"علم ادب کی پہچان ہے۔ علم انسان کی شخصیت و کردار کا آئینہ دار ہے اور علم کے بغیر انسان نامکمل ہے۔ یہ وہ لازوال چراغ ہے جو دنیا کے ساتھ ساتھ انسان کی قبر کو بھی روشن رکھتا ہے اور جہالت کے اندھیروں کو ہمیشہ کے لیے دور کر دیتا ہے، کیونکہ علم حاصل کرنے کی کوئی حد یا عمر نہیں ہوتی۔"
علم کی حقیقت اور وسعت
علم صرف چند معلوماتی حقائق کو ذہن میں محفوظ کر لینے یا ڈگریوں کے حصول کا نام نہیں ہے۔ یہ دراصل وہ اندرونی روشنی ہے جو انسان کو صحیح اور غلط, اچھے اور برے, اور عروج و زوال کے راستوں میں تمیز سکھاتی ہے۔ عربی زبان میں علم کا مادہ "ع-ل-م" ہے، جس کے معنی کسی چیز کی حقیقت کو جاننا اور اس کی پہچان حاصل کرنا ہیں۔ علم ایک ایسے گہرے سمندر کی مانند ہے، جس کا کوئی کنارہ نہیں۔ انسان اس غوطہ خوری میں جتنا گہرا اترتا جائے اور جتنا भी علم حاصل کر لے، وہ ہمیشہ کم ہی رہتا ہے کیونکہ اس کی وسعتیں لامتناہی ہیں۔ علم ہی وہ قوت ہے جو انسان کو مٹی کے پتلے سے اٹھا کر اشرف المخلوقات کے مرتبے پر فائز کرتی ہے۔
علم اور انسانی کردار کا رشتہ
علم کا سب سے پہلا اور گہرا اثر انسان کی شخصیت اور اس کے اخلاق پر ہوتا ہے۔ سچا علم انسان کے اندر عاجزی اور انکساری پیدا کرتا ہے۔ جس طرح پھل دار درخت ہمیشہ جھکا رہتا ہے، اسی طرح علم کا حامل انسان تکبر سے پاک ہوتا ہے۔ علم انسان کو شعور بخشتا ہے کہ وہ معاشرے میں دوسروں کے حقوق و فرائض کو سمجھے۔ ایک پڑھا لکھا اور باکردار انسان کبھی معاشرے کے لیے نقصان دہ نہیں ہو سکتا، کیونکہ اس کا علم اسے ہر قدم پر ظلم, ناانصافی اور جہالت سے روکتا ہے۔
دینی اور دنیاوی علم کا حسین امتزاج
اسلام میں علم کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ غارِ حرا میں نازل ہونے والی پہلی وحی کا پہلا لفظ ہی "اِقْرَأْ" (پڑھو) تھا۔ قرآن مجید نے علم والوں اور بے علموں کو کبھی برابر قرار نہیں دیا۔ دین کا علم جہاں انسان کو خدا کی پہچان اور آخرت کی کامیابی کا راستہ دکھاتا ہے، وہاں دنیاوی علوم (جیسے سائنس، طب، اور ریاضی) انسان کو کائنات کے اسرار و رموز کو سمجھنے اور انسانیت کی خدمت کرنے کے قابل بناتے ہیں۔ ایک متوازن معاشرے کے لیے دینی اور دنیاوی دونوں علوم کا ہونا ناگزیر ہے۔
جہالت کا خاتمہ اور لازوال چراغ
جہالت ایک ایسی تاریکی ہے جو قوموں کو غلامی اور پسماندگی کے گڑھے میں دھکیل دیتی ہے۔ علم اس تاریکی کو مٹانے والا وہ واحد چراغ ہے جس کی لو وقت گزرنے کے ساتھ مدہم نہیں ہوتی، بلکہ مزید تیز ہوتی ہے۔ انسان مر جاتا ہے، لیکن اس کا پھیلایا ہوا علم، اس کی لکھی ہوئی کتابیں اور اس کی دی ہوئی تہذیب دنیا میں ہمیشہ زندہ رہتی ہے۔ یہی وہ اثاثہ ہے جو انسان کے جانے کے بعد بھی اس کا نام تاریخ کے جھروکوں میں روشن رکھتا ہے۔ علم حاصل کرنے کی کوئی حد، سرحد یا عمر نہیں ہوتی؛ یہ ماں کی گود سے شروع ہو کر قبر کی آغوش تک جاری رہنے والا ایک خوبصورت سفر ہے۔
مختصراً یہ کہ علم زندگی کا حسن اور روح کی غذا ہے۔ جو قومیں علم کے میدان میں پیچھے رہ جاتی ہیں، وہ دنیا کے نقشے پر اپنی شناخت کھو دیتی ہیں۔ اگر ہم اپنی شخصیت کو سنوارنا، اپنے کردار کو مضبوط کرنا اور اپنے ملک و معاشرے کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنا چاہتے ہیں، تو ہمیں علم کو اپنی اولین ترجیح بنانا ہوگا۔ علم ہی وہ لازوال دولت ہے جسے نہ کوئی چرا سکتا ہے اور نہ ہی یہ بانٹنے سے کم ہوتی ہے، بلکہ جتنا بانٹا جائے، اتنا ہی اس کی روشنی میں اضافہ ہوتا ہے۔
مزید پڑھیں





