بریسٹ کینسر خاموشی خطرناک ہے،تحریر: ڈاکٹر نازیہ ندیم
نقطہ نظر
انسانی معاشرے میں بہت سے المیے ایسے ہوتے ہیں جو کسی بیرونی حادثے کے بجائے ہماری اندرونی بے حسی، بے جا جھجک اور بے بنیاد روایات کی کوکھ سے جنم لیتے ہیں۔ ان میں سب سے دلدوز المیہ وہ ہے جہاں ایک جان لیوا بیماری صرف اس لیے زندگی کا چراغ گل کر دیتی ہے کہ مریضہ اپنے دکھ کو زبان دینے سے کتراتی رہی۔ ہمارے معاشرے میں چھاتی کا کینسر محض ایک طبی عارضہ نہیں رہا بلکہ اس کے گرد شرم، حجاب اور خاموشی کی ایک ایسی دبیز دیوار کھڑی کر دی گئی ہے جسے پھلانگنا بیشتر خواتین کے لیے اپنی جان سے بھی زیادہ کٹھن بنا دیا گیا ہے۔ گلابی ربن کی مہمات ہر سال آتی ہیں، مگر گلی محلوں اور بند کمروں میں سسکتی ہوئی حقیقتیں اب بھی وہی ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ بریسٹ کینسر اتنا مہلک نہیں جتنا کہ وہ سکوت ہے جو اس کے گرد طاری رہتا ہے، اور یہی خاموشی درحقیقت اس مرض کا سب سے بڑا ہتھیار ہے۔
ہمارے ہاں مشرقی اقدار کے نام پر خواتین کو بچپن سے جس خاموش قربانی اور پردہ داری کا درس دیا جاتا ہے، وہ بسا اوقات ان کے بنیادی حقِ صحت پر بھی بھاری پڑ جاتا ہے۔ عورت اپنی تکلیف چھپاتی ہے کہ گھر والوں کو پریشانی نہ ہو، یا وہ کسی معالج، خاص طور پر مرد ڈاکٹر، کے سامنے اپنے نسوانی وجود کے معائنے سے جھجھکتی ہے۔ حتیٰ کہ وہ اپنی ماں، بہن یا شوہر سے بھی یہ بات شیئر نہیں کر پاتی کہ اس کے جسم میں کوئی غیر معمولی بدلاؤ رونما ہو رہا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جب درد ناقابلِ برداشت ہو جاتا ہے یا گلٹی جلد کو چیر کر باہر جھانکنے لگتی ہے، تب جا کر اسپتال کا رخ کیا جاتا ہے، مگر اس وقت تک پانی سر سے گزر چکا ہوتا ہے۔ یہ جھوٹی شرم اور منافقانہ پردہ داری نہیں تو اور کیا ہے جو ہر سال ہزاروں ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کو قبر کی آغوش میں دھکیل دیتی ہے۔ کینسر کوئی اخلاقی گناہ یا عیب نہیں بلکہ محض خلیات کی ایک بے قابو تقسیم ہے، اور اس تقسیم کو اسی وقت روکا جا سکتا ہے جب ہم اس کے خلاف کھل کر بولنے کی ہمت پیدا کریں۔
طبی اعتبار سے دیکھا جائے تو اس موذی مرض کے اسباب میں موروثی جینیاتی نقائص، عمر کا بڑھنا، ماہواری کے نظام میں ہارمونل عدم توازن، بچوں کو دودھ نہ پلانا، اور غیر فطری طرزِ زندگی سرِ فہرست ہیں۔ ہم جس مشینی اور مصنوعی دور میں جی رہے ہیں، وہاں بازار کے ڈبہ بند کھانے، کیمیکلز سے لبریز پروسیسڈ خوراک، فاسٹ فوڈ اور موٹاپا ہمارے جسموں کو اندر سے کھوکھلا کر رہے ہیں۔ مینوپاز کے بعد بڑھتا ہوا وزن اور سست روی جسم میں ایسٹروجن ہارمون کے تناسب کو بگاڑ دیتی ہے، جو اکثر کینسر کے خلیات کی افزائش کا سبب بنتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ کینسر کی ابتدائی علامات کو سمجھنا ہر عورت کی بنیادی ضرورت ہے۔ چھاتی یا بغل میں کسی سخت یا بے درد گلٹی کا بننا، چھاتی کی ساخت، حجم یا رنگت میں اچانک تبدیلی آنا، جلد پر مالٹے کے چھلکے کی طرح کھردرا پن ظاہر ہونا، نپل کا اندر کی جانب دھنس جانا یا وہاں سے غیر معمولی اور خونی رطوبت کا اخراج ہونا وہ سرخ نشانیاں ہیں جو جسم کسی خطرے کے پیشِ نظر ظاہر کرتا ہے۔ ان علامات میں سے کسی ایک کا بھی سامنے آنا خطرے کی گھنٹی ہے جسے کبھی نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔
اگر ہم اس طوفان کا رخ موڑنا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے عمومی طرزِ زندگی کو یکسر بدلنا ہوگا۔ قدرتی اور سادہ خوراک کی طرف واپسی اب محض انتخاب نہیں بلکہ بقا کی شرط بن چکی ہے۔ روزمرہ غذا میں ہری سبزیوں، موسمی پھلوں اور فائبر کا استعمال بڑھانا، چکنائی اور مٹھاس سے پرہیز کرنا، اور روزانہ کم از کم آدھا گھنٹہ چہل قدمی یا ورزش کو معمول بنانا جسم کے مدافعتی نظام کو طاقت بخشتا ہے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ خواتین کو خود آگاہی کا شعور دیا جائے تاکہ وہ ہر ماہ اپنی جسمانی ساخت کا خود معائنہ کرنے کی عادی بنیں۔ چالیس برس کی عمر کے بعد سالانہ یا دو سالہ میموگرافی کا باقاعدہ اہتمام بیماری کو اس مرحلے پر پکڑ لیتا ہے جہاں وہ عام آنکھ یا ہاتھ کے لمس سے بھی اوجھل ہوتی ہے۔ یاد رکھیے کہ پہلی سٹیج پر تشخیص ہو جانے کی صورت میں نوے فیصد سے زائد مریض مکمل صحتیاب ہو کر ایک بھرپور زندگی گزار سکتے ہیں۔
جہاں تک متبادل طریقہ علاج کا تعلق ہے، ہومیو پیتھی کا فلسفہ انسانی جسم کی اندرونی قوتِ مدافعت کو بیدار کر کے بیماری کے خلاف مزاحمت پیدا کرنے پر مبنی ہے۔ ہومیو پیتھی میں کینسر یا گلٹیوں کا علاج کسی ایک بندھے ٹکے فارمولے کے تحت نہیں ہوتا بلکہ مریض کی مجموعی ذہنی و جسمانی کیفیت اور مخصوص علامات کے گہرے مشاہدے کے بعد دوائیں تجویز کی جاتی ہیں۔ مثلاً کونیم میکولیٹم (Conium Maculatum) اس وقت بنیادی دوا سمجھی جاتی ہے جب چھاتی میں پتھر کی طرح سخت اور بے حس گلٹی بن جائے، خاص طور پر اگر وہ کسی پرانی چوٹ یا صدمے کے نتیجے میں نمودار ہوئی ہو اور ماہواری سے قبل اس میں تناؤ اور درد بڑھ جاتا ہو۔ اسی طرح فائٹولاکا (Phytolacca Decandra) ان حالتوں میں انتہائی مفید ثابت ہوتی ہے جہاں چھاتی میں سوجن، گٹھلیاں، سختی اور نپل میں دراڑیں ہوں، اور درد چھاتی سے نکل کر پورے جسم یا کمر اور گردن کی طرف پھیلتا محسوس ہو۔
کارسینوسن (Carcinosinum) کو خاندانی ہسٹری یا موروثی کینسر کے رجحان کو توڑنے کے لیے ایک گہری اثر رکھنے والی نوزوڈ کے طور پر دیکھا جاتا ہے، بالخصوص ایسے مریضوں میں جو طویل ذہنی دباؤ اور بے خوابی کا شکار رہے ہوں۔ ایسٹریاس روبنز (Asterias Rubens) بائیں چھاتی کے کینسر کے لیے مخصوص مانی جاتی ہے جہاں گلٹی سخت ہو، جلد سرخ یا سیاہی مائل ہو جائے اور شدید نوچنے والے درد کے ساتھ بغل کے غدود متورم ہو چکے ہوں۔ جب کینسر کے مقام پر جلن، تیزابیت جیسا احساس، سخت بے چینی اور کٹاؤ دار زخم بن جائیں تو آرسینک البم (Arsenicum Album) علامات کے مطابق تسکین دیتی ہے۔ جبکہ سلیشیا (Silicea) ان گلٹیوں کو گھلانے اور پیپ بننے کے عمل کو روکنے کے لیے موزوں رہتی ہے جو سخت اور پرانی ہو چکی ہوں۔ تاہم، یہ نکتہ ذہن نشین رکھنا بے حد ضروری ہے کہ کینسر کے معاملات میں خود علاجی یا غیر مستند نسخوں پر تکیہ کرنا خودکشی کے مترادف ہے۔ کسی بھی ہومیو پیتھک دوا کا انتخاب ایک قابل، مستند اور تجربہ کار معالج کی مکمل کیس ہسٹری، درست پوٹینسی کے تعین اور مسلسل کلینیکل نگرانی کے بغیر ہرگز نہیں ہونا چاہیے، اور اس علاج کے دوران باقاعدہ میڈیکل ٹیسٹوں، بائیوپسی اور میموگرافی کی نگرانی سے کبھی غفلت نہیں برتنی چاہیے۔
خصوصی ہدایات اور احتیاطی تدابیر کے تناظر میں سب سے بڑی ذمہ داری گھر کے سربراہ اور مردوں پر عائد ہوتی ہے۔ انہیں اپنے گھر کی خواتین کے لیے ایک ایسا مامون اور پُراعتماد ماحول پیدا کرنا ہوگا جہاں وہ اپنی کسی بھی جسمانی تکلیف کا ذکر بغیر کسی خوف، جھجک یا ندامت کے کر سکیں۔ جب تک مائیں، بہنیں اور بیویاں اپنی صحت کے معاملے میں اپنے ہی گھر کے اندر غیر محفوظ رہیں گی، تب تک آگاہی کے تمام تر نعرے بے اثر رہیں گے۔ عورت کو اپنی ذات کے لیے جینا سکھانا ہوگا؛ وہ خاندان کی بنیاد ہے اور بنیاد اگر کمزور پڑ جائے تو پوری عمارت زمین بوس ہو جاتی ہے۔ چھاتی کے کینسر کے خلاف جنگ دراصل ہمارے اجتماعی شعور، سائنسی بصیرت اور طرزِ فکر کی جنگ ہے۔ اس میں تاخیر جان لیوا ہے اور خاموشی سب سے بڑا گناہ۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم جھجک کے تمام پردے چاک کریں، علامات پر کڑی نظر رکھیں، طرزِ زندگی کو فطرت کے قریب لائیں اور پہلی فرصت میں معائنے کو اپنا معمول بنائیں۔ یہی وہ راستہ ہے جو خاموشی کے اندھیروں سے نکل کر زندگی کے اجالوں کی طرف جاتا ہے۔
مزید پڑھیں





