گوجرخان،راجہ جاوید اخلاص کی درخواست پر بلدیہ گوجرخان کا کھربوں کا فنانشل قبرستان کھود دیا گیا

کرپشن کے مرکزی کردار اور سہولت کار ننگے چیف افسران، ایم او پلاننگ شمائلہ خان، اورنگزیب شوکت، انعام مصطفیٰ، عابد حسین، ممتاز سرور، چھبیس سال سے قابض کلرک اعجاز صحبت، نعیم سرور اور نازک حسین کے خلاف پیڈا ایکٹ اور اینٹی کرپشن کا گھیرا تنگ!
ڈیوٹی سے غائب انسپکٹر محمد اجمل، فیض اللہ، راشد شاہپال، عدیل، محمد مبشر وغیرہ، سابق سی او طارق ضیاء اور غلام قمر وڑائچ سمیت کرپٹ ٹھیکیداروں میسرز شبیر حسین اینڈ سنز، اللہ دتہ، شہباز اینڈ سنز اور این ایس بلڈرز کے گٹھ جوڑ نے بلدیہ کو نوچ کھایا
انڈر پاس کی آڑ میں ہوس کا ننگا ناچ ستائیس ملین کے بنے بنائے پارکس، قیمتی جھولے اور فوارے بلڈوزر چلا کر راتوں رات ہضم، ملبہ ہٹانے کے نام پر بھی لاکھوں کی نئی ڈکیتی!
ٹینڈرز سے فرار کے لیے ایک سو چوالیس اشاریہ چھیاسٹھ ملین کا بجٹ تین سو اڑتالیس فرضی کوٹیشنز کے ٹکڑوں میں ذبح؛ من پسند لٹیروں کو سرکاری مالِ مفت ریوڑیوں کی طرح بانٹنے کا خونی دھند بے نقاب!
واٹر سپلائی نیٹ ورک میں کروڑوں کی اندھی لوٹ مار؛ بغیر دستخط متوازی فائلوں میں ایک ہی کام کے فرضی بل بنا کر متواتر ڈبل بلنگ کرنے والا ٹھیکیداری مافیا چوک پر ننگا!
لیاقت علی، رفیق خان، چوہدری غضنفر، چوہدری کامران اور واجد علی کے چھ بڑے کمرشل پلازے سو فیصد غیر قانونی کھڑے بلدیہ کے کرپٹ کلرکوں نے چند ٹکڑوں کے عوض پورا شہر بیچ ڈالا!
بااثر مگرمچھوں کے سامنے بلدیہ کا ریکوری ونگ ڈھیر شہریوں اور پلازوں سے ستر ملین روپے کے پانی اور دکانوں کے کرایوں کی تاریخی چوری، پورٹل اور فائلوں میں کروڑوں کا ہیر پھیر ثابت!
مینوئل کھاتوں اور کمپیوٹرائزڈ ریکارڈ میں کروڑوں کا تضاد، پنجاب لوکل گورنمنٹ رولز کی دھجیاں اڑا کر طبعی اسٹاک ویریفکیشن بھی صفر نکلی، دفتری اسٹورز پر چوری کا بدترین راج!
وزیر اعلیٰ پنجاب جاگیے! گوجرخان کی طرح کرپشن کی دیمک پورے صوبے کو چاٹ گئی اگر پنجاب کی تمام بلدیات کا ایسا ہی تیکھا فزیکل آڈٹ ہو تو قومی خزانے میں کھربوں واپس آئیں گے
رپورٹر باغی ٹی وی قمرشہزاد مغل کی بدعنوان مافیا کے خلاف بے باک رپورٹنگ اور سابق پارلیمانی سیکریٹری راجہ محمد جاوید اخلاص کی درخواست پر محکمہ لوکل گورنمنٹ اینڈ کمیونٹی ڈیولپمنٹ پنجاب نے بلدیہ گوجرخان میں ہونے والی تاریخی لوٹ مار کے پرخچے اڑانے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی 5 رکنی انکوائری کمیٹی قائم کی تھی جس میں ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل (آڈٹ اینڈ اکاؤنٹس) فرخ جے گلزار (کنوینر)، ڈائریکٹر آرکیٹیکچر مسرور خان، ڈائریکٹر میونسپل ریگولیشنز محمد مدثر الزماں، اسسٹنٹ ڈائریکٹر ملک اعجاز احمد اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر شہریار خان شامل تھے اور اس خصوصی کمیٹی نے گوجر خان میں باقاعدہ دو دن تک ڈیرے ڈال کر 129 صفحات کی پہلی فائل اور 23 صفحات پر مشتمل دوسری متوازی فائل کے ایک ایک ہندسے کو کھنگالا جس کے بعد یہ چشم کشا انکوائری رپورٹ سامنے آئی ہے جس نے بلدیہ گوجر خان کے اندر چھپے ان سفید پوش مچھلیوں، سابقہ و موجودہ چیف افسران (COs)، بلڈنگ مافیا اور کرپٹ ٹھیکیداروں کا نقاب نوچ لیا ہے جنہوں نے قومی خزانے کو اپنی ذاتی جاگیر سمجھ کر لوٹا اور یہ تفتیش ثابت کرتی ہے کہ اگر پنجاب کی تمام تحصیلوں اور اضلاع کی بلدیات کا ایسا ہی تیکھا اور کڑا فزیکل آڈٹ کروایا جائے تو قومی خزانے کو کھربوں روپے کے نقصان سے بچا کر لٹیروں کو قانون کے شکنجے میں لایا جا سکتا ہے۔ انکوائری ٹیم کی فائنڈنگز کے مطابق بلدیہ گوجر خان کے انجینئرنگ ونگ اور انتظامیہ نے پنجاب پرکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے قوانین کو بوٹوں تلے روندتے ہوئے اوپن ٹینڈرز سے بچنے کے لیے مالی سال 2024-25 میں 50.487 ملین روپے (144 کام) اور مالی سال 2025-26 میں 94.179 ملین روپے (204 کام) کا مجموعی طور پر 144.66 ملین روپے کا خطیر ترقیاتی بجٹ جان بوجھ کر 5 لاکھ روپے کی قانونی حد سے نیچے رکھ کر 348 فرضی چھوٹی کوٹیشنز (Splitting) میں تقسیم کر کے اپنے من پسند اور پُول کرنے والے ٹھیکیداروں میسرز اللہ دتہ خان، شہباز اینڈ سنز، میسرز راجہ تنویر حسین اور احمد بلڈرز میں بندر بانٹ کر دیا جبکہ اس پورے اسکینڈل کا سب سے گھناؤنا اور جارحانہ کھیل جی ٹی روڈ انڈر پاس منصوبے کی آڑ میں کھیلا گیا جہاں بلدیہ نے پہلے 18.539 ملین روپے کی لاگت سے کاغذی اور فرضی پارکس، روڈ لائٹنگ اور گرین بیلٹس تعمیر کروائے اور جیسے ہی انڈر پاس کا کام شروع ہوا تو ان بنے بنائے منصوبوں پر بلڈوزر چلوا کر انہیں مسمار دکھا دیا گیا اور وہاں نصب قیمتی جھولے (Merry-go-round units)، لوہے کی گرلیں، فوارے اور الیکٹرک کیبلز راتوں رات غائب کر کے ہضم کر لیے گئے اور حد تو یہ ہے کہ اسی مسمار شدہ ملبے کو ہٹانے کے لیے 9.973 ملین روپے کی ایک اور مشکوک اسکیم بنا کر سرکاری فنڈز کی کھلی بربادی کی گئی جبکہ مروجہ انجینئرنگ اصولوں کے برخلاف میسرز این ایس بلڈرز (NS Builders) کو چوک شُندہ اسکیم (63.29 ملین روپے) میں پرفارمنس سیکیورٹی جمع کرائے بغیر ہی ورک آرڈر جاری کر دیا گیا۔ لوٹ مار کی یہ داستان واٹر سپلائی نیٹ ورک میں جا کر مزید سنگین ہو جاتی ہے جہاں بلدیہ نے ٹھیکیدار میسر شبیر حسین اینڈ سنز کو اربن واٹر سپلائی کے فریم ورک کنٹریکٹ کے نام پر 44.00 ملین روپے اور مرمت کے نام پر 5.75 ملین روپے کے دو متوازی اور فوٹو کاپی ٹھیکے جاری کیے اور ان دونوں فائلوں میں بالکل ایک جیسے کام جیسے 25 KV ٹرانسفارمر کی مرمت (632,813 روپے)، سبمرسیبل پمپ کی تبدیلی (410,548 روپے) اور 25 HP موٹر کی مرمت (400,781 روپے) کے فرضی کلیم بنا کر کروڑوں روپے کی ڈبل بلنگ کی گئی اور سب انجینئرز کے دستخطوں کے بغیر ہی فائنل بل پاس کروا کر رقم ریلیز کر دی گئی جبکہ دوسری طرف ریگولیشن ونگ کی نااہلی اور اثر و رسوخ کی وجہ سے شہریوں اور کمرشل اداروں سے پانی کے بلوں کی مد میں 33.65 ملین روپے کا سرکاری ٹیکس سرے سے وصول ہی نہیں کیا گیا جس میں وارڈ 13 اور 14 کے محلے صندل روڈ اور موہڑہ جہانگیر سب سے بڑے ڈیفالٹر نکلے اور اس کے علاوہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی (NHA) کی زمین پر تعمیر کردہ 326 کیبنز کے کرایوں کی مد میں 37.00 ملین روپے کی بھاری رقم بلدیہ کے فنڈز میں منتقل کرنے کے بجائے عدالت میں ہی پڑی رہنے دی گئی جبکہ لیز بقایاجات کی مد میں 4.34 ملین روپے ٹھیکیداروں کی طرف واجب الادہ چھوڑ دیے گئے جس کی وجہ سے بلدیہ کے نان ڈیولپمنٹ اخراجات ریکارڈ 98.69% تک پہنچ گئے۔ عوامی للکار کے چشم انکشافات اس وقت سچ ثابت ہوئے جب انکوائری کمیٹی نے دفتری ریکارڈ اور موقع کے فزیکل معائنے کے بعد بلڈنگ کنٹرول برانچ میں پچھلے 26 سال سے ایک ہی سیٹ پر جِم کر بیٹھے جونیئر کلرک اعجاز صحبت، پچھلے 20 سال سے قابض نعیم سرور اور 13 سال سے تعینات نازک حسین کے گٹھ جوڑ کو بے نقاب کیا جنہوں نے مافیا کے ساتھ مل کر بلدیہ کے کمپیوٹرائزڈ پورٹل اور فائلوں میں بدترین ٹمپرنگ کی اور شہر کے بااثر افراد لیاقت علی (نیو گلیانہ روڈ - 01 کنال کا پلازہ)، رفیق خان (نیو گلیانہ روڈ - 10 مرلہ کی بلڈنگ)، چوہدری غضنفر علی (سبزی منڈی - 05 مرلہ کی بلڈنگ)، چوہدری کامران (سبزی منڈی - 10 مرلہ کا پلازہ)، واجد علی (جی ٹی روڈ - 10 مرلہ کا پلازہ) اور ایک نامعلوم شخص (سبزی منڈی - 10 مرلہ کی بلڈنگ) کے 06 بڑے کمرشل پلازے اور عمارتیں بغیر کسی نقشے، بلڈنگ فیس اور کنورژن چارجز کے 100% غیر قانونی تعمیر کروا دیے جس سے بلدیہ کو کروڑوں روپے کا براہِ راست مالیاتی نقصان پہنچا جبکہ عثمان طاہر، خرم قیوم، ذیشان اعظم، احتشام الحق، محمد عبداللہ، نبیلہ کوثر اور محمد الیاس شریف کے نام بھی بلڈنگ فیس شیڈول میں ملوث پائے گئے۔ انکوائری رپورٹ کی دونوں فائلوں کے مطابق اس پورے فنانشل فراڈ پر سخت ترین ایکشن لیتے ہوئے انکوائری کے دائرے کو وسیع کر دیا گیا ہے اور اسکینڈل کی زد میں آنے والے بلدیہ کے افسران بشمول مس شمائلہ خان (میونسپل آفیسر پلاننگ - BPS-17)، اورنگزیب شوکت (میونسپل آفیسر انفراسٹرکچر)، انعام مصطفیٰ (بلڈنگ انسپکٹر - BPS-14)، عابد حسین (ڈرافٹسمین / انفورسمنٹ انسپکٹر جو سرکاری کوارٹر کرایہ کے بھی ڈیفالٹر ہیں)، مشتاق احمد (نائب قاصد - جو 18 سال سے تعینات ہیں)، ممتاز سرور (سب انجینئر)، پیڈا ایکٹ کے تحت معطل اور ڈیوٹی سے غائب عملہ بشمول راشد شاہپال (نائب قاصد)، عدیل (نائب قاصد)، محمد مبشر (نائب قاصد)، محمد اجمل (انفورسمنٹ انسپکٹر جن کی حاضری صفر پائی گئی)، چاند مبین (انفورسمنٹ انسپکٹر)، فیض اللہ (انفورسمنٹ انسپکٹر)، سابق سی اوز طارق ضیاء اور غلام قمر وڑائچ، اور بلدیہ کے قانونی مشیران جو 25,000 روپے ماہانہ لینے کے باوجود ریکوری میں ناکام رہے کے خلاف پیڈا ایکٹ 2006 (PEEDA Act) اور ملوث ٹھیکیداروں و مالکان کے خلاف اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ (ACE) کے تحت فوری ایف آئی آر (FIR)، معطلی اور فوجداری کارروائی کی حتمی سفارش کر کے تمام غیر قانونی پلازوں کو فوری سیل کرنے کا حکم جاری کر دیا گیا ہے اور باغی ٹی وی حکومتِ پنجاب کو باخبر کرتا ہے کہ گوجرخان کا یہ اسکینڈل پورے صوبے کے لیے ایک تازیانہ ہے جس پر وزیر اعلیٰ پنجاب کو فوری نوٹس لے کر تمام اضلاع کی بلدیات کا ایسا ہی فزیکل آڈٹ کروانا چاہیے تاکہ قومی خزانہ مزید لٹنے سے بچ سکے۔





