی بیمار کی عیادت ہو تو اس کا ثبوت محفوظ کیا جاتا ہے اور کسی فلاحی سرگرمی میں شرکت ہو تو سوشل میڈیا پر اس کی تشہیر کو کامیابی کا پیمانہ بنا لیا جاتا ہے۔ یوں عمل کے بعد ایک نیا سوال پیدا ہوتا ہے: ہم نے کسی کے لیے بھلائی کی یا اپنی ذات کے لیے ایک خوش نما تاثر تخلیق کیا؟

یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ ہر نیکی کی تشہیر لازماً ریاکاری نہیں ہوتی۔ بعض اوقات کسی فلاحی کام کو منظر عام پر لانے کا مقصد دوسروں کو ترغیب دینا، عطیات جمع کرنا، کسی اجتماعی مسئلے کی طرف توجہ مبذول کرانا یا شفافیت کو یقینی بنانا ہوتا ہے۔ معاشرے میں نیکی کے اچھے نمونوں کو پیش کرنا مفید بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب تشہیر، خدمت کا ذریعہ رہنے کے بجائے خدمت کا بنیادی مقصد بن جائے۔ جب مستحق انسان کی عزت سے زیادہ اپنی شہرت عزیز ہو اور جب مدد کی کامیابی کا اندازہ ضرورت پوری ہونے کے بجائے تصویروں پر ملنے والی پسندیدگی سے لگایا جانے لگے۔ اس فرق کو سمجھنا ہمارے عہد کی اخلاقی ضرورت ہے۔ ایک شخص کسی خاندان کی خاموشی سے کفالت کرتا ہے، اس کی عزت نفس محفوظ رکھتا ہے اور برسوں اس خدمت کا ذکر نہیں کرتا۔ دوسرا شخص ایک مرتبہ راشن تقسیم کرتا ہے، مگر اس عمل کی ایسی تشہیر کرتا ہے کہ ضرورت مند افراد کی نجی زندگی اور وقار متاثر ہونے لگتا ہے۔ دونوں صورتوں میں ظاہری عمل مدد کا ہے، لیکن پہلی صورت میں خدمت کا مرکز ضرورت مند انسان ہے، جب کہ دوسری صورت میں، اگر تشہیر غالب مقصد بن جائے، تو مرکز نگاہ خدمت کرنے والے کی اپنی شخصیت بن جاتی ہے۔ نیکی کی حقیقی عظمت اسی وقت برقرار رہتی ہے جب انسان کی عزت، ضرورت اور حق کو اپنی شہرت پر ترجیح دی جائے۔

سوشل میڈیا نے اس مسئلے کو ایک نئی جہت عطا کی ہے۔ ڈیجیٹل دنیا میں انسان کی شخصیت اکثر اس کی حقیقی زندگی سے زیادہ اس کے منتخب کردہ مناظر کے ذریعے پہچانی جاتی ہے۔ لوگ اپنی خوشیاں، کامیابیاں، عبادات، خیرات اور سماجی خدمات شیئر کرتے ہیں۔ رفتہ رفتہ ایک ایسا ماحول پیدا ہوتا ہے جس میں زندگی گزارنے کے ساتھ ساتھ زندگی کو دکھانا بھی ایک مستقل سرگرمی بن جاتا ہے۔ انسان کسی خوبصورت لمحے کو محسوس کرنے سے پہلے اس کے قابلِ تصویر ہونے کے بارے میں سوچنے لگتا ہے۔ عبادت میں قلبی سکون تلاش کرنے کے بجائے اس کی ظاہری صورت پر توجہ بڑھ جاتی ہے اور خدمت کے بعد یہ خیال غالب آ سکتا ہے کہ اس عمل کو کس انداز میں پیش کیا جائے تاکہ زیادہ لوگ متاثر ہوں۔

یہی وہ مقام ہے جہاں تصویر اور کردار کے درمیان فاصلہ بڑھنے لگتا ہے۔ تصویر ایک لمحے کو محفوظ کرتی ہے، کردار ایک پوری زندگی کی گواہی دیتا ہے۔ تصویر میں مسکراہٹ دکھائی جا سکتی ہے، مگر کسی کے ساتھ برتاؤ کی حقیقت نہیں چھپتی۔ تصویر میں سخاوت کا منظر محفوظ ہو سکتا ہے، لیکن روزمرہ معاملات میں انصاف، دیانت اور برداشت کی کمی کو نہیں چھپایا جا سکتا۔ ایک شخص کی عوامی شخصیت نہایت خوش اخلاق، ہمدرد اور باوقار دکھائی دے سکتی ہے، لیکن اگر وہ گھر میں اپنے اہل خانہ کے ساتھ سخت رویہ رکھتا ہو، ملازمین کے ساتھ بدسلوکی کرتا ہو، لین دین میں وعدہ خلافی کرتا ہو تو اس کی تصویر اور کردار کا تضاد خود بخود ظاہر ہو جاتا ہے۔ ایسے تضاد سے نہ صرف فرد کا وقار مجروح ہوتا ہے بلکہ معاشرے میں نیکی پر اعتماد بھی کمزور پڑنے لگتا ہے۔ لوگ ہر نیک عمل کو شک کی نگاہ سے دیکھنے لگتے ہیں۔ اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنی نیتوں کا محاسبہ کریں۔ ہر عمل سے پہلے خود سے یہ سوال کریں کہ میں یہ کس کے لیے کر رہا ہوں؟ اگر مقصد اللہ کی رضا اور انسانیت کی بھلائی ہے تو اس عمل کو چاہے دکھایا جائے یا چھپایا جائے، اس کی قدر برقرار رہے گی۔ ہمیں اپنی نسل کو یہ سکھانا ہوگا کہ اصل کامیابی تصویروں پر ملنے والے لائکس میں نہیں، بلکہ اس خاموش اطمینان میں ہے جو ایک سچے عمل کے بعد ضمیر میں پیدا ہوتا ہے۔ اخلاص ایک دن کی ریاضت نہیں، یہ عمر بھر کی کوشش ہے۔ جب نیت خالص ہوگی، تو نیکی چاہے نظر آئے یا نہ آئے، وہ اپنا نور ضرور پھیلائے گی۔