ہفتہ، 17 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

مجازی محبتیں نفسیاتی تباہی،تحریر: فاطمہ زہراء

نقطہ نظر

دورِ حاضر کی نئی نسل اضطراب، ذہنی دباؤ اور افسردگی کی مختلف کیفیات سے دوچار دکھائی دیتی ہے۔ آپ کسی محفل میں بیٹھ جائیے کسی راہ چلتے شخص کے چہرے پر نگاہ ڈالیے یا سماجی ذرائعِ ابلاغ پر گردش کرتے ہوئے احوال و اقوال ملاحظہ کیجیے، ہر طرف ایک عجیب سی پژمردگی، بے نام اداسی اور داخلی کرب کے آثار نمایاں نظر آتے ہیں۔ کسی کے الفاظ میں شکستگی ہے، کسی کے لہجے میں محرومی اور کسی کے اسٹیٹس میں ایسا حزن و ملال کہ پڑھنے والا بھی ایک انجانی سی افسردگی محسوس کرنے لگتا ہے۔ آخر یہ کیسا عہد ہے جس میں آسائشوں کے انبار کے باوجود دل بے سکون ہیں؟ یہ کیسی ترقی ہے جس نے رابطوں کو تو وسعت دی، مگر انسانوں کے درمیان قربت کے مفہوم کو محدود کردیا؟ آخر اس قدر دکھ، یہ بے نام غم اور روح کو تھکا دینے والا کرب کن محرومیوں کی دین ہے؟

میرے نزدیک اس صورتِ حال کی متعدد وجوہات میں سے ایک اہم وجہ ذہنی وابستگی کا غیر متوازن ہوجانا بھی ہے۔ اس مشینی عہد میں انسان اپنے گردوپیش کے لوگوں سے بتدریج کٹتا چلا جارہا ہے، مگر ایک ایسی مجازی دنیا سے جذباتی طور پر وابستہ ہوتا جارہا ہے جہاں موجودگی کا احساس تو میسر ہے، مگر حقیقی رفاقت کی ضمانت نہیں۔ لوگ اپنے گھر والوں، دوستوں اور قریب بیٹھے انسانوں سے بے نیاز ہوکر دور دراز بیٹھے اجنبیوں کی توجہ کے منتظر رہتے ہیں۔ کسی کے پیغام کی آمد اُن کے چہرے پر مسکراہٹ بکھیر دیتی ہے اور کسی کی خاموشی اُن کے پورے دن کو اداسی کی نذر کردیتی ہے۔ کسی کی آن لائن موجودگی اُن کے لیے باعثِ اطمینان بن جاتی ہے اور کسی کا نظرانداز کردینا اُن کے ذہن میں ان گنت سوالات کا ہجوم برپا کردیتا ہے۔

مجازی دنیا میں پروان چڑھنے والے تعلقات بظاہر چند پیغامات چند ساعتوں کی گفتگو اور مستقبل کے دل فریب وعدوں سے جنم لیتے ہیں، مگر رفتہ رفتہ یہی گفتگو عادت، عادت وابستگی اور وابستگی ایک ایسی ذہنی اسیری میں ڈھل جاتی ہے جہاں انسان کا سکون کسی دوسرے کے رویّوں کا اسیر ہوکر رہ جاتا ہے۔ کسی کے پیغام کی منتظر نگاہیں، اُس کی توجہ سے وابستہ مسرت، اُس کی خاموشی سے جنم لینے والی بے قراری اور اُس کے بدلتے تیوروں کی توجیہات تلاش کرتی ہوئی سوچ، انسان کو رفتہ رفتہ اپنی ہی ذات سے بیگانہ کرنے لگتی ہے۔ یوں ایک ایسا تعلق، جسے زندگی میں آسودگی اور مسرت کا وسیلہ ہونا چاہیے تھا، ذہنی اضطراب، احساسِ محرومی اور داخلی شکست و ریخت کا سبب بن جاتا ہے۔

یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے کہ ہر مجازی تعلق فریب کا استعارہ نہیں اور نہ ہی ہر محبت کا انجام اذیت و پشیمانی ہے، تاہم المیہ اُس وقت جنم لیتا ہے جب محبت کے مقدس احساس کو کسی کی جذباتی کمزوری سے فائدہ اٹھانے کا وسیلہ بنا لیا جائے۔ جب زبان پر خلوص کے دعوے ہوں مگر کردار میں تضاد، مستقبل کے سہانے خواب ہوں مگر حال میں کسی ذمہ داری کا اعتراف نہ ہو، قربت کا احساس دلایا جائے مگر تعلق کو کوئی واضح اور باوقار سمت دینے سے گریز کیا جائے، تو انسان محبت نبھانے کے بجائے ایک غیر یقینی تعلق کو بچانے کی مسلسل تگ و دو میں اپنی ذات تک فراموش کر بیٹھتا ہے۔

جذباتی استحصال ہمیشہ تلخ کلامی، تذلیل یا صریح بدسلوکی کی صورت میں ظاہر نہیں ہوتا۔ کبھی غیر معمولی التفات، کبھی بے شمار وعدے، کبھی اچانک سرد مہری اور کبھی طویل خاموشی بھی انسان کو ایک ایسے نفسیاتی حصار میں جکڑ لیتی ہے جہاں وہ دوسرے کے رویّوں کا اسیر ہوکر رہ جاتا ہے۔ کبھی اُسے اپنی انفرادیت اور اہمیت کا احساس دلایا جاتا ہے اور کبھی یوں نظرانداز کیا جاتا ہے گویا اُس کا وجود سرے سے کوئی معنی ہی نہیں رکھتا۔ یہی متضاد رویّے انسان کو بار بار اسی دروازے پر دستک دینے پر مجبور کردیتے ہیں جہاں سے اُسے بارہا رنج، محرومی اور اذیت کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا۔

اس کیفیت کا سب سے المناک پہلو یہ ہے کہ انسان رفتہ رفتہ اپنے ہی وجود کو کٹہرے میں کھڑا کردیتا ہے۔ وہ اپنی ذات میں عیب تلاش کرنے لگتا ہے، اپنے خلوص کو موردِ الزام ٹھہراتا ہے اور یہ گمان کرنے لگتا ہے کہ شاید اُس میں کوئی ایسی کمی ہے جس کے باعث دوسرا شخص اُس کی قدر نہیں کرتا۔ وہ اپنے الفاظ، اپنے رویّوں اور اپنی محبت کا باریک بینی سے محاسبہ کرتا رہتا ہے، مگر یہ فراموش کر بیٹھتا ہے کہ کسی دوسرے کی غیر واضح نیت، متضاد طرزِ عمل اور غیر ذمہ دارانہ رویّوں کا تمام بوجھ اُس کے اپنے کاندھوں پر نہیں ڈالا جاسکتا۔

یہاں ایک بنیادی سوال سر اٹھاتا ہے کہ آخر ہم محبت اور جذباتی انحصار کے مابین امتیاز کرنے سے کیوں قاصر رہتے ہیں؟ محبت انسان کی شخصیت میں وسعت پیدا کرتی ہے، اُس کے باطن کو اطمینان اور اُس کے وجود کو تحفظ کا احساس عطا کرتی ہے، جب کہ جذباتی انحصار اُسے اپنی خوشی، اپنی اہمیت اور اپنے سکون کے لیے کسی دوسرے کی توجہ کا محتاج بنا سکتا ہے۔ جب کسی کا ایک پیغام دل کی ویرانی میں چراغاں کردے اور اُس کی خاموشی تمام تر آسودگی کو غارت کردے، جب اپنی قدر و قیمت کا تعین کسی دوسرے کی قبولیت سے ہونے لگے، تو یہ لمحۂ فکریہ ہے کہ انسان اپنے تعلق ہی نہیں، اپنی داخلی کیفیت کا بھی ازسرِنو جائزہ لے۔

کسی کے حالات کو سمجھنا، اُس کی مجبوریوں کا لحاظ رکھنا اور اُس کے لیے گنجائش پیدا کرنا یقیناً حسنِ کردار کی علامت ہے، مگر کسی کی توجیہات تراشتے تراشتے اپنی ذہنی صحت کو داؤ پر لگا دینا دانش مندی نہیں۔ کسی کی مشکلات کا ادراک اُس کے غیر ذمہ دارانہ رویّوں کو جواز فراہم نہیں کرتا۔ خلوص کا مفہوم یہ نہیں کہ انسان ہر بار اپنی حدود پامال ہونے دے، ہر مرتبہ دوسرے کی لغزشوں کو نظرانداز کرے اور ہر نئی اذیت کے بعد تعلق کو سنبھالنے کی تمام تر ذمہ داری خود ہی اٹھاتا پھرے۔ تعلق کی بقا اگر صرف ایک شخص کی برداشت، قربانی اور مسلسل چشم پوشی کی مرہونِ منت ہو تو وہاں باہمی وابستگی کے دعووں پر غور کرنا ناگزیر ہوجاتا ہے۔

کسی شخص کا آپ کو رد کردینا، آپ کے جذبات کا جواب نہ دینا یا آپ کو اپنے لیے منتخب نہ کرنا اس امر کی دلیل نہیں کہ آپ میں کوئی نقص ہے۔ ہر انسان کی ترجیحات، پسند اور جذبات مختلف ہوتے ہیں۔ کسی کی عدم قبولیت کو اپنی بے وقعتی کا پروانہ سمجھ لینا اپنی ذات کے ساتھ ناانصافی ہے۔ تاہم کسی کو مسلسل امیدوں کے سہارے باندھے رکھنا، اُس کے جذبات سے فائدہ اٹھانا اور پھر اُسے غیر یقینی صورتِ حال میں معلق چھوڑ دینا محض پسند و ناپسند کا معاملہ نہیں رہتا، بلکہ جذباتی غیر ذمہ داری کی صورت اختیار کرلیتا ہے۔

اگر کسی نے آپ کو رد کردیا، خواہ وہ مرد ہو یا عورت، تو اپنی ذات کو اُس فیصلے کی میزان پر تول کر کمتر مت سمجھیے۔ ہر شخص میں وہ بصیرت، ظرف یا جذباتی استعداد نہیں ہوتی کہ وہ آپ کے خلوص کی گہرائی اور شخصیت کی انفرادیت کو پہچان سکے۔ البتہ کسی کی عدم قبولیت کو اُس کی کم ظرفی کا حتمی ثبوت سمجھ لینا بھی درست نہیں ہر تعلق کا انجام ایک دوسرے کی خامی کا اعلان نہیں ہوتا۔ فرق صرف اتنا ہے کہ جہاں دو افراد کی ترجیحات مختلف ہوں وہاں حقیقت کو قبول کرلینا چاہیے، اور جہاں فریب، مسلسل ناقدری یا جذباتی استحصال ہو وہاں اپنی ذات کے تحفظ کو مقدم رکھنا چاہیے۔

جہاں آپ کی موجودگی بھی آپ کو اپنی قدر و منزلت کا احساس نہ دلا سکے۔ ناقدری کا مسلسل احساس انسان کو اندر ہی اندر شکستہ کردیتا ہے؛ اُس کے اعتماد کو دیمک کی طرح چاٹتا اور اُس کی خود آگہی کو دھندلا دیتا ہے۔ بعض اوقات فاصلہ اختیار کرنے میں وہ سکون مضمر ہوتا ہے جو ہزار وضاحتوں، بے شمار التجاؤں اور مسلسل اپنی صفائیاں پیش کرنے سے بھی میسر نہیں آتا۔

اور اگر کوئی شخص آپ کو چھپا کر رکھنا چاہتا ہے، محبت کے نام پر ایک غیر واضح اور لاحاصل تعلق میں معلق رکھتا ہے، جب کہ اُس کے پاس اس تعلق کو ایک جائز، واضح اور باوقار سمت دینے کی استطاعت موجود ہو مگر وہ مسلسل گریزاں رہے، تو اُس کے سامنے منت سماجت کرنے کے بجائے اپنی زندگی کی سمت بدل دیجیے۔ کسی کی عارضی توجہ کے عوض اپنی خودداری گروی مت رکھیے اور نہ ہی کسی کے وعدوں کی تکمیل کے انتظار میں اپنی زندگی کو غیر معینہ مدت کے لیے موقوف کردیجیے۔ تعلق کی صداقت محض شیریں گفتاری اور دل نشیں وعدوں سے ثابت نہیں ہوتی؛ اُس کی اصل گواہی نیت کی وضاحت، رویّے کے تسلسل اور عملی ذمہ داری سے ملتی ہے۔

جہاں نیت میں ابہام، وابستگی میں غیر یقینی اور رویّے میں مسلسل بے اعتنائی ہو، وہاں خود کو بار بار منوانے کے بجائے اپنی ذات کی طرف پلٹ آنا ضروری ہوجاتا ہےکسی لاحاصل تعلق سے دست بردار ہوجانا ہمیشہ شکست نہیں ہوتا؛ بعض اوقات یہ اپنے وجود کو مزید شکست و ریخت سے محفوظ رکھنے کا دانش مندانہ فیصلہ ہوتا ہے۔

مجازی دنیا میں اپنی حدود کی پاس داری کرنا کمزوری نہیں، اپنی نجی زندگی اور ذاتی معلومات کی حفاظت کرنا بدگمانی نہیں، اور کسی تعلق کی حیثیت و مستقبل کے بارے میں وضاحت طلب کرنا بے جا اصرار نہیں۔ کسی بھی تعلق میں باہمی احترام، واضح نیت اور ذمہ دارانہ طرزِ عمل بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ محبت کے نام پر دباؤ ڈالنا، نجی تصاویر یا معلومات کے حصول کے لیے اصرار کرنا، احساسِ جرم میں مبتلا کرکے اپنی مرضی مسلط کرنا یا کسی کی جذباتی وابستگی کو اُس کے خلاف استعمال کرنا محبت نہیں، بلکہ استحصال کی وہ صورتیں ہیں جنہیں خلوص کا لبادہ پہنا کر جائز نہیں ٹھہرایا جاسکتا۔

ہمیں نئی نسل کو محض یہ تلقین نہیں کرنی چاہیے کہ محبت سے گریز کرو، بلکہ یہ شعور بھی دینا چاہیے کہ محبت کے نام پر اپنی ذات، اپنی حدود اور اپنی عزتِ نفس کو کیسے محفوظ رکھا جاتا ہے۔ اُنہیں یہ سمجھانا ضروری ہے کہ کسی کی توجہ اُن کی قدر و قیمت کا پیمانہ نہیں، کسی کا انکار اُن کی شخصیت کا حتمی فیصلہ نہیں اور کسی تعلق کا خاتمہ اُن کی زندگی کا اختتام نہیں۔ جذبات کی شدت اپنی جگہ، مگر انسان کو اُن کی رو میں بہہ کر اپنی بصیرت، اپنے اصول اور اپنے وقار کو فراموش نہیں کرنا چاہیے۔

یاد رکھیے! اپنی قدر پہچاننا تکبر نہیں، اپنی حدود کی حفاظت کرنا خودغرضی نہیں اور کسی لاحاصل تعلق سے دست بردار ہوجانا شکست نہیں۔ جو تعلق آپ سے آپ کا ذہنی سکون، خود اعتمادی اور اپنی ذات سے محبت چھیننے لگے، اُس پر نظرِ ثانی کرنا ناگزیر ہے۔ محبت اگر زندگی میں وارد ہو تو اُسے زندگی کی خوب صورتی میں اضافہ کرنا چاہیے، نہ کہ اُسے اضطراب، بے یقینی اور احساسِ کمتری کی نذر کردینا چاہیے۔

شاید اب وقت آگیا ہے کہ ہم دوسروں کی نگاہوں میں اپنی قدر تلاش کرنے کے بجائے اپنے وجود کی اہمیت کو پہچانیں لاحاصل انتظار کی زنجیریں توڑیں اور اپنی زندگی کی باگ ڈور دوبارہ اپنے ہاتھ میں لیں۔ ہمیں یہ سیکھنا ہوگا کہ ہر شخص کو اپنی زندگی میں جگہ دینا ضروری نہیں، ہر وعدے پر یقین کرنا دانش مندی نہیں اور ہر تعلق کو آخری حد تک نبھانا ہی وفاداری نہیں۔ بعض اوقات کسی سے دور ہوجانا اُس شخص کے خلاف فیصلہ نہیں، بلکہ اپنے حق میں کیا جانے والا پہلا منصفانہ فیصلہ ہوتا ہے۔

کیونکہ محبت میں کسی کو کھو دینا شاید زندگی کا ایک دکھ ہو، مگر کسی کو پانے کی کوشش میں خود کو کھو دینا اُس سے کہیں بڑا المیہ ہے۔