جمعرات، 29 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

اسرائیلی وزیر کا عرب جماعتوں کے سربراہان کی گرفتاری کا مطالبہ


اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے وزیر برائے قومی سلامتی اتمار بن گویر نے عرب سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔


اسرائیل کے انتہا پسند وزیرِ داخلہ وسیکیورٹی اتمار بن گویر نے ملک کی اندرونی سیکیورٹی ایجنسی "شین بیت" سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل کی عرب اکثریتی سیاسی جماعتوں کے سربراہان کو فوری طور پر گرفتار کرے۔ یہ مطالبہ حال ہی میں منعقد ہونے والے اسرائیلی عام انتخابات کے نتائج سامنے آنے کے بعد کیا گیا ہے، جس میں عرب جماعتوں نے ریکارڈ نشستیں حاصل کی ہی


اتمار بن گویر نے جمعرات کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں اسرائیلی داخلی سکیورٹی ادارے شِن بیت سے مطالبہ کیا کہ وہ عرب جماعتوں کے سربراہان کو فوری طور پر گرفتار کرے، جن پر قطر سے رقم لینے میں ملوث ہونے کا شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔


رپورٹ کے مطابق بن گویر کا یہ مطالبہ اسرائیلی حکومت کے بعض وزرا کی جانب سے لگائے گئے ان الزامات کے بعد سامنے آیا ہے کہ عرب جماعتوں نے قطر سے مالی امداد حاصل کی۔ تاہم ان الزامات کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی اور انہیں ثابت شدہ حقائق کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔


اسرائیلی انتخابات کے بعد عرب جماعتوں کی کامیابی کو سیاسی طور پر اہم قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ نہ وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے اتحاد کو اور نہ ہی اپوزیشن کے بلاک کو واضح اکثریت حاصل ہوئی۔ اس صورت حال میں عرب جماعتیں حکومت سازی کے عمل میں فیصلہ کن کردار ادا کر سکتی ہیں۔


حالیہ پارلیمانی انتخابات کے جزوی نتائج کے مطابق وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو کا دائیں بازو کا اتحاد حکومت بنانے کے لیے درکار 61 نشستوں کی سادہ اکثریت (صرف 53 نشستیں) حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔


عرب جماعتیں بطور "کنگ میکر" اس سخت مقابلے میں عرب جماعتوں نے مجموعی طور پر 19 نشستیں حاصل کی ہیں۔ وہ اب اسرائیل کی اگلی حکومت بنانے یا نیتن یاہو کو اقتدار سے باہر کرنے کے لیے انتہائی اہم اور "کنگ میکر" پوزیشن میں آچکی ہیں۔


عرب سیاسی رہنماؤں اور وکلاء گروپوں نے ان الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے انہیں "سیاسی انتقام اور نسل پرستی" قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دائیں بازو کے انتہا پسند رہنما عرب ووٹرز کی ریکارڈ تعدا د میں شرکت اور ان کی کامیابی سے بوکھلاہٹ کا شکار ہیں اور یہ الزامات ان کی آواز دبانے کی کوشش ہیں۔


قطر مشرقِ وسطیٰ میں ایک اہم سفارتی کردار ادا کرتا ہے اور حماس کے ساتھ بھی اس کے رابطے رہے ہیں۔ اسی پس منظر میں اسرائیلی وزرا کی جانب سے عرب جماعتوں کی مبینہ مالی معاونت سے متعلق الزامات سامنے آئے ہیں۔