پیر، 26 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

انسانیت کا زوال یا ہماری خاموشی؟ تحریر: سائرہ علی

نقطہ نظر

زندگی محض سانس لینے، ضروریات پوری کرنے، دولت جمع کرنے اور وقت گزارنے کا نام نہیں، بلکہ یہ احساس، محبت، ذمہ داری، برداشت اور انسانیت کے تقاضے نبھانے کا ایک مسلسل سفر ہے۔ انسان کی اصل پہچان اس کے لباس، عہدے، دولت، شہرت یا ظاہری وجاہت سے نہیں، بلکہ اس کے کردار، اخلاق اور دوسروں کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک سے ہوتی ہے۔ مگر افسوس کہ آج کا انسان ترقی کی بلند ترین منزلوں کو چھونے کی خواہش میں کہیں نہ کہیں اپنی اصل پہچان کھوتا جا رہا ہے۔ ہمارے پاس رابطے کے بے شمار ذرائع ہیں، لیکن دلوں کے درمیان فاصلے بڑھ رہے ہیں۔ معلومات کے خزانے ہیں، مگر حکمت کی کمی محسوس ہوتی ہے۔ زبان پر محبت کے دعوے ہیں، مگر رویوں میں تلخی اور معاملات میں خود غرضی نمایاں ہوتی جا رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا واقعی ہم ترقی کر رہے ہیں، یا صرف ترقی کے ظاہری پیمانوں میں الجھ کر زندگی کی حقیقی قدروں سے دور ہوتے جا رہے ہیں؟ یہ سوال محض کسی ایک فرد، خاندان یا معاشرے کا نہیں، بلکہ پوری انسانیت کے ضمیر سے تعلق رکھتا ہے۔

ترقی کی دوڑ میں کردار کی شکست ہوتی جارہی ہے۔

بلاشبہ موجودہ دور سائنس، ٹیکنالوجی، طب، تعلیم اور مواصلات کے میدانوں میں غیر معمولی ترقی کا دور ہے۔ چند لمحوں میں دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک پیغام پہنچ جاتا ہے، بیماریوں کی تشخیص کے لیے جدید آلات موجود ہیں، علم تک رسائی پہلے سے کہیں زیادہ آسان ہو چکی ہے اور انسان نے فطرت کے کئی راز دریافت کر لیے ہیں۔ لیکن ان تمام کامیابیوں کے باوجود ایک بنیادی سوال اپنی جگہ قائم ہے۔ کیا ہماری اخلاقی ترقی بھی ہماری سائنسی ترقی کے ساتھ قدم ملا کر چل رہی ہے؟ اگر ایک شخص جدید ترین گاڑی میں بیٹھ کر کسی ضرورت مند کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتا ہے، اگر کوئی تعلیم یافتہ فرد اپنے علم کو دوسروں کی تذلیل کے لیے استعمال کرتا ہے، اگر کسی منصب پر فائز انسان اپنی ذمہ داری کو امانت کے بجائے ذاتی مفاد کا ذریعہ سمجھتا ہے، تو اس کی ظاہری ترقی کے باوجود اس کے کردار میں ایک بنیادی کمی باقی ہے۔ تعلیم کا اصل مقصد صرف روزگار حاصل کرنا نہیں، بلکہ انسان کو باشعور، مہذب، ذمہ دار اور دوسروں کے حقوق کا احترام کرنے والا بنانا بھی ہے۔ ڈگری انسان کو کسی شعبے میں مہارت دے سکتی ہے، مگر اچھا کردار تربیت، احساسِ ذمہ داری اور مسلسل خود احتسابی سے تشکیل پاتا ہے۔ جس معاشرے میں ذہانت کو اہمیت دی جائے لیکن دیانت کو نظرانداز کر دیا جائے، وہاں کامیابی کے بلند مینار تو تعمیر ہو سکتے ہیں، مگر اعتماد کی بنیادیں کمزور رہتی ہیں۔

سوشل میڈیا: قربت کا ذریعہ یا فاصلے بڑھانے کا وسیلہ؟

آج کے دور میں سوشل میڈیا ہماری زندگی کا اہم حصہ بن چکا ہے۔ اس نے اظہارِ خیال، تعلیم، معلومات اور رابطے کے نئے دروازے کھولے ہیں۔ کسی مفید پیغام کو عام کرنا ہو، کسی مظلوم کی آواز دنیا تک پہنچانی ہو یا کسی علمی موضوع پر آگاہی پیدا کرنی ہو، ڈیجیٹل ذرائع غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں۔ تاہم ان سہولتوں کے ساتھ کچھ ایسے رویے بھی پروان چڑھے ہیں جو معاشرتی ہم آہنگی کے لیے نقصان دہ ہیں۔

ہم دوسروں کی زندگیوں کی جھلکیاں دیکھ کر اپنی زندگی کا موازنہ کرنے لگتے ہیں۔ کسی کی خوشی ہمیں اپنی محرومی کا احساس دلاتی ہے، کسی کی کامیابی ہمارے اندر احساسِ کمتری پیدا کرتی ہے اور کسی کی رائے سے اختلاف ہمیں ذاتی دشمنی تک لے جاتا ہے۔ بعض اوقات ایک غیر مصدقہ خبر، ایک نامکمل ویڈیو یا ایک اشتعال انگیز جملہ لوگوں کے درمیان نفرت پھیلانے کے لیے کافی ثابت ہوتا ہے۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ ہر سنی ہوئی بات سچ نہیں ہوتی، ہر دیکھی ہوئی تصویر مکمل حقیقت نہیں ہوتی اور ہر مقبول رائے درست نہیں ہوتی۔ ایک ذمہ دار شہری کی حیثیت سے ضروری ہے کہ کسی خبر کو آگے بڑھانے سے پہلے اس کی تصدیق کریں، اختلاف کرتے ہوئے تہذیب کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں اور اپنی آزادیِ اظہار کو دوسروں کی عزتِ نفس مجروح کرنے کا ذریعہ نہ بنائیں۔ الفاظ بظاہر معمولی ہوتے ہیں، لیکن ان کے اثرات غیر معمولی ہو سکتے ہیں۔ ایک نرم جملہ مایوس انسان کے دل میں امید جگا سکتا ہے، جبکہ ایک تلخ فقرہ برسوں کے تعلق کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم بولنے سے پہلے سوچنے اور لکھنے سے پہلے اپنے الفاظ کے ممکنہ نتائج پر غور کرنے کی عادت اپنائیں۔

رشتوں کی قدر اور احساس کی اہمیت کیا ہوتی ہے؟ انسانی زندگی کی سب سے قیمتی دولت وہ رشتے ہیں جو محبت، اعتماد، خلوص اور احترام سے قائم رہتے ہیں۔ والدین کی دعائیں، بہن بھائیوں کی محبت، دوستوں کی رفاقت اور بزرگوں کی نصیحتیں زندگی کے وہ سرمایہ ہیں جن کی حقیقی قدر اکثر اس وقت محسوس ہوتی ہے جب ان میں سے کوئی نعمت ہم سے دور ہو جاتی ہے بدقسمتی سے مصروفیت کے اس دور میں ہم نے وقت کی کمی کو ایک مستقل عذر بنا لیا ہے۔ والدین ہمارے انتظار میں بیٹھے رہتے ہیں اور ہم چند لمحے ان کے پاس بیٹھنے کے بجائے موبائل کی اسکرین میں مصروف رہتے ہیں۔ بچے ہماری توجہ چاہتے ہیں، مگر ہم انہیں سہولتیں فراہم کرنے ہی کو اپنی مکمل ذمہ داری سمجھ لیتے ہیں۔ دوست پیغام بھیجتے ہیں تو جواب مؤخر کر دیا جاتا ہے، اور بعض اوقات کسی عزیز کی خاموشی کو سمجھنے کے بجائے ہم اس سے شکوہ کرنے لگتے ہیں۔ حالانکہ رشتے صرف تحائف، تقریبات اور رسمی ملاقاتوں سے مضبوط نہیں ہوتے۔ انہیں وقت، توجہ، برداشت اور احساس کی ضرورت ہوتی ہے۔ کسی پریشان شخص کی بات خاموشی سے سن لینا، کسی بزرگ کی خدمت کر دینا، کسی بچے کی بات کو اہمیت دینا اور کسی ناراض عزیز کو منانے میں پہل کرنا بظاہر چھوٹے اعمال ہیں، مگر یہی اعمال زندگی کو خوب صورت بناتے ہیں۔ ہمیں یہ حقیقت سمجھنی ہوگی کہ ہر انسان اپنی زندگی میں کسی نہ کسی آزمائش سے گزر رہا ہوتا ہے۔ کسی کے چہرے کی مسکراہٹ اس کے دل کے سکون کی ضمانت نہیں، اور کسی کی خاموشی اس بات کا ثبوت نہیں کہ اسے ہماری ضرورت نہیں۔ اس لیے فیصلہ سنانے سے پہلے سمجھنے، تنقید کرنے سے پہلے سننے اور شکایت کرنے سے پہلے اپنے رویے کا جائزہ لینے کی عادت اپنانی چاہیے۔ معاشرتی اصلاح کا آغاز کہاں سے ہو؟

ہم اکثر معاشرے کی خرابیوں پر گفتگو کرتے ہیں۔ ہمیں نظام کی کمزوریاں نظر آتی ہیں، اداروں کی خامیاں دکھائی دیتی ہیں، دوسروں کی غلطیاں یاد رہتی ہیں اور ہر مسئلے کی ذمہ داری کسی دوسرے شخص پر ڈال دینا آسان محسوس ہوتا ہے۔ لیکن جب سوال اپنی ذات تک پہنچتا ہے تو ہماری دلیلیں بدل جاتی ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ لوگ سچ بولیں، مگر کبھی اپنے فائدے کے لیے حقیقت چھپا لیتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہر شخص قانون کا احترام کرے، مگر اپنی سہولت کے لیے اصول توڑنے میں عار محسوس نہیں کرتے۔ ہم دوسروں سے دیانت، وقت کی پابندی اور حسنِ اخلاق کی توقع رکھتے ہیں، لیکن خود ان اصولوں پر عمل کرنے میں کوتاہی کر جاتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ معاشرتی اصلاح محض نعروں، تقریروں اور شکایات سے ممکن نہیں۔ اس کے لیے عملی کردار، مستقل مزاجی اور ذاتی مثال کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر ہم اپنے گھر میں بچوں کو سچ بولنے کی تلقین کرتے ہیں تو ہمیں خود بھی سچائی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ اگر ہم صفائی کا مطالبہ کرتے ہیں تو اپنے حصے کی جگہ صاف رکھنی ہوگی۔ اگر ہم انصاف پسند معاشرہ چاہتے ہیں تو اپنے معاملات میں بھی انصاف کرنا ہوگا، خواہ اس سے ہمارے ذاتی مفاد کو نقصان ہی کیوں نہ پہنچے۔ ایک اچھا معاشرہ صرف اچھے قوانین سے نہیں بنتا، اسے ایسے شہریوں کی ضرورت ہوتی ہے جو قوانین کی پابندی کو اپنی ذمہ داری سمجھیں۔ اداروں کی بہتری ضروری ہے، لیکن شہریوں کے کردار کی اصلاح بھی اتنی ہی اہم ہے۔ تبدیلی کا انتظار کرنے کے بجائے خود تبدیلی کا حصہ بننا ہی زندہ ضمیر کی علامت ہے۔ نوجوان نسل: امید، ذمہ داری اور مستقبل ہے۔کسی بھی قوم کا مستقبل اس کی نوجوان نسل کے ہاتھوں میں ہوتا ہے۔ نوجوانوں کے پاس توانائی، تخلیقی صلاحیت، نئے خیالات اور مشکلات کا مقابلہ کرنے کا جذبہ ہوتا ہے۔ اگر انہیں معیاری تعلیم، مثبت رہنمائی، مناسب مواقع اور صحت مند ماحول فراہم کیا جائے تو وہ معاشرے کی تقدیر بدل سکتے ہیں۔

لیکن نوجوانوں کو صرف نصیحتوں کا بوجھ دینا کافی نہیں۔ انہیں عملی مواقع فراہم کرنا، ان کی صلاحیتوں کو تسلیم کرنا، ان کے سوالات کو سنجیدگی سے سننا اور ان کی ناکامیوں کو سیکھنے کا ذریعہ سمجھنا بھی ضروری ہے۔ ہر نوجوان ایک جیسی صلاحیتوں، حالات اور وسائل کے ساتھ زندگی کا آغاز نہیں کرتا۔ اس لیے کامیابی کا معیار صرف دولت، شہرت یا عہدہ نہیں ہونا چاہیے، بلکہ محنت، دیانت، علم اور مثبت کردار کو بھی اہمیت دینی چاہیے۔ نوجوانوں کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ فوری شہرت ہمیشہ حقیقی کامیابی نہیں ہوتی اور آسان راستہ ہمیشہ درست منزل تک نہیں پہنچاتا۔ زندگی میں مستقل مزاجی، وقت کی قدر، مطالعے کی عادت اور اخلاقی اصولوں کی پابندی دیرپا کامیابی کی بنیاد بنتی ہے۔ ناکامی سے گھبرانے کے بجائے اس سے سبق سیکھنا، دوسروں کی کامیابی سے حسد کرنے کے بجائے اپنی صلاحیتوں کو بہتر بنانا اور مشکلات کے باوجود امید قائم رکھنا ایک مضبوط شخصیت کی نشانیاں ہیں۔

قوموں کی تعمیر صرف بڑے منصوبوں سے نہیں ہوتی۔ یہ ان نوجوانوں سے ہوتی ہے جو اپنے علم کو خدمت، اپنی صلاحیت کو تخلیق اور اپنی کامیابی کو اجتماعی بھلائی کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ امید کا چراغ ابھی روشن ہے۔ اگر ہم اپنے اردگرد غور کریں تو آج بھی بے شمار ایسے لوگ موجود ہیں جو خاموشی سے دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کر رہے ہیں۔ کوئی استاد محدود وسائل کے باوجود طلبہ کا مستقبل سنوار رہا ہے، کوئی ڈاکٹر اپنی ذمہ داری نبھا رہا ہے، کوئی مزدور دیانت داری سے رزق کما رہا ہے، کوئی صاحبِ حیثیت شخص ضرورت مند خاندان کی مدد کر رہا ہے اور کوئی نوجوان اپنی صلاحیتوں کو معاشرے کی بہتری کے لیے استعمال کر رہا ہے۔

یہ لوگ ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ انسانیت ابھی زندہ ہے، خلوص ابھی باقی ہے اور نیکی کی طاقت آج بھی معاشرے کو بدل سکتی ہے۔ ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ ہم اچھائی کو پہچانیں، اس کی حوصلہ افزائی کریں اور خود بھی اس سلسلے کی ایک کڑی بنیں۔ نیکی ہمیشہ بڑے وسائل کی محتاج نہیں ہوتی۔ کبھی کسی بھوکے کو کھانا کھلانا، کسی طالب علم کو کتاب فراہم کرنا، کسی پریشان شخص کی بات سننا، کسی کمزور کا حق دلانے میں مدد کرنا یا کسی غم زدہ انسان کو تسلی دینا بھی زندگی کا رخ بدل سکتا ہے۔ اصل اہمیت عمل کے حجم سے زیادہ اس کے خلوص اور اثر کی ہے۔ ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ ہر اختلاف دشمنی نہیں ہوتا، ہر غلطی ناقابلِ معافی نہیں ہوتی اور ہر انسان کو بہتر بننے کا موقع ملنا چاہیے۔ معافی کمزوری نہیں، بلکہ بعض اوقات مضبوط کردار کی سب سے بڑی دلیل ہوتی ہے۔ البتہ معافی کے ساتھ انصاف، محبت کے ساتھ حدود اور برداشت کے ساتھ اصولوں کی پاسداری بھی ضروری ہے۔ آخری سوال: ہم اپنے پیچھے کیا چھوڑ کر جائیں گے؟

زندگی کی حقیقت یہ ہے کہ وقت کسی کے لیے نہیں رکتا۔ عہدے بدل جاتے ہیں، دولت ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ میں منتقل ہو جاتی ہے، شہرت کا چراغ مدھم پڑ جاتا ہے اور انسان ایک دن اس دنیا سے رخصت ہو جاتا ہے۔ لیکن اس کے اچھے اعمال، اس کی دیانت، اس کی محبت اور اس کے کردار کے اثرات دوسروں کی زندگیوں میں باقی رہ سکتے ہیں۔

اس لیے ہمیں خود سے ایک سوال ضرور کرنا چاہیے: جب ہم اس دنیا سے رخصت ہوں گے تو لوگ ہمیں کس حوالے سے یاد کریں گے؟ ہماری دولت کے لیے، ہمارے عہدے کے لیے، ہماری ظاہری شان و شوکت کے لیے یا اس محبت کے لیے جو ہم نے بانٹی، اس انصاف کے لیے جو ہم نے کیا اور ان آسانیوں کے لیے جو ہم نے دوسروں کی زندگی میں پیدا کیں؟ زندگی کا اصل حسن اس میں نہیں کہ ہم نے اپنے لیے کتنا جمع کیا، بلکہ اس میں ہے کہ ہم نے دوسروں کے لیے کیا کیا۔ کامیابی کا حقیقی معیار یہ نہیں کہ کتنے لوگ ہمیں جانتے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ کتنے لوگ ہمارے وجود سے خیر، امید اور سکون حاصل کرتے ہیں۔

آئیے، ہم اپنی ذات سے آغاز کریں۔ اپنے الفاظ میں نرمی، اپنے معاملات میں دیانت، اپنے رویوں میں احترام، اپنے فیصلوں میں انصاف اور اپنے دل میں دوسروں کے لیے گنجائش پیدا کریں۔ اختلاف کو نفرت نہ بننے دیں، مصروفیت کو بے حسی کا عذر نہ بنائیں اور ترقی کی خواہش میں اخلاقی اقدار کو فراموش نہ کریں۔ یاد رکھیے، دنیا کو بدلنے کے لیے ہر شخص کا غیر معمولی ہونا ضروری نہیں، ہر شخص کا اپنے حصے کی ذمہ داری ایمانداری سے ادا کرنا ضروری ہے۔ ایک چراغ دوسرے چراغ کو روشن کر سکتا ہے، ایک اچھا عمل کئی دلوں میں امید پیدا کر سکتا ہے اور ایک مہذب رویہ کئی تلخیاں ختم کر سکتا ہے۔ آخرکار، انسان کی سب سے بڑی کامیابی یہ نہیں کہ وہ دنیا میں کتنی بلندیاں چھوتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ بلندیاں چھوتے ہوئے کتنے انسانوں کا ہاتھ تھامتا ہے۔ کیونکہ عمارتیں وقت کے ساتھ پرانی ہو جاتی ہیں، دولت کی چمک ماند پڑ جاتی ہے، مگر اچھے کردار کی خوشبو نسلوں تک باقی رہتی ہے۔ یہی وہ سبق ہے جسے سمجھنے اور اپنی زندگی میں اتارنے کی آج ہمیں پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے۔