سرکاری اسکول کا استاد پاکستان کا وہ واحد کردار ہے جو روزانہ قوم بناتا ہے، مگر خود خبر میں کبھی نہیں آتا۔ نہ اس کا انٹرویو ہوتا ہے، نہ اس کا ٹک ٹاک وائرل ہوتا ہے۔ وہ خاموشی سے آتا ہے، خاموشی سے پڑھاتا ہے اور خاموشی سے گھر چلا جاتا ہے۔
پاکستان میں سرکاری تعلیم کی اصل تصویر کیا ہے؟ اس کو نعروں سے نہیں بلکہ اعداد و شمار کی روشنی میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔
پاکستان اکنامک سروے 25-2024 کے مطابق ملک کی مجموعی شرح خواندگی 63 فیصد ہے۔ صوبائی سطح پر دیکھا جائے تو پنجاب میں 74 فیصد، خیبر پختونخوا میں 60 فیصد، سندھ میں 58 فیصد اور بلوچستان میں 49 فیصد ہے۔ یعنی آج کے دور میں بھی ہماری 37 فیصد آبادی لکھ پڑھ نہیں سکتی۔ یونیسیف 2024 کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 2 کروڑ 51 لاکھ بچے اسکولوں سے باہر ہیں، جو نائجیریا کے بعد دنیا کی دوسری بڑی تعداد ہے۔ ان میں سے 47 فیصد بچیوں کے اسکول نہ جانے کی وجہ صرف یہ ہے کہ یا تو قریب میں اسکول نہیں، یا اسکول میں بیت الخلا کی سہولت موجود نہیں۔
اسکولوں کی اندرونی حالت پر وزارت تعلیم کی رپورٹ کہتی ہے کہ ملک بھر کے 40 فیصد سرکاری پرائمری اسکولوں میں پینے کا صاف پانی نہیں، 35 فیصد میں بجلی نہیں اور 28 فیصد میں چار دیواری موجود نہیں۔ یہ وہ بنیادی سہولتیں ہیں جن کے بغیر تعلیم کا تصور بھی ادھورا ہے۔ ان مخدوش حالات میں بھی جو شخص روز صبح جا کر اسکول کا تالا کھولتا ہے، وہ سرکاری استاد ہے۔
فلسفہ استاد کے بارے میں کیا کہتا ہے؟ افلاطون نے اپنی شہرہ آفاق کتاب "جمہوریہ" میں لکھا ہے کہ "استاد ریاست کی روح کا معمار ہے۔" ارسطو کہتا ہے کہ "والدین بچے کو زندگی دیتے ہیں، استاد اس زندگی کو مقصد دیتا ہے۔" علامہ اقبال نے استاد کو شاہین کا مربی کہا ہے۔ ہمارے دین میں تو استاد کا مقام پیغمبری ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے: "انما بعثت معلما" (مجھے معلم بنا کر ہیجا گیا ہے)۔ حضرت علی کا قول ہے: "جس نے مجھے ایک حرف سکھایا، میں اس کا غلام ہوں۔"
مگر آج کے سرکاری استاد کی عملی زندگی کیسی ہے؟ وہ صبح 6 بجے گھر سے نکلتا ہے اور دو بسیں بدل کر اسکول پہنچتا ہے۔ اس کی کلاس میں 60 بچے ہیں، جبکہ جگہ صرف 30 کی ہے۔ وہ ایک ہاتھ سے بورڈ پر لکھتا ہے، دوسرے سے سمجھاتا ہے اور آنکھوں سے پوری کلاس کو قابو میں رکھتا ہے۔ یہ ملٹی ٹاسکنگ دنیا کی کسی یونیورسٹی میں نہیں سکھائی جاتی؛ یہ صرف ایک سرکاری اسکول کا تجربہ سکھاتا ہے۔
ایک مزاحیہ مگر تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ سرکاری استاد سے ہر محکمہ کام لیتا ہے۔ الیکشن کمیشن کہتا ہے: "الیکشن کراؤ۔" شماریات والا کہتا ہے: "مردم شماری کرو۔" محکمہ صحت کہتا ہے: "پولیو کے قطرے پلاؤ۔" صرف محکمہ تعلیم کہتا ہے: "پڑھاؤ بھی۔" یعنی استاد وہ واحد سرکاری ملازم ہے جو سب محکموں کا کام کرتا ہے۔
خوش آئند بات یہ ہے کہ اب صورتحال بدل رہی ہے۔ الحمدللہ! اب تنخواہیں وقت پر ملتی ہیں اور بھرتیاں میرٹ پر ہو رہی ہیں۔ 2021 سے 2024 کے درمیان پنجاب اور سندھ میں سکھر آئی بی اے اور این ٹی ایس کے ذریعے لاکھوں اساتذہ خالص میرٹ پر بھرتی ہوئے ہیں۔ یہ ایک بہت بڑی اصلاح ہے، جس سے اسکولوں کو نیا خون ملا ہے۔
میں نے خود ایک سرکاری اسکول میں ایک استاد کو دیکھا۔ اس نے بتایا: "باجی! میرے پاس چاک ختم ہو گیا تھا تو میں نے اپنی جیب سے خریدا؛ کیونکہ بچوں کا پیریڈ ضائع نہیں ہونا چاہیے تھا۔" دوسرے استاد نے کہا: "میری کلاس کی ایک بچی روز غیر حاضر ہوتی تھی، میں اس کے گھر گیا، اس کی ماں کو سمجھایا اور اب وہ روز آتی ہے۔" یہ چاک خود خریدنا اور بچے کے گھر جانا، یہی اصل تعلیم ہے۔
حکیم الامت علامہ اقبال نے فرمایا تھا:
نوجوانوں کو میری آہِ سحر دے
پھر ان شاہیں بچوں کو بال و پر دے
یہ بال و پر کون دے گا؟ یقیناً یہی استاد دے گا۔
تو ہمارا تعلیمی نظام مزید بہتر کیسے ہوگا؟ اس کے لیے چار معیاری راستے ہیں، جن پر دنیا عمل کر چکی ہے:
1۔ استاد کو صرف استاد رہنے دیں: فن لینڈ دنیا میں تعلیم میں پہلے نمبر پر ہے۔ وہاں استاد سے صرف پڑھانے کا کام لیا جاتا ہے، کوئی اضافی ڈیوٹی نہیں دی جاتی۔ جاپان میں استاد کو قومی ہیرو سمجھا جاتا ہے۔ ہمیں بھی استاد کو کلاس روم میں رہنے دینا چاہیے، دفتروں یا فیلڈ ڈیوٹیز میں نہیں۔
2۔ اسکولوں کو بنیادی سہولتیں دیں: پانی، بجلی، پنکھا اور بیت الخلا؛ یہ کوئی لگژری نہیں بلکہ تعلیم کی پہلی شرط ہے۔ جب اسکول محفوظ اور صاف ہوگا تو والدین بھی بچوں کو خوشی سے بھیجیں گے۔
3۔ تربیت اور حوصلہ افزائی: تنخواہ کے ساتھ ساتھ ہر سال استاد کو جدید خطوط پر تربیت دی جائے اور نئے طریقہ ہائے تدریس سکھائے جائیں۔ جو استاد اچھا کام کرے، اس کو ضلعی اور صوبائی سطح پر انعامات سے نوازا جائے اور اس کی کہانی میڈیا پر دکھائی جائے۔ جب معاشرہ استاد کو عزت دے گا تو نئی نسل بھی استاد بننا چاہے گی۔
4۔ والدین اور معاشرے کی شرکت: تعلیم صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں بلکہ پورے معاشرے کی ہے۔ مہینے میں ایک بار والدین اسکول آ کر استاد سے ملیں اور پوچھیں کہ ان کا بچہ کیسا پڑھ رہا ہے۔ یہ ایک سادہ سا سوال استاد کے لیے سب سے بڑا انعام ہوتا ہے۔
سقراط نے کہا تھا: "تعلیم آگ جلانا ہے، برتن بھرنا نہیں۔" سرکاری اسکول کا استاد وہی آگ جلا رہا ہے، چاہے حالات کی ہوا کتنی بھی تیز ہو۔
اس لیے اس خاموش سپاہی کو سلام! یہ نہ گانا گاتا ہے، نہ تقریر کرتا ہے، یہ صرف خاموشی سے قوم بناتا ہے۔
مزید پڑھیں




.png%3F2026-10-26T14%253A04%253A02.956Z&w=3840&q=75)
