مہنگائی کے بوجھ تلے دبا سفید پوش طبقہ اور فوری ریلیف کی ضرورت،تحریر: حامد قاضی
نقطہ نظر
پاکستان اس وقت معاشی مشکلات کے ایک ایسے دور سے گزر رہا ہے جس میں مہنگائی نے عام آدمی کی زندگی کو مشکل بنا دیا ہے بجلی کے بھاری بل،پٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی ہوئی قیمتیں،اشیائے خورونوش کی گرانی اور روزمرہ ضروریات کے اخراجات نے غریب اور سفید پوش طبقے کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے حالات یہ ہیں کہ ایک عام شہری کے لئے اپنے بچوں کو دو وقت کی روٹی فراہم کرنا بھی ایک بڑا چیلنج بنتا جا رہا ہے جبکہ سفید پوش خاندان اپنی عزتِ نفس کی خاطر کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانے کے بجائے خاموشی سے مشکلات برداشت کرنے پر مجبور ہیں مہنگائی کا سب سے زیادہ بوجھ اس طبقے پر پڑتا ہے جس کی آمدن محدود اور اخراجات مسلسل بڑھ رہے ہوں ایک طرف تنخواہ دار ملازم کی آمدن وہی ہے دوسری طرف بجلی کے بل، بچوں کی تعلیم،گھر کا کرایہ،علاج معالجہ اور اشیائے ضروریہ کے اخراجات میں اضافہ اس کے لئے پریشانی کا باعث بن رہا ہے بجلی کا بل ادا کرنے کے بعد گھر کا راشن پورا کرنا اور پٹرول کی قیمتیں بڑھنے کے بعد روزگار کے لئے سفر کرنا عام آدمی کے لئے دشوار ہوتا جا رہا ہے بعض خاندان اپنی بنیادی ضروریات میں کمی کرکے بجٹ متوازن رکھنے کی کوشش کرتے ہیں مگر آخر کب تک یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جاسکتی کہ ملک کو معاشی استحکام، مالی نظم و ضبط اور پائیدار ترقی کی ضرورت ہے حکومت کو ملکی معیشت بہتر بنانے کے لئے مشکل فیصلے بھی کرنا پڑتے ہیں تاہم ایسے فیصلوں کے اثرات کم آمدن والے طبقات تک محدود رکھنے اور ان کے لئے مؤثر حفاظتی اقدامات کرنا بھی اتنا ہی ضروری ہے معاشی اصلاحات اسی وقت عوام کے لئے قابلِ قبول بن سکتی ہیں جب ان کے ثمرات عام شہری کی زندگی میں بھی محسوس ہوں ایک اور اہم مسئلہ مقامی سطح پر قیمتوں پر مؤثر کنٹرول کا فقدان ہے متعدد بازاروں میں اشیائے ضروریہ کی قیمتیں دوکانداروں کی صوابدید پر دکھائی دیتی ہیں سرکاری نرخ نامے تو موجود ہوتے ہیں لیکن ان پر عمل درآمد یقینی بنانے کا نظام اکثر کمزور نظر آتا ہے شہریوں کو شکایت ہے کہ ایک ہی چیز مختلف دوکانوں پر مختلف قیمتوں پہ فروخت ہوتی ہے جبکہ ناجائز منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی کے خلاف کارروائی بھی مستقل بنیادوں پر ہونی چاہیئے ضلعی انتظامیہ،پرائس کنٹرول مجسٹریٹس اور متعلقہ اداروں کو فعال کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ سرکاری نرخ نامے محض کاغذی کارروائی بن کر نہ رہ جائیں ساتھ ہی دوکانداروں کے جائز اخراجات اور کاروباری مشکلات کو بھی مدنظر رکھتے ہوئے ایک منصفانہ نظام قائم کرنا ضروری ہے حکومت سے مؤدبانہ گزارش ہے کہ عوام کو ریلیف دینے کے لئے فوری اور قابلِ عمل اقدامات کئے جائیں کم آمدن والے خاندانوں کے لئے بجلی کے بلوں میں مناسب سہولت،بنیادی اشیائے خورد و نوش کی سستے داموں فراہمی،پبلک ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں کمی اور مستحق افراد کے لئے شفاف امدادی نظام کو ترجیح دی جائے اس کے ساتھ ساتھ مقامی منڈیوں میں قیمتوں کی نگرانی،ناجائز منافع خوری کی روک تھام اور شکایات کے فوری ازالے کے لئے مؤثر اقدامات کئے جائیں حکمرانوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ عوام محض اعداد و شمار نہیں بلکہ اس ملک کی اصل طاقت ہیں اگر عوام کو طاقت کا سرچشمہ تسلیم کیا جاتا ہے تو ان کی مشکلات کو پالیسی سازی میں بنیادی اہمیت دینا بھی ناگزیر ہے عوام کو ریلیف دینا کسی حکومت پر احسان نہیں بلکہ ایک ذمہ دار ریاست کی بنیادی ترجیحات میں شامل ہونا چاہیئے پاکستان کی خوشحالی کا راستہ عوام کی خوشحالی سے ہو کر گزرتا ہے جب ایک مزدور اپنے بچوں کے لئے باعزت طریقے سے روٹی خرید سکے ایک تنخواہ دار شخص اپنے گھر کے اخراجات پورے کر سکے اور ایک سفید پوش خاندان مہینے کے آخری دن خوف اور پریشانی کے بجائے اطمینان سے گزار سکے تب ہی معاشی ترقی کے حقیقی ثمرات سامنے آئیں گے وقت کا تقاضا ہے کہ حکومت، انتظامیہ،تاجر برادری اور تمام متعلقہ ادارے مشترکہ کوششوں سے ایسا ماحول پیدا کریں جہاں مہنگائی کے بوجھ تلے دبے شہریوں کو سکھ کا سانس مل سکے کیونکہ ایک مضبوط معیشت کی بنیاد صرف مالیاتی اشاریوں پر نہیں بلکہ اپنے شہریوں کے معیارِ زندگی،معاشی تحفظ اور بنیادی ضروریات کی فراہمی پر بھی قائم ہوتی ہے خدارا عوام کی مشکلات کو محسوس کیجئے ان کے لئے آسانیاں پیدا کیجئے اور انہیں یہ احساس دلائیے کہ ریاست ان کے ساتھ کھڑی ہے عوام خوشحال ہوگی تو پاکستان خوشحال ہوگا۔
مزید پڑھیں




