کتاب اور انسان کے درمیان مکالمہ،تحریر: سیدہ الماس فاطمہ
نقطہ نظر
(منظر نامہ: رات کا آخری پہر ہے اور کمرے میں گہرا سکوت طاری ہے۔ میز پر ایک پرانی کتاب کھلی پڑی ہے اور سامنے کرسی پر بیٹھا انسان اپنی تنہائی سے بیزار دکھائی دیتا ہے)
انسان: (کتاب کے صفحات کو پیار سے چھوتے ہوئے) میں نے ہمیشہ بزرگوں سے سنا ہے کہ کتاب تنہائی میں بہترین دوست ہے۔ آج جب دنیا کے بدلتے رویوں اور رشتوں کی بے وفائی نے مجھے اکیلا کر دیا، تو مجھے تمہاری یاد آئی۔ کیا تم واقعی میری سچی دوست بنو گی؟
کتاب: (اپنے اوراق کو دھیمے سے ہلاتے ہوئے) میں تو ہمیشہ سے انسان کی سب سے مخلص رفیق رہی ہوں الماس! لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ اب انسانوں کا رخ میری طرف نہیں رہا۔ کچھ انسان مجھے الماری میں بند کر کے رکھ دیتے ہیں اور زیادہ تر میں صرف کسی خاموش لائبریری کا حصہ بن کر رہ گئی ہوں، جہاں کوئی میرے صفحات پلٹنے والا نہیں ہوتا۔ انسان اب مادی ترقی کی اندھی دوڑ میں اس قدر مگن ہو چکا ہے کہ اسے اس سچی دوستی کی قدر ہی نہیں رہی جو اسے شعور کی منزلوں تک پہنچاتی تھی۔
انسان: (ندامت بھرے لہجے میں) تم سچ کہتی ہو، تمہارا یہ گلہ بالکل بجا ہے۔ آج کل لوگ دنیا کے مادی جھنجھٹوں میں اس طرح مگن ہیں کہ اپنا قیمتی وقت موبائل فون کی سکرین پر فضول چیزوں میں ضائع کرتے ہیں۔ اب کاغذ کی خوشبو اور کتاب پڑھنے کا ذوق معاشرے سے مٹتا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے ہمارے اخلاق اور فکری شعور کا قحط پیدا ہو گیا ہے۔ ہم نے مشینوں کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیا ہے اور دلوں کے اندر کا نور آہستہ آہستہ ختم ہوتا جا رہا ہے۔
کتاب: (ایک سرد آہ بھرتے ہوئے) یہی تو موجودہ دور کا سب سے بڑا المیہ ہے۔ انسانوں نے اب مجھے موبائل پر قید کر دیا ہے اور اپنی عارضی آسانی کے لیے اس ڈیجیٹل پردے میں سے پڑھتے ہیں۔ وہ بھول گئے ہیں کہ جو سکون اور گہرائی کاغذ کو ہاتھ میں تھام کر پڑھنے میں ہے، وہ اس مصنوعی سکرین پر کبھی حاصل نہیں ہو سکتی۔ موبائل کی قید نے میرے اور انسان کے درمیان کا وہ سچا لمس چھین لیا ہے جو دلوں کو سنوارتا تھا۔ اس مادی دوڑ نے انسان سے سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت بھی چھین لی ہے، جس کا نتیجہ ذہنی تناؤ کی صورت میں نکل رہا ہے۔
انسان: (آئینے کے سامنے اپنے وجود کو جھنجھوڑتے ہوئے) میں اپنی اس فکری غلطی پر دل کی گہرائیوں سے شرمندہ ہوں۔ ہم نے ڈگریوں کے کاغذ کے ٹکڑے تو سمیٹ لیے، لیکن زندگی گزارنے کا اصل فن اور کتاب کا ادب بالکل بھول گئے۔ ہم دنیاِ فانی کی لاحاصل محبتوں اور عارضی آسائشوں میں گم ہو کر عشقِ حقیقی کا راستہ چھوڑ بیٹھے۔ ہمیں یہ اندازہ ہی نہ ہو سکا کہ مادی ترقی کی یہ چمک دمک دراصل فکری اندھیروں کی طرف ایک سفر ہے، جس نے ہمیں اپنی اصل حقیقت سے دور کر دیا ہے۔
کتاب: (محبت آمیز اور تسلی بخش لہجے میں) مایوس مت ہو، اب بھی وقت ہاتھ سے نہیں نکلا۔ ماضی کی تلخیوں اور پچھتاووں کو ہمیشہ کے لیے دفن کر دو، خود سے محبت کرنا سیکھو اور اچھے مستقبل کی امید کے ساتھ مجھے تھام لو۔ وقت گزرتا نہیں بلکہ ہمیں گزار رہا ہے، اس لیے اس عارضی وقت کی قدر کرو۔ میری آغوش میں آؤ گے تو تمہیں زندگی کا حقیقی فلسفہ اور روح کا وہ ابدی سکون نصیب ہوگا، جو تمہیں دنیا کی اس بھیڑ میں بھی کبھی اکیلا ہونے کا احساس نہیں ہونے دے گا۔
انسان: (جذباتی ہو کر کتاب کو اپنے سینے سے لگاتے ہوئے) میں آج تم سے سچا وعدہ کرتا ہوں کہ اب تمہیں الماریوں کی دھول یا موبائل کی ڈیجیٹل قید میں تنہا نہیں چھوڑوں گا۔ تم ہی میری روح کا سچا سکون، اندھیری راہوں کا اجالا اور فکری شعور کا واحد راستہ ہو۔ میں اپنے دن کا کچھ حصہ لازمی تمہاری صحبت میں گزاروں گا تاکہ میرا یہ مٹتا ہوا ذوق دوبارہ زندہ ہو سکے۔
سبق: کتاب اور کاغذ کا لمس انسان کی فکری اور اخلاقی تربیت کرتا ہے۔ مادی دنیا کی عارضی چمک دمک، مجازی رشتوں کی بے وفائی اور موبائل کی قید سے نکل کر کتاب کی سچی اور لازوال دوستی کی طرف لوٹنا ہی اصل شعور ہے جو انسان کو انسانیت سکھاتا ہے اور اس کے باطن کو روشنی عطا کرتا ہے۔
مزید پڑھیں




