ضمیر ادھیڑ عمر میں ہی کیوں جاگتا ہے؟ تحریر: جان ایم رمضان
نقطہ نظر
جوانی میں ضمیر کیوں خاموش رہتا ہے، اور غربت میں انسان کو اپنی غلطیاں کیوں دکھائی نہیں دیتیں؟
انسان کی زندگی بھی عجیب تماشا ہے۔ جوانی میں آنکھوں میں خواب ہوتے ہیں، دل میں خواہشات کا طوفان ہوتا ہے، قدموں میں تیزی ہوتی ہے اور ذہن میں دنیا فتح کرنے کے منصوبے ہوتے ہیں۔ اس عمر میں انسان کو اپنی طاقت پر ناز ہوتا ہے، اپنی صلاحیتوں پر بھروسا ہوتا ہے اور اسے یقین ہوتا ہے کہ ابھی پوری زندگی پڑی ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ جو کچھ آج نہیں ملا، کل مل جائے گا، جو خواب آج ادھورے ہیں، وہ کل حقیقت بن جائیں گے۔
جوانی میں انسان اپنی خواہشات کا اسیر ہوتا ہے۔ اسے دولت چاہیے، شہرت چاہیے، عہدہ چاہیے، عزت چاہیے اور معاشرے میں ایک مقام چاہیے۔ ان مقاصد کے حصول میں بعض اوقات وہ رشتوں کو نظرانداز کر دیتا ہے، اپنوں کے جذبات کو کچل دیتا ہے، کسی کی مجبوری سے فائدہ اٹھا لیتا ہے اور کبھی اپنے مفاد کے لیے سچ کو بھی پیچھے چھوڑ دیتا ہے۔ اس وقت اسے اپنی کامیابی دکھائی دیتی ہے، مگر اس کامیابی کی قیمت ادا کرنے والے چہرے دکھائی نہیں دیتے۔
وہ سمجھتا ہے کہ زندگی میں آگے بڑھنے کے لیے سخت ہونا ضروری ہے، حالانکہ سختی اور بےحسی میں بہت فرق ہوتا ہے۔ مضبوط انسان وہ نہیں جو دوسروں کو رلا کر آگے نکل جائے، بلکہ وہ ہے جو طاقت اور اختیار رکھنے کے باوجود کسی کا حق نہ مارے۔چہرے پر عمر کے آثار نمایاں ہونے لگتے ہیں۔ دوستوں کی محفلیں کم ہونے لگتی ہیں۔ والدین کی دعاؤں والے ہاتھ دنیا سے اٹھ جاتے ہیں۔ وہ لوگ جن کی موجودگی کو انسان معمولی سمجھتا تھا، آہستہ آہستہ یادوں کا حصہ بن جاتے ہیں۔ اولاد جوان ہونے لگتی ہے، ذمہ داریاں بدلنے لگتی ہیں اور زندگی کے تجربات انسان کو وہ کچھ سکھانے لگتے ہیں جو بڑی بڑی کتابیں بھی نہیں سکھا سکتیں۔شاید اس لیے کہ جوانی میں انسان کو اپنی غلطیوں کے نتائج کا پورا احساس نہیں ہوتا۔ اسے اپنی زندگی طویل دکھائی دیتی ہے، اپنی طاقت مستقل محسوس ہوتی ہے اور اپنی کامیابی یقینی لگتی ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ ابھی بہت وقت ہے، ابھی معافی مانگ لیں گے، ابھی رشتے سنبھال لیں گے، ابھی کسی کا حق واپس کر دیں گے۔
زندگی کی سب سے بڑی حقیقت یہ ہے کہ بعض غلطیوں کی معافی تو مل سکتی ہے، مگر ان کے نتائج کو ہمیشہ کے لیے مٹایا نہیں جا سکتا۔ بعض لوگ واپس آ سکتے ہیں، بعض نہیں۔ بعض زخم بھر جاتے ہیں، بعض انسان کے اندر عمر بھر نشان چھوڑ جاتے ہیں ۔ کہتے ہیں کہ ضمیر اس وقت جاگتا ہے جب انسان آسائشوں سے لت پت ہوتا ہے، جب اس کے پاس دولت، اختیار، مقام اور سہولتیں آ جاتی ہیں۔ پھر وہ ماضی کو یاد کرتا ہے، اپنی غلطیوں کا جائزہ لیتا ہے اور کبھی کبھی اپنی سابقہ زندگی پر شرمندہ بھی ہوتا ہے۔
اس کے برعکس غربت میں زندگی گزارنے والا انسان اکثر روزی روٹی کی جنگ میں مصروف رہتا ہے۔ اس کے سامنے بچوں کی فیس، گھر کا کرایہ، بجلی کا بل، بیمار والدین کی دوا اور گھر والوں کے چہروں پر مسکراہٹ برقرار رکھنے کی فکر ہوتی ہے۔ اس کے لیے ہر صبح ایک نئی آزمائش اور ہر رات اگلے دن کی فکر لے کر آتی ہے۔
جب پیٹ کی آگ بجھانا مشکل ہو، تو انسان کے لیے اپنی زندگی کا فلسفہ سمجھنے کے لیے وقت نکالنا بھی دشوار ہو جاتا ہے۔ لیکن یہ کہنا درست نہیں کہ غربت میں ضمیر جاگتا ہی نہیں۔ غربت انسان کو مجبور ضرور کر سکتی ہے، مگر اس کا ضمیر زندہ بھی ہو سکتا ہے۔ ہم نے ایسے غریب دیکھے ہیں جو خود بھوکے رہ کر دوسروں کو کھانا کھلاتے ہیں، ایسے مزدور دیکھے ہیں جو ملنے والی اضافی رقم واپس کر دیتے ہیں اور ایسے ضرورت مند دیکھے ہیں جو کسی کا حق کھانے کے بجائے اپنی بھوک برداشت کر لیتے ہیں۔
اسی طرح آسائشوں میں رہنے والا ہر شخص بےضمیر نہیں ہوتا۔ بہت سے صاحبِ حیثیت لوگ دوسروں کے حقوق کا خیال رکھتے ہیں، خاموشی سے ضرورت مندوں کی مدد کرتے ہیں اور اپنے اختیار کو خدمت کا ذریعہ بناتے ہیں۔
اصل فرق غربت اور امارت کا نہیں، انسان کی تربیت، شعور، احساس اور کردار کا ہے۔ البتہ یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ جب انسان مسلسل محرومیوں کا شکار ہو، تو بعض اوقات وہ اپنی بقا کی جنگ میں اخلاقی فیصلوں کے لیے درکار ذہنی سکون کھو بیٹھتا ہے۔ دوسری طرف جب دولت اور اختیار انسان کو غرور میں مبتلا کر دیں، تو اسے اپنی غلطیاں دکھائی دینا بند ہو جاتی ہیں۔ کبھی ضمیر ضرورتوں کے شور میں دب جاتا ہے اور کبھی خواہشات کے شور میں۔
جب انسان اپنی زندگی میں ایک خاص مقام حاصل کر لیتا ہے، تو اس کے پاس ماضی کو دیکھنے کے لیے کچھ فرصت پیدا ہو جاتی ہے۔ وہ اپنے پرانے فیصلوں کا موازنہ آج کے حالات سے کرتا ہے۔ اسے احساس ہوتا ہے کہ جن چیزوں کے حصول کے لیے اس نے دوسروں کو نظرانداز کیا تھا، وہ چیزیں تو حاصل ہو گئیں، مگر ان کے ساتھ وہ سکون حاصل نہ ہو سکا جس کی اسے تلاش تھی۔
اسے معلوم ہوتا ہے کہ بڑے گھر میں رہنا اور بڑے دل کا مالک ہونا دو مختلف باتیں ہیں۔ مہنگے لباس پہننا اور کردار کی خوبصورتی دو الگ حقیقتیں ہیں۔ لوگوں کے درمیان مشہور ہونا اور لوگوں کے دلوں میں جگہ بنانا ایک جیسی کامیابیاں نہیں ہیں۔
انسان کے پاس دولت بڑھ سکتی ہے، مگر اس کے ساتھ تنہائی بھی بڑھ سکتی ہے۔ اس کے پاس اختیار آ سکتا ہے، مگر اپنوں کی محبت کم ہو سکتی ہے۔ وہ دنیا کی نگاہ میں کامیاب ہو سکتا ہے، مگر رات کو اپنے ضمیر کے سامنے ناکام محسوس کر سکتا ہے۔
کاش اس نے والدین کی باتوں کو بوجھ نہ سمجھا ہوتا۔ کاش اس نے دوستوں کی وفاداری کی قدر کی ہوتی۔ کاش اس نے کسی مجبور کا فائدہ نہ اٹھایا ہوتا۔ کاش اس نے رشتوں میں انا کو محبت سے بڑا نہ ہونے دیا ہوتا۔ کاش اس نے دولت کمانے کے ساتھ ساتھ دعائیں کمانے کی بھی کوشش کی ہوتی۔
مگر زندگی میں لفظ ’’کاش‘‘ بہت دیر سے پیدا ہوتا ہے۔
ضمیر کی بیداری کا تعلق عمر سے نہیں، بیدار شعور سے ہے۔ ایک نوجوان بھی اپنی غلطی تسلیم کر سکتا ہے اور ایک عمر رسیدہ انسان بھی اپنی انا میں قید رہ سکتا ہے۔ ایک غریب بھی دوسروں کے حقوق کا محافظ بن سکتا ہے اور ایک امیر بھی اپنے مفادات کی خاطر دوسروں کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔
اگر کسی کی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر ہمارا دل نہیں پسیجتا، اگر کسی کا حق دبا کر ہمیں سکون سے نیند آتی ہے، اگر والدین کی خاموشی ہمیں ان کی تکلیف کا احساس نہیں دلاتی، اگر ہم اپنی غلطی تسلیم کرنے کے بجائے ہر بار دوسروں کو قصوروار ٹھہراتے ہیں، تو ہمیں اپنی کامیابیوں سے زیادہ اپنے کردار کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔
ضمیر کی آواز ہمیشہ بلند نہیں ہوتی۔ کبھی یہ ماں کی خاموشی میں سنائی دیتی ہے، کبھی باپ کی تھکی ہوئی آنکھوں میں، کبھی کسی پرانے دوست کی دوری میں اور کبھی اس غریب کے چہرے پر جسے ہم نے اپنی طاقت کے زعم میں نظرانداز کر دیا تھا۔
اسلام بھی انسان کو اپنے اعمال کا محاسبہ کرنے، دوسروں کے حقوق ادا کرنے اور غلطی پر توبہ کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔ محض پچھتاوا کافی نہیں؛ اگر ہم نے کسی کا حق مارا ہے تو جہاں ممکن ہو، اسے واپس کرنا، معافی مانگنا اور اپنی اصلاح کرنا ضروری ہے۔ حقیقی تبدیلی صرف احساس پیدا ہونے سے نہیں، اس احساس کے مطابق عمل کرنے سے آتی ہے۔
میری نظر میں زندگی کی سب سے بڑی کامیابی یہ نہیں کہ انسان ادھیڑ عمر تک کتنی دولت جمع کر لیتا ہے، کتنے لوگوں پر حکم چلاتا ہے یا کتنے بڑے عہدے حاصل کر لیتا ہے۔ اصل کامیابی یہ ہے کہ جب وہ پیچھے مڑ کر اپنی زندگی دیکھے تو اسے اپنے اعمال پر شرمندگی کے بجائے اطمینان محسوس ہو۔
اس کے والدین اس کے کردار سے خوش ہوں، اس کی اولاد اس سے اچھے اخلاق سیکھے، اس کے دوست اسے قابلِ اعتماد سمجھیں اور معاشرے کے کمزور لوگ اس کے وجود کو اپنے لیے تحفظ محسوس کریں۔
دولت ضروری ہے، آسائشیں بھی زندگی کا حصہ ہیں اور کامیابی حاصل کرنا بھی کوئی برائی نہیں۔ لیکن اگر ان سب کے حصول میں انسان اپنی انسانیت کھو دے، تو اسے رک کر سوچنا چاہیے کہ آخر وہ کس منزل کی طرف جا رہا ہے۔
جوانی میں کی گئی اصلاح پوری زندگی کو سنوار سکتی ہے، جبکہ ادھیڑ عمر میں ہونے والا پچھتاوا اکثر انسان کو صرف یہ احساس دلاتا ہے کہ جو وقت گزر گیا، وہ دوبارہ نہیں آئے گا۔
میری نوجوان نسل سے گزارش ہے کہ کامیابی ضرور حاصل کریں، دولت ضرور کمائیں، اپنے خواب ضرور پورے کریں، لیکن کسی کا حق نہ ماریں، رشتوں کو انا کی بھینٹ نہ چڑھائیں اور اپنی خواہشات کو اپنے ضمیر سے بڑا نہ ہونے دیں۔
اور ان لوگوں سے بھی گزارش ہے جنہیں زندگی نے آسائشیں، اختیار اور مقام عطا کیا ہے کہ وہ کبھی اپنے ماضی کے ان لوگوں کو یاد کریں جنہوں نے ان کے مشکل وقت میں ساتھ دیا تھا۔ اپنے اردگرد موجود مجبور انسانوں کی ضرورت کو محسوس کریں اور اپنی کامیابی کو دوسروں کی آسانی کا ذریعہ بنائیں۔
یاد رکھیے، ضمیر کی بیداری انسان کی شکست نہیں، اس کی اصلاح کا آغاز ہے۔ غلطی کا احساس ہو جائے تو خود کو بدلنے میں دیر نہیں کرنی چاہیے۔
کیونکہ زندگی کا سب سے بڑا المیہ غربت نہیں، دولت کی کمی نہیں اور ناکامی بھی نہیں؛ سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ انسان کو اپنی غلطی کا احساس اس وقت ہو جب اسے درست کرنے کا موقع بہت کم رہ گیا ہو۔
کیا خبر، جس سکون کی تلاش میں ہم پوری زندگی دولت، شہرت اور اختیار کے پیچھے بھاگتے رہتے ہیں، وہ سکون کسی کا حق ادا کرنے، کسی کے آنسو پونچھنے اور اپنے ضمیر کو مطمئن رکھنے میں ہی پوشیدہ ہو۔
مزید پڑھیں



