Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

خاموشی کے پیچھے چھپی کیفیت،تحریر: شازیہ یاسین

نقطہ نظر

حقیقت تو یہ ہے کہ انسان جتنا بھی بولنے والا ہو، اپنی اصل کیفیت کو الفاظ میں مکمل طور پر بیان کرنے سے ہمیشہ قاصر رہتا ہے۔ زبان بہت کچھ کہہ دیتی ہے، مگر دل میں موجود ہر احساس کو لفظوں کا لباس نہیں ملتا۔ بعض کیفیتیں ایسی ہوتی ہیں جو محسوس تو پوری شدت سے کی جاتی ہیں، مگر بیان کرتے ہوئے بکھر جاتی ہیں۔ ہم کہنا کچھ چاہتے ہیں، زبان سے کچھ اور نکلتا ہے، اور سامنے والا اپنی سمجھ کے مطابق اس کا مطلب اخذ کر لیتا ہے۔ یوں ایک احساس جو ہمارے اندر ایک مکمل داستان ہوتا ہے، دوسرے کے لیے چند بے ربط جملوں سے زیادہ کچھ نہیں رہتا۔


ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ جو لوگ ہمیں جانتے ہیں، وہ ہمیں سمجھتے بھی ہوں گے۔ مگر کسی کو جاننا اور کسی کی کیفیت کو سمجھ لینا دو بالکل مختلف باتیں ہیں۔ لوگ ہماری عادتوں سے واقف ہو سکتے ہیں، ہماری مسکراہٹ پہچان سکتے ہیں، ہماری گفتگو کا انداز جان سکتے ہیں، مگر ہمارے اندر چلنے والی جنگ سے شاید ہی واقف ہوں۔ وہ ہماری آواز سن لیتے ہیں، مگر آواز کے پیچھے چھپی تھکن نہیں سن پاتے۔ وہ ہمارے الفاظ پڑھ لیتے ہیں، مگر ان الفاظ کے درمیان موجود خاموشی نہیں پڑھ پاتے۔


کبھی ہم بہت کچھ کہنا چاہتے ہیں، مگر الفاظ ساتھ نہیں دیتے۔ جملے ادھورے رہ جاتے ہیں، بات کا ربط ٹوٹ جاتا ہے، اور گفتگو اچانک کسی دوسرے رخ پر چلی جاتی ہے۔ سامنے والا اسے بے ترتیبی سمجھتا ہے، مگر اسے کیا معلوم کہ ہمارے اندر کتنی باتیں ایک ساتھ شور کر رہی ہوتی ہیں۔ بعض اوقات انسان کے پاس الفاظ بہت ہوتے ہیں، مگر ان میں سے کوئی لفظ اس کی کیفیت کے عین مطابق نہیں ہوتا۔ تب زبان خاموش ہو جاتی ہے یا پھر ایسے جملے بول دیتی ہے جنہیں بعد میں خود بھی سمجھنا مشکل لگتا ہے۔


ہماری خاموشی بھی ہمیشہ خاموشی نہیں ہوتی۔ کبھی یہ تھکن ہوتی ہے، کبھی شکوہ، کبھی انتظار، کبھی مایوسی اور کبھی ایک ایسی کیفیت جسے بیان کرنے کی ہمت باقی نہیں رہتی۔ مگر دنیا اکثر خاموش انسان کے بارے میں اپنے فیصلے خود بنا لیتی ہے۔ کوئی اسے مغرور کہتا ہے، کوئی بے حس، کوئی ناراض اور کوئی بے پروا۔ بہت کم لوگ یہ سوچتے ہیں کہ شاید اس شخص کے اندر کچھ ایسا چل رہا ہو جسے وہ لفظوں میں ڈھالنے سے قاصر ہے۔


کتنی عجیب بات ہے کہ ہم دوسروں کے ایک جملے سے ان کی پوری کیفیت سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں، مگر اپنے لیے چاہتے ہیں کہ کوئی ہمارے ادھورے جملے کے پیچھے چھپی پوری کہانی سمجھ لے۔ شاید یہی انسانی تعلقات کی سب سے بڑی کمزوری ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہمیں سمجھا جائے، مگر دوسروں کو سمجھنے کے لیے ہمیشہ اتنا وقت، صبر اور گہرائی نہیں رکھتے۔ ہم لفظ سنتے ہیں، لہجہ نہیں؛ جملہ دیکھتے ہیں، پس منظر نہیں۔


کسی انسان کو سمجھنے کے لیے صرف اس کی بات سننا کافی نہیں، اس کی خاموشیوں کو بھی محسوس کرنا پڑتا ہے۔ کبھی کبھی ایک شخص ’’میں ٹھیک ہوں‘‘ کہہ کر بھی ٹھیک نہیں ہوتا۔ کبھی ایک مسکراہٹ کے پیچھے کئی آنسو چھپے ہوتے ہیں اور کبھی بے ترتیب جملوں کے پیچھے ایک ایسا دل ہوتا ہے جو خود کو سنبھالنے کی کوشش کر رہا ہوتا ہے۔ مگر ہر شخص کے پاس اتنی فرصت نہیں ہوتی کہ وہ لفظوں سے آگے بڑھ کر کیفیت کو محسوس کرے۔


شاید اسی لیے ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ تھوڑا سا نرم ہونا چاہیے۔ ہر خاموشی کو غرور، ہر بے ترتیبی کو لاپروائی اور ہر مختصر جواب کو بے اعتنائی نہیں سمجھنا چاہیے۔ ممکن ہے سامنے والا اپنی زندگی کی کسی ایسی کیفیت سے گزر رہا ہو جسے وہ خود بھی سمجھنے کی کوشش کر رہا ہو۔ بعض جنگیں ایسی ہوتی ہیں جن کا شور صرف لڑنے والا ہی سنتا ہے۔


شاید سب سے بڑی حقیقت یہی ہے کہ انسان کو مکمل طور پر سمجھ لینا آسان نہیں۔ ہم خود بھی اپنے اندر کے ہر احساس سے واقف نہیں ہوتے، پھر دوسروں سے یہ توقع کیسے کریں کہ وہ ہماری ہر کیفیت پڑھ لیں گے؟ اس لیے جہاں الفاظ ختم ہو جائیں، وہاں فیصلے نہیں، احساس چاہیے؛ جہاں جملے بکھر جائیں، وہاں سوال نہیں، صبر چاہیے؛ اور جہاں خاموشی گہری ہو جائے، وہاں شاید صرف اتنا کافی ہے کہ کوئی پاس بیٹھ کر یہ احساس دلا دے کہ تمہیں ہر بات بیان کرنے کی ضرورت نہیں، میں تمہاری خاموشی کو بھی سننے کی کوشش کروں گا۔