پیر، 26 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

اسٹیٹ لائف میں اصلاحات یا ملازمین کیلیے خطرے کی گھنٹی؟ تحریر: شبنم مرزا

نقطہ نظر

اسٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن آف پاکستان کو کمپنی میں تبدیل کرنے کا سوال محض ادارے کی قانونی حیثیت تبدیل کرنے کا معاملہ نہیں، بلکہ یہ لاکھوں پالیسی ہولڈرز کے اعتماد، ادارے کے مستقبل، مستقل ملازمین کے روزگار اور سب سے بڑھ کر اس کی ریڑھ کی ہڈی سمجھی جانے والی فیلڈ فورس کے معاشی تحفظ سے جڑا ہوا ہے۔، ملازمین کے حقوق اور انتظامی اختیارات میں ہونے والی تبدیلیوں کا جائزہ لینا ضروری ہے۔


اگر مقصد ادارے کو جدید بنانا، انتظامی شفافیت بڑھانا، ڈیجیٹل سہولتیں متعارف کروانا اور کاروبار میں وسعت پیدا کرنا ہے تو یہ تبدیلی مثبت ثابت ہو سکتی ہے۔ لیکن اگر اس کے نتیجے میں ملازمین کے حقوق محدود ہوں، فیلڈ فورس کو نظرانداز کیا جائے، مستقل ملازمتوں کا تحفظ کمزور ہو یا ادارے کے عوامی مفاد کو تجارتی منافع پر قربان کر دیا جائے تو یہ ایک سنگین تشویش کا معاملہ ہوگا۔ 1۔ کیا واقعی اس تبدیلی کے پیچھے نجکاری کا منصوبہ ہے؟


23 اکتوبر 2026 کو شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق قومی اسمبلی نے اسٹیٹ لائف کو کمپنی میں تبدیل کرنے کا بل منظور کر لیا ہے۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ اس تبدیلی سے مستقبل میں نجکاری یا حصص کی فروخت کی راہ ہموار ہو سکتی ہے، لیکن کمپنی میں تبدیلی کا بل خود بخود نجکاری کا فیصلہ نہیں ہے


اس کے علاوہ، جولائی 2026 کی رپورٹ کے مطابق نجکاری کمیشن نے اسٹیٹ لائف کی ممکنہ نجکاری کے لیے مالیاتی مشیر کی خدمات حاصل کرنے کا عمل شروع کیا تھا، جبکہ حکومت کے حصص میں سے 20 فیصد تک کی فروخت کی منظوری کا بھی ذکر کیا گی


یہ حقائق اس خدشے کو سنجیدہ بناتے ہیں کہ معاملہ صرف انتظامی اصلاحات تک محدود نہیں رہ سکتا۔


اصل سوال یہ ہے کہ اگر ادارہ پہلے کمپنی بنایا جائے، پھر اس کے حصص فروخت کیے جائیں، تو اسٹیٹ لائف کی ملکیت، پالیسی ہولڈرز کے مفادات اور ملازمین کے مستقبل پر کیا اثر پڑے گا؟


یہاں تین الگ معاملات کو خلط ملط نہیں کرنا چاہیے:


* کارپوریشن سے کمپنی بنانا: ادارے کی قانونی اور انتظامی ساخت تبدیل کرنا۔


* کارپوریٹائزیشن: ادارے کو کمپنی کے قانونی اور کاروباری نظام کے مطابق چلانا۔


* نجکاری یا حصص کی فروخت: ملکیت یا اس پر اختیار کا کچھ حصہ نجی سرمایہ کاروں کو منتقل کرنا۔


یہ عمل ایک دوسرے سے متعلق ہو سکتے ہیں، لیکن قانونی طور پر ایک ہی چیز نہیں ہیں۔

2۔ اسٹیٹ لائف کو کمپنی بنانے کے ممکنہ اچھے اثرات


اگر تبدیلی شفاف انداز میں ہو اور ملازمین و پالیسی ہولڈرز کے حقوق محفوظ رہیں تو اس کے چند مثبت نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔


انتظامی فیصلوں میں تیزی


روایتی سرکاری طریقۂ کار کی پیچیدگیاں کم ہونے سے نئی پالیسیوں، کاروباری حکمتِ عملی اور خدمات میں بہتری لائی جا سکتی ہے۔


ڈیجیٹل نظام اور جدید سہولتیں


پالیسیوں کی آن لائن فروخت، کلیمز کی تیز رفتار ادائیگی، پالیسی ہولڈرز کی شکایات کا مؤثر ازالہ اور ڈیجیٹل سروسز بہتر ہو سکتی ہیں۔


کارکردگی اور مالیاتی شفافیت


واضح اہداف، آڈٹ، کارکردگی کی پیمائش اور بہتر کارپوریٹ گورننس سے ادارے کی انتظامی کمزوریوں کی نشاندہی ممکن ہو سکتی ہے۔


کاروبار اور مسابقت میں اضافہ


نئی مصنوعات، صحت بیمہ، مائیکرو انشورنس اور مؤثر مارکیٹنگ کے ذریعے زیادہ صارفین تک رسائی ممکن ہو سکتی ہے۔


یہ تمام فوائد ممکنہ ہیں، یقینی نہیں۔ ان کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ نئی کمپنی کا انتظام کس طرح چلایا جاتا ہے اور اس کے فیصلوں میں عوامی مفاد کو کتنی اہمیت دی جاتی ہے۔ حکومت نے بھی تبدیلی کے حق میں کارکردگی، شفافیت اور کارپوریٹ گورننس بہتر بنانے کے دلائل دیے ہیں۔



3۔ مستقل ملازمین پر کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں؟


مستقل ملازمین کے لیے سب سے اہم سوال یہ ہے کہ ان کی ملازمت، تنخواہ، پنشن، گریجویٹی، میڈیکل سہولتوں اور دیگر مراعات کا مستقبل کیا ہوگا؟


| ممکنہ فائدہ ممکنہ خطرہ

| جدید تربیت اور ترقی کے نئے مواقع | تنظیمِ نو کے نام پر عہدوں میں کمی

| بہتر کارکردگی پر انعامات | اہداف اور کارکردگی کا بڑھتا دباؤ |

| بہتر ٹیکنالوجی اور وسائل | بعض شعبوں کی آؤٹ سورسنگ |

| زیادہ مؤثر انتظامی نظام | ترقی، تبادلوں اور تقرریوں میں نئی غیر یقینی صورتِ حال |


یہاں ایک اہم قانونی نکتہ ہے۔ 23 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق بل میں اثاثوں، واجبات، حقوق اور ذمہ داریوں کی منتقلی کے ساتھ ملازمین کی موجودہ شرائطِ ملازمت اور ریٹائرمنٹ فوائد کے تحفظ کی دفعات بھی شامل ہیں۔



لیکن ملازمین کو صرف عمومی یقین دہانی پر اکتفا نہیں کرنا چاہیے۔ انہیں یہ جاننا ضروری ہے کہ:


* کیا موجودہ سروس ریگولیشنز برقرار رہیں گے؟


* کیا پنشن اور ریٹائرمنٹ فوائد کے لیے فنڈنگ کی ضمانت ہوگی؟


* کیا موجودہ ملازمین کی سینیارٹی، ترقی اور دیگر مراعات محفوظ رہیں گی؟


* کیا مستقبل میں نئے ملازمین کو مختلف شرائط پر بھرتی کیا جا سکے گا؟


* کیا کسی بھی ملازم کو نئی کمپنی میں منتقل کرنے یا اس کی شرائط بدلنے کے لیے واضح قانونی تحفظ موجود ہوگا؟


موجودہ ملازمین کے حقوق کی حفاظت اور مستقبل میں بھرتی ہونے والے ملازمین کے حقوق کی حفاظت دو الگ معاملات ہیں۔ اس فرق کو قانونی دستاویزات میں واضح کرنا ضروری ہے۔


4۔ فیلڈ فورس کے لیے سب سے بڑا خطرہ کیا ہے؟


اسٹیٹ لائف کی فیلڈ فورس میں سیلز ریپریزنٹیٹوز، سیلز آفیسرز، سیلز مینیجرز اور ایریا مینیجرز جیسے مختلف عہدے شامل ہیں۔ ان افراد کی محنت سے نئی پالیسیاں فروخت ہوتی ہیں، کاروبار بڑھتا ہے اور ادارے کو آمدن حاصل ہوتی ہے۔ اس کے باوجود ان کی ملازمت اور آمدن کی نوعیت مستقل ملازمین سے مختلف ہو سکتی ہے۔


اس وقت فیلڈ فورس کے لیے قانونی صورتِ حال خصوصی توجہ کی متقاضی ہے۔


20 اکتوبر 2026 کو شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا کہ اسٹیٹ لائف کے فیلڈ ورکرز، متعلقہ 1973 کے سروس ریگولیشنز کے تحت باقاعدہ مستقل ملازمین کی تعریف میں شامل نہیں ہوتے، کیونکہ ان کی آمدن بنیادی طور پر کمیشن اور کاروبار حاصل کرنے سے منسلک ہے


اس فیصلے کا مطلب یہ نہیں کہ فیلڈ فورس کے افراد کے ہر قانونی حق کی نفی ہوگئی ہے؛ مختلف قوانین، معاہدوں اور حالات کے تحت الگ سوالات پیدا ہو سکتے ہیں۔ لیکن یہ صورتِ حال اس بات کی نشان دہی ضرور کرتی ہے کہ کمپنی میں تبدیلی کے دوران فیلڈ فورس کے حقوق کے لیے واضح اور قابلِ نفاذ تحفظ کتنا ضروری ہے۔


فیلڈ فورس کے لیے ممکنہ منفی اثرات


کمیشن اور معاوضے کی پالیسی میں تبدیلی


نئی انتظامیہ فروخت کے اہداف، کمیشن کی شرحوں اور بونس کی شرائط پر نظرثانی کر سکتی ہے۔ یہ تبدیلی مثبت یا منفی دونوں ہو سکتی ہے، مگر موجودہ آمدن کے تحفظ کی ضمانت ضروری ہے۔


ڈیجیٹل فروخت اور آن لائن نظام


اگر صارفین کو براہِ راست ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے پالیسی فروخت کی جائے تو روایتی فیلڈ فورس کے بعض کام متاثر ہو سکتے ہیں۔ تاہم ڈیجیٹل نظام فیلڈ فورس کی معاونت بھی کر سکتا ہے۔


مراعات اور سماجی تحفظ کی غیر یقینی


اگر فیلڈ فورس کے معاہدوں میں میڈیکل، گروپ انشورنس، حادثاتی تحفظ اور دیگر سہولتوں کی ضمانت واضح نہ ہوئی تو ملازمین اور ان کے خاندان متاثر ہو سکتے ہیں۔


اجتماعی آواز کمزور ہونے کا خدشہ


فیلڈ فورس کی ملازمتی حیثیت اور یونین سے متعلق قانونی اختلافات کے پیشِ نظر، ان کے لیے شکایات، نمائندگی اور تنازعات کے حل کا مؤثر نظام قائم کرنا ناگزیر ہے فیلڈ فورس کے لیے مثبت امکانات بھی موجود ہیں


اگر نئی کمپنی فیلڈ فورس کو اپنا بنیادی کاروباری اثاثہ سمجھے تو وہ درج ذیل اقدامات کر سکتی ہے:


* کمیشن کی ادائیگی میں شفافیت اور بروقت ادائیگی۔


* سیلز ریپریزنٹیٹوز، سیلز آفیسرز اور مینیجرز کے لیے واضح سروس اسٹرکچر۔


* طویل عرصے سے خدمات انجام دینے والے افراد کے لیے وفاداری الاؤنس یا ریٹائرمنٹ سیونگز کا نظام۔


* میڈیکل، گروپ انشورنس اور حادثاتی تحفظ کی مضبوط ضمانت۔


* نئے کاروبار کے اہداف طے کرتے وقت مارکیٹ کے حالات اور پالیسی ہولڈرز کی قوتِ خرید کو مدنظر رکھنا۔

* ڈیجیٹل تبدیلی کے دوران موجودہ فیلڈ ورکرز کو تربیت دے کر نئے نظام کا حصہ بنانا۔


اسٹیٹ لائف کی فیلڈ فورس کو صرف کمیشن پر کام کرنے والے افراد نہیں، بلکہ ادارے کے کاروبار اور عوامی اعتماد کی تعمیر میں شریک اہم فریق سمجھا جانا چاہیے۔

5۔ کیا اسٹیٹ لائف کی نجکاری سے پالیسی ہولڈرز بھی متاثر ہو سکتے ہیں؟


اسٹیٹ لائف کا معاملہ عام سرکاری اداروں سے مختلف ہے، کیونکہ اس کے ساتھ پالیسی ہولڈرز کی طویل مدتی بچتیں، بیمہ معاہدے اور مالیاتی ذمہ داریاں وابستہ ہیں۔


2021 میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے نجکاری کے اجلاس سے متعلق سرکاری پارلیمانی ریکارڈ میں پالیسی ہولڈرز کے مفادات، اسٹیٹ لائف کے سرپلس کی تقسیم اور فیلڈ فورس کے معاشی حالات پر گفتگو درج ہے


اس لیے کمپنی میں تبدیلی کے دوران چند بنیادی ضمانتیں لازمی ہونی چاہییں:


1. پہلے سے جاری تمام انشورنس پالیسیوں کی شرائط اور قانونی ذمہ داریاں برقرار رہیں۔


2. پالیسی ہولڈرز کی رقوم، متعلقہ فنڈز اور کمپنی کے عمومی اثاثوں کے درمیان قانونی تفریق واضح ہو۔


3. منافع یا سرپلس کی تقسیم کے موجودہ اصولوں میں کسی تبدیلی سے پہلے قانونی بنیاد اور پالیسی ہولڈرز کے حقوق کی مکمل وضاحت کی جائے۔


4. حکومت کی ضمانتوں، اگر کسی معاہدے یا قانون کے تحت موجود ہوں، کی حیثیت واضح کی جائے۔


5. کسی ممکنہ حصص کی فروخت سے پہلے ادارے کے اثاثوں، واجبات اور مستقبل کی مالیاتی ذمہ داریوں کا آزادانہ جائزہ لیا جائے۔


یہ ضمانتیں صرف ملازمین کے لیے نہیں، بلکہ ان لاکھوں شہریوں کے لیے بھی اہم ہیں جنہوں نے مستقبل کی مالی ضروریات کے لیے انشورنس پالیسیوں میں سرمایہ لگایا ہے۔


6۔ کیا اس تبدیلی کو سازش کہا جا سکتا ہے؟


میرے نزدیک کسی بھی منصوبے کو سازش قرار دینے کے لیے محض خدشات کافی نہیں؛ اس کے لیے دستاویزی شواہد، فیصلوں کی اصل وجوہات اور مفادات کے ممکنہ تصادم کا جائزہ لینا چاہیے۔


لیکن اس معاملے میں چند ایسے سوالات ہیں جن کے جوابات حکومت اور اسٹیٹ لائف انتظامیہ کو واضح طور پر دینے چاہییں:


* اگر فوری مقصد صرف انتظامی بہتری ہے تو نجکاری کے لیے مالیاتی مشیر کی خدمات حاصل کرنے کا عمل کیوں شروع کیا گیا؟


* مجوزہ حصص کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم کہاں استعمال ہوگی؟


* ادارے کے اثاثوں اور زمینوں کی قدر کا تعین کس طریقے سے ہوگا؟


* کیا مستقل ملازمین اور فیلڈ فورس کے نمائندوں کو بل کی تیاری اور اس کے اثرات کے جائزے میں مؤثر شرکت دی گئی؟

* کیا نئی کمپنی میں فیلڈ فورس کے کمیشن، مراعات اور قانونی حیثیت کے تحفظ کے لیے الگ شقیں موجود ہیں؟


نجکاری کمیشن کی جانب سے مالیاتی مشیر کے انتخاب کا عمل اور قومی اسمبلی سے بل کی منظوری کی رپورٹ اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ ان سوالات کے جواب محض زبانی یقین دہانیوں کے بجائے دستاویزات کے ذریعے دیے جائیں۔




7۔ حکومت اور اسٹیٹ لائف انتظامیہ کے لیے عملی تجاویز


پہلی تجویز: حقوق کا قانونی چارٹر


کمپنی میں تبدیلی سے پہلے مستقل ملازمین اور فیلڈ فورس کے لیے الگ الگ حقوق کا چارٹر جاری کیا جائے، جس میں سروس شرائط، پنشن، کمیشن، میڈیکل اور دیگر مراعات کی واضح تفصیل ہو۔


دوسری تجویز: فیلڈ فورس کی نمائندگی


سیلز ریپریزنٹیٹوز، سیلز آفیسرز، سیلز مینیجرز اور ایریا مینیجرز کے منتخب نمائندوں کو مشاورتی عمل میں شامل کیا جائے۔


تیسری تجویز: اثاثوں کا آزادانہ آڈٹ


زمینوں، عمارتوں، سرمایہ کاری، واجبات اور پالیسی ہولڈرز سے متعلق ذمہ داریوں کی آزادانہ قدر پیمائی کی جائے، اور اس کی رپورٹ مناسب قانونی حدود کے اندر عوام کے سامنے لائی جائے۔


چوتھی تجویز: پارلیمانی نگرانی


قومی اسمبلی اور سینیٹ کی متعلقہ قائمہ کمیٹیاں تبدیلی کے قانونی، مالیاتی اور ملازمتی اثرات کا جائزہ لیں اور انتظامیہ سے قابلِ تصدیق جوابات طلب کریں۔


پانچویں تجویز: نجکاری سے پہلے واضح شرائط


اگر مستقبل میں حصص فروخت کرنے کا فیصلہ ہو تو پالیسی ہولڈرز کے حقوق، ملازمین کے تحفظ، فیلڈ فورس کے معاہدوں اور عوامی مفاد سے متعلق شرائط پہلے سے طے اور قانونی طور پر نافذ العمل ہونی چاہییں۔


نتیجہ: ادارے کی ترقی ضروری، مگر اس کے محنت کشوں کی قیمت پر نہیں


اسٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن آف پاکستان کو کمپنی میں تبدیل کرنے کے معاملے میں سب سے اہم سوال یہ نہیں کہ ادارہ کارپوریشن رہے یا کمپنی بن جائے؛ اصل سوال یہ ہے کہ اس تبدیلی کا فائدہ کس کو پہنچے گا اور اس کے ممکنہ نقصانات کا بوجھ کون اٹھائے گا۔


اگر اس تبدیلی سے ادارے کی کارکردگی بہتر ہوتی ہے، پالیسی ہولڈرز کو سہولت ملتی ہے، مستقل ملازمین کے حقوق محفوظ رہتے ہیں اور فیلڈ فورس کو باعزت روزگار اور معاشی تحفظ حاصل ہوتا ہے تو اسے اصلاحات کہا جا سکتا ہے۔


لیکن اگر کارپوریٹائزیشن نجکاری کی راہ ہموار کرنے کے لیے استعمال ہو، ادارے کے اثاثوں کی فروخت یا منتقلی میں شفافیت نہ ہو، مستقل ملازمین کے مستقبل کو غیر یقینی بنایا جائے اور فیلڈ فورس کو اس کی محنت کے باوجود قانونی و معاشی تحفظ نہ ملے تو اس تبدیلی پر سوال اٹھانا عوام اور ملازمین کا جائز حق ہے۔


اسٹیٹ لائف کی ترقی کا پیمانہ صرف منافع، ڈیجیٹلائزیشن یا حصص کی قیمت نہیں ہونا چاہیے۔ اس کا پیمانہ یہ بھی ہونا چاہیے کہ ادارہ اپنے پالیسی ہولڈرز، مستقل ملازمین اور اس فیلڈ فورس کے ساتھ کتنا انصاف کرتا ہے جس کی محنت سے اس کا کاروبار قائم ہے۔


حکومت سے مطالبہ ہے کہ وہ اسٹیٹ لائف کی تبدیلی کے مکمل قانونی مسودے، نجکاری کے ممکنہ طریقۂ کار اور ملازمین و فیلڈ فورس کے حقوق کے تحفظ کی واضح ضمانتیں سامنے لائے، تاکہ اصلاحات کے نام پر کسی بھی طبقے کے ساتھ ناانصافی کا راستہ بند ہو سکے۔