Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

کچے مکان اچھے تھے یا آج کے پکے مکان؟تحریر:مہر بشارت صدیقی

نقطہ نظر

کبھی کبھی دل چاہتا ہے کہ زندگی کی گھڑی کو تیس سال پیچھے لے جایا جائے، وقت کا پہیہ الٹا گھومنے لگے اور ہم دوبارہ اس دور میں پہنچ جائیں جہاں مکان کچے تھے، گلیاں سادہ تھیں، ضروریات محدود تھیں، مگر دلوں میں محبت، رشتوں میں خلوص اور چہروں پر مسکراہٹیں ہوا کرتی تھیں۔ وہ دور یاد آتا ہے جب گھروں میں آسائشیں کم تھیں، لیکن زندگی میں اطمینان زیادہ محسوس ہوتا تھا۔ لوگ سادہ لباس پہنتے، معمولی کھانا کھاتے، کچے مکانوں میں رہتے اور پھر بھی ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہوتے تھے۔ کسی کے گھر خوشی ہوتی تو پورا محلہ خوشی میں شریک ہوتا اور کسی پر مشکل وقت آتا تو پڑوسی اس کا سہارا بن جاتے تھے۔


آج ہمارے پاس پکے مکان ہیں، خوب صورت کمرے ہیں، جدید فرنیچر ہے، موبائل فون ہیں، انٹرنیٹ ہے اور زندگی کو آسان بنانے والی بے شمار سہولتیں موجود ہیں، لیکن اس کے باوجود انسان پریشان دکھائی دیتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب ہمارے پاس پہلے سے زیادہ سہولتیں موجود ہیں تو پھر سکون کیوں نہیں؟ جب عمارتیں پکی ہوگئی ہیں تو رشتوں میں دراڑیں کیوں پڑ رہی ہیں؟ جب گھر کے کمانے والے افراد کی تعداد بڑھ گئی ہے تو خوشحالی کم کیوں ہوتی جا رہی ہے؟ آخر کیا وجہ ہے کہ آج کا انسان اپنے ماضی کو یاد کرکے آہیں بھرتا ہے اور کہتا ہے کہ کاش وہی پرانا دور واپس آ جائے؟


تقریباً تیس سال پہلے کے دور کو یاد کریں تو بہت سے ایسے گھرانے نظر آتے ہیں جہاں خاندان کا ایک سربراہ روزگار کماتا تھا اور اسی کی آمدن سے پورا گھر چلتا تھا۔ بچوں کی ضروریات پوری ہوتی تھیں، گھر میں کھانا پکتا تھا، مہمان آتے تھے اور زندگی اپنی رفتار سے آگے بڑھتی تھی۔ تنخواہیں کم تھیں، مزدوری محدود تھی اور وسائل بھی زیادہ نہیں تھے، لیکن بہت سے خاندان اپنی آمدن کے مطابق زندگی گزار لیتے تھے۔ ضروریات نسبتاً کم تھیں، طرزِ زندگی سادہ تھا اور لوگوں کو دکھاوے کی اس دوڑ میں شامل ہونے کا اتنا دباؤ محسوس نہیں ہوتا تھا جو آج معاشرے کا ایک بڑا مسئلہ بن چکی ہے۔


اس دور میں بھی غربت تھی، بے روزگاری تھی، علاج معالجے کی مشکلات تھیں اور بہت سے خاندان بنیادی سہولتوں سے محروم تھے۔ ہر شخص خوشحال نہیں تھا اور نہ ہی ہر گھر میں آسودگی تھی، لیکن آج ماضی کو یاد کرنے والے بہت سے لوگوں کے ذہنوں میں اس دور کی ایک خاص تصویر موجود ہے۔ یہ تصویر سادگی، خاندانی محبت، باہمی تعاون اور نسبتاً کم پیچیدہ زندگی کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب آج کے معاشی حالات سے پریشان انسان پیچھے مڑ کر دیکھتا ہے تو اسے اپنے ماضی میں ایک ایسا سکون دکھائی دیتا ہے جسے وہ موجودہ زندگی میں تلاش کر رہا ہوتا ہے۔


آج صورتِ حال یہ ہے کہ گھر کا سربراہ ملازمت کرتا ہے، بیوی بھی روزگار کے لیے گھر سے نکلتی ہے، بڑے بچے بھی کمانے کی کوشش کرتے ہیں، مگر مہینے کے آخر میں بجٹ پھر بھی جواب دے جاتا ہے۔ کسی نے بچوں کی فیس ادا کرنی ہے، کسی نے بجلی اور گیس کے بل جمع کروانے ہیں، کسی نے گھر کا کرایہ دینا ہے، کسی نے راشن خریدنا ہے اور کسی نے بیمار والدین کے علاج کے لیے رقم بچانی ہے۔ تنخواہ آتی ہے تو ضروریات پہلے سے منتظر ہوتی ہیں۔ چند ہی دنوں میں آمدن کا بڑا حصہ خرچ ہو جاتا ہے اور پھر اگلی تنخواہ تک گزارا کرنے کی فکر شروع ہو جاتی ہے۔


یہ ایک ایسا معاشی مسئلہ ہے جس کا سامنا آج بہت سے گھرانے کر رہے ہیں۔ گھر میں کمانے والے افراد بڑھ جانے کے باوجود اگر اخراجات آمدن سے زیادہ ہوں تو خوشحالی کیسے آئے گی؟ جب تنخواہ کا بڑا حصہ بنیادی ضروریات پر خرچ ہو جائے، بچوں کی تعلیم اور علاج کے اخراجات مسلسل بڑھتے رہیں اور مستقبل کے لیے بچت کرنا مشکل ہو جائے تو انسان کے لیے مالی اطمینان حاصل کرنا آسان نہیں رہتا۔ اصل مسئلہ صرف یہ نہیں کہ لوگ کتنا کماتے ہیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ ان کی کمائی سے کتنی ضروریات پوری ہوتی ہیں اور مہینے کے آخر میں ان کے پاس کیا بچتا ہے۔


ماضی کے کچے مکانوں کی اپنی ایک خوب صورتی تھی۔ گرمیوں میں صحن میں چارپائیاں بچھ جاتیں، شام کے وقت گھر کے بڑے بیٹھ کر باتیں کرتے، بچے کھیلتے اور پڑوسی ایک دوسرے کے پاس آتے جاتے تھے۔ گھروں کے دروازے کھلے رہتے، رشتے داروں کی آمدورفت معمول کا حصہ ہوتی اور چھوٹی چھوٹی خوشیاں مل بیٹھ کر منائی جاتی تھیں۔ کسی کے گھر آٹا ختم ہو جاتا تو دوسرا گھر مدد کے لیے آگے آ جاتا۔ کسی کی بیٹی کی شادی ہوتی تو محلے کے لوگ اپنی استطاعت کے مطابق ہاتھ بٹاتے۔ کسی کے گھر بیماری آتی تو خیریت پوچھنے والوں کا تانتا بندھ جاتا تھا۔


آج ہمارے مکان پکے ہوگئے ہیں، لیکن کیا ہمارے تعلقات بھی اتنے ہی مضبوط ہیں؟ بہت سے گھروں میں الگ الگ کمرے ہیں، ہر فرد کے ہاتھ میں موبائل فون ہے، انٹرنیٹ کی سہولت موجود ہے، مگر ایک ہی چھت کے نیچے رہنے والے افراد ایک دوسرے کو وقت دینے سے قاصر نظر آتے ہیں۔ پہلے لوگ صحن میں بیٹھ کر گفتگو کرتے تھے، آج کئی خاندانوں میں ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھنے کے باوجود ہر شخص اپنی موبائل اسکرین میں مصروف رہتا ہے۔ پہلے خوشی اور غم میں ایک دوسرے کے گھر پہنچنا ضروری سمجھا جاتا تھا، آج بعض رشتے صرف فون کالز اور سوشل میڈیا کے پیغامات تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں۔


تاہم اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ آج کے پکے مکان بہتر تحفظ، آرام اور نجی زندگی کی سہولت فراہم کرتے ہیں۔ جدید تعلیم، علاج، مواصلات اور ٹیکنالوجی نے انسانی زندگی میں بہت سی آسانیاں پیدا کی ہیں۔ مسئلہ پکے مکانوں یا جدید سہولتوں کا نہیں، بلکہ اس بات کا ہے کہ ان سہولتوں کے باوجود انسان کو ذہنی سکون اور معاشی اطمینان کیوں میسر نہیں آ رہا۔ گھر کی اصل خوب صورتی اس کی دیواروں، چھت اور فرنیچر میں نہیں، بلکہ اس میں رہنے والوں کی محبت، احترام اور باہمی تعاون میں ہوتی ہے۔ کچے مکان میں رہنے والا خاندان اگر محبت اور سکون سے زندگی گزار رہا ہو تو وہ بھی خوشحال ہے، جبکہ پکے مکان میں رہنے والا خاندان اگر ہر وقت مالی پریشانیوں، قرضوں اور گھریلو تنازعات کا شکار ہو تو اس کی ظاہری آسائشیں اس کے مسائل ختم نہیں کر سکتیں۔


موجودہ دور میں عام آدمی کی پریشانیوں میں مہنگائی کے ساتھ ٹیکسوں اور مختلف اخراجات کا بوجھ بھی شامل ہے۔ ایک شہری صبح گھر سے نکلتا ہے تو اسے روزگار کے لیے ایندھن خریدنا پڑتا ہے، کاروبار کرنا ہو تو مختلف اخراجات برداشت کرنا پڑتے ہیں، گھر میں بجلی استعمال کرے تو بل ادا کرنا پڑتا ہے اور بازار سے اشیائے ضروریہ خریدے تو ان کی قیمتوں میں شامل ٹیکس بھی ادا کرتا ہے۔ یوں عام شہری کی آمدن مختلف ضروریات اور اخراجات میں تقسیم ہو جاتی ہے۔ چھوٹا دکاندار اپنے کاروبار کو برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے، مزدور اپنی اجرت میں گزارا کرنے کے لیے پریشان ہے، تنخواہ دار طبقہ مہینے کے اختتام تک پہنچنے کے لیے حساب کتاب کرتا ہے اور چھوٹے کاروباری افراد فروخت میں کمی کے باوجود اپنے اخراجات پورے کرنے کی فکر میں رہتے ہیں۔


عام آدمی کا سوال ہے کہ وہ اپنی محدود آمدن سے گھر کا چولہا جلائے، بچوں کی تعلیم کا خرچ برداشت کرے، بجلی اور گیس کے بل ادا کرے، علاج معالجے کی ضروریات پوری کرے یا مختلف ٹیکسوں اور مالی واجبات کے لیے رقم نکالے؟ جب ایک خاندان کی آمدن کا بڑا حصہ بنیادی ضروریات میں صرف ہو جائے تو مستقبل کے لیے بچت کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ ایسے میں بیماری، بے روزگاری یا کسی اچانک ضرورت کا سامنا کرنا اس خاندان کے لیے ایک بڑا امتحان بن جاتا ہے۔


یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ ریاست کو تعلیم، صحت، سڑکوں، امن و امان اور دیگر عوامی سہولتوں کے لیے وسائل درکار ہوتے ہیں اور ٹیکس کسی بھی ملک کے نظام کو چلانے کے لیے ضروری ہیں۔ لیکن ٹیکس کا نظام منصفانہ ہونا چاہیے، اس کا بوجھ عوام کی استطاعت کے مطابق تقسیم ہونا چاہیے اور ٹیکس دہندگان کو اس کے بدلے بہتر عوامی سہولتیں بھی ملنی چاہییں۔ اگر ایک شہری ٹیکس ادا کرنے کے باوجود معیاری تعلیم، علاج، صاف پانی اور دیگر بنیادی ضروریات کے لیے اپنی جیب سے بھاری اخراجات برداشت کرنے پر مجبور ہو تو اس کی پریشانی میں اضافہ ہونا فطری ہے۔ ٹیکس ادا کرنا شہری کی ذمہ داری ہے، لیکن عوام کو بنیادی سہولتیں فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری بھی ہے۔ حکومت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ ملکی ترقی کا حقیقی فائدہ اسی وقت عام آدمی تک پہنچ سکتا ہے جب اس کی قوتِ خرید بہتر ہو، روزگار کے مواقع بڑھیں اور بنیادی ضروریات اس کی پہنچ میں رہیں۔


آج ترقی کے دعوے بھی بہت کیے جاتے ہیں۔ جدید سڑکیں، بلند و بالا عمارتیں، نئے کاروبار، تیز رفتار مواصلاتی نظام اور ٹیکنالوجی کی ترقی یقیناً اہم ہیں، لیکن ترقی کا مقصد صرف عمارتیں بلند کرنا یا نئی سہولتیں متعارف کروانا نہیں ہونا چاہیے۔ اصل ترقی وہ ہے جو انسان کی زندگی آسان بنائے۔ اگر ایک خاندان کے پاس خوب صورت مکان تو موجود ہو، مگر اس کا سربراہ قرضوں کے دباؤ میں رات کو سکون سے نہ سو سکے تو ہمیں خوشحالی کے تصور پر غور کرنا ہوگا۔ اگر نوجوان تعلیم حاصل کرنے کے بعد روزگار کی تلاش میں پریشان ہوں، والدین بچوں کے مستقبل کے لیے فکرمند ہوں اور بیمار افراد علاج کے اخراجات برداشت نہ کر سکیں تو صرف مادی ترقی کو مکمل کامیابی قرار نہیں دیا جا سکتا۔


حکومت کو چاہیے کہ وہ مہنگائی پر قابو پانے، کم آمدن والے طبقات کو ریلیف دینے، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور ٹیکسوں کے نظام میں منصفانہ اصلاحات کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔ مزدور کو اس کی محنت کا مناسب معاوضہ ملنا چاہیے اور تنخواہ دار طبقے کی آمدن میں اضافے کے لیے ایسے اقدامات ہونے چاہییں جو بڑھتے ہوئے اخراجات کے مقابلے میں اس کی قوتِ خرید کو بہتر بنا سکیں۔ چھوٹے کاروبار کو سہولتیں فراہم کرنا اور تعلیم و صحت کی معیاری سہولتیں عام شہری کی پہنچ میں لانا بھی ضروری ہے۔ دوسری طرف ہمیں خود بھی اپنی زندگی میں سادگی، کفایت شعاری، خاندانی تعاون اور ایک دوسرے کے احترام کو فروغ دینا ہوگا۔ غیر ضروری اخراجات اور نمودونمائش کی دوڑ سے نکل کر حقیقی ضروریات کو ترجیح دینا بھی معاشی دباؤ کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔


جب میں یہ سوچتا ہوں کہ کاش زندگی تیس سال پیچھے چلی جائے تو اس خواہش کے پیچھے صرف کچے مکانوں کی یاد نہیں ہوتی، بلکہ اس دور کی سادگی، محبت، خلوص اور نسبتاً کم پیچیدہ زندگی کی یاد بھی ہوتی ہے۔ لیکن وقت کبھی واپس نہیں آتا۔ گزرے ہوئے دن صرف یادوں میں زندہ رہتے ہیں۔ ہمیں ماضی کی اچھی روایات کو موجودہ دور میں واپس لانا ہوگا اور ایسی ترقی کی کوشش کرنا ہوگی جو انسان کو سہولتیں دینے کے ساتھ اس کا سکون بھی برقرار رکھے۔


میرے نزدیک کچے مکان اس لیے اچھے نہیں تھے کہ وہ کچے تھے، بلکہ اس لیے یاد آتے ہیں کہ ان سے وابستہ زندگی میں سادگی، خلوص اور باہمی تعاون کی بہت سی خوب صورت مثالیں موجود تھیں۔ اسی طرح آج کے پکے مکان بھی برے نہیں ہیں، بلکہ ان کی اصل قدر تب ہے جب ان میں رہنے والے افراد محبت، عزت اور اطمینان کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔ ہمیں ماضی کی مشکلات کو بھولنا نہیں چاہیے اور نہ ہی حال کی پریشانیوں کو نظرانداز کرنا چاہیے۔ ہمیں ایسی خوشحالی چاہیے جس میں ایک کمانے والا بھی اپنے گھر کی بنیادی ضروریات پوری کر سکے، محنت کرنے والے کو مناسب معاوضہ ملے، نوجوان کو روزگار میسر ہو اور والدین اپنے بچوں کے مستقبل کے بارے میں مطمئن ہوں۔


میں ماضی میں واپس نہیں جانا چاہتا، میں تو بس اپنے حال میں وہی سادگی، خلوص، محبت اور اطمینان واپس چاہتا ہوں جو کبھی زندگی کی پہچان ہوا کرتے تھے۔ کاش ہمارے پکے مکانوں میں بھی کچے مکانوں جیسی اپنائیت پیدا ہو جائے، کاش ہماری آمدن اتنی ہو کہ ضروریات پوری کرنے کے بعد کچھ بچ بھی سکے اور کاش ٹیکس ادا کرنے والے شہری کو یہ یقین ہو کہ اس کی رقم ملک اور عوام کی بہتری پر خرچ ہو رہی ہے۔ کاش ترقی کا پیمانہ صرف یہ نہ ہو کہ ہم نے کتنی بڑی عمارتیں تعمیر کر لیں، بلکہ یہ بھی ہو کہ ہم نے کتنے گھروں میں خوشحالی، کتنے چہروں پر مسکراہٹ اور کتنے دلوں میں اطمینان پیدا کیا۔


کیونکہ زندگی کی اصل کامیابی صرف ایک پکی چھت حاصل کرنا نہیں، بلکہ اس چھت کے نیچے سکون، عزت، محبت اور خوشحالی کے ساتھ زندگی گزارنا ہے۔ مکان کچا ہو یا پکا، اگر گھر میں محبت، روٹی، عزت اور اطمینان موجود ہو تو وہی گھر انسان کے لیے دنیا کی سب سے خوب صورت جگہ ہے۔