انسان اور نمک ، ایک انوکھا رشتہ،تحریر: بنت محبوب
نقطہ نظر
زندگی میں کچھ چیزیں ایسی ہوتی ہیں جن کی موجودگی کا ہمیں احساس ہی نہیں ہوتا، لیکن ان کے بغیر زندگی ادھوری لگتی ہے۔ نمک بھی انہی میں سے ایک ہے۔ دسترخوان پر رکھی ہوئی چھوٹی سی نمک دانی کو دیکھ کر کوئی اندازہ نہیں لگا سکتا کہ اس کے اندر کتنی بڑی کہانی چھپی ہوئی ہے۔ انسان اور نمک کا تعلق صرف ذائقے کا نہیں، بلکہ وفا، قربانی، توازن اور انسانیت کا تعلق ہے۔
نمک کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ خود کو مٹا کر دوسروں کو ذائقہ دیتا ہے۔ وہ کبھی سامنے نہیں آتا، کبھی اپنی بڑائی کا دعویٰ نہیں کرتا۔ سالن میں گھل کر وہ غائب ہو جاتا ہے، مگر اس کی غیر موجودگی فوراً محسوس ہو جاتی ہے۔ دنیا میں کچھ لوگ بھی بالکل نمک جیسے ہوتے ہیں۔ وہ گھر میں ہوں تو گھر آباد لگتا ہے، وہ دفتر میں ہوں تو کام آسان لگتا ہے، وہ دوستوں میں ہوں تو محفل میں جان آ جاتی ہے۔ لیکن وہ کبھی یہ نہیں کہتے کہ دیکھو میں نے کیا کیا۔ ان کی خاموش خدمت ہی ان کی پہچان ہوتی ہے۔
ہمارے ہاں ایک کہاوت بہت مشہور ہے: جس کا نمک کھایا ہے، اسے کبھی فراموش نہ کرو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ احسان کو یاد رکھنا ہی اصل انسانیت ہے۔ جو شخص کسی کا دیا ہوا کھا کر، اس کا سہارا لے کر، اس کی مدد سے آگے بڑھ کر، پھر اسی کو بھول جائے، اسے لوگ نمک حرام کہتے ہیں۔ اور جو شخص تھوڑے سے احسان کو بھی ساری زندگی یاد رکھے، اسے نمک حلال کہا جاتا ہے۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ آج کے دور میں نمک حلالی کم ہوتی جا رہی ہے۔ لوگ مطلب کے لیے رشتے بناتے ہیں۔ جب تک فائدہ ہے، تب تک سلام دعا ہے۔ جیسے ہی مطلب ختم ہوا، رشتہ بھی ختم۔ ایسے لوگوں کو یہ سمجھنا چاہیے کہ نمک جب پانی میں گھلتا ہے تو وہ اپنا وجود ختم کر کے بھی ذائقہ چھوڑ جاتا ہے، لیکن مطلب پرست انسان اپنا وجود ختم کر کے صرف تلخی چھوڑ جاتا ہے۔
نمک ہمیں توازن کا سبق بھی دیتا ہے۔ کھانے میں نمک تھوڑا ہو تو کھانا پھیکا لگتا ہے، اور زیادہ ہو تو کھانا خراب ہو جاتا ہے۔ زندگی بھی اسی توازن کا نام ہے۔ اگر انسان میں محبت بالکل نہ ہو تو وہ پتھر بن جاتا ہے، اور اگر محبت میں اندھا ہو جائے تو وہ اپنا نقصان کر بیٹھتا ہے۔ غصہ نہ ہونا بھی کمزوری ہے، اور ہر بات پر غصہ کرنا بھی تباہی ہے۔ پیسہ نہ ہونا بھی تکلیف ہے، اور پیسے کے پیچھے پاگل ہو جانا بھی بربادی ہے۔ کامیاب انسان وہی ہے جو نمک کی طرح زندگی میں ہر چیز کو مناسب مقدار میں رکھے۔
ایک اور بات جو نمک سے سیکھنے والی ہے، وہ ہے حفاظت۔ پہلے زمانے میں جب فریج نہیں تھے، تو لوگ چیزوں کو سڑنے سے بچانے کے لیے نمک لگاتے تھے۔ نمک چیزوں کو خراب ہونے سے روکتا تھا۔ اسی طرح انسان کے اندر بھی اگر شرم، حیا، سچائی اور ایمان کا نمک موجود ہو تو وہ انسان گناہوں سے، برائیوں سے اور غلط راستوں سے بچا رہتا ہے۔ جس دل سے حیا کا نمک نکل جائے، وہ دل سڑ جاتا ہے۔ جس معاشرے سے انصاف کا نمک نکل جائے، وہ معاشرہ بھی گل سڑ جاتا ہے۔
نمک کی قدر اس وقت ہوتی ہے جب وہ نہ ہو۔ جب دسترخوان پر کھانا آتا ہے اور نمک کم ہوتا ہے تو سب کو نمک یاد آتا ہے۔ اسی طرح اچھے انسان کی قدر بھی اس کے جانے کے بعد ہوتی ہے۔ جب تک وہ زندہ ہوتا ہے، لوگ اس کی پرواہ نہیں کرتے۔ اس کی بات کو اہمیت نہیں دیتے۔ لیکن جب وہ اس دنیا سے چلا جاتا ہے تو سب کہتے ہیں، وہ بہت اچھا انسان تھا۔ کاش ہم نے اس کی قدر کی ہوتی۔ یہ انسان کی سب سے بڑی غلطی ہے کہ وہ زندہ نمک کی قدر نہیں کرتا، مرے ہوئے نمک پر آنسو بہاتا ہے۔
انسان کو چاہیے کہ وہ نمک جیسا بنے۔ سادہ، خاموش، وفادار اور دوسروں کے لیے فائدہ مند۔ نہ اتنا تیز کہ لوگ اس سے دور بھاگیں، نہ اتنا پھیکا کہ لوگ اسے بھول جائیں۔ بلکہ اتنا متوازن کہ جہاں جائے، وہاں زندگی میں ذائقہ پیدا کر دے۔
یاد رکھیں، دنیا کو بڑے بڑے ناموں کی نہیں، نمک جیسے چھوٹے مگر سچے انسانوں کی ضرورت ہے۔ جو بغیر شور مچائے، بغیر نام چاہے، دوسروں کی زندگی کو بہتر بنا دیں۔ اگر ہر انسان نمک کی طرح اپنی ذات کو دوسروں کے لیے گھولنا سیکھ لے، تو یہ دنیا خود بخود خوبصورت ہو جائے گی۔
مزید پڑھیں





