جن کے ہاتھوں میں اینٹیں تھیں، اُن کے لیے آواز کون بنا؟تحریر: انیم چوہدری
نقطہ نظر
ایک قرض، جو ختم ہونے کا نام نہیں لیتا؛ ایک زندگی، جسے اپنی مرضی سے جینے کا حق نہیں ملتا؛ اور ایک ایسی عورت، جس نے ان زنجیروں کو توڑنے کا فیصلہ کیا جن میں ہزاروں انسان نسل در نسل جکڑے ہوئے تھے۔ پاکستان کے اینٹوں کے بھٹوں پر جبری مشقت محض غربت کی کہانی نہیں، بلکہ انسانی وقار، بنیادی حقوق اور انصاف کا ایک سنگین سوال ہے۔ یہاں بعض خاندان معمولی قرض کے بدلے برسوں محنت کرتے رہتے ہیں، مگر قرض ختم ہونے کے بجائے ان کی زندگیوں پر مزید بوجھ بنتا جاتا ہے۔ ان کے بچے تعلیم کے بجائے مزدوری پر مجبور ہوتے ہیں اور یوں محرومی ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل ہوتی رہتی ہے۔ یہ وہ دنیا ہے جہاں صبح کی پہلی کرن مزدور کے لیے امید نہیں، ایک اور مشقت بھرے دن کا پیغام لے کر آتی ہے۔ مٹی گوندھتے ہاتھ، تپتی بھٹیوں کے سامنے جھلستے چہرے اور دھوئیں سے بوجھل فضا اس تلخ حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں کہ معاشرے کی ترقی کے لیے اینٹیں بنانے والے خود بنیادی حقوق سے محروم رہ سکتے ہیں۔. اسی ماحول میں ایک خاتون نے محسوس کیا کہ ان مزدوروں کو صرف مالی مدد نہیں، بلکہ شعور، تعلیم اور آزادی کی ضرورت ہے۔ اس نے اپنی جدوجہد کا آغاز بھٹوں پر کام کرنے والے مزدوروں کو پڑھانے سے کیا۔ بظاہر یہ ایک چھوٹا سا قدم تھا، مگر اس کے پیچھے ایک بڑا مقصد پوشیدہ تھا: ایسے انسانوں کو ان کے حقوق سے آگاہ کرنا جنہیں طویل عرصے سے بے بسی کو اپنی قسمت سمجھنے پر مجبور کیا جاتا رہا تھا۔ ابتدا میں اس کا دائرۂ کار محدود تھا، لیکن جلد ہی اسے اندازہ ہوا کہ مسئلے کی جڑ صرف ناخواندگی نہیں۔ جبری مشقت، قرض کے ناجائز بوجھ، معاشی استحصال اور قانونی حقوق سے لاعلمی نے مزدور خاندانوں کو ایک ایسے حصار میں قید کر رکھا تھا جس سے نکلنے کے راستے انہیں دکھائی نہیں دیتے تھے۔ چنانچہ اس نے تعلیم کے ساتھ مزدوروں کی آزادی، قانونی معاونت اور ان کے بچوں کے بہتر مستقبل کے لیے بھی کام شروع کیا۔ یہ سفر آسان نہیں تھا۔ طاقت ور مفادات کے سامنے کھڑا ہونا، محروم طبقے کے حق میں آواز بلند کرنا اور مظلوموں کو ان کے حقوق دلانے کی کوشش کرنا خطرات سے خالی نہیں ہوتا۔ اسے دھمکیوں اور تشدد جیسے حالات کا سامنا کرنا پڑا، مگر اس نے اپنی جدوجہد ترک نہیں کی۔ اس کے نزدیک خاموشی اختیار کر لینا شاید ذاتی تحفظ کا راستہ ہو سکتا تھا، لیکن ان لوگوں کے لیے یہ ایک اور شکست ہوتی جن کی امیدیں اس کی آواز سے وابستہ ہو چکی تھیں۔ اس کی جدوجہد نے یہ حقیقت واضح کی کہ سماجی تبدیلی محض نعروں سے نہیں آتی؛ اس کے لیے مسلسل محنت، حوصلے اور عملی اقدامات کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایک فرد کی کوشش جب منظم جدوجہد میں تبدیل ہو جائے تو وہ ان لوگوں تک بھی پہنچ سکتی ہے جن کی فریاد اکثر طاقت کے ایوانوں میں سنائی نہیں دیتی۔ وقت کے ساتھ اس کی کوششوں نے ایک وسیع شکل اختیار کر لی۔ مزدوروں کی رہائی، خواتین کی تربیت اور بچوں کو تعلیم کے مواقع فراہم کرنے کے لیے کام کیا گیا۔ اس جدوجہد سے وابستہ تنظیم کے مطابق، ہزاروں افراد کو جبری مشقت سے نجات دلانے اور محروم خاندانوں کی زندگیوں میں بہتری لانے کی کوششیں کی گئیں۔ اس کام کا ایک اہم پہلو یہ بھی تھا کہ مزدوروں کو محض امداد کا مستحق سمجھنے کے بجائے انہیں اپنے حقوق کے لیے کھڑے ہونے کے قابل بنایا جائے۔ اس جدوجہد کو عالمی سطح پر بھی پذیرائی ملی۔ اسے مختلف بین الاقوامی اعزازات سے نوازا گیا، جن میں 2015ء کا کلنٹن گلوبل سٹیزن ایوارڈ، 2016ء کا ٹی آئی پی ہیرو ایوارڈ اور 2022ء میں ہارورڈ کینیڈی اسکول کا گلیٹس مین انٹرنیشنل ایکٹوسٹ ایوارڈ شامل ہیں۔ یہ اعزازات اس بات کی علامت ہیں کہ جب کوئی شخص انسانی آزادی اور وقار کے لیے ثابت قدمی سے کام کرتا ہے تو اس کی آواز سرحدوں سے آگے بھی سنی جا سکتی ہے۔ تاہم، کسی بھی سماجی کارکن کی کامیابی کو صرف اعزازات سے نہیں ناپا جا سکتا۔ اصل کامیابی اس بچے کی آنکھوں میں نظر آتی ہے جو مزدوری کے بجائے کتاب تھامتا ہے؛ اس عورت کے اعتماد میں دکھائی دیتی ہے جو اپنے حق کے لیے بولنے لگتی ہے؛ اور اس خاندان کی زندگی میں محسوس ہوتی ہے جسے جبری مشقت کی زنجیروں سے نکل کر آزاد انسان کی طرح جینے کا موقع ملتا ہے۔ اس جدوجہد کا پیغام واضح ہے: غربت کسی انسان سے اس کی آزادی چھیننے کا جواز نہیں بن سکتی، قرض کسی خاندان کو نسل در نسل غلام رکھنے کا حق نہیں دیتا، اور معاشرے کی حقیقی ترقی اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اس کے کمزور ترین افراد کو انصاف اور بنیادی حقوق میسر نہ ہوں۔ آج بھی جبری مشقت کے خاتمے کے لیے قانون پر عمل درآمد، مؤثر نگرانی، تعلیم اور معاشی تحفظ کی ضرورت ہے۔ انفرادی کوششیں اہم ہیں، مگر مستقل تبدیلی کے لیے ریاستی اداروں، معاشرے اور متعلقہ کاروباری حلقوں کو بھی اپنی ذمہ داری ادا کرنا ہوگی۔ کسی ایک فرد کی جدوجہد راستہ ضرور دکھا سکتی ہے، لیکن اس راستے کو منزل تک پہنچانے کے لیے اجتماعی عزم ناگزیر ہے۔ اس خاتون نے اپنی آواز ان لوگوں کے لیے بلند کی جن کی آواز اکثر سنی نہیں جاتی۔ اس نے ثابت کیا کہ حوصلہ صرف بڑے عہدوں یا وسائل کا محتاج نہیں؛ کبھی کبھی ایک سچا ارادہ بھی تبدیلی کی بنیاد بن جاتا ہے۔ اس کی جدوجہد ہمیں یاد دلاتی ہے کہ انسانیت کی خدمت کا اصل مفہوم کسی کے لیے ہمدردی محسوس کرنا ہی نہیں، بلکہ اس کے حق، آزادی اور وقار کے لیے عملی قدم اٹھانا ہے۔ یہ داستان ہے سیدہ غلام فاطمہ گیلانی کی، جنہوں نے پاکستان کے اینٹوں کے بھٹوں پر جبری مشقت کے خلاف آواز اٹھائی اور ہزاروں محروم انسانوں کی آزادی کے لیے اپنی زندگی وقف کر دی۔
مزید پڑھیں





