ہفتہ، 24 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

خوش اخلاقی: پیشہ ورانہ پہچان ہونی چاہیے ،تحریر:ندیم یعقوب گوہر

نقطہ نظر
nadeem yaqoob gohar

خوش اخلاقی کسی بھی انسان کی شخصیت کی سچی گواہی ہوتی ہے اور جب یہی اخلاق کسی پیشے سے وابستہ ہو جائے تو وہ اس فرد اور ادارے کی اصل پہچان بن جاتا ہے۔ انسان کا کردار، اس کی بات چیت کا انداز، لہجے کی نرمی اور رویے کی شائستگی یہ ثابت کرتی ہے کہ وہ کس تربیت کا حامل ہے۔ دین اسلام میں اخلاقیات اور خوش اخلاقی کو ایمانداری اور ایمان کا بنیادی حصہ قرار دیا گیا ہے۔ قرآن پاک میں ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ اور لوگوں سے اچھی بات کہو۔ ایک اور مقام پر اللہ رب العزت نے اپنے پیارے نبی حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نرم خوئی اور شائستہ طبع کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر آپ سخت دل اور تند خو ہوتے تو یہ لوگ آپ کے پاس سے چھٹ جاتے۔ اسی طرح احادیثِ مبارکہ بھی حسنِ اخلاق کی اہمیت سے بھری پڑی ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تم میں سے بہترین شخص وہ ہے جس کے اخلاق سب سے اچھے ہوں۔ ایک اور موقع پر آپ علیہ الصلوۃ والسلام نے مسکراہٹ کے ساتھ ملنے کو بھی صدقہ قرار دیا۔ یہ روایات اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ دینِ اسلام میں گفتگو کا احترام اور معاملے میں نرمی محض ایک سطحی برتاؤ نہیں بلکہ عبادت کا درجہ رکھتی ہے۔


جب یہ اخلاقی اصول ہماری عوامی زندگی اور خاص طور پر پبلک آفسز اور سرکاری دفاتر میں داخل ہوتے ہیں تو وہاں کی فضا کو سراپا رحمت اور سہولت بنا دینے کے ضامن بن جاتے ہیں۔ پبلک آفسز میں آنے والا ہر شخص عزت اور احترام کا مکمل طور پر مستحق ہے۔ دفتری کاؤنٹر پر آنے والے شہری کو سب سے پہلے مسکراہٹ اور شائستہ سلام کے ساتھ خوش آمدید کہنا چاہیے، کیونکہ آنے والے فرد کے لیے وہی پہلا تاثر اس کا نصف دباؤ اور ذہنی بوجھ دور کر دیتا ہے۔ جب کوئی شہری اپنے معاملے کو لے کر آئے تو اس کی بات کو کسی بے زاری کے بغیر نہایت توجہ اور حوصلے سے سنا جائے، اس کے نقطہ نظر کو سمجھا جائے اور اس کی پریشانی کی اصل وجہ تک پہنچا جائے۔ محض فائلیں پلٹنا یا سرسری سن کر ٹال دینا پیشہ ورانہ دیانت کے خلاف ہے۔


اس کے بعد سب سے اہم قدم درست اور شفاف معلومات کی فوری فراہمی ہے۔ اگر کسی کام کے لیے خاص کاغذی کارروائی یا وقت درکار ہے تو شہری کو پہلے ہی مرحلے پر پورا طریقہ کار واضح طور پر سمجھا دیا جائے تاکہ اسے بار بار غیر ضروری ذہنی پریشانی سے نہ گزرنا پڑے۔ اگر کوئی کام قانون کے مطابق ممکن نہ ہو تو بھی معذرت کا انداز شائستہ اور باوقار ہونا چاہیے، نہ کہ تحکمانہ اور سرد۔ دفاتر میں التوا اور شکایات کا پیدا ہونا ایک قدرتی امر ہو سکتا ہے، لیکن ایک ذمہ دار اہلکار وہی ہے جو التوا کے اس باب میں اپنی جواب دہی اور ذمہ داری کا ثبوت دے۔ شکایت کی صورت میں سائل کو یہ احساس دلایا جائے کہ اس کا مسئلہ ادارے کی ترجیح ہے اور اس کی حل پذیری کے لیے ممکنہ انتظامی قدم اٹھایا جا رہا ہے۔


تاہم، اس سنہرے اصول کے برعکس ہمارے معاشرے کے پبلک آفسز کی عملی دنیا میں اکثر ایک تلخ اور غیر ذمہ دارانہ رویہ دیکھنے کو ملتا ہے۔ کاؤنٹرز اور سیٹوں پر براجمان اہلکار اپنے پاس آنے والے سائلین کے ساتھ جس ناگواری، چڑچڑے پن اور بے زاری سے پیش آتے ہیں، وہ دل آزاری کا باعث بنتا ہے۔ عام لوگ اپنی معمولی ضرورتوں یا جائز معلومات حاصل کرنے کے لیے کئی کئی گھنٹے انتظار کرتے ہیں، لیکن اہلکار ان کی بات سننے کے بجائے ان پر جھنجھلا رہے ہوتے ہیں یا نظر انداز کر دیتے ہیں۔ یہ رویہ محض شخصی خامی نہیں بلکہ پوری ادارے کی ساکھ کو تباہ کر دیتا ہے۔


ایک اور تکلیف دہ پہلو بار بار کے وہ چکر ہیں جن سے عام شہری روزانہ گزرتا ہے۔ ایک چھوٹے سے دستخط، ایک فارم کی تصدیق یا محض ایک معلومات کے لیے شہریوں کو ایک کھڑکی سے دوسری کھڑکی اور ایک دفتر سے دوسرے دفتر دھکے کھانے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ ایک ہی بار مکمل رہنمائی نہ دینا اور سائل کو نامکمل بات بتا کر رخصت کر دینا ایسا رویہ ہے جس نے عوام کے اندر شدید مایوسی پھیلا رکھی ہے۔ اس پر مستزاد سفارش اور رشوت کا وہ نادیدہ مگر طاقتور نظام ہے جس نے مساوات کی دھجیاں بکھیر دی ہیں۔ جہاں بااثر، صاحبِ ثروت یا کسی رسوخ والے کا کام لمحوں میں اور بغیر کسی قطار کے ہو جاتا ہے، وہاں ایک عام بے بس شہری کا جائز اور قانونی کام بھی ہفتوں اور مہینوں التوا کا شکار رہتا ہے۔


اس ابتر صورت حال سے شہری شدید ذہنی دباؤ اور احساسِ کمتری میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ اپنا ہی حق مانگنے کے لیے جب کوئی سائل سرکاری دفتری کی دہلیز پر قدم رکھتا ہے تو اس کے ساتھ ایسا سلوک کیا جاتا ہے جیسے اس کا کام کر کے اس پر کوئی بہت بڑا احسان چڑھایا جا رہا ہو۔ اس سے ریاست اور عوام کے درمیان موجود اعتماد کا رشتہ ٹوٹ پھوٹ جاتا ہے اور عام آدمی کے دل میں نظام کے خلاف شدید تلخی اور بددلی پیدا ہوتی ہے۔


حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی مہذب اور ترقی یافتہ معاشرے کی بنیاد اس کے اداروں کے اچھے، اخلاقی اور شائستہ رویے پر قائم ہوتی ہے۔ کام کا بوجھ کتنا ہی زیادہ کیوں نہ ہو اور حالات کتنے ہی کشیدہ کیوں نہ ہوں، زبان کی مٹھاس، گفتگو کی تہذیب اور باڈی لینگویج میں ضبط و احترام کا دامن کبھی ہاتھ سے نہیں چھوٹنا چاہیے۔ الفاظ کا انتخاب ایسا ہو جو سامنے والے کی عزتِ نفس کو مجروح نہ کرے اور رویہ ایسا ہو جس میں خلوص اور ہمدردی جھلکتی ہو۔ خوش اخلاقی محض زبان سے چند خوبصورت بول بول دینے کا نام نہیں ہے بلکہ اس کا اصل امتحان دباؤ اور رش کے ماحول میں اپنے رویے کو متوازن اور شائستہ رکھنا ہے۔ جب تک ہم پبلک آفسز اور عوامی خدمات کے مراکز میں انسانی قدروں، اخلاقی ذمہ داری، اور شائستہ زبان کو اپنا شعار نہیں بنائیں گے، تب تک اصلاحِ احوال کی کوئی بھی کوشش کارگر ثابت نہیں ہو سکتی۔ ایک اچھا، تہذیب یافتہ اور اخلاقی رویہ ہی وہ واحد ذریعہ ہے جو کسی ادارے کو عوام کا حقیقی خادم اور ریاست کو اس کے شہریوں کے لیے سائبان بناتا ہے۔