ہفتہ، 17 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

انسانیت سب سے بڑا رشتہ،تحریر: مہر بشارت صدیقی

نقطہ نظر

دنیا میں انسان کی پہچان اس کے نام، خاندان، قبیلے، برادری، ذات یا نسل سے نہیں بلکہ اس کے کردار، اخلاق، سوچ اور انسانیت سے ہونی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا، اسے عقل و شعور عطا کیا، اچھے اور برے کی پہچان دی اور اسے محبت، اخوت، برداشت اور ہمدردی کا درس دیا، لیکن افسوس کہ آج انسان نے اپنی اصل پہچان کو پس پشت ڈال کر خود کو مختلف گروہوں، قبیلوں، برادریوں اور ذاتوں میں تقسیم کر لیا ہے۔ ہم یہ بھول بیٹھے ہیں کہ ہماری پہچان چاہے کچھ بھی ہو، ہماری بنیاد ایک ہی ہے۔ ہم سب ایک ہی نسل انسانی سے تعلق رکھتے ہیں، ہماری خوشیاں بھی ملتی جلتی ہیں، ہمارے دکھ بھی ایک جیسے ہیں اور ہماری بنیادی ضروریات بھی ایک جیسی ہیں۔


سوال یہ ہے کہ جب ہم سب انسان ہیں تو پھر ہمارے درمیان نفرتوں کی یہ دیواریں کیوں کھڑی ہیں؟ ہم ایک دوسرے کو برادری کی بنیاد پر قبول یا مسترد کیوں کرتے ہیں؟ کسی انسان کی عزت کرنے سے پہلے اس کا خاندان کیوں پوچھتے ہیں؟ کسی کے ساتھ تعلق قائم کرنے سے پہلے اس کی ذات اور قبیلے کا جائزہ کیوں لیتے ہیں؟ کیا انسان کی قدر و قیمت کا تعین اس کی برادری کرتی ہے یا اس کا کردار؟ اگر ایک شخص اعلیٰ برادری سے تعلق رکھتا ہو لیکن اس کے اخلاق خراب ہوں، وہ دوسروں کے حقوق پامال کرتا ہو اور غریبوں کو حقیر سمجھتا ہو تو کیا محض اس کی برادری اسے قابل احترام بنا سکتی ہے؟ اس کے برعکس اگر کوئی شخص کمزور، غریب یا کسی ایسی برادری سے تعلق رکھتا ہو جسے معاشرے میں زیادہ اہمیت نہیں دی جاتی، لیکن اس کا کردار اچھا، دل صاف اور ہاتھ دوسروں کی مدد کے لیے آگے بڑھتے ہوں تو کیا وہ عزت کا مستحق نہیں؟


حقیقت یہ ہے کہ انسان کی عظمت اس کی ذات میں نہیں بلکہ اس کے کردار میں ہوتی ہے۔ برادری انسان کو خاندانی شناخت دے سکتی ہے، لیکن اسے اچھا انسان نہیں بنا سکتی۔ اچھا انسان وہی ہے جو دوسروں کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھے، کسی کی مجبوری سے فائدہ نہ اٹھائے، کسی غریب کی بے بسی کا مذاق نہ اڑائے اور کسی انسان کو اس کی حیثیت، رنگ، نسل، زبان یا خاندان کی بنیاد پر کمتر نہ سمجھے۔


اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں انسانوں کو مخاطب کرتے ہوئے سورۃ الحجرات میں فرمایا ہے کہ ہم نے تمہیں ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور تمہیں قوموں اور قبیلوں میں اس لیے تقسیم کیا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو۔ اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ پرہیزگار ہے۔ اس قرآنی تعلیم میں ہمارے لیے واضح پیغام موجود ہے کہ قوموں اور قبیلوں کا مقصد ایک دوسرے کی شناخت ہے، نہ کہ ایک دوسرے پر برتری جتانا۔ لیکن ہم نے شناخت کو مقابلہ بنا لیا، خاندانی نسبت کو غرور کا ذریعہ بنا لیا اور برادری کے نام پر انسانوں کے درمیان ایسی خلیج پیدا کر دی جسے عبور کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔


آج ہمارے معاشرے میں بعض اوقات انسانیت سے زیادہ برادری کی اہمیت دکھائی دیتی ہے۔ اگر اپنے قبیلے یا برادری کا کوئی شخص غلطی کرے تو اس کا دفاع شروع کر دیا جاتا ہے، لیکن اگر دوسری برادری کا کوئی شخص درست بات بھی کرے تو اسے شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ اپنے لوگوں کی غلطیوں پر خاموشی اختیار کر لی جاتی ہے اور دوسروں کی معمولی لغزشوں کو بھی بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے۔ یہ کیسا انصاف ہے؟ کیا سچ اور جھوٹ کا فیصلہ برادری کی بنیاد پر ہونا چاہیے؟ کیا حق کی حمایت صرف اسی وقت کی جائے جب اس سے اپنا کوئی عزیز یا برادری کا فرد وابستہ ہو؟ اگر ہم انصاف کو بھی رشتوں اور برادریوں کے ترازو میں تولنے لگیں تو معاشرے میں انصاف، مساوات اور اعتماد کیسے قائم ہو سکتا ہے؟


یہ تقسیم صرف سماجی تعلقات تک محدود نہیں رہی بلکہ اس نے سیاست، تعلیم، ملازمتوں، کاروبار اور روزمرہ زندگی کو بھی متاثر کیا ہے۔ بعض جگہوں پر ووٹ اہلیت، دیانت اور عوامی خدمت کی بنیاد پر دینے کے بجائے برادری کی بنیاد پر دیا جاتا ہے۔ لوگ یہ نہیں دیکھتے کہ امیدوار نے علاقے کے لیے کیا کیا، اس کا کردار کیسا ہے اور وہ عوام کے مسائل حل کرنے کی صلاحیت رکھتا بھی ہے یا نہیں۔ بس یہ دیکھا جاتا ہے کہ وہ کس خاندان یا برادری سے تعلق رکھتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اہل اور دیانت دار لوگ پیچھے رہ جاتے ہیں جبکہ بعض نااہل افراد صرف برادری کی حمایت کے بل بوتے پر اہم عہدوں تک پہنچ جاتے ہیں۔ پھر جب عوام کے مسائل حل نہیں ہوتے تو لوگ قسمت، حالات اور حکمرانوں کو کوستے ہیں، لیکن اپنی سوچ اور فیصلوں کا جائزہ لینے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔


ہمیں یہ بھی سوچنا چاہیے کہ جب کوئی شخص بیمار ہوتا ہے تو بیماری اس کی برادری دیکھ کر حملہ نہیں کرتی، جب کسی گھر میں غربت آتی ہے تو بھوک یہ نہیں پوچھتی کہ اس گھر کا سربراہ کس قبیلے سے تعلق رکھتا ہے، جب کسی ماں کا بیٹا حادثے میں زخمی ہوتا ہے تو اس کی تکلیف ذات اور نسل کی محتاج نہیں ہوتی۔ مصیبت، بیماری، غربت اور موت سب انسانوں کے لیے یکساں حقیقتیں ہیں۔ پھر خوشی، محبت، مدد اور احترام کے معاملے میں ہم نے اتنی تقسیم کیوں پیدا کر رکھی ہے؟


اگر کسی دوسرے قبیلے کا انسان مصیبت میں ہے تو اس کی مدد کرنا بھی اتنا ہی ضروری ہے جتنا اپنے خاندان کے کسی فرد کی مدد کرنا۔ اگر کسی دوسری برادری کا بچہ تعلیم سے محروم ہے تو اس کے لیے سہولت پیدا کرنا بھی اتنا ہی اہم ہے جتنا اپنے بچے کے مستقبل کی فکر کرنا۔ اگر کسی غریب گھرانے کے پاس راشن نہیں تو اس کی بھوک مٹانے سے پہلے اس کا نام، ذات اور برادری معلوم کرنا انسانیت نہیں بلکہ اپنی سوچ کی تنگی کا اظہار ہے۔


محبت کا تقاضا یہ ہے کہ انسان دوسرے انسان کو انسان سمجھ کر قبول کرے۔ اس کی عزت کرے، اس کے حقوق کا احترام کرے اور اس کے ساتھ ایسا سلوک کرے جیسا وہ اپنے لیے پسند کرتا ہے۔ ہماری عبادات، ہماری دعائیں اور ہمارے مذہبی دعوے اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن ہمیں اپنے رویوں کا جائزہ بھی لینا چاہیے۔ اگر ہماری زبان پر اللہ کی محبت کا ذکر ہو، لیکن ہمارے دل میں اس کی مخلوق کے لیے نفرت، تکبر، حسد اور حقارت موجود ہو تو ہمیں اپنی سوچ اور اپنے کردار کی اصلاح کرنے کی ضرورت ہے۔


اللہ تعالیٰ سے محبت کا دعویٰ کرنے والے انسان کو اللہ کی مخلوق کے ساتھ بھی رحمت، انصاف اور ہمدردی کا معاملہ کرنا چاہیے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ انسان غلط اور صحیح میں فرق کرنا چھوڑ دے یا ہر شخص کے عمل کو درست تسلیم کر لے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی کی غلطی پر تنقید کرتے ہوئے بھی انصاف کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑے، اختلاف کے باوجود دوسرے کی عزت کرے اور کسی کے ساتھ محض اس کی شناخت کی وجہ سے نفرت نہ کرے۔ محبت کا اصل امتحان اسی وقت ہوتا ہے جب سامنے والا شخص ہمارے خاندان، ہماری برادری یا ہماری سوچ سے تعلق نہ رکھتا ہو، لیکن پھر بھی ہم اس کے ساتھ احترام اور انصاف کا معاملہ کریں۔


ہمیں اپنی نئی نسل کو یہ تعلیم دینی ہوگی کہ برادری سے محبت کرنا اور برادری کی بنیاد پر دوسروں کو کمتر سمجھنا دو مختلف باتیں ہیں۔ اپنے خاندان کی عزت کرنا اچھی بات ہے، اپنے بزرگوں کی روایات کا احترام کرنا بھی ضروری ہے اور اپنی ثقافت سے وابستگی بھی ایک فطری جذبہ ہے، لیکن یہ سب اس وقت تک خوب صورت ہیں جب تک ان کے نام پر دوسرے انسانوں کی تذلیل نہ کی جائے۔ اپنے گھر کو مضبوط بنانے کے لیے دوسرے کے گھر کو گرانا ضروری نہیں، اپنی برادری کو آگے بڑھانے کے لیے دوسری برادری کو پیچھے دھکیلنا ضروری نہیں اور اپنی شناخت برقرار رکھنے کے لیے کسی دوسرے انسان کی شناخت مٹانا بھی ضروری نہیں۔


معاشرے کی اصل خوب صورتی اسی وقت پیدا ہوتی ہے جب مختلف خاندانوں، قوموں اور برادریوں کے لوگ ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں شریک ہوں، ایک دوسرے کے حقوق کا احترام کریں اور اجتماعی مسائل کے حل کے لیے متحد ہو جائیں۔ اگر ہم سب اپنے اپنے خول میں بند رہیں گے تو معاشرتی مسائل بڑھتے رہیں گے۔ اگر ہم صرف اپنے لوگوں کی مدد کریں گے تو محروم طبقوں کی محرومیاں کیسے ختم ہوں گی؟ اگر ہم صرف اپنی برادری کے بچوں کے مستقبل کی فکر کریں گے تو معاشرے کے دوسرے بچوں کو بہتر تعلیم اور مواقع کیسے ملیں گے؟ ایک مضبوط معاشرہ وہ نہیں ہوتا جس میں ایک برادری دوسری برادری سے زیادہ طاقتور ہو، بلکہ وہ ہوتا ہے جہاں ہر انسان کو عزت، انصاف اور آگے بڑھنے کا موقع ملے۔


ہمیں اپنے دلوں سے یہ سوال کرنا چاہیے کہ اگر کل ہمیں کسی ایسے انسان کی مدد کی ضرورت پڑ جائے جو ہماری برادری سے تعلق نہیں رکھتا تو کیا ہم چاہیں گے کہ وہ ہماری شناخت پوچھ کر فیصلہ کرے؟ یقیناً ہم چاہیں گے کہ وہ ہماری تکلیف کو سمجھے، ہماری مدد کرے اور ہمیں ایک انسان کی حیثیت سے دیکھے۔ پھر ہم خود دوسروں کے ساتھ ایسا سلوک کیوں نہیں کرتے؟


وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنی سوچ کو وسیع کریں، نفرتوں کی جگہ محبت کو، تعصب کی جگہ انصاف کو اور برادری کی غیر ضروری برتری کی جگہ انسانیت کو اہمیت دیں۔ ہمیں اپنے بچوں کو یہ نہیں سکھانا چاہیے کہ فلاں برادری ہم سے بڑی یا چھوٹی ہے، بلکہ یہ بتانا چاہیے کہ بڑا وہ انسان ہے جس کا کردار بڑا ہو، جو دوسروں کے کام آئے، جو سچ بولے، جو کسی کا حق نہ مارے اور جو کمزور کو سہارا دے۔ ہمیں انہیں یہ بھی سمجھانا چاہیے کہ کسی انسان کی عزت کرنا اس کی تمام باتوں سے اتفاق کرنا نہیں، بلکہ اس کے بنیادی انسانی احترام کو تسلیم کرنا ہے۔


یاد رکھیے، انسان دنیا میں اپنی برادری کے نام سے پہچانا ضرور جا سکتا ہے، لیکن تاریخ میں اس کا مقام اس کے اعمال سے بنتا ہے۔ لوگ یہ نہیں بھولتے کہ کس نے مشکل وقت میں ان کا ساتھ دیا، کس نے ان کے زخموں پر مرہم رکھا اور کس نے ان کی مجبوری سے فائدہ اٹھایا۔ نسلیں گزر جاتی ہیں، خاندانی نام بدل جاتے ہیں اور طاقت و دولت کا غرور مٹی میں مل جاتا ہے، لیکن اچھے کردار اور انسانیت کی خوشبو دیر تک باقی رہتی ہے۔


آخر میں صرف اتنا کہنا چاہوں گا کہ ہم سب ایک ہی نسل انسانی سے تعلق رکھتے ہیں۔ ہماری برادریاں مختلف ہو سکتی ہیں، ہماری زبانیں مختلف ہو سکتی ہیں، ہمارے رسم و رواج الگ ہو سکتے ہیں، لیکن انسان ہونے کا رشتہ ہم سب میں مشترک ہے۔ اگر ہم واقعی اللہ تعالیٰ سے محبت کرتے ہیں تو ہمیں اس کی مخلوق کے ساتھ بھی محبت، احترام اور انصاف کا رویہ اپنانا ہوگا۔ کیونکہ نفرتیں پھیلانا آسان ہے، لیکن دلوں کو جوڑنا اصل انسانیت ہے۔


آئیے عہد کریں کہ ہم کسی انسان کو اس کی برادری سے نہیں بلکہ اس کے کردار سے پہچانیں گے، کسی کی مجبوری کا فائدہ نہیں اٹھائیں گے، کسی کے ساتھ ناانصافی نہیں کریں گے اور جہاں ممکن ہو، انسانیت کی خدمت کے لیے اپنا کردار ادا کریں گے۔ کیونکہ ہماری سب سے بڑی پہچان ہمارا قبیلہ، ہماری ذات یا ہماری برادری نہیں، بلکہ ہمارا انسان ہونا ہے۔