بدھ، 28 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

خط کی خوبصورت اور خوشبودار روایت کے احوال،تحریر: محمد احسان ثانی

نقطہ نظر

خط کو آدھی ملاقات بھی کہا جاتا ہے۔ خط آج کے دور کی ویڈیو کال کا نعم البدل ہوا کرتا تھا۔ مکتوب نگار جن جذبات و احساسات کو تحریر میں سماتا تھا مکتوب الیہ اسی جذباتی کیفیت کو من و عن محسوس کر لیتا تھا۔

"خط" کے لیے پریم پتر، چٹھی، مکتوب، مراسلہ اور لیٹر جیسے خوب صورت الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں۔ خط لکھنے والے کو مُرسِل، مکتوب نگار یا خط نویس کہا جاتا ہے، جبکہ خط پہنچانے والے کو قاصد، ایلچی، نامہ بر یا ڈاکیا کہتے ہیں۔


دورِ جدید میں جہاں مواصلات کا نظام انتہائی تیز رفتار اور جدید ہو چکا ہے، وہیں آج بھی چند لوگ خط کی دم توڑتی روایت کو برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ اس بات کا قوی ثبوت ہے کہ خط صدیوں تک انسانوں کے دل و دماغ پر اپنے انمٹ نقوش ثبت کرتا رہا ہے۔


میلوں کی مسافت پر بیٹھے اپنوں کی خیریت دریافت کرنے یا پیغام پہنچانے کے لیے خط ہی واحد ذریعہ ہوا کرتا تھا۔ گاؤں اور دیہات میں جب ڈاکیا گلی گلی لوگوں کی ڈاک لے کر پہنچتا تو لوگ اس کے گرد جمع ہو جاتے اور اپنے اپنے خطوط وصول کرتے تھے۔ اپنے پیاروں کی خیریت جاننے کے لیے بعض لوگ ڈاکیے سے خط پڑھ کر سنانے کی درخواست بھی کرتے تھے۔ خط موصول ہونے پر سب لوگ اردگرد بیٹھ جاتے اور بے صبری سے خط کھلنے کا انتظار کرتے۔ خط کی تحریر پڑھ کر کوئی خوشی سے جھوم اٹھتا تو کوئی اپنے پیاروں کی جدائی کا سندیسہ سن کر غمگین ہو جاتا۔


میری والدہ بتاتی ہیں کہ وفات کی خبر پر مشتمل خط کے لفافے کا ایک کونا تھوڑا سا پھاڑ دیا جاتا تھا، جس سے ڈاکیے اور خط وصول کرنے والے کو، خط پڑھے بغیر ہی اندازہ ہو جاتا تھا کہ اس میں کسی پریشانی یا وفات کی خبر ہے۔ اسی لیے ڈاکیا ایسے خطوط سب سے پہلے پہنچانے کی کوشش کرتا تھا۔ اس دور میں خط اور ڈاکیے کی اپنی ایک اہمیت ہوا کرتی تھی۔


خط محبت کے اظہار کا بھی ایک بہترین ذریعہ سمجھا جاتا تھا۔ اس دور میں پڑھے لکھے لوگوں کی تعداد کم ہونے کی وجہ سے خط لکھنے اور پڑھنے والوں کو معاشرے میں عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ خط کے الفاظ دلوں کے جذبات کی عکاسی کیا کرتے تھے، اور ان کے صفحات کو ضروری دستاویز یا قیمتی اثاثہ سمجھ کر سنبھال کر رکھا جاتا تھا۔


پرانی روایات میں جس طرح کوّے کے چھت پر بیٹھ کر کائیں کائیں کرنے کو مہمانوں کی آمد کا پیغام سمجھا جاتا تھا، اسی طرح یہ روایت بھی مشہور ہے کہ ایک زمانے میں کبوتروں کے ذریعے خطوط کی ترسیل کی جاتی تھی۔ اس حسین روایت کی منظرکشی کرتے ہوئے پاکستانی پنجابی فلم مہندی والے ہتھ میں ایک روایتی لوک گیت فلمایا گیا، جس کے بول آج بھی زبان زدِ عام ہیں:


’’جا اڑ جا، لے جا چٹھی میرے ڈھولے دی وے کبوترا!‘‘


ایک دور ایسا بھی تھا جب خط کی اہمیت اس قدر زیادہ تھی کہ فلمی گیتوں اور لوگوں کی روزمرہ گفت گو میں خطوط کا ذکر بکثرت ملتا تھا۔


بھارتی ہندی فلموں میں بھی ایسے کئی یادگار گیت فلمائے گئے جن میں خطوط کے ذریعے محبت، انتظار اور جذبات کی عکاسی کی گئی۔ ان میں درج ذیل گیت خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں:


’’ہم نے صنم کو خط لکھا، خط میں لکھا‘‘ — فلم: شکتی

’’لکھے جو خط تجھے‘‘ — فلم: کنوارا باپ

’’چٹھی نہ کوئی سندیس‘‘ — فلم: دشمن

’’خط لکھ دے سانوریا کے نام‘‘ — فلم: آئے دن بہار کے

’’خط لکھنا ہے پر سوچتی ہوں‘‘ — فلم: کھیل

پنکج ادھاس کی مشہور غزل ’’چٹھی آئی ہے‘‘ — فلم: نام


یہ گیت بھارتی ہندی فلمی صنعت میں خط و کتابت کی خوب صورت روایت سے وابستگی کی نمایاں مثالیں ہیں۔ ان میں محبت، انتظار، جدائی اور انسانی جذبات کو نہایت دل نشیں انداز میں پیش کیا گیا ہے۔


پاکستان 1947ء میں دنیا کے نقشے پر ایک آزاد اور خودمختار ریاست کی حیثیت سے ابھرا۔ قیامِ پاکستان کے بعد 15 اگست 1947ء کو پاکستان پوسٹ آفس نے لاہور سے باضابطہ طور پر اپنے محکمانہ کام کا آغاز کیا۔ یہ وہ دور تھا جب موبائل فون اور پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن کمپنی لمیٹڈ (پی ٹی سی ایل) جیسی سہولیات میسر نہیں تھیں۔ لوگ پیغام رسانی کے لیے خط و کتابت ہی سے کام لیتے تھے۔


مگر دورِ جدید میں موبائل فون، کمپیوٹر، لیپ ٹاپ اور دیگر جدید ذرائعِ مواصلات کی وجہ سے پاکستان پوسٹ کا استعمال محدود ہوتا جا رہا ہے۔ یوں لوگ خط لکھنے جیسی خوب صورت روایت سے بتدریج دور ہوتے جا رہے ہیں۔ تاہم، آج بھی چند ایسے لوگ موجود ہیں جنہیں ہم روایات کا امین کہیں تو بجا ہوگا۔ وہ خط و کتابت سے اپنا تعلق برقرار رکھے ہوئے ہیں، جن میں ادب سے وابستہ احباب کی تعداد نمایاں ہے۔


خط کی اہمیت اور اس کی جذباتی تاثیر کو شکیل بدایونی کے اس شعر میں بھی محسوس کیا جا سکتا ہے:


کافی ہے مرے دل کی تسلی کو یہی بات

آپ آ نہ سکے، آپ کا پیغام تو آیا


شکیل بدایونی