جمعرات، 29 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

کردار کی پہچان ،تحریر: نادر فہمی

نقطہ نظر
nadirfehmi

سچ ایک ایسی طاقت ہے جو انسان کو وقتی طور پر مشکلات میں ضرور ڈال سکتی ہے مگر آخرکار اسے عزت سکون اور اعتماد عطا کرتی ہے دنیا میں ہر انسان چاہتا ہے کہ لوگ اس کے ساتھ سچ بولیں اس پر اعتماد کریں اور اس کے جذبات کی قدر کریں لیکن جب خود سچ بولنے کی باری آتی ہے تو اکثر لوگ مصلحت خوف لالچ اور اپنے مفادات کے پیچھے چھپ جاتے ہیں یہی وہ مقام ہے جہاں انسان کی اصل شخصیت سامنے آتی ہے


سچی بات کہنا آسان نہیں ہوتا کیونکہ سچ اکثر ان لوگوں کو ناگوار گزرتا ہے جو جھوٹ کے سہارے اپنی دنیا آباد کیے بیٹھے ہوتے ہیں سچ بولنے والا شخص بعض اوقات اپنے ہی لوگوں کی نظروں میں برا بن جاتا ہے اس کی باتوں کو غلط رنگ دیا جاتا ہے اور اس کی نیت پر سوال اٹھائے جاتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ سچائی کا راستہ مشکل ضرور ہے ناممکن نہیں جو انسان حق بات کہنے کا حوصلہ رکھتا ہے وہ وقتی مخالفت کے باوجود اپنے ضمیر کے سامنے سرخرو رہتا ہے


آج کے معاشرے میں ایک عجیب سی دوڑ لگی ہوئی ہے ہر شخص چاہتا ہے کہ وہ دوسروں سے آگے نکل جائے لوگ اس کی تعریف کریں اس کا نام ہو اور اسے اہمیت دی جائے اس مقصد کے لیے بعض لوگ سچ کو چھپا لیتے ہیں دوسروں کے حقوق نظر انداز کر دیتے ہیں اور اپنی کامیابی کے لیے دوسروں کی ناکامی کو سیڑھی بنا لیتے ہیں ایسے لوگ شاید دنیا کی نظروں میں کامیاب دکھائی دیں لیکن کامیابی صرف دولت شہرت یا عہدے کا نام نہیں اصل کامیابی یہ ہے کہ انسان اپنی زندگی اس طرح گزارے کہ کسی کا حق نہ مارے کسی کا دل جان بوجھ کر نہ دکھائے اور اپنے کردار پر شرمندہ نہ ہو


سچی بات یہ ہے کہ انسان کی پہچان اس کے لباس چہرے یا بڑے عہدے سے نہیں ہوتی بلکہ اس کے اخلاق کردار اور دوسروں کے ساتھ برتاؤ سے ہوتی ہے ایک غریب انسان بھی اپنے کردار کی بدولت امیر دلوں کا مالک بن سکتا ہے جبکہ دولت مند شخص اپنی بدزبانی اور خود غرضی کے باعث لوگوں کی نظروں سے گر سکتا ہے عزت خریدی نہیں جا سکتی اسے اپنے عمل سے کمایا جاتا ہے جو شخص دوسروں کی عزت کرنا جانتا ہے وہی حقیقی معنوں میں عزت کے قابل ہوتا ہے


زندگی میں سب سے مشکل مرحلہ اس وقت آتا ہے جب سچ بولنے سے اپنا نقصان ہوتا دکھائی دے انسان سوچتا ہے کہ اگر حقیقت بیان کر دی تو شاید رشتے خراب ہو جائیں گے دوست ناراض ہو جائیں گے یا لوگ اس کے خلاف ہو جائیں گے مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ جھوٹ کی بنیاد پر قائم ہونے والے رشتے زیادہ دیر تک مضبوط نہیں رہتے سچ کبھی کبھی دل دکھاتا ہے لیکن جھوٹ اکثر زندگی بھر کا پچھتاوا بن جاتا ہے اس لیے بہتر یہی ہے کہ بات سچ کہی جائے مگر ایسے انداز میں کہ کسی کی عزت نفس مجروح نہ ہو


یہاں ایک بات سمجھنا بہت ضروری ہے کہ سچ بولنے کا مطلب کسی کی بے عزتی کرنا نہیں بعض لوگ تلخ لہجے طنز اور سخت الفاظ کو سچائی کا نام دے دیتے ہیں حالانکہ حقیقت بیان کرنے اور کسی کی تذلیل کرنے میں بہت فرق ہے دانش مندی یہ ہے کہ انسان درست بات کرے مگر اس کے الفاظ میں شائستگی ہو اگر کسی کی غلطی کی اصلاح مقصود ہو تو اسے سب کے سامنے شرمندہ کرنے کے بجائے تنہائی میں سمجھانا زیادہ بہتر ہے سچائی کے ساتھ اخلاق شامل ہو جائے تو بات دل میں اترتی ہے


ہمارے معاشرے کو آج سب سے زیادہ ضرورت سچائی دیانت داری اور احساس ذمہ داری کی ہے اگر دکاندار ناپ تول میں ایمانداری اختیار کرے استاد اپنی ذمہ داری پوری کرے افسر انصاف سے کام لے سیاست دان عوام سے کیے گئے وعدوں کا پاس رکھے اور عام شہری اپنے فرائض ادا کرے تو بہت سے مسائل خود بخود کم ہو سکتے ہیں معاشرے کی اصلاح صرف تقریروں اور نعروں سے نہیں ہوتی بلکہ ہر شخص کے اپنے کردار سے شروع ہوتی ہے تبدیلی کا انتظار کرنے کے بجائے ہمیں خود تبدیلی کا آغاز کرنا چاہیے


رشتوں میں بھی سچائی بنیادی اہمیت رکھتی ہے ماں باپ بہن بھائی دوست اور زندگی کے ساتھی کے درمیان اعتماد اسی وقت قائم رہتا ہے جب باتوں اور عمل میں سچائی ہو جہاں بار بار جھوٹ بولا جائے وعدے توڑے جائیں اور مفاد کے مطابق رویے بدلے جائیں وہاں محبت آہستہ آہستہ کمزور ہونے لگتی ہے اعتماد شیشے کی مانند ہوتا ہے اسے بنانے میں وقت لگتا ہے مگر توڑنے کے لیے ایک غلط قدم بھی کافی ہو سکتا ہے اس لیے اپنے الفاظ کی قدر کریں اور ایسا وعدہ نہ کریں جسے پورا کرنے کا ارادہ یا حوصلہ نہ ہو


زندگی ہمیشہ ایک جیسی نہیں رہتی کبھی انسان کامیاب ہوتا ہے کبھی ناکام کبھی لوگ اس کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں اور کبھی اسے تنہا چھوڑ دیتے ہیں ایسے حالات میں انسان کو اپنی اقدار نہیں بھولنی چاہییں لوگوں کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے اپنے ضمیر کا سودا کر لینا دانش مندی نہیں دنیا کی رائے ہر روز بدل سکتی ہے لیکن انسان کا ضمیر اس کے ساتھ رہتا ہے جب انسان تنہائی میں اپنے آپ سے سوال کرتا ہے تو اسے اپنے اعمال کا جواب خود دینا پڑتا ہے


ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ سچ بولنے والے ہر شخص کی ہر بات درست نہیں ہوتی اور نہ ہی اختلاف کرنے والا ہر شخص جھوٹا ہوتا ہے کسی بات کو صرف اس لیے قبول یا رد نہیں کرنا چاہیے کہ وہ ہمارے پسندیدہ شخص نے کہی ہے یا ہمارے مخالف نے انصاف کا تقاضا ہے کہ ہم بات کو دلیل حقیقت اور حالات کی روشنی میں پرکھیں اپنی غلطی تسلیم کرنا بھی سچائی کا حصہ ہے جو انسان اپنی غلطی ماننے کا حوصلہ رکھتا ہے وہ کمزور نہیں بلکہ مضبوط کردار کا مالک ہوتا ہے


آخر میں سچی بات یہی ہے کہ زندگی مختصر ہے اور انسان کی اصل میراث اس کا کردار ہے دولت شہرت اور عہدہ وقت کے ساتھ ختم ہو سکتے ہیں لیکن اچھے اخلاق سچائی اور نیک اعمال لوگوں کے دلوں میں زندہ رہتے ہیں اس لیے سچ بولیں سچ کا ساتھ دیں دوسروں کے حقوق کا احترام کریں اور اپنے مفاد کے لیے کسی کا نقصان نہ کریں اگر ہم چاہتے ہیں کہ دنیا ہمارے ساتھ انصاف کرے تو ہمیں بھی دوسروں کے ساتھ انصاف کرنا ہوگا


یاد رکھیے سچ بولنے والا ہر شخص مقبول نہیں ہوتا لیکن سچائی پر قائم رہنے والا انسان اپنے ضمیر کی عدالت میں سرخرو ضرور رہتا ہے