پاکستان کے ہر شہر میں اورنج ٹرین کیوں نہیں ،تحریر: سید علی جبران نقوی
نقطہ نظر
پاکستان میں ٹریفک کا بڑھتا ہوا دباؤ، مہنگا پٹرول، سڑکوں پر گھنٹوں ضائع ہونے والا وقت اور روزانہ سفر کرنے والے عام شہریوں کی مشکلات ایسے مسائل ہیں جن کا حل نئی سڑکیں بنانے اور مزید بسیں خریدنے میں تلاش کیا جا سکتا۔اور وقت آ گیا ہے کہ پاکستان میں شہری ٹرانسپورٹ کے لیے ایک طویل المدتی قومی منصوبہ بنایا جائے، جس کے تحت بڑے شہروں سے لے کر چھوٹے اضلاع اور تحصیلوں تک آبادی اور ضرورت کے مطابق جدید ریلوے، اورنج ٹرین اور سرکلر ریل کا مربوط نظام قائم کیا جائے۔
سڑکوں کے بجائے جدید ریل کا انتخاب
لاہور اورنج لائن میٹرو ٹرین اس تصور کی ایک اہم مثال ہے۔ پنجاب ماس ٹرانزٹ اتھارٹی کے مطابق اس منصوبے کا راستہ 27.1 کلومیٹر طویل اور اس کے اسٹیشنوں کی تعداد 26 ہے۔ منصوبہ شہری آبادی کو اہم تعلیمی، کاروباری اور رہائشی علاقوں سے ملانے کے لیے بنایا گیا۔ یہ تجربہ ظاہر کرتا ہے کہ مخصوص راستے پر چلنے والی جدید ریل شہری نقل و حرکت بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ پنجاب ماس ٹرانزٹ اتھارٹی
میری تجویز ہے کہ اسی تصور کو پورے پاکستان میں مقامی ضروریات کے مطابق وسعت دی جائے۔ کراچی، لاہور، فیصل آباد، راولپنڈی، ملتان، حیدرآباد، پشاور اور کوئٹہ جیسے بڑے شہروں میں شہری ریل اور سرکلر ریلوے کے امکانات کا جائزہ لیا جائے، جبکہ چھوٹے شہروں اور تحصیلوں میں آبادی، مسافروں کی تعداد اور مالی استطاعت کے مطابق ہلکی ریل یا دوسرے موزوں ذرائع اختیار کیے جائیں جیسے کہ الیکٹرک بسز اور فیڈر روٹ بسز کی بڑی تعداد میں دستیابی کو یقینی بنایا جائے تاکہ عام غریب مسافروں کو سرکاری سستی ٹرانسپورٹ مہیا ہوجائے ۔
جدید سہولتیں اور عام آدمی کی ترجیح
پاکستان میں مستقبل کا ٹرین نظام ایسا ہونا چاہیے جس میں ایئرکنڈیشنڈ ڈبے، آرام دہ نشستیں، خواتین اور معذور افراد کے لیے محفوظ سہولتیں، انٹرنیٹ، ڈیجیٹل ٹکٹنگ، واضح اوقاتِ آمدورفت اور مؤثر سکیورٹی میسر ہو۔ تاہم اصل کامیابی عمارتوں کی خوب صورتی یا مہنگی سہولتوں سے نہیں، بلکہ سستی ٹکٹ، بروقت سفر اور ہر طبقے کی رسائی سے ناپی جانی چاہیے۔
طالب علم، مزدور، ملازم، مریض اور کم آمدنی والے خاندان روزانہ سفر پر اپنی محدود آمدنی کا بڑا حصہ خرچ کرتے ہیں۔ اگر انہیں مناسب کرائے پر قابلِ اعتماد ٹرانسپورٹ ملے تو وقت اور اخراجات دونوں میں بچت ممکن ہے۔ حکومت مستحق شہریوں، طلبہ اور معذور افراد کے لیے رعایتی کرایوں کا نظام بھی متعارف کرا سکتی ہے۔
ترقی یافتہ دنیا سے سبق
دنیا کے کئی ترقی یافتہ شہروں نے میٹرو، شہری ریل، بسوں اور پیدل چلنے کے راستوں کو ایک مربوط نظام میں شامل کیا ہے۔ عالمی بینک کی شہری ریل سے متعلق رہنما کتاب کے مطابق بڑے اور گنجان آباد شہروں میں جدید ریل ٹرانسپورٹ مؤثر سفری نظام کی ریڑھ کی ہڈی بن سکتی ہے، جبکہ دیگر ذرائع مسافروں کو اسٹیشنوں تک پہنچانے میں معاون ہوتے ہیں۔ عالمی بینک
پاکستان کو بھی اسی اصول سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔ لیکن ہر جگہ ایک جیسی اورنج ٹرین بنانا ضروری نہیں۔ جہاں مسافروں کی تعداد کم ہو وہاں بس، فیڈر سروس یا موجودہ ریلوے لائن زیادہ کم خرچ حل ہو سکتی ہے۔ مقصد کسی ایک منصوبے کی نقل نہیں بلکہ عوام کو بہترین ممکنہ سفری سہولت فراہم کرنا ہے۔
آئین، معیشت اور جواب دہی
پاکستان کے آئین کا آرٹیکل 140 اے مقامی حکومتوں کو سیاسی، انتظامی اور مالی اختیارات دینے کی بنیاد فراہم کرتا ہے، جبکہ آرٹیکل 38 عوام کی سماجی و معاشی فلاح سے متعلق اصول بیان کرتا ہے۔ لہٰذا ٹرانسپورٹ منصوبہ بندی میں صوبائی حکومتوں، مقامی اداروں اور متعلقہ وفاقی محکموں کے درمیان واضح ذمہ داریاں اور تعاون ضروری ہیں۔
قومی ٹرانسپورٹ پالیسی 2018 بھی مربوط منصوبہ بندی، ٹرانسپورٹ کے مختلف ذرائع میں ہم آہنگی اور طویل المدتی منصوبہ بندی کی اہمیت اجاگر کرتی ہے۔ وزارتِ منصوبہ بندی، حکومتِ پاکستان
یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ ریلوے نظام سڑکوں کی تعمیر، بسوں، بجلی، پٹریوں کی مرمت یا تکنیکی عملے کی ضرورت ختم نہیں کرتا۔ اس پر بھاری ابتدائی سرمایہ کاری اور مسلسل اخراجات آتے ہیں۔ اس لیے ہر منصوبے سے پہلے فزیبلٹی، لاگت، مسافروں کی متوقع تعداد اور ماحولیاتی اثرات کا آزادانہ جائزہ ضروری ہے۔
اب فیصلہ کرنے کا وقت ہے
حکومت پاکستان کو چاہیے کہ مرحلہ وار قومی شہری ریل منصوبہ بنائے، پہلے ان راستوں کو ترجیح دے جہاں ٹریفک کا دباؤ زیادہ اور مسافروں کی تعداد کافی ہو۔ منصوبوں کی لاگت، ٹھیکوں، ٹکٹوں کی آمدنی، مرمت اور کارکردگی کا باقاعدہ آڈٹ کیا جائے اور عوام کو نتائج سے آگاہ رکھا جائے۔
میرا مؤقف واضح ہے: پاکستان کو محض سڑکوں پر گاڑیوں کی تعداد بڑھانے کے بجائے عوام کو سستا، محفوظ، آرام دہ اور قابلِ اعتماد سفر فراہم کرنا چاہیے۔ جدید ریل اور مربوط پبلک ٹرانسپورٹ اس منزل کی جانب اہم قدم ثابت ہو سکتی ہے۔ ترقی کا اصل معیار بلند عمارتیں یا کشادہ سڑکیں نہیں، بلکہ وہ نظام ہے جو عام شہری کی زندگی آسان بنائے۔
مزید پڑھیں



