جگا ڈاکو کون تھا؟ تحریر:انجینئر شیراز حسین رونگھا
نقطہ نظر
تاریخ کے اوراق میں محفوظ ایک ایسا کردار جسے کسی نے ڈاکو کہا، کسی نے مظلوموں کا مسیحا اور کسی نے پنجاب کا رابن ہڈ۔
پنجاب کی لوک تاریخ میں کچھ کردار ایسے ہیں جو وقت گزرنے کے باوجود لوگوں کے ذہنوں سے محو نہیں ہوتے۔ ان کے تذکرے لوک گیتوں، قصوں، کہانیوں اور بزرگوں کی محفلوں میں آج بھی زندہ ہیں۔ انہی کرداروں میں ایک نام جگا ڈاکو کا ہے۔ ایک ایسا شخص جس نے قانون سے بغاوت کی، امیروں کو لوٹا، غریبوں کی مدد کی اور اپنی زندگی کا اختتام بھی ایک المناک داستان کے ساتھ کیا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ جگا ڈاکو حقیقت میں کون تھا؟ کیا وہ واقعی غریبوں کا ہمدرد تھا یا ایک خطرناک قانون شکن جس کی شخصیت کو عوامی محبت نے لوک داستان بنا دیا؟
تاریخی و لوک روایات کے مطابق جگا ڈاکو کا اصل نام جگت سنگھ تھا۔ وہ 1901ء یا 1902ء کے لگ بھگ برطانوی ہندوستان کے پنجاب میں ضلع لاہور کے گاؤں برج ران سنگھ (موجودہ ضلع قصور کے علاقے) میں پیدا ہوا۔ اس کے والد کا نام مکھن سنگھ اور والدہ کا نام بھاگن بتایا جاتا ہے۔ والد کے انتقال کے بعد اس کی پرورش والدہ اور چچا روپ سنگھ نے کی۔
جگا بچپن ہی سے مضبوط جسم، پہلوانی کے شوق اور خوددار طبیعت کا مالک تھا۔ اس کی زندگی کے ابتدائی واقعات کے بارے میں کئی روایات ملتی ہیں، تاہم ان میں سے بعض کی آزاد تاریخی تصدیق دستیاب نہیں۔
جگا کی زندگی میں ایک اہم موڑ اس وقت آیا جب اس کے علاقے میں بااثر زمینداروں، مقامی اہلکاروں اور طاقتور خاندانوں کے ساتھ اس کے تنازعات پیدا ہوئے۔ ایک مشہور روایت کے مطابق اس نے ایک پٹواری سے اپنی زمین کا فرد حاصل کرنے کی کوشش کی، مگر مبینہ طور پر رشوت اور توہین آمیز رویے کا سامنا کرنا پڑا۔ اس واقعے کے بعد اس کی مقامی بااثر حلقوں سے دشمنی بڑھتی گئی۔
اس کے بعد ایک اور واقعے میں پولیس انسپکٹر اصغر علی کے سامنے پیش ہونے کے معاملے پر اختلاف ہوا۔ جگا کو خدشہ تھا کہ پولیس اس کی تذلیل کرے گی۔ بالآخر وہ روپوش ہوگیا اور قانون سے فرار کی زندگی اختیار کرلی۔ اس کی یہ کہانی مقامی روایات میں بیان ہوتی ہے، البتہ ان واقعات کی مکمل سرکاری دستاویزی تصدیق آسانی سے دستیاب نہیں۔
جگا نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ ایک گروہ تشکیل دیا اور مختلف علاقوں میں ڈکیتیاں شروع کردیں۔ اس کی مشہور وارداتوں میں ساہیوال اور لائل پور (موجودہ فیصل آباد) کے واقعات کا ذکر ملتا ہے۔ ایک مشہور پنجابی لوک روایت کے مطابق اس نے لائل پور میں انگریز ڈپٹی کمشنر کی رہائش گاہ پر بھی ڈاکہ ڈالا، جس کا ذکر آج بھی پنجابی لوک گیتوں میں ملتا ہے۔
اس کی شخصیت کا سب سے دلچسپ پہلو یہ بیان کیا جاتا ہے کہ وہ دولت مند ساہوکاروں اور بااثر افراد کو نشانہ بناتا اور غریبوں کی مدد کرتا تھا۔ بعض روایات کے مطابق وہ غریب کسانوں کو قرضوں سے نجات دلانے کے لیے قرضوں کے حساب کتاب کے رجسٹر بھی جلا دیتا تھا۔ ضرورت مندوں کو رقم اور سونا دینے کے قصے بھی اس کے ساتھ منسوب ہیں۔
یہی وجہ تھی کہ عوام کے ایک طبقے نے اسے عام ڈاکو کے بجائے مظلوموں کا مددگار سمجھنا شروع کردیا۔ تاہم یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ کسی شخص کے بارے میں عوامی ہمدردی اس کے جرائم کو قانونی یا اخلاقی جواز فراہم نہیں کرتی
جگا ڈاکو کی زندگی زیادہ طویل نہ ہوسکی۔ روایات کے مطابق تقریباً 29 برس کی عمر میں 1930ء یا 1931ء کے دوران ایک ساتھی کی غداری کے نتیجے میں اسے موت کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کی موت کی تفصیلات میں مختلف روایات پائی جاتی ہیں، اس لیے کسی ایک بیان کو قطعی تاریخی حقیقت قرار دینا درست نہیں ہوگا۔
لیکن اس کی موت کے بعد اس کا نام ختم نہیں ہوا بلکہ اس کی داستان نے لوک موسیقی میں جگہ بنا لی۔ پنجاب کے مشہور گلوکاروں نے جگا کے کردار پر گیت گائے۔ اس کا نام ایک ایسی علامت بن گیا جس میں بہادری، بغاوت، مزاحمت اور محروم طبقے کی امید جیسے تصورات شامل ہوگئے۔
یہاں ایک بات کی وضاحت ضروری ہے کہ جگا ڈاکو اور لاہور کا مشہور جگا گجر دو الگ شخصیات ہیں۔ جگا گجر کا اصل نام چوہدری محمد شریف گجر تھا۔ وہ 1968ء میں لاہور میں پولیس مقابلے میں ہلاک ہوا۔ اس پر قتل، اغوا، بھتہ خوری اور دیگر سنگین جرائم کے الزامات تھے۔ لاہور میں مشہور ہونے والی اصطلاح ’’جگا ٹیکس‘‘ بھی اسی کے نام سے منسوب ہے۔دونوں شخصیات کو ایک سمجھنا تاریخی غلطی ہوگی۔
جگا ڈاکو کی داستان کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ جب معاشرے میں انصاف کمزور ہوجائے، طاقتور قانون سے بالاتر ہوجائیں، غریب کی فریاد سننے والا کوئی نہ ہو اور ادارے عوام کا اعتماد کھو دیں تو بعض اوقات مجرمانہ کردار بھی عوامی ہیرو بن جاتے ہیں۔
لیکن کیا معاشرے کو انصاف کے لیے ڈاکوؤں کی ضرورت ہونی چاہیے؟ یقیناً نہیں!
اصل بہادری کسی امیر کو لوٹنے میں نہیں بلکہ ایسا نظام قائم کرنے میں ہے جہاں کسی غریب کو لٹنے کا خوف نہ ہو۔ اصل عظمت بندوق اٹھانے میں نہیں بلکہ مظلوم کو انصاف دلانے میں ہے۔ کسی کے قرضوں کے رجسٹر جلا دینا وقتی طور پر خوشی دے سکتا ہے، مگر ایسا معاشرہ تعمیر نہیں کرسکتا جہاں قرض، غربت اور استحصال کا مستقل خاتمہ ہو۔
آج بھی ہمارے معاشرے میں ایسے بے شمار لوگ موجود ہیں جو غربت، مہنگائی، ناانصافی اور طاقتور طبقوں کے رویوں سے تنگ ہیں۔ انہیں جگا جیسے کرداروں کی کہانیاں متاثر کرتی ہیں، کیونکہ ان کہانیوں میں انہیں اپنی محرومیوں کا جواب دکھائی دیتا ہے۔
لیکن سوال جگا ڈاکو کا نہیں، سوال اس نظام کا ہے جو ایک ڈاکو کو بھی مظلوموں کا ہیرو بنا دیتا ہے۔
تاریخ ہمیں یہ نہیں سکھاتی کہ ڈاکو بن جاؤ، بلکہ یہ سبق دیتی ہے کہ ایسا معاشرہ بناؤ جہاں کسی کو انصاف کے لیے قانون سے بغاوت کرنے کی ضرورت ہی پیش نہ آئے۔
جگا ڈاکو تاریخ کا ایک کردار تھا، مگر اس کے نام سے جڑا سوال آج بھی زندہ ہے: جب انصاف طاقتور کی دہلیز پر رک جائے تو عام آدمی آخر کس سے امید لگائے؟
مزید پڑھیں



