ضمیر کی مصلحت اور خاموش معاشرہ،تحریر: مائرہ حمزہ
نقطہ نظرآج انسان نے بہت ترقی کر لی ہے۔ ہم نے سمندر کی گہرائیوں کو ناپ لیا اور آسمان میں اڑنا سیکھ لیا ہے۔ موبائل اور ٹیکنالوجی نے ساری دنیا کو ایک چھوٹی سی سکرین میں سمیٹ دیا ہے۔ ہر سہولت ہماری دسترس میں ہے؛ مگر اس چمک دمک کے پیچھے ایک تلخ حقیقت یہ ہے کہ جیسے جیسے ہم بظاہر امیر ہو رہے ہیں، ویسے ویسے اندر سے غریب ہوتے جا رہے ہیں۔ آسائشیں تو میسر آ گئی ہیں لیکن دل کا سکون کہیں کھو گیا ہے۔ کسی بھی معاشرے کی اصل طاقت اس کا پیسہ یا بلند عمارتیں نہیں ہوتیں، اس کے زندہ ضمیر اور اچھے اخلاق ہوتے ہیں۔
ہمارا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم بے حد مصلحت پسند ہو گئے ہیں۔ ہم ہر معاملے میں اپنا ذاتی نفع و نقصان تولتے ہیں۔ سچ بولنا ہمیں بوجھ لگنے لگا ہے۔ ہم روزمرہ زندگی میں اپنے سامنے ناانصافی، جھوٹ، رشوت، حق تلفی اور کمزور پر ظلم ہوتا دیکھتے ہیں لیکن مصلحت کی چادر اوڑھ کر خاموشی سے گزر جاتے ہیں۔ ہمیں ڈر لگتا ہے کہ اگر ہم نے حق بات کہی تو ہماری نوکری، ہمارا رشتہ، ہمارا کاروبار یا ہماری عزت خطرے میں پڑ جائے گی۔ یہی سوچ ہمیں بزدل بنا رہی ہے۔
یہی خاموشی آج ہمارے معاشرے کی سب سے بڑی بیماری بن چکی ہے۔ ہم نے اپنے ضمیر کو تھپکی دے کر سلا دیا ہے۔ جب کسی مظلوم پر ظلم ہوتا ہے تو ہم آنکھیں بند کر لیتے ہیں اور یہ کہہ کر دل کو تسلی دے دیتے ہیں کہ یہ میرا مسئلہ نہیں۔ ہم اس وقت تک نہیں جاگتے جب تک آگ ہمارے اپنے گھر تک نہ پہنچ جائے۔ ہم بھول جاتے ہیں کہ جب سارا جنگل جل رہا ہو تو ایک درخت اکیلا ہرا نہیں رہ سکتا۔ آج اگر ہم دوسروں کی چیخ پر خاموش ہیں تو کل ہماری فریاد پر بھی کوئی لب نہیں ہلے گا۔ یہ بے حسی بالآخر سب کو لپیٹ میں لے لیتی ہے۔
سوشل میڈیا نے اس خاموشی کو ایک نئی شکل دے دی ہے۔ وہاں ہم بڑی بڑی اخلاقی باتیں، اسٹیٹس اور پوسٹیں تو شیئر کرتے ہیں لیکن عملی زندگی میں قدم نہیں اٹھاتے۔ کسی کی مدد کرنے کے بجائے ہم اس کی ویڈیو بنا کر وائرل کر دیتے ہیں۔ ہمیں انسان سے زیادہ لائکس اور کمنٹس کی فکر رہتی ہے۔ اس دوہرے معیار نے ہمارے دلوں کو اور سخت کر دیا ہے۔ ہم دیکھ کر بھی ان دیکھا کر دیتے ہیں اور سن کر بھی ان سنا۔
اس مصلحت پسندی کا زہر ہماری اگلی نسل میں بھی سرایت کر رہا ہے۔ بچے وہی سیکھتے ہیں جو وہ ہمیں کرتے دیکھتے ہیں؛ اگر وہ دیکھیں گے کہ ان کے بڑے سچ سے زیادہ فائدے کو اہمیت دیتے ہیں، تو وہ بھی یہی سمجھیں گے کہ کامیابی کا راستہ جھوٹ اور خاموشی سے ہو کر گزرتا ہے۔ اگر ہم نے یہی تربیت دینی ہے تو ہم کیسا مستقبل بنا رہے ہیں؟ ایک ایسا مستقبل جہاں ڈگریاں تو ہوں گی مگر کردار نہیں ہوگا۔
قرآن مجید نے اسی مصلحت پسندی اور حق چھپانے کی بیماری سے ہمیں سختی سے روکا ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔
ترجمہ: "اے ایمان والو! انصاف پر خوب قائم ہو جاؤ، اللّٰہ کے لیے گواہی دینے والے بن جاؤ چاہے وہ گواہی تمہارے اپنے خلاف یا تمہارے ماں باپ اور رشتہ داروں کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔"
حوالہ: (سورۃ النساء، آیت: 135)
ایک اور جگہ ارشاد ہے۔
ترجمہ: "اور حق کو باطل کے ساتھ نہ ملاؤ اور نہ حق کو چھپاؤ حالانکہ تم جانتے ہو۔"
حوالہ: (سورۃ البقرہ، آیت: 42)
اور پھر فرمایا۔
ترجمہ: "اور کسی قوم کی دشمنی تمہیں اس بات پر نہ ابھارے کہ تم انصاف نہ کرو، انصاف کرو، یہی تقویٰ کے زیادہ قریب ہے۔"
حوالہ: (سورۃ المائدہ، آیت: 8)
ان آیات سے واضح ہوتا ہے کہ مومن کا ضمیر مصلحت کا غلام نہیں ہوتا، وہ اللّٰہ کے لیے حق پر کھڑا ہوتا ہے۔
اگر ہمیں ایک صحت مند معاشرہ چاہیے تو ہمیں اپنی سوچ کو بدلنا ہوگا۔ ہمیں صرف اپنی ذات سے نکل کر سب کا سوچنا ہوگا۔ تبدیلی کسی بڑے انقلاب سے نہیں، چھوٹے قدموں سے آتی ہے۔ کسی غریب کا حق نہ کھانا، دفتر میں سچ کی گواہی دینا، غلط کو غلط کہنے کی ہمت رکھنا، مظلوم کے ساتھ کھڑا ہونا اور ظالم کا ہاتھ روکنا، یہی وہ چراغ ہیں جو اندھیرے کو ختم کرتے ہیں۔
اب وقت آ گیا ہے کہ ہم ڈرنا چھوڑ دیں۔ یاد رکھیں خاموش رہنا ہمیشہ حکمت نہیں ہوتا، کبھی کبھی خاموشی سب سے بڑا جرم بن جاتی ہے۔ ضمیر کی آواز کبھی غلط نہیں ہوتی، بس ہم اسے سننا چھوڑ دیتے ہیں؛ اگر آج ہم نے خود کو نہ بدلا تو کل تاریخ یہی کہے گی کہ یہ وہ معاشرہ تھا جس کے پاس سب کچھ تھا، موبائل تھا، پیسہ تھا، تعلیم بھی تھی لیکن سچ بولنے کی ہمت نہیں تھی۔ آئیے دیر ہونے سے پہلے اپنے ضمیر کو جگائیں تاکہ کل ہمارے بچے ایک ایسے معاشرے میں سانس لے سکیں جہاں انسانیت سب سے پہلے ہو۔
مزید پڑھیں



