قرآن مجید ہدایت، شفا اور نجات کا سرچشمہ،تحریر: بینا علی
نقطہ نظر
قرآن مجید اللہ رب العزت کا وہ آخری کلام ہے جو قیامت تک آنے والے تمام انسانوں کے لیے ہدایت بن کر نازل ہوا۔ یہ کتاب اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لے جاتی ہے۔ دلوں کے زنگ کو مٹاتی ہے اور بکھری ہوئی زندگیوں کو مقصد عطا کرتی ہے۔
اللہ پاک سورۃ البقرہ کی آیت نمبر 2 میں ارشاد فرماتے ہیں:
"ذَٰلِكَ الْكِتَابُ لَا رَيْبَ فِيهِ هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ"
ترجمہ: یہ وہ کتاب ہے جس میں کوئی شک نہیں پرہیزگاروں کے لیے ہدایت ہے۔
یہ آیت قرآن کا سب سے جامع تعارف ہے۔ جس سے پتہ چلتا ہے کہ لا ریب فیہ۔ اس کتاب میں شک کی کوئی گنجائش نہیں۔ انسانوں کی لکھی ہوئی کتابوں میں غلطی کا امکان ہوتا ہے، مگر یہ کلام اس ذات کا ہے جو ہر عیب سے پاک ہے۔ دوسری بات "ھدی للمتقین" ہے۔ یعنی یہ کتاب صرف معلومات نہیں دیتی بلکہ زندگی گزارنے کا صحیح راستہ بھی دکھاتی ہے۔ مگر یہ راستہ اسے ملتا ہے جس کے دل میں ہدایت کی طلب اور اللہ کا خوف ہو۔
قرآن مجید صرف عبادات کی کتاب نہیں بلکہ ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے۔ یہ انسان کو عقائد، عبادات، اخلاقیات، معاشرت، معیشت اور معاملاتِ زندگی کے تمام اصول سکھاتا ہے۔ یہ عدل، انصاف، محبت، اخوت، صبر، برداشت اور انسانیت کا درس دیتا ہے۔ زندگی کا کوئی شعبہ ایسا نہیں جس میں قرآن رہنمائی فراہم نہ کرتا ہو۔
یہ کتاب دلوں کے لیے شفا ہے۔ حسد، بغض، کینہ، غرور، مایوسی اور بے چینی جیسے روحانی امراض کا علاج قرآن کے پیغام میں موجود ہے۔ جب انسان مشکلات میں گھر جاتا ہے، جب امید کے چراغ مدھم ہونے لگتے ہیں تب قرآن کے الفاظ اس کے دل کو نئی طاقت اور نیا حوصلہ عطا کرتے ہیں۔
قرآنِ کریم کی تلاوت کا اجر بھی بے مثال ہے۔ رسول اللہ نے فرمایا:
"جو شخص اللہ کی کتاب کا ایک حرف پڑھے گا، اسے ایک نیکی ملے گی اور ایک نیکی دس گنا بڑھا دی جائے گی۔"
(سنن ترمذی، حدیث: 2910)
یہ حدیث ہمیں قرآن سے تعلق مضبوط کرنے کی ترغیب دیتی ہے۔ قرآن کی تلاوت نہ صرف ثواب کا ذریعہ ہے بلکہ روحانی سکون، قلبی اطمینان اور اللہ تعالیٰ کی قربت کا بہترین وسیلہ بھی ہے۔قرآن سے تعلق صرف پڑھنے تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے سمجھنا، اس پر غور و فکر کرنا اور اپنی عملی زندگی میں نافذ کرنا بھی ضروری ہے۔ جس گھر میں قرآن کی تلاوت ہوتی ہے وہاں رحمتوں کا نزول ہوتا ہے، اور جس دل میں قرآن اتر جائے وہ کبھی ویران نہیں ہوتا۔
لہٰذا قرآنِ مجید کو صرف الماریوں اور طاقچوں کی زینت نہ بنائیں، بلکہ اپنے دلوں، کرداروں اور زندگیوں کی زینت بنائیں۔ روزانہ تھوڑا ہی سہی مگر پابندی کے ساتھ اس کی تلاوت کریں اس کے معانی و مطالب کو سمجھنے کی کوشش کریں اور اس کے احکامات کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔ یاد رکھیے! جو قوم قرآن سے جڑ جاتی ہے، وہ عزت، سربلندی اور کامیابی کی منزلیں طے کرتی ہے، اور جو اس سے دور ہو جاتی ہے، وہ گمراہی اور انتشار کا شکار ہو جاتی ہے۔آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم قرآن کو صرف ثواب حاصل کرنے کے لیے نہ پڑھیں بلکہ اسے اپنی زندگی کا دستور، اپنے اعمال کا معیار اور اپنے فیصلوں کا رہنما بنائیں۔ جب قرآن ہمارے گھروں، تعلیمی اداروں، بازاروں اور معاشرے میں نافذ ہوگا تو عدل، محبت، اخوت اور امن کی فضا قائم ہوگی۔
قرآنِ مجید ہدایت کا چراغ، دلوں کا سکون اور نجات کا راستہ ہے۔ جو اس کے دامن کو مضبوطی سے تھام لیتا ہے وہ دنیا و آخرت کی کامیابی حاصل کر لیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں قرآنِ کریم کو پڑھنے، سمجھنے، اس پر عمل کرنے اور دوسروں تک اس کا پیغام پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
مزید پڑھیں




