سچ ایک ایسی طاقت ہے جو انسان کو وقتی طور پر مشکلات میں ضرور ڈال سکتی ہے مگر آخرکار اسے عزت سکون اور اعتماد عطا کرتی ہے دنیا میں ہر انسان چاہتا ہے کہ لوگ اس کے ساتھ سچ بولیں اس پر اعتماد کریں اور اس کے جذبات کی قدر کریں لیکن جب خود سچ بولنے کی باری آتی ہے تو اکثر لوگ مصلحت خوف لالچ اور اپنے مفادات کے پیچھے چھپ جاتے ہیں یہی وہ مقام ہے جہاں انسان کی اصل شخصیت سامنے آتی ہے
سچی بات کہنا آسان نہیں ہوتا کیونکہ سچ اکثر ان لوگوں کو ناگوار گزرتا ہے جو جھوٹ کے سہارے اپنی دنیا آباد کیے بیٹھے ہوتے ہیں سچ بولنے والا شخص بعض اوقات اپنے ہی لوگوں کی نظروں میں برا بن جاتا ہے اس کی باتوں کو غلط رنگ دیا جاتا ہے اور اس کی نیت پر سوال اٹھائے جاتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ سچائی کا راستہ مشکل ضرور ہے ناممکن نہیں جو انسان حق بات کہنے کا حوصلہ رکھتا ہے وہ وقتی مخالفت کے باوجود اپنے ضمیر کے سامنے سرخرو رہتا ہے
آج کے معاشرے میں ایک عجیب سی دوڑ لگی ہوئی ہے ہر شخص چاہتا ہے کہ وہ دوسروں سے آگے نکل جائے لوگ اس کی تعریف کریں اس کا نام ہو اور اسے اہمیت دی جائے اس مقصد کے لیے بعض لوگ سچ کو چھپا لیتے ہیں دوسروں کے حقوق نظر انداز کر دیتے ہیں اور اپنی کامیابی کے لیے دوسروں کی ناکامی کو سیڑھی بنا لیتے ہیں ایسے لوگ شاید دنیا کی نظروں میں کامیاب دکھائی دیں لیکن کامیابی صرف دولت شہرت یا عہدے کا نام نہیں اصل کامیابی یہ ہے کہ انسان اپنی زندگی اس طرح گزارے کہ کسی کا حق نہ مارے کسی کا دل جان بوجھ کر نہ دکھائے اور اپنے کردار پر شرمندہ نہ ہو
سچی بات یہ ہے کہ انسان کی پہچان اس کے لباس چہرے یا بڑے عہدے سے نہیں ہوتی بلکہ اس کے اخلاق کردار اور دوسروں کے ساتھ برتاؤ سے ہوتی ہے ایک غریب انسان بھی اپنے کردار کی بدولت امیر دلوں کا مالک بن سکتا ہے جبکہ دولت مند شخص اپنی بدزبانی اور خود غرضی کے باعث لوگوں کی نظروں سے گر سکتا ہے عزت خریدی نہیں جا سکتی اسے اپنے عمل سے کمایا جاتا ہے جو شخص دوسروں کی عزت کرنا جانتا ہے وہی حقیقی معنوں میں عزت کے قابل ہوتا ہے
زندگی میں سب سے مشکل مرحلہ اس وقت آتا ہے جب سچ بولنے سے اپنا نقصان ہوتا دکھائی دے انسان سوچتا ہے کہ اگر حقیقت بیان کر دی تو شاید رشتے خراب ہو جائیں گے دوست ناراض ہو جائیں گے یا لوگ اس کے خلاف ہو جائیں گے مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ جھوٹ کی بنیاد پر قائم ہونے والے رشتے زیادہ دیر تک مضبوط نہیں رہتے سچ کبھی کبھی دل دکھاتا ہے لیکن جھوٹ اکثر زندگی بھر کا پچھتاوا بن جاتا ہے اس لیے بہتر یہی ہے کہ بات سچ کہی جائے مگر ایسے انداز میں کہ کسی کی عزت نفس مجروح نہ ہو
یہاں ایک بات سمجھنا بہت ضروری ہے کہ سچ بولنے کا مطلب کسی کی بے عزتی کرنا نہیں بعض لوگ تلخ لہجے طنز اور سخت الفاظ کو سچائی کا نام دے دیتے ہیں حالانکہ حقیقت بیان کرنے اور کسی کی تذلیل کرنے میں بہت فرق ہے دانش مندی یہ ہے کہ انسان درست بات کرے مگر اس کے الفاظ میں شائستگی ہو اگر کسی کی غلطی کی اصلاح مقصود ہو تو اسے سب کے سامنے شرمندہ کرنے کے بجائے تنہائی میں سمجھانا زیادہ بہتر ہے سچائی کے ساتھ اخلاق شامل ہو جائے تو بات دل میں اترتی ہے
ہمارے معاشرے کو آج سب سے زیادہ ضرورت سچائی دیانت داری اور احساس ذمہ داری کی ہے اگر دکاندار ناپ تول میں ایمانداری اختیار کرے استاد اپنی ذمہ داری پوری کرے افسر انصاف سے کام لے سیاست دان عوام سے کیے گئے وعدوں کا پاس رکھے اور عام شہری اپنے فرائض ادا کرے تو بہت سے مسائل خود بخود کم ہو سکتے ہیں معاشرے کی اصلاح صرف تقریروں اور نعروں سے نہیں ہوتی بلکہ ہر شخص کے اپنے کردار سے شروع ہوتی ہے تبدیلی کا انتظار کرنے کے بجائے ہمیں خود تبدیلی کا آغاز کرنا چاہیے
رشتوں میں بھی سچائی بنیادی اہمیت رکھتی ہے ماں باپ بہن بھائی دوست اور زندگی کے ساتھی کے درمیان اعتماد اسی وقت قائم رہتا ہے جب باتوں اور عمل میں سچائی ہو جہاں بار بار جھوٹ بولا جائے وعدے توڑے جائیں اور مفاد کے مطابق رویے بدلے جائیں وہاں محبت آہستہ آہستہ کمزور ہونے لگتی ہے اعتماد شیشے کی مانند ہوتا ہے اسے بنانے میں وقت لگتا ہے مگر توڑنے کے لیے ایک غلط قدم بھی کافی ہو سکتا ہے اس لیے اپنے الفاظ کی قدر کریں اور ایسا وعدہ نہ کریں جسے پورا کرنے کا ارادہ یا حوصلہ نہ ہو
زندگی ہمیشہ ایک جیسی نہیں رہتی کبھی انسان کامیاب ہوتا ہے کبھی ناکام کبھی لوگ اس کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں اور کبھی اسے تنہا چھوڑ دیتے ہیں ایسے حالات میں انسان کو اپنی اقدار نہیں بھولنی چاہییں لوگوں کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے اپنے ضمیر کا سودا کر لینا دانش مندی نہیں دنیا کی رائے ہر روز بدل سکتی ہے لیکن انسان کا ضمیر اس کے ساتھ رہتا ہے جب انسان تنہائی میں اپنے آپ سے سوال کرتا ہے تو اسے اپنے اعمال کا جواب خود دینا پڑتا ہے
ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ سچ بولنے والے ہر شخص کی ہر بات درست نہیں ہوتی اور نہ ہی اختلاف کرنے والا ہر شخص جھوٹا ہوتا ہے کسی بات کو صرف اس لیے قبول یا رد نہیں کرنا چاہیے کہ وہ ہمارے پسندیدہ شخص نے کہی ہے یا ہمارے مخالف نے انصاف کا تقاضا ہے کہ ہم بات کو دلیل حقیقت اور حالات کی روشنی میں پرکھیں اپنی غلطی تسلیم کرنا بھی سچائی کا حصہ ہے جو انسان اپنی غلطی ماننے کا حوصلہ رکھتا ہے وہ کمزور نہیں بلکہ مضبوط کردار کا مالک ہوتا ہے
آخر میں سچی بات یہی ہے کہ زندگی مختصر ہے اور انسان کی اصل میراث اس کا کردار ہے دولت شہرت اور عہدہ وقت کے ساتھ ختم ہو سکتے ہیں لیکن اچھے اخلاق سچائی اور نیک اعمال لوگوں کے دلوں میں زندہ رہتے ہیں اس لیے سچ بولیں سچ کا ساتھ دیں دوسروں کے حقوق کا احترام کریں اور اپنے مفاد کے لیے کسی کا نقصان نہ کریں اگر ہم چاہتے ہیں کہ دنیا ہمارے ساتھ انصاف کرے تو ہمیں بھی دوسروں کے ساتھ انصاف کرنا ہوگا
یاد رکھیے سچ بولنے والا ہر شخص مقبول نہیں ہوتا لیکن سچائی پر قائم رہنے والا انسان اپنے ضمیر کی عدالت میں سرخرو ضرور رہتا ہے
مزید پڑھیں






