جمعرات، 15 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

جامد خاموشی ،تحریر: ایس اے شازِم

نقطہ نظر
s a shazim

زندگی کے سفر میں کئی ایسے موڑ آتے ہیں جہاں انسان اپنی نیت، اپنے خلوص اور اپنے رویوں کی وضاحت دیتے دیتے تھک جاتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ کوئی اس کی بات کو اس کے لفظوں سے آگے بڑھ کر سمجھے، اس کے لہجے کے پیچھے چھپی بے بسی کو محسوس کرے، اس کی مسکراہٹ میں پوشیدہ تھکن کو پہچانے اور اس کی آنکھوں میں ٹھہرے ہوئے سوالوں کو پڑھ لے، مگر جب بار بار غلط فہمیوں کے بادل چھٹنے کے بجائے مزید گہرے ہونے لگیں تو انسان آہستہ آہستہ اپنے لفظوں سے دست بردار ہونے لگتا ہے۔ اور پھر ایک وقت ایسا آتا ہے جب وہ بولنے کے بجائے خاموش رہنے کو ترجیح دیتا ہے۔ یہ خاموشی کسی کی جیت یا اپنی ہار کا اعتراف نہیں ہوتی، بلکہ کبھی کبھی اپنی ذات کو مزید آزمائشوں سے بچانے کی ایک کوشش ہوتی ہے۔

خاموشی بظاہر ایک مختصر سا لفظ، مگر اپنے اندر احساسات کی ایک وسیع کائنات سمیٹے ہوئے۔ یہ کبھی سکون کا استعارہ بنتی ہے، کبھی احتجاج کی صورت اختیار کرتی ہے، کبھی تھکن کی چادر اوڑھ لیتی ہے اور کبھی ان تمام سوالوں کا جواب بن جاتی ہے جن کے لیے لفظ ناکافی محسوس ہونے لگتے ہیں۔ عجیب بات ہے کہ ہم بولے گئے لفظوں کے معنی تلاش کرنے میں تو عمر گزار دیتے ہیں مگر کسی کی خاموشی میں چھپی وضاحت کو سمجھنے کی زحمت کم ہی کرتے ہیں۔

کبھی غور کیجیے گا! کہ انسان آخر خاموش کیوں ہو جاتا ہے؟ کیا اس کے پاس کہنے کو کچھ باقی نہیں رہتا، یا وہ بہت کچھ کہہ کر تھک چکا ہوتا ہے؟ کیا اس کے احساسات مر جاتے ہیں، یا وہ اپنے احساسات کی بے قدری ہوتے دیکھ کر انہیں لفظوں میں ڈھالنا چھوڑ دیتا ہے؟ شاید ہر خاموشی کے پیچھے ایک الگ داستان ہوتی ہے، ایک ایسا باب جسے پڑھنے کے لیے محض نظر نہیں، دل کی گہرائی اور احساس کی وسعت درکار ہوتی ہے۔

انسان سمجھ جاتا ہے کہ ہر شخص کو اپنی سچائی کا یقین دلانا ممکن نہیں، ہر ذہن میں اپنی نیت کی روشنی اتارنا آسان نہیں، اور ہر دل میں اپنے خلوص کی جگہ بنانا ہمارے اختیار میں نہیں ہوتا۔

ہم اکثر خاموش لوگوں کے بارے میں اپنی رائے قائم کرنے میں دیر نہیں لگاتے۔ کوئی انہیں مغرور کہتا ہے، کوئی بے حس، کوئی خود پسند اور کوئی بے نیاز مگر شاید ہی کوئی یہ سوچتا ہو کہ جو شخص کبھی ہر بات پر ہنستا تھا، آج اس کی مسکراہٹ اتنی مختصر کیوں ہو گئی ہے؟ جو کبھی اپنی خوشی اور اداسی سب کے ساتھ بانٹ لیا کرتا تھا، آج اپنے احساسات کو اپنے ہی اندر کیوں سمیٹنے لگا ہے؟ جو ہر رشتے کو نبھانے کے لیے پہل کرتا تھا، آج اس نے قدم پیچھے کیوں کھینچ لیے ہیں؟

ہم یہ تو دیکھتے ہیں کہ اس نے بات کرنا چھوڑ دی، مگر یہ نہیں دیکھتے کہ اسے بار بار اپنی بات سمجھانے پر مجبور کس نے کیا۔ ہم اس کی خاموشی کا شکوہ کرتے ہیں مگر یہ بھول جاتے ہیں کہ کبھی ہماری بے توجہی، ہمارے تلخ جملے اور ہماری بے اعتنائی بھی اس خاموشی کی وجہ بنے ہوں گے۔ کبھی ہمارے لہجے نے اس کو مارا ہوگا تو کبھی وہ ہماری توجہ کو ترسا ہوگا۔

رشتوں کی دنیا میں سب سے تکلیف دہ لمحہ وہ نہیں ہوتا جب کوئی اختلاف سامنے آتا ہے، بلکہ وہ ہوتا ہے جب انسان اپنے ہی کسی عزیز کے سامنے اپنے احساسات کی سچائی ثابت کرنے پر مجبور ہو جائے۔ جہاں خلوص کو بار بار دلیلوں کی ضرورت پڑنے لگے، جہاں محبت کو ہر روز اپنی موجودگی کا ثبوت دینا پڑے اور جہاں تعلق نبھانے کے باوجود انسان کو اپنی اہمیت سمجھانی پڑے، وہاں دل آہستہ آہستہ تھکنے لگتا ہے۔ اور تھکا ہوا دل ہمیشہ شور نہیں مچاتا۔ بعض دل تو خاموشی سے اپنے اندر ایک پورا موسم بدل لیتے ہیں۔ ان کی ترجیحات بدل جاتی ہیں، ان کے لہجے میں ٹھہراؤ آ جاتا ہے، ان کی شکایتیں کم ہو جاتی ہیں اور ان کی توقعات رفتہ رفتہ دم توڑنے لگتی ہیں۔ وہ اب ہر بات کا جواب نہیں دیتے، ہر رویے پر سوال نہیں اٹھاتے اور ہر بے اعتنائی کا حساب نہیں مانگتے۔ بظاہر سب کچھ معمول کے مطابق ہوتا ہے، مگر اندر کہیں ایک ایسا فیصلہ ہو چکا ہوتا ہے جس کی خبر کسی کو نہیں ہوتی۔

یہی تو خاموشی میں چھپی وضاحت ہے؛ جب انسان اپنے الفاظ سے نہیں، اپنے طرزِ عمل سے بتانے لگتا ہے کہ اب اسے ہر بات پر بحث نہیں کرنی، ہر غلط فہمی کو دور کرنے کے لیے خود کو نہیں تھکانا اور ہر اس دروازے پر دستک نہیں دینی جہاں سے بار بار بے اعتنائی لوٹ کر آئے۔

تاہم، یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ ہر خاموشی کا مطلب بے زاری، ناراضگی یا تعلق کا خاتمہ نہیں ہوتا۔ کبھی انسان ذہنی تھکن کے باعث خاموش ہوتا ہے، کبھی اپنے جذبات کو سمجھنے کے لیے اسے تنہائی درکار ہوتی ہے اور کبھی وہ محض اس لیے لب نہیں کھولتا کہ اسے ڈر ہوتا ہے کہ کہیں اس کے الفاظ کسی عزیز کو مزید دُکھ نہ پہنچا دیں۔ اس لیے خاموشی کو سمجھنے کا پہلا اصول یہ ہے کہ ہم اپنے گمان کو حقیقت کا درجہ نہ دیں، بلکہ نرمی سے پوچھیں، توجہ سے سنیں اور دوسرے شخص کو اپنے احساسات بیان کرنے کی گنجائش دیں۔


کیونکہ رشتے صرف خاموشیاں پڑھنے سے نہیں، ایک دوسرے کو سننے سے بھی بچتے ہیں۔ بعض اوقات ایک مخلصانہ سوال، ایک نرم لہجہ اور ایک بے غرضانہ معذرت وہ کام کر دیتی ہے جو برسوں کی دوری نہیں کر پاتی۔ اگر کسی کی خاموشی کے پیچھے کوئی شکایت ہے تو اسے سمجھنے کی کوشش کیجیے اگر کوئی غلط فہمی ہے تو اسے گفتگو سے دور کیجیے، اور اگر کسی کا دل دُکھایا ہے تو اپنی انا کو ایک طرف رکھ کر معافی مانگ لیجیے۔ ہر بار خاموشی کو آخری فیصلہ سمجھ لینا بھی دانش مندی نہیں ہوتا۔

لیکن ہاں! اگر بار بار سمجھانے، سنبھالنے اور نبھانے کے باوجود انسان کی بات کو اہمیت نہ دی جائے تو اسے اپنی ذات کی قدر کرنا بھی سیکھنا چاہیے۔ خودداری کا مطلب یہ نہیں کہ ہم رشتوں کو معمولی اختلاف پر چھوڑ دیں، بلکہ یہ ہے کہ ہم محبت کرتے ہوئے اپنی عزتِ نفس کو فراموش نہ کریں۔ تعلق نبھانا خوب صورت عمل ہے، مگر تعلق کی تمام ذمہ داری تنہا اٹھاتے رہنا ضروری نہیں۔ محبت میں جھکنا اچھا ہے، لیکن ہر مرتبہ صرف ایک ہی شخص کا جھکنا رشتے کی خوب صورتی نہیں، اس کے عدم توازن کی علامت بھی ہو سکتا ہے۔

میں سمجھتی ہوں کہ خاموشی کی اصل خوب صورتی اس وقت سامنے آتی ہے جب انسان اسے انتقام نہیں، شعور کا ذریعہ بناتا ہے۔ جب وہ کسی کو اپنی خاموشی سے اذیت دینے کے بجائے خود کو سنبھالنے کی کوشش کرتا ہے؛ جب وہ جواب دینے کی قدرت رکھتے ہوئے بھی غیر ضروری بحث سے گریز کرتا ہے؛ جب وہ اپنی سچائی پر قائم رہتے ہوئے دوسروں کی رائے کو اپنی ذات کا فیصلہ نہیں بننے دیتا۔ ایسی خاموشی انسان کو کمزور نہیں کرتی، بلکہ اسے اپنے احساسات، اپنی حدود اور اپنی ترجیحات کو سمجھنے کا موقع دیتی ہے۔

زندگی میں بعض لوگ ہماری باتوں سے زیادہ ہمارے بدلتے ہوئے رویوں سے سیکھتے ہیں۔ انہیں ہماری شکایتیں تو معمولی محسوس ہوتی ہیں، مگر جب ہم شکایت کرنا چھوڑ دیتے ہیں تو انہیں احساس ہوتا ہے کہ شاید کچھ بدل گیا ہے۔ وہ ہماری بار بار کی دستک کو معمول سمجھ لیتے ہیں، مگر جب دستک رک جاتی ہے تو خاموش دروازے کی اہمیت محسوس ہونے لگتی ہے۔ تاہم، ہمیں اپنی خاموشی کسی کو احساسِ جرم میں مبتلا کرنے کے لیے نہیں، بلکہ اپنی ذات کے سکون اور وقار کے لیے اختیار کرنی چاہیے۔ کسی کے سمجھنے یا نہ سمجھنے سے ہماری سچائی تبدیل نہیں ہو جاتی۔

آخرکار، زندگی ہمیں یہی سکھاتی ہے کہ ہر بات کا جواب لفظوں میں دینا ضروری نہیں، مگر ہر خاموشی کے پیچھے چھپے درد کو نظر انداز کرنا بھی مناسب نہیں۔ کبھی کسی کے لفظوں پر یقین کیجیے، کبھی اس کے رویوں کو سمجھیے، اور کبھی اس کی خاموشی کے پاس بیٹھ کر اسے یہ احساس دلائیے کہ اسے اپنے احساسات ثابت کرنے کی ضرورت نہیں۔ شاید یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب خاموشی کی دیوار میں ایک کھڑکی کھلتی ہے اور دل کو دوبارہ گفتگو پر یقین آنے لگتا ہے۔

شاید یہی وہ مقام ہے جہاں انسان دوسروں کو قائل کرنے کی خواہش سے آزاد ہو کر خود کو سمجھنے لگتا ہے۔ جہاں اسے احساس ہوتا ہے کہ ہر تعلق کو بچانے کی کوشش کرنا ضروری نہیں، مگر ہر تعلق میں اپنی ذات کو کھو دینا بھی محبت نہیں۔ جہاں خاموشی شکایت سے نکل کر وقار بن جاتی ہے، اور وضاحت کی جگہ اطمینان لے لیتا ہے۔

یاد رکھیے! لفظوں کی وضاحت تو زبان کر سکتی ہے، مگر خاموشی کی وضاحت صرف وہی دل سمجھ سکتا ہے جس میں احساس ابھی زندہ ہو۔ اس لیے کوشش کریں کہ خاموشی کے پیچھے چھپی وجہ کو جان سکیں۔