انصاف ہمارے معاشرے کی روح اور اس کی زندگی کی ضمانت ہوتا ہے۔ یہی وہ اصول ہیں جو انسان کو ظلم نا انصافی اور بےاعتدالی سے بچاتا ہے۔ جب ہمارے معاشرے میں انصاف کا بول بالا ہو جائے تو ہمارا معاشرہ امن و سکون اور اعتماد کی زندگی جینے لگتا ہے لیکن جب یہی انصاف ہمارے معاشرے میں ناپید ہو جائے تو بدامنی اور انتشار بڑھنے لگتا ہے۔ آج کے دور میں انصاف کی تلاش ایک اہم مسئلہ بن چکی ہے۔ جس پر ایک نظر ڈالنے کی ضرورت ہے۔
دیکھا جائے تو ہمارے عدالتی نظام میں مقدمات کی طویل فہرست ہمارے انصاف کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ نظر آتی ہے۔ ایک عام آدمی برسوں عدالتوں کے چکر کاٹ کر بھی انصاف کے انتظار میں اپنی زندگی تک ہار جاتا ہے۔ کبھی وکیلوں کی فیسیں تو کبھی تاریخ کی طوالت اس کی ہمت توڑ دیتی ہیں۔ بد قسمتی سے ہمارے معاشرے میں انصاف کا ترازو اکثر طاقتور کی طرف جھکا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ اس لیے کمزور انسان ہلکا رہتا ہے اور تنہا رب کے سہارے اپنی زندگی بسر کرتا ہے۔
اسلامی تعلیمات میں انصاف کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔
(سورۃ النحل آیت نمبر 90) کا ترجمہ ہے کہ "بے شک اللّہ انصاف اور بھلائی کا حکم دیتا ہے۔"
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ عدل و انصاف نہ صرف اخلاقی فریضہ ہے بلکہ ایک حکمِ الٰہی بھی ہے۔
اسی طرح خلفائے راشدین کے ادوار میں انصاف کی بہترین مثالیں موجود ہیں۔ حضرت عمر فاروق رض کا یہ قول بہت مشہور ہے کہ "دریائے فرات کے کنارے اگر ایک کتا بھی بھوکا مر جائے تو عمر سے اس کا حساب لیا جائے گا۔"
یہ جملہ حکمرانوں کی ذمہ داری اور انصاف کے احساس کو اجاگر کرتا ہے۔
معاشرتی سطح پر بھی دیکھا جائے تو انصاف کی کمی واقع ہوئی ہے۔ گھریلو ناانصافی، تعلیمی اداروں میں عدم مساوات اور دفاتر میں سفارشی سسٹم جیسے مسائل انصاف کے فقدان کی نشاندہی کرتے ہیں۔ یہ رویے نہ صرف ہماری عوام کو متاثر کرتے ہیں بلکہ ہمارے معاشرے کی بنیادوں کو ہلانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ یہی وہ عوامل ہیں جو ایک عام انسان کو مایوسی کی طرف لے جاتے ہیں اور پھر ہمارے معاشرے میں جرائم کی شرح میں اضافہ ہونے لگتا ہے۔ ایک بے بس، مجبور انسان پھر خودکشی جیسے فعل کو اپناتا ہے اور اپنی زندگی کا قلع قمہ کرتا ہے۔
ہماری ریاست کا فرض ہے کہ وہ اپنے شہریوں کو انصاف مہیا کرے۔ ایک مضبوط عدالتی نظام کی بنیاد رکھے۔ جہاں پر قانون کی بالادستی ہو کیونکہ اگر ہمارے ادارے مضبوط ہوں اور قانون ہر امیر و غریب کے لیے یکساں ہو تو نہ صرف ہمارے معاشرے میں جرائم ختم ہوں گے بلکہ ہمارے عوام کا اعتماد بھی بحال ہوگا۔ انصاف کے قیام میں ریاست کے ساتھ ساتھ ہمارا بھی اہم کردار ہے اگر ہم اپنی روزمرّہ زندگی میں انصاف کو اپنائیں تو زندگی میں مثبت تبدیلی پیدا ہوگی۔ ایک منصفانہ طریقے سے حقدار کو حق دینا اور برابری کا سلوک اختیار کرنا ہی انصاف کی اصلی پہچان ہے۔
قرآن مجید میں بارہا عدل و انصاف کا حکم دیا گیا اور ہمارے پیارے نبی ﷺ کی سیرت میں بے شمار انصاف کی مثالیں ملتی ہیں۔ یہاں تک کہ اپنے دشمن کے ساتھ بھی انصاف کی تلقین کی گئی ہے۔ جو اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ انصاف کسی خاص شخص یا گروہ کی حد تک نہیں بلکہ ایک عالمی اصول ہے۔
یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ انصاف کی تلاش ایک مسلسل سفر ہے، جو ہر دور میں جاری رہا ہے اور رہے گا۔ یہ صرف عدالتوں یا قوانین تک محدود نہیں بلکہ ہر دل، ہر سوچ اور ہر عمل میں شامل ہونا چاہیے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم سب مل کر انصاف کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں تاکہ ہماری آنے والی نسلِ نو انصاف کی اہمیت کو جان سکیں۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ انصاف کی تلاش اس زیستِ مسلسل کی طرح ایک جدو جہد ہے۔ جو ہر فرد اور ہر ادارے سے اپنا کردار ادا کرنے کا تقاضہ کرتی ہے۔ جب تک ہم انصاف کو صرف ایک مطالبہ سمجھنے کے بجائے اپنی زندگی کا اصول نہیں بنائیں گے، یہ تلاش جاری رہے گی۔ ایک روشن اور خوشحال معاشرہ تب ہی وجود میں آ سکتا ہے جب انصاف ہر فرد کا حق اور ہر ادارے کی ذمہ داری بن جائے۔ ایک مثالی معاشرہ وہی ہوتا ہے جہاں انصاف صرف قانون کی کتابوں تک محدود نہ ہو بلکہ ہر دل اور ہر عمل میں زندہ ہو۔
مزید پڑھیں






