اقتدار کے بت اور ضمیر کے قیدی ،تحریر: ملک محمد شاکر بہاولپوری
نقطہ نظر
حکمرانوں کی نفسیات کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ اقتدار کی کرسی پر بیٹھتے ہی بعض لوگ خود کو جواب دہی سے بالاتر سمجھنے لگتے ہیں۔ انہیں اللہ تعالیٰ کی ناراضی سے زیادہ حکومت کے خاتمے اور آخرت کی پکڑ سے زیادہ دنیاوی طاقتوں کی ناراضی کا خوف ستاتا ہے۔ اقتدار بچانے کے لیے اصول قربان، مفادات کے لیے ضمیر خاموش اور خوشامد کے لیے حق و باطل کا فرق مٹا دیا جاتا ہے۔ سیاست جب خدمت کے بجائے ذاتی بقا کا کھیل بن جائے تو عوام انسان نہیں، محض اقتدار کی سیڑھیاں دکھائی دینے لگتے ہیں۔
افسوس کہ بعض لوگوں کے ہاں مذہب بھی عقیدے سے زیادہ سیاسی ضرورت بن جاتا ہے۔ نمازِ جنازہ میں شرکت، عمرے کی ادائیگی اور مذہبی شخصیات سے ملاقاتیں بھی تشہیر کا ذریعہ بن جاتی ہیں، گویا عبادت بھی عوامی تاثر سنوارنے کی مہم ہو! البتہ جنہیں اللہ اخلاص عطا فرمائے، وہ اس سے مستثنیٰ ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ ہمارے اعمال اللہ کی رضا کے لیے ہیں یا انسانوں کی واہ واہ کے لیے؟
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
’’اور جو اللہ پر بھروسا کرے تو وہ اس کے لیے کافی ہے۔‘‘ (سورۃ الطلاق: 3)
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
’’اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔‘‘ (صحیح بخاری)
کاش! اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھنے والے ان تعلیمات کو اپنی زندگیوں میں بھی نافذ کریں۔ دنیاوی طاقتیں آج ساتھ ہیں تو کل رخ پھیر سکتی ہیں، خوشامدی آج قصیدے پڑھتے ہیں تو کل نئے آقا کے دربار میں جا سکتے ہیں، مگر اللہ تعالیٰ کی عدالت میں نہ عہدہ کام آئے گا، نہ پروٹوکول، نہ دولت اور نہ اختیارات کی دھاک۔ وہاں انسان اپنے اعمال کے ساتھ کھڑا ہوگا۔
افسر شاہی کا المیہ بھی کم سنگین نہیں۔ یقیناً ہر افسر ایک جیسا نہیں؛ بہت سے دیانت دار، باکردار اور خدا ترس بھی ہوتے ہیں۔ لیکن بعض کے لیے عہدہ خدمت نہیں، اپنی بڑائی منوانے کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ ان کی شخصیت سے سادگی رخصت اور مصنوعی رعب و دبدبہ غالب آ جاتا ہے۔ انہیں انسان کی عزت سے زیادہ اپنی حیثیت، کردار سے زیادہ ظاہری شان اور احترام سے زیادہ سلوٹوں کی فکر رہتی ہے۔
یہ کیسی افسوس ناک نفسیات ہے کہ انسان عہدے کے نشے میں اپنے سے کم حیثیت سمجھے جانے والے شخص کی عزت بھی گراں محسوس کرنے لگے! عام آدمی کے ساتھ بیٹھنا اسے اپنی شان کے خلاف اور سادگی پسماندگی دکھائی دینے لگے۔ حالاں کہ عہدہ انسان کو بڑا نہیں کرتا؛ انسان اپنے کردار سے عہدے کو عزت دیتا ہے۔ وردی، کرسی اور اختیار اسی وقت باوقار ہیں جب ان کے ساتھ انصاف، انکسار اور انسانیت بھی زندہ ہو۔
بعض لوگ اپنے مخصوص ماحول اور طبقاتی برتری کے احساس میں اس قدر ڈوب جاتے ہیں کہ اپنی دینی و تہذیبی اقدار سے دور ہونے لگتے ہیں۔ کہیں پردے سے بے اعتنائی اور کہیں شراب نوشی جیسی عادات ان کی شخصیت میں تضادات پیدا کرتی ہیں۔ وہ اس ماحول سے بیزار بھی ہوں تو معاشرتی دباؤ اور احساسِ کمتری انہیں اصلاح کی طرف نہیں آنے دیتے۔ ایسے لوگوں کے لیے حقیقت پسندی، موت و آخرت کی یاد، قبرستان کی زیارت اور کسی صاحبِ علم و بصیرت درویش کی صحبت مفید ہو سکتی ہے۔ انسان کو قبروں کے درمیان کھڑے ہو کر ضرور سوچنا چاہیے کہ جس دنیا میں سب نے مٹی ہو جانا ہے، وہاں یہ تکبر اور طبقاتی تفاخر کس کام کا؟
ملازم کی نفسیات اس سے مختلف مگر اسی نظام کی اسیر ہے۔ اسے خوف رہتا ہے کہ افسر ناراض نہ ہو جائے، تنخواہ نہ رک جائے، ملازمت نہ چلی جائے اور ترقی کا راستہ بند نہ ہو جائے۔ اسی خوف کے باعث بعض اوقات اسے ایسے احکامات بھی ماننے پڑتے ہیں جنہیں اس کا ضمیر درست نہیں سمجھتا۔ گھر کے اخراجات، بچوں کی ضروریات اور معاشی عدم تحفظ اسے خاموش رہنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔
یہی ملازم تنہائی میں افسر سے شکوے کرتا اور اس کے رویے پر غصہ نکالتا ہے، مگر سامنے خاموش رہتا ہے۔ یہ خاموشی ہمیشہ بزدلی نہیں؛ کبھی اس کے پیچھے بھوک، بے روزگاری اور اہلِ خانہ کی ذمہ داریوں کا خوف ہوتا ہے۔ تاہم جب ہر شخص اپنی مصلحت کے لیے اصول قربان کرنے لگے تو ظالم کے حوصلے بڑھتے اور انصاف کی آواز کمزور پڑ جاتی ہے۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ ملازم ہر معاملے میں تصادم اختیار کرے، بلکہ اسے دیانت داری سے فرائض ادا کرنے، ناجائز حکم کے سامنے حکمت سے اصولی موقف اپنانے اور اپنی استطاعت کے مطابق حق کا ساتھ دینے کی کوشش کرنی چاہیے۔ رزق کا مالک افسر نہیں، اللہ تعالیٰ ہے؛ افسر محض ایک وسیلہ ہے۔ یہی یقین انسان کو وقار اور دیانت کی راہ دکھاتا ہے۔
حقیقت تلخ ہے: جب حکمران خوفِ خدا کے بجائے اقتدار کے خوف سے فیصلے کریں، افسر خدمت کے بجائے اپنی بڑائی کے طلب گار ہوں اور ملازم اصولوں کے بجائے مجبوریوں کا اسیر بن جائے تو ادارے قائم رہتے ہیں، مگر ان کی روح مرنے لگتی ہے۔ قانون طاقت ور کے ہاتھ میں ہتھیار، انصاف تعلقات کا محتاج اور دیانت داری حماقت سمجھی جانے لگتی ہے۔
یاد رکھیے! اقتدار عارضی، عہدہ چند روزہ اور اختیار مستعار ہے۔ قبر میں نہ صاحبِ اقتدار ہوگا، نہ صاحبِ پروٹوکول، نہ افسر اور نہ ماتحت؛ وہاں صرف انسان اور اس کے اعمال ہوں گے۔ اس حقیقت کا تصور غرور کے ایوانوں کو لرزا دینے کے لیے کافی ہے، بشرطیکہ دل زندہ ہو اور ضمیر فروخت نہ ہوا ہو۔
اللہ کریم ہمیں اقتدار کے نشے، عہدے کے تکبر، مفاد کی غلامی اور مصلحت کے نام پر ضمیر فروشی سے محفوظ فرمائے۔ ہمیں ایسا اخلاص عطا کرے جو تنہائی میں بھی زندہ رہے، ایسی دیانت دے جو نقصان کے خوف سے نہ بکے، اور ایسا خوفِ خدا نصیب فرمائے جو ہمیں حق چھپانے اور کمزور پر ظلم کرنے سے روکے۔ فقیر کی اس مختصر تحریر کو اپنی مخلوق کے لیے باعثِ اصلاح بنا دے۔ آمین یا رب العالمین۔
مزید پڑھیں




