جمعرات، 29 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

خواجہ آصف قومی اسمبلی میں مولانا فضل الرحمان پر برس پڑے

مصنف:

اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ آصف نے قومی اسمبلی میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ فیلڈ مارشل نے پاکستان کی جانب سے خطے میں امن اور مذاکرات کے فروغ کے لیے کردار ادا کیا۔ تہران میں پاکستان کے دفاع سے متعلق کوئی معاہدہ نہیں ہو رہا تھا اور نہ ہی وہاں پاکستان کے دفاع پر بات ہو رہی تھی، بلکہ فیلڈ مارشل امن کی کوششوں کو آگے بڑھانے کے لیے وہاں گئے تھے۔


قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ وہ خود ان معاہدوں کے موقع پر موجود تھے اور تہران میں ہونے والی پیش رفت وزارت خارجہ کے دائرہ کار کا معاملہ نہیں تھی۔ ان کے بقول فیلڈ مارشل کا مقصد فریقین کے درمیان صلح کرانا اور خطے میں امن قائم کرنے کی کوششوں کو آگے بڑھانا تھا، جس کے مثبت نتائج آنے والے دنوں میں مشرق وسطیٰ میں سامنے آ سکتے ہیں۔خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان اور فیلڈ مارشل کے عالمی سطح پر کردار کو سراہا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمٰن کی جانب سے وسیع القلبی کا مظاہرہ نہ کرنے سے متعلق بات کی گئی، تاہم پاکستان نے عالمی سطح پر امن کے لیے جو کردار ادا کیا، اس کا اعتراف ضروری ہے۔


وزیر دفاع نے مولانا فضل الرحمٰن کے سیاسی ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ مختلف ادوار میں اقتدار کا حصہ رہے اور خیبر پختونخوا میں بھی حکومت کر چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمٰن کے ریاست کے ساتھ اختلافات بھی رہے اور اتفاق بھی، جبکہ کچھ عرصہ پہلے تک وہ خود بھی ان کے ساتھ تھے اور دونوں نے مل کر تحریک عدم اعتماد پیش کی تھی۔خواجہ آصف نے کہا کہ جب وہ فوج کے حق میں بات کرتے ہیں تو انہیں ان کی ماضی کی ایک تقریر یاد دلائی جاتی ہے، تاہم وہ تقریر اس وقت کے حالات کے تناظر میں تھی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ واحد سیاست دان ہیں جنہوں نے اپنے ماضی پر معذرت کی، جبکہ مولانا فضل الرحمٰن بھی ماضی میں مختلف سیاسی حکومتوں کا حصہ رہے ہیں۔وزیر دفاع نے مولانا فضل الرحمٰن کے کشمیر کمیٹی کے طویل عرصے تک سربراہ رہنے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ انہیں بتایا جائے کہ دس سال تک کشمیر کمیٹی کا چیئرمین رہنے کے دوران انہوں نے کیا خدمات انجام دیں۔ انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمٰن کو دوسروں پر تنقید کرتے ہوئے اپنے سیاسی ماضی کو بھی سامنے رکھنا چاہیے۔


خواجہ آصف نے مولانا فضل الرحمٰن کے دورۂ افغانستان پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ وہ وہاں کیوں گئے اور انہیں دورے کی پیشکش کیوں کی گئی، جبکہ وہ وزیر خارجہ نہیں تھے۔ وزیر دفاع نے الزام عائد کیا کہ اس دورے کا مقصد اپنی سیاست کو آگے بڑھانا تھا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف ایک مقبول سیاسی جماعت ہے، تاہم ان کے بقول اس نے مولانا فضل الرحمٰن کی سیاسی چھتری حاصل کر لی ہے۔ خواجہ آصف نے مزید کہا کہ مولانا فضل الرحمٰن کی سیاست میں مذہب کا کردار نمایاں ہے، جبکہ سیاسی جماعتوں کو اپنی سیاسی حیثیت اور شناخت برقرار رکھنی چاہیے۔