جادو کے سائے میں بکھرتے رشتے،تحریر: یاسمین اختر طوبیٰ
نقطہ نظر
رشتے شیشے کی طرح ہوتے ہیں, بظاہر مضبوط مگر ایک معمولی سی ضرب بھی انہیں دراڑوں میں تقسیم کر سکتی ہے۔ کبھی یہ ضرب کسی تلخ جملے کی صورت میں آتی ہے، کبھی بداعتمادی کے روپ میں، کبھی معاشی دباؤ بن کر اور کبھی کسی تیسرے شخص کی مداخلت سے۔ مگر ہمارے معاشرے میں جب رشتوں میں غیر معمولی کشیدگی پیدا ہوتی ہے تو ایک خیال فوراً ذہنوں میں جگہ بنا لیتا ہے: "شاید کسی نے جادو کر دیا ہے۔"
جادو کا تصور ہماری تہذیبی اور مذہبی روایت میں نیا نہیں۔ قرآن مجید میں بھی سحر کا ذکر موجود ہے لیکن اسی قرآن نے انسان کو حقیقت پسندی، تدبر اور اللہ پر توکل کا راستہ بھی دکھایا ہے۔ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب ہم زندگی کے ہر پیچیدہ مسئلے کی وجہ تلاش کرنے کے بجائے فوراً اسے جادو، نظرِ بد یا کسی پوشیدہ سازش سے جوڑ دیتے ہیں۔
شوہر اور بیوی کے درمیان معمولی اختلاف ہو، بات چیت کم ہو جائے، ایک دوسرے سے شکوے بڑھ جائیں یا گھر میں بے سکونی محسوس ہونے لگے تو بعض اوقات خاندان کے افراد فوراً کسی "عمل'، "بندش" یا "جادو" کا ذکر شروع کر دیتے ہیں۔ یوں اصل مسئلہ پسِ پردہ چلا جاتا ہے اور توجہ ایک ایسے سبب کی طرف مرکوز ہو جاتی ہے جسے ثابت کرنا بھی مشکل ہوتا ہے اور جس کے نام پر خوف مزید بڑھتا چلا جاتا ہے۔
حالانکہ ہر ٹوٹتے رشتے کے پیچھے کوئی ماورائی سبب ضروری نہیں ہوتا۔
کبھی برسوں کی خاموشی ایک چھوٹے سے جھگڑے کی صورت میں پھٹ پڑتی ہے۔ کبھی دل میں جمع شکایات اس قدر بڑھ جاتی ہیں کہ ایک دوسرے کی اچھی بات بھی بری محسوس ہونے لگتی ہے۔ کبھی مالی پریشانیاں انسان کے مزاج پر اثر ڈالتی ہیں، کبھی اولاد کے معاملات میاں بیوی کے درمیان اختلاف پیدا کرتے ہیں، کبھی سسرال کی مداخلت رشتے میں تلخی بھر دیتی ہے اور کبھی روزمرہ کی مصروفیات انسان کو اس قدر تھکا دیتی ہیں کہ وہ اپنے ہی گھر میں موجود شخص کے جذبات سمجھنے کی صلاحیت کھو بیٹھتا ہے۔
بعض اوقات مسئلہ نہ جادو ہوتا ہے، نہ بندش، نہ کسی تیسرے شخص کی سازش۔ مسئلہ صرف یہ ہوتا ہے کہ دو لوگ ایک دوسرے سے بات کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔
ایک شخص دل میں شکایت لیے خاموش رہتا ہے اور دوسرا سمجھتا ہے کہ سب ٹھیک ہے۔ پھر ایک دن معمولی سی بات برسوں کی خاموشی کو توڑ دیتی ہے۔ پرانے قصے سامنے آتے ہیں، پرانے زخم تازہ ہوتے ہیں اور وہ باتیں بھی زبان پر آ جاتی ہیں جو شاید کبھی کہنی ہی نہیں چاہی گئی تھیں۔ ایک چھوٹا سا اختلاف اچانک بڑے تنازع میں تبدیل ہو جاتا ہے۔
ایسے موقع پر اگر کوئی یہ کہہ دے کہ "یہ سب کسی کے جادو کا نتیجہ ہے" تو پریشان خاندان کو ایک آسان جواب مل جاتا ہے۔ اصل مسئلے کو سمجھنے کے بجائے ایک پوشیدہ وجہ تلاش کر لی جاتی ہے۔ پھر سوال یہ نہیں رہتا کہ میاں بیوی میں فاصلے کیوں پیدا ہوئے بلکہ سوال یہ بن جاتا ہے کہ "جادو کس نے کیا؟"
یہ سوال خطرناک ثابت ہو سکتا ہے
کیونکہ جب شک کسی ایک شخص پر ٹھہر جائے تو پھر ہر واقعہ اسی شک کی عینک سے دیکھا جانے لگتا ہے۔ ساس کی کوئی بات سازش محسوس ہوتی ہے، نند کی کوئی مداخلت جادو کا اشارہ لگتی ہے، میکے سے آنے والی کوئی خاتون مشکوک دکھائی دیتی ہے اور کبھی تو برسوں سے قریبی رہنے والا رشتہ دار بھی اچانک دشمن قرار پاتا ہے۔
یوں ایک ایسا دشمن پیدا ہو جاتا ہے جس کا وجود ثابت نہیں، مگر جس کے خلاف پورا گھر کھڑا ہو جاتا ہے۔
بدگمانی رشتوں کے لیے کسی خاموش زہر سے کم نہیں۔ یہ انسان کو ثبوت سے پہلے فیصلہ کرنے پر آمادہ کرتی ہے۔ ایک بار دل میں یہ خیال بیٹھ جائے کہ فلاں شخص ہمارے خلاف ہے تو پھر اس کی ہر بات مشکوک دکھائی دینے لگتی ہے۔ وہ محبت سے بات کرے تو بھی شک، خاموش رہے تو بھی شک اور مدد کرے تو بھی شک۔
اس صورت حال میں رشتے صرف میاں بیوی کے درمیان نہیں ٹوٹتے بلکہ پورا خاندان تقسیم ہو سکتا ہے۔
ہمارے معاشرے میں اس مسئلے کا ایک اور پہلو بھی ہے۔ پریشانی کے شکار خاندانوں کو بعض اوقات ایسے افراد مل جاتے ہیں جو ان کے خوف کو مزید بڑھا دیتے ہیں۔ وہ چند باتیں سن کر دعویٰ کرتے ہیں کہ گھر میں بندش ہے، کسی نے جادو کرایا ہے یا کسی خاص شخص نے نقصان پہنچانے کی کوشش کی ہے۔ پھر مختلف تعویذ، دھاگے، نقش اور مہنگے "اعمال" کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔
پریشان انسان ایسے دعوؤں پر جلد یقین کر لیتا ہے کیونکہ وہ پہلے ہی کسی حل کی تلاش میں ہوتا ہے۔
اس کے بعد مسئلہ صرف گھریلو نہیں رہتا۔ مالی نقصان شروع ہو جاتا ہے، خاندان میں شکوک بڑھتے ہیں اور اصل رشتے دار ایک دوسرے سے دور ہونے لگتے ہیں۔ جس گھر کو محبت اور اعتماد کی ضرورت تھی، وہاں خوف اور الزام جگہ بنا لیتے ہیں۔
یہاں احتیاط کی ضرورت ہے۔ روحانی سکون، دعا، تلاوت اور اللہ پر توکل اپنی جگہ اہم ہیں مگر کسی بھی شخص کے دعوے کو صرف اس لیے سچ نہیں مانا جا سکتا کہ وہ خود کو روحانی علاج کا ماہر قرار دیتا ہے۔ خاص طور پر اس وقت جب وہ خوف پیدا کرے، کسی مخصوص رشتہ دار کو دشمن قرار دے، بھاری رقم طلب کرے یا یہ دعویٰ کرے کہ وہ یقینی طور پر پوشیدہ معاملات جانتا ہے۔
دین انسان کو توکل ضرور سکھاتا ہے لیکن ساتھ ہی تدبر، ذمہ داری اور کوشش کا راستہ بھی دکھاتا ہے۔
اگر میاں بیوی کے درمیان مسلسل اختلاف ہے تو اس اختلاف کو سمجھنا ہوگا۔ اگر اعتماد ختم ہو چکا ہے تو اعتماد بحال کرنے کے لیے دونوں کو اپنی ذمہ داری دیکھنی ہوگی۔ اگر مالی مسائل ہیں تو آمدن اور اخراجات پر بیٹھ کر بات کرنا ہوگی۔ اگر خاندان کی مداخلت مسئلہ بن رہی ہے تو مناسب حدود قائم کرنا ہوں گی۔ اگر غصہ اور تلخی معمول بن چکے ہیں تو اپنے رویے پر غور کرنا ہوگا۔
اور اگر مسئلہ اتنا بڑھ چکا ہے کہ دونوں خود اسے حل نہیں کر پا رہے تو کسی سمجھ دار، غیر جانب دار اور قابلِ اعتماد شخص یا متعلقہ ماہر سے مدد لینا بھی ضروری ہو سکتا ہے۔
بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں ازدواجی مسائل پر بات کرنا اب بھی کئی لوگوں کے لیے شرمندگی کا باعث ہے۔ میاں بیوی ایک دوسرے سے بات نہیں کرتے، خاندان کے بزرگوں سے بات نہیں کرتے، کسی مشیر سے بات نہیں کرتے، مگر ایک ایسے شخص کے سامنے اپنی پوری زندگی رکھ دیتے ہیں جو چند منٹ کی گفتگو کے بعد مسئلے کی وجہ "جادو" قرار دے دیتا ہے۔
ہمیں اس رویے پر غور کرنا ہوگا۔
ہر ذہنی دباؤ جادو نہیں ہوتا۔ ہر بے سکونی بندش نہیں ہوتی۔ ہر بیماری نظرِ بد نہیں ہوتی اور ہر اختلاف کے پیچھے کسی دشمن کا ہاتھ نہیں ہوتا۔
انسان کی نفسیاتی کیفیت، مسلسل پریشانی، نیند کی کمی، معاشی دباؤ، گھریلو ذمہ داریوں کا بوجھ اور ماضی کے تلخ تجربات بھی اس کے رویے کو بدل سکتے ہیں۔ جو شخص خود اندر سے پریشان ہو، وہ اپنے سب سے قریبی رشتے کے ساتھ بھی غیر معمولی سختی سے پیش آ سکتا ہے۔
اسی طرح رشتوں میں بعض اوقات ایسی خاموش دراڑیں پیدا ہوتی رہتی ہیں جنہیں ہم وقت پر محسوس نہیں کرتے۔ ایک دوسرے کی بات کاٹنا، جذبات کو نظرانداز کرنا، ہر معاملے میں تنقید کرنا، معافی مانگنے کو اپنی توہین سمجھنا اور پرانی غلطیوں کو بار بار دہرانا... یہ سب بظاہر معمولی عادتیں ہیں، مگر وقت گزرنے کے ساتھ رشتے کی بنیاد کمزور کر دیتی ہیں۔
رشتے ایک بڑے حادثے سے ہمیشہ نہیں ٹوٹتے، کبھی چھوٹی چھوٹی بے اعتنائیاں انہیں اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہیں۔
پھر ایک وقت آتا ہے جب دونوں ایک دوسرے کے ساتھ رہتے ہوئے بھی تنہا محسوس کرتے ہیں۔ بات کرنے کو بہت کچھ ہوتا ہے مگر کہنے کی ہمت نہیں ہوتی۔ شکایتیں بہت ہوتی ہیں مگر سننے والا کوئی نہیں ہوتا۔ محبت کہیں موجود ہوتی ہے مگر انا اس کے راستے میں کھڑی ہوتی ہے، یہی وہ مرحلہ ہے جہاں کسی بھی رشتے کو سب سے زیادہ توجہ کی ضرورت ہوتی ہے۔
ہمیں اپنے گھروں میں ایک دوسرے کو سننے کا رواج پیدا کرنا ہوگا۔ اختلاف کا مطلب دشمنی نہیں۔ ناراضی کا مطلب نفرت نہیں۔ شوہر اور بیوی کا ہر معاملے میں ایک رائے پر متفق ہونا بھی ضروری نہیں۔ اصل چیز یہ ہے کہ اختلاف کے باوجود احترام باقی رہے۔
اگر ایک فریق ناراض ہے تو دوسرے کو یہ سوچنا چاہیے کہ آخر ناراضی کی وجہ کیا ہے۔ اگر کسی کے دل میں شکایت ہے تو اسے "تم ہمیشہ ایسے ہی کرتے ہو" کہہ کر خاموش کرانے کے بجائے یہ پوچھنا چاہیے کہ "تمہیں تکلیف کس بات سے ہوئی؟"
بعض اوقات ایک جملہ رشتہ بچا لیتا ہے: "مجھے بتاؤ، تمہیں کیا مسئلہ ہے؟"
اور بعض اوقات ایک جملہ رشتہ توڑ دیتا ہے: "مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا۔"
یہی فرق ہمیں سمجھنا ہوگا۔
ہم اپنے گھروں میں محبت کا اظہار کم اور توقعات کا اظہار زیادہ کرتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ دوسرا ہمیں سمجھے مگر خود دوسرے کو سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے۔ ہم چاہتے ہیں کہ شریکِ حیات ہماری قربانیوں کو یاد رکھے مگر اس کی قربانیوں کو معمول سمجھ لیتے ہیں۔
پھر جب فاصلے بڑھتے ہیں تو ہمیں کوئی بیرونی وجہ زیادہ قابلِ قبول محسوس ہوتی ہے کیونکہ اپنے رویے کو ذمہ دار ماننا مشکل ہوتا ہے۔
شاید اسی لیے جادو کا تصور بعض گھروں میں ایک نفسیاتی سہارا بھی بن جاتا ہے۔ انسان کو لگتا ہے کہ اگر مسئلہ کسی بیرونی قوت نے پیدا کیا ہے تو اسے اپنی غلطیوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ مگر اس سوچ کا نقصان یہ ہے کہ مسئلہ حل ہونے کے بجائے مزید پیچیدہ ہو جاتا ہے۔
رشتے الزام سے نہیں بچتے، ذمہ داری قبول کرنے سے بچتے ہیں۔
یہ بھی ضروری ہے کہ ہم ہر رشتے کو ہر قیمت پر بچانے کی بات نہ کریں۔ جہاں تشدد، ظلم، مسلسل تذلیل یا سنگین ناانصافی موجود ہو وہاں مسئلے کو صرف "جادو" کہہ کر نظرانداز کرنا خود ایک ظلم بن سکتا ہے۔ ایسے حالات میں متاثرہ فرد کی حفاظت، خاندان کی ذمہ داری اور مناسب پیشہ ورانہ یا قانونی مدد زیادہ اہم ہو سکتی ہے۔
لیکن جہاں مسئلہ غلط فہمی، انا، بداعتمادی، خاموشی یا باہمی عدمِ توجہی کا ہو، وہاں رشتہ ختم کرنے سے پہلے اسے سمجھنے اور سنبھالنے کی کوشش ضرور ہونی چاہیے۔
ہمیں اپنے بچوں کو بھی یہ سکھانا ہوگا کہ رشتے صرف خون کے رشتے نہیں ہوتے، انہیں رویے مضبوط بناتے ہیں۔ گھر میں اگر بچے ہر روز الزام، شک اور لڑائی دیکھیں گے تو ان کے ذہن میں بھی رشتوں کا تصور خوف اور عدمِ تحفظ سے جڑ سکتا ہے۔
اس لیے گھر کا سکون صرف میاں بیوی کی ذاتی ضرورت نہیں، آنے والی نسلوں کی تربیت کا بھی حصہ ہے۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم جادو کے خوف سے پہلے اپنے رویوں کا جائزہ لیں۔ کسی پر الزام لگانے سے پہلے ثبوت اور حقیقت کو دیکھیں۔ کسی عامل کے دعوے پر یقین کرنے سے پہلے سوچیں۔ اور کسی رشتے کو ختم کرنے سے پہلے یہ ضرور دیکھیں کہ کہیں مسئلہ ایسا تو نہیں جسے گفتگو، معافی، حدود اور باہمی کوشش سے حل کیا جا سکتا ہے۔
روحانی زندگی انسان کو امید دیتی ہے، مگر امید کے ساتھ عقل اور تدبر بھی ضروری ہیں۔ دعا کے ساتھ کوشش، توکل کے ساتھ ذمہ داری اور ایمان کے ساتھ حقیقت پسندی بھی زندگی کا حصہ ہونی چاہیے۔
کیونکہ کبھی کبھی گھر میں واقعی بہت کچھ خراب ہو چکا ہوتا ہے مگر خرابی کی وجہ وہ نہیں ہوتی جسے ہم ڈھونڈ رہے ہوتے ہیں۔
کبھی جادو کا سایہ نہیں ہوتا، صرف بدگمانی کا سایہ ہوتا ہے۔
کبھی کسی نے بندش نہیں کی ہوتی، صرف بات چیت بند ہوئی ہوتی ہے۔
کبھی کسی نے رشتہ نہیں توڑا ہوتا، صرف دو دلوں کے درمیان فاصلے بڑھتے گئے ہوتے ہیں۔
اور کبھی مسئلے کا علاج کسی پوشیدہ دشمن کو تلاش کرنا نہیں بلکہ اپنے ہی گھر کے دروازے پر کھڑے ہو کر یہ پوچھنا ہوتا ہے:
ہم نے ایک دوسرے کو سمجھنا کب چھوڑ دیا تھا؟
شاید یہی سوال ہمیں ان بہت سے رشتوں تک دوبارہ پہنچا دے جنہیں ہم جادو کے سائے میں کھو دینے کے قریب ہیں۔
مزید پڑھیں





