کشمیر کا مقدمہ اور سفارتی محاذ کی نئی پیش رفت،تجزیہ:شہزاد قریشی
نقطہ نظراقوامِ متحدہ میں کشمیر کی گونج سفارتی محاذ پر پاکستان کی مسلسل پیش رفت

عالمی سیاست کی بساط پر کشمیر مؤثر سفارت کاری اور قومی ہم آہنگی کی اہمیت
تجزیہ شہزاد قریشی
اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان کی جانب سے کشمیر کا ذکر محض ایک سفارتی جملہ نہیں بلکہ اس حقیقت کا اظہار ہے کہ کشمیر کا مسئلہ آج بھی عالمی ضمیر کے دروازے پر دستک دے رہا ہے۔ ایسے وقت میں جب دنیا یوکرین، مشرقِ وسطیٰ، باب المندب اور دیگر بحرانوں میں الجھی ہوئی ہے، کشمیر کا دوبارہ عالمی فورم پر زیرِ بحث آنا پاکستان کی سفارتی کوششوں کے تناظر میں ایک اہم پیش رفت سمجھا جا سکتا ہے۔ بین الاقوامی تعلقات میں کوئی بھی ملک تنہا اپنی بات دنیا پر مسلط نہیں کر سکتا۔ اس کے لیے مسلسل رابطے، مؤثر سفارت کاری اور قومی اداروں کے درمیان ہم آہنگی درکار ہوتی ہے۔ گزشتہ عرصے میں پاکستان نے مختلف عالمی فورمز پر اپنے مؤقف کو اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے، جس میں ریاستی اداروں، پاک فوج، وزیر خارجہ اور سفارتی ٹیم کی سرگرمیاں نمایاں رہی ہیں۔ سفارت کاری کی کامیابیاں اکثر خبروں کی سرخی نہیں بنتیں، لیکن ان کے اثرات عالمی ایوانوں میں سنائی دینے لگتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ آج دنیا طاقت کے ساتھ ساتھ مؤثر سفارت کاری کی بھی قائل ہے۔ جو قومیں اپنا مقدمہ دلیل، مستقل مزاجی اور قومی یکجہتی کے ساتھ پیش کرتی ہیں، ان کی آواز عالمی سطح پر زیادہ توجہ حاصل کرتی ہے۔ کشمیر کے معاملے پر بھی پاکستان کے لیے یہی راستہ اہم ہے کہ سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر قومی مفاد اور سفارتی تسلسل کو ترجیح دی جائے۔ عالمی سیاست کی بساط پر کھیل مسلسل جاری ہے۔ ایسے میں ہر وہ آواز جو کشمیر کے مسئلے کو زندہ رکھتی ہے، اس بات کی یاد دہانی ہے کہ سفارتی محاذ پر جدوجہد ابھی ختم نہیں ہوئی۔ قومی معاملات میں استقامت، مؤثر سفارت کاری اور ریاستی ہم آہنگی ہی وہ عوامل ہیں جو پاکستان کے مؤقف کو عالمی سطح پر مزید مضبوط بنا سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں





