ہفتہ، 17 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

خوشی برائے فروخت،تحریر : محمد سبحان شوق

نقطہ نظر
subhann

دنیا خوشی بیچ رہی ہے مگر انسان خوش کیوں نہیں انسان کی تاریخ میں شاید یہ پہلا دور ہے جب خوشی کو حاصل کرنے کے لیے اتنے زیادہ وسائل موجود ہیں اور اس کے باوجود بے شمار انسان اپنے اندر ایک نامعلوم اداسی لیے زندگی گزار رہے ہیں جدید دنیا نے انسان کو سہولتوں کی ایک ایسی کثرت عطا کی ہے جس کا تصور چند صدیوں پہلے ممکن نہیں تھا سفر آسان ہو چکا ہے رابطے فوری ہو گئے ہیں تفریح ہر وقت ہماری انگلیوں کی دسترس میں ہے بازار ہماری خواہشات کے مطابق اشیا پیش کرتے ہیں اور ڈیجیٹل دنیا ہمیں ہر لمحہ یہ یقین دلانے کی کوشش کرتی ہے کہ زندگی کو مزید خوب صورت بنانے کے لیے بس ایک نئی چیز ایک نیا تجربہ یا ایک نئی کامیابی درکار ہے مگر اس تمام ترقی کے باوجود ایک بنیادی سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ اگر خوشی کے ذرائع پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئے ہیں تو انسان کے اندر اطمینان کیوں نہیں بڑھا اور اگر آسائش ہی خوشی کی ضمانت ہے تو آسائشوں سے بھری ہوئی یہ دنیا اپنے باشندوں کو مکمل سکون کیوں نہیں دے پا رہی اس سوال کا جواب تلاش کرنے کے لیے ہمیں خوشی کے اس تصور کو سمجھنا ہوگا جسے جدید معیشت نے ایک احساس کے بجائے ایک قابل فروخت شے میں تبدیل کر دیا ہے۔

آج کی دنیا میں خوشی محض ایک انسانی کیفیت نہیں رہی بلکہ ایک پوری صنعت کی بنیاد بن چکی ہے اس صنعت میں اشتہارات نفسیاتی حربے سماجی ذرائع ابلاغ فیشن کی دنیا تفریحی کاروبار سیاحت کی تشہیر اور صارفین کی خواہشات کا استحصال کرنے والے بے شمار طریقے شامل ہیں ہر طرف ہمیں یہ بتایا جاتا ہے کہ زندگی ابھی مکمل نہیں ہوئی کیونکہ ہمارے پاس کوئی مخصوص چیز موجود نہیں ہمارا لباس جدید نہیں ہمارا گھر مثالی نہیں ہمارا چہرہ دل کش نہیں ہماری چھٹیاں یادگار نہیں ہمارا طرز زندگی دوسروں جیسا شاندار نہیں اور ہماری کامیابی ابھی اتنی نمایاں نہیں کہ دنیا اسے دیکھ سکے اس طرح انسان کو پہلے اس کی موجودہ زندگی سے غیر مطمئن کیا جاتا ہے اور پھر اسی بے اطمینانی کا علاج مصنوعات اور خدمات کی صورت میں پیش کیا جاتا ہے گویا بازار پہلے ایک کمی کا احساس پیدا کرتا ہے اور پھر اس کمی کو دور کرنے کی قیمت وصول کرتا ہے اس پورے عمل میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ انسان کو یہ احساس کم ہی ہونے دیا جاتا ہے کہ اس کے پاس پہلے سے کیا موجود ہے کیونکہ شکر گزاری خریداری کی رفتار کم کر سکتی ہے جبکہ محرومی کا احساس خواہشات کو مسلسل زندہ رکھتا ہے۔

اس صنعت کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ اس نے انسان کو اپنی زندگی کا جائزہ لینے کے بجائے دوسروں کی زندگیوں سے اپنا موازنہ کرنے کا عادی بنا دیا ہے ماضی میں انسان کا دائرہ تعلق اپنے خاندان محلے شہر اور محدود سماجی حلقے تک زیادہ رہتا تھا مگر آج ایک عام شخص چند لمحوں میں دنیا کے مختلف خطوں میں رہنے والے ہزاروں افراد کی زندگیوں سے واقف ہو جاتا ہے وہ کسی کے مہنگے گھر کو دیکھتا ہے کسی کے غیر ملکی سفر کو کسی کے لباس کو کسی کی شہرت کو کسی کی ظاہری خوب صورتی کو اور کسی کی کامیابی کو دیکھ کر اپنی زندگی کا فیصلہ کرنے لگتا ہے حالانکہ وہ جن زندگیوں کو دیکھ رہا ہوتا ہے ان کا صرف منتخب اور خوش نما حصہ اس کے سامنے ہوتا ہے ان تصاویر کے پیچھے موجود قرضوں کی پریشانیاں خاندانی اختلافات تنہائی ناکامیاں اور ذہنی دباؤ اسے دکھائی نہیں دیتے یوں وہ اپنی پوری زندگی کا موازنہ دوسروں کی زندگی کے چند بہترین لمحوں سے کرنے لگتا ہے یہ موازنہ ابتدا میں معمولی بے اطمینانی پیدا کرتا ہے پھر رفتہ رفتہ احساس کمتری میں بدل سکتا ہے اور بالآخر انسان اپنی حقیقی کامیابیوں کو بھی ناکافی سمجھنے لگتا ہے اس کے پاس روزگار ہو تو وہ دولت مند بننا چاہتا ہے دولت ہو تو شہرت چاہتا ہے شہرت ہو تو مقبولیت کے دوام کا خواہش مند ہوتا ہے اور جب یہ سب حاصل ہو جائے تو اسے اپنی زندگی میں کسی نئی کمی کا احساس دلایا جانے لگتا ہے اس طرح خوشی کی تلاش ایک ایسے سفر میں بدل جاتی ہے جس کی منزل مسلسل آگے منتقل ہوتی رہتی ہے۔

سوشل میڈیا نے اس کیفیت کو ایک نئی شدت عطا کی ہے کیونکہ اب انسان صرف دوسروں کی زندگی نہیں دیکھتا بلکہ اپنی زندگی کو بھی دوسروں کے سامنے پیش کرنے کے لیے ترتیب دینے لگا ہے کھانا کھانے سے پہلے تصویر بنانا سفر کے دوران منظر سے زیادہ اس کی نمائش کی فکر کرنا کسی کامیابی کو محسوس کرنے سے پہلے اسے شائع کرنے کی خواہش رکھنا اور اپنی نجی خوشیوں کو بھی پسندیدگیوں اور تبصروں کے پیمانے پر پرکھنا اس نئی سماجی نفسیات کی نمایاں صورتیں ہیں مسئلہ تصویر بنانے یا خوشی بانٹنے میں نہیں بلکہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب انسان کسی لمحے کی قدر اس کی اندرونی معنویت سے نہیں بلکہ دوسروں کے ردعمل سے متعین کرنے لگتا ہے اگر کسی تصویر کو توقع کے مطابق پذیرائی نہ ملے تو خوشی میں کمی محسوس ہونے لگتی ہے اور اگر کسی دوسرے کی تصویر زیادہ مقبول ہو جائے تو اپنی کامیابی بھی معمولی دکھائی دینے لگتی ہے اس طرح انسان اپنی خوشی کا اختیار رفتہ رفتہ اپنے ہاتھوں سے نکال کر ایک ایسے مجمع کے حوالے کر دیتا ہے جس کے افراد سے اس کا حقیقی تعلق بھی ضروری نہیں ہوتا وہ اپنے احساسات کا مالک رہنے کے بجائے اپنی ذات کا نمائشی منتظم بن جاتا ہے اور زندگی کو جینے سے زیادہ اسے قابل نمائش بنانے میں مصروف ہو جاتا ہے۔

خوشی کی اس عالمی صنعت کا ایک اہم پہلو خوب صورتی اور جوانی کے بارے میں پیدا ہونے والا غیر حقیقی تصور بھی ہے اشتہارات اور ڈیجیٹل ذرائع ابلاغ نے چہرے جسم لباس اور عمر کے حوالے سے ایسے معیارات کو فروغ دیا ہے جنہیں حاصل کرنے کی کوشش میں بہت سے لوگ اپنی فطری ساخت اور انفرادیت سے غیر مطمئن رہنے لگتے ہیں چہرے کی معمولی خامی کو مسئلہ بنا کر پیش کیا جاتا ہے بڑھتی ہوئی عمر کو زندگی کے ایک فطری مرحلے کے بجائے ایک ایسی شکست بنا دیا جاتا ہے جس سے بچنے کے لیے مسلسل مصنوعات اور طریقوں کی ضرورت محسوس ہو اور سادہ ظاہری وضع کو اس وقت تک ناکافی سمجھا جاتا ہے جب تک وہ کسی مقبول رجحان کے مطابق نہ ہو جائے اس کا نتیجہ یہ ہے کہ انسان اپنی ذات کو قبول کرنے کے بجائے اسے ایک نامکمل منصوبہ سمجھنے لگتا ہے جس کی مسلسل اصلاح ضروری ہے اس اصلاح کی کوئی آخری حد نہیں کیونکہ جیسے ہی ایک معیار حاصل ہوتا ہے دوسرا معیار سامنے آ جاتا ہے یوں خوب صورتی کی تلاش خود اعتمادی بڑھانے کے بجائے بعض حالات میں خود اعتمادی کو مزید مشروط کر دیتی ہے انسان اپنے چہرے کو دیکھتا ہے مگر اسے اپنی شناخت دکھائی نہیں دیتی اسے صرف وہ خامیاں دکھائی دیتی ہیں جنہیں دور کرنے کا وعدہ بازار مسلسل کرتا رہتا ہے۔

یہاں ایک بنیادی فرق سمجھنا ضروری ہے کہ اپنی زندگی کو بہتر بنانے کی خواہش بذات خود کوئی برائی نہیں ہے بہتر لباس اچھا گھر مناسب غذا عمدہ تعلیم آرام دہ سفر اور جدید سہولتیں انسانی زندگی کو واقعی آسان بنا سکتی ہیں مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب ان چیزوں کو خوشی کے ممکنہ ذرائع کے بجائے خوشی کی لازمی شرائط بنا دیا جائے جب انسان یہ سمجھنے لگے کہ مخصوص آمدنی کے بغیر وہ مطمئن نہیں ہو سکتا مخصوص گھر کے بغیر اس کی عزت مکمل نہیں ہو سکتی مخصوص ظاہری شکل کے بغیر اسے محبت نہیں مل سکتی یا مخصوص سماجی حیثیت کے بغیر اس کی زندگی قابل قدر نہیں ہو سکتی تو اس کی خواہش ضرورت سے آگے بڑھ کر اس کی نفسیاتی آزادی پر اثر انداز ہونے لگتی ہے آسائش زندگی کا ایک مفید حصہ ہے مگر آسائش اور اطمینان ایک ہی چیز نہیں ہیں دولت مسائل کے بعض دروازے بند کر سکتی ہے مگر زندگی کے ہر سوال کا جواب نہیں بن سکتی اسی طرح غربت کو رومانوی انداز میں پیش کرنا بھی حقیقت سے فرار ہوگا کیونکہ مالی عدم تحفظ واقعی ذہنی دباؤ اور پریشانی کا سبب بن سکتا ہے اصل مسئلہ یہ ہے کہ بنیادی ضروریات کی تکمیل کے بعد بھی اگر انسان اپنی قدر کا فیصلہ صرف دولت اور اشیا سے کرتا رہے تو اس کے لیے موجودہ زندگی میں اطمینان تلاش کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

جدید معاشی نظام کی ساخت بھی اس صورت حال کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے کاروبار کو اپنی بقا اور ترقی کے لیے مصنوعات اور خدمات فروخت کرنا ہوتی ہیں اور اشتہارات صارفین کو ان مصنوعات کی افادیت سے آگاہ کرنے کا ایک جائز ذریعہ ہو سکتے ہیں لیکن جب تشہیر انسانی کمزوریوں خوف محرومی اور سماجی دباؤ سے فائدہ اٹھانے لگے تو صارف اور کاروبار کے درمیان تعلق محض ضرورت کی تکمیل تک محدود نہیں رہتا پھر خواہشات پیدا کرنا بھی فروخت کے عمل کا حصہ بن جاتا ہے انسان کو بار بار یہ پیغام ملتا ہے کہ وہ ابھی کافی نہیں ہے اس کی زندگی میں ابھی بہت کچھ نامکمل ہے اور اس نامکمل ہونے کا علاج کسی نئی خریداری میں پوشیدہ ہے اس نفسیاتی چکر میں ایک چیز حاصل کرنے سے کچھ دیر کے لیے خوشی محسوس ہوتی ہے مگر جب وہ چیز معمول بن جاتی ہے تو اس کی کشش کم ہونے لگتی ہے اور توجہ اگلی خواہش کی طرف منتقل ہو جاتی ہے یوں انسان کی آمدنی بڑھ سکتی ہے اس کے پاس اشیا کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے مگر اس کی توقعات بھی اسی رفتار سے بڑھتی رہتی ہیں نتیجتاً وہ پہلے سے بہتر زندگی گزارنے کے باوجود خود کو پہلے جیسا مطمئن یا کبھی کبھی اس سے بھی زیادہ محروم محسوس کر سکتا ہے۔

اس پورے منظر نامے میں انسانی رشتوں کی اہمیت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کیونکہ خوشی صرف اشیا کے حصول سے پیدا نہیں ہوتی بلکہ اس کا گہرا تعلق تعلقات کے معیار احساس تحفظ باہمی احترام اور اس یقین سے بھی ہے کہ ہماری موجودگی کسی کے لیے معنی رکھتی ہے ایک مہنگا تحفہ محبت کی علامت ہو سکتا ہے مگر وہ مسلسل بے توجہی کا متبادل نہیں بن سکتا ایک شاندار گھر سکون کا ذریعہ ہو سکتا ہے مگر اس گھر میں رہنے والے افراد کے درمیان اعتماد نہ ہو تو اس کی آسائش بھی تنہائی کو مکمل طور پر دور نہیں کر سکتی اسی طرح ہزاروں آن لائن رابطے حقیقی رفاقت کی ضمانت نہیں ہوتے انسان کو اکثر ایسے تعلقات کی ضرورت ہوتی ہے جہاں اسے اپنی کامیابیوں کی نمائش نہ کرنی پڑے جہاں وہ اپنی ناکامی بیان کر سکے جہاں اس کی کمزوری کو تماشا نہ بنایا جائے اور جہاں اس کی قدر اس کی آمدنی ظاہری شکل یا سماجی مرتبے سے مشروط نہ ہو جب زندگی میں یہ تعلقات کمزور پڑنے لگتے ہیں تو انسان کبھی کبھی ان کی جگہ مصروفیات خریداری تفریح اور مسلسل ڈیجیٹل سرگرمیوں سے بھرنے کی کوشش کرتا ہے مگر جو خلا انسانی قربت سے متعلق ہو اسے محض اشیا سے پُر کرنا مشکل ہوتا ہے۔

خوشی کی صنعت کا ایک اور تضاد یہ ہے کہ اس نے آرام کو بھی کارکردگی کے تابع کر دیا ہے انسان کام اس لیے کرتا ہے کہ زندگی بہتر ہو مگر بہت سے لوگ بہتر زندگی کی تلاش میں اتنے مصروف ہو جاتے ہیں کہ انہیں اپنی زندگی محسوس کرنے کا وقت ہی نہیں ملتا چھٹی کے دن بھی ذہن کام میں الجھا رہتا ہے فرصت میں بھی انسان خود کو کسی مفید سرگرمی میں مصروف رکھنے کا دباؤ محسوس کرتا ہے اور آرام کے دوران بھی یہ فکر لاحق رہتی ہے کہ کہیں وقت ضائع تو نہیں ہو رہا اس ماحول میں سکون ایک فطری انسانی ضرورت کے بجائے ایک ایسی مہارت بن جاتا ہے جسے حاصل کرنے کے لیے بھی کوئی کورس کوئی آلہ یا کوئی مہنگا تجربہ درکار محسوس ہوتا ہے حالانکہ کبھی کبھی انسان کو محض مناسب نیند خاموشی میں چند لمحے اپنے خیالات کے ساتھ گزارنے کا موقع اپنے پیاروں کے ساتھ بے غرض وقت اور روزمرہ کی معمولی نعمتوں پر توجہ درکار ہوتی ہے یہ بات درست ہے کہ ذہنی دباؤ کی وجوہات پیچیدہ ہو سکتی ہیں اور ہر اداسی کو محض طرز زندگی کی خرابی قرار نہیں دیا جا سکتا لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ مسلسل مصروف رہنے اور ہر لمحے بہتر دکھائی دینے کے دباؤ میں انسان اپنی بنیادی ضروریات کو نظر انداز کر سکتا ہے۔

اس صورت حال کا حل یہ نہیں کہ انسان بازار سے تعلق توڑ لے ٹیکنالوجی ترک کر دے خواہشات کو ختم کر دے یا ہر آسائش کو دنیا پرستی سمجھنے لگے کیونکہ ایسا رویہ نہ حقیقت پسندانہ ہے اور نہ ضروری ہے اصل ضرورت یہ ہے کہ انسان اپنی خواہشات اور ضروریات کے درمیان فرق پہچانے وہ خریداری سے پہلے خود سے سوال کرے کہ کیا مجھے واقعی اس چیز کی ضرورت ہے یا میں کسی دوسرے کی زندگی دیکھ کر اس کا خواہش مند ہوا ہوں وہ سوشل میڈیا استعمال کرتے وقت یہ سمجھے کہ اس کے سامنے دوسروں کی زندگی کا مکمل احوال نہیں بلکہ منتخب مناظر ہیں وہ اپنی کامیابیوں کا معیار دوسروں کی رفتار کے بجائے اپنی حقیقی ضروریات اور حالات کے مطابق متعین کرے اور اپنی روزمرہ زندگی میں ایسے اوقات پیدا کرے جن میں اسے کچھ خریدنے کچھ دکھانے یا کسی سے اپنی برتری ثابت کرنے کی ضرورت نہ ہو اسی طرح خاندانوں اور معاشروں کو بھی بچوں اور نوجوانوں کی تربیت میں صرف مادی کامیابی کے بجائے دیانت داری ذمہ داری علم ہمدردی اور کردار کو اہمیت دینی چاہیے کیونکہ اگر کسی انسان کو بچپن ہی سے یہ سکھایا جائے کہ اس کی قدر اس کے لباس گھر یا آمدنی سے متعین ہوتی ہے تو بعد کی زندگی میں اسے اپنی ذات کو ان پیمانوں سے الگ دیکھنے میں دشواری ہو سکتی ہے۔

اداروں اور ڈیجیٹل پلیٹ فارموں کی ذمہ داری بھی اس بحث میں اہم ہے کیونکہ صارفین کی توجہ حاصل کرنے کے لیے بنائے گئے بعض طریقے مسلسل استعمال کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں اور اشتہارات کے لیے ذاتی دلچسپیوں اور رویوں سے متعلق معلومات استعمال کی جا سکتی ہیں اس لیے صارفین کو اپنی ڈیجیٹل رازداری اور وقت کے استعمال کے بارے میں باخبر فیصلے کرنے چاہییں جبکہ کمپنیوں کو بھی شفاف تشہیر ذمہ دارانہ ڈیزائن اور صارفین کی کمزوریوں سے غیر ضروری فائدہ نہ اٹھانے کے اصول اپنانے چاہییں تعلیمی اداروں میں ڈیجیٹل شعور مالی آگاہی اور ذہنی صحت سے متعلق بنیادی تعلیم کو فروغ دینا مفید ہو سکتا ہے تاکہ نوجوان اشتہار اور حقیقت میں فرق کر سکیں غیر حقیقی معیارات کو پہچان سکیں اور اپنی خود اعتمادی کو محض آن لائن پذیرائی سے وابستہ نہ کریں ذرائع ابلاغ کو بھی کامیابی کی ایسی متنوع کہانیاں سامنے لانی چاہییں جن میں صرف دولت شہرت اور ظاہری شان و شوکت نہیں بلکہ محنت خدمت علم خاندانی ذمہ داری اور مشکل حالات میں ثابت قدمی کو بھی قدر کی نگاہ سے دیکھا جائے ان اقدامات سے ہر مسئلہ ختم نہیں ہوگا لیکن ایک ایسا ماحول ضرور پیدا کیا جا سکتا ہے جہاں انسان کی توجہ صرف اس بات پر نہ رہے کہ وہ کیا حاصل کر سکتا ہے بلکہ اس پر بھی رہے کہ وہ کس طرح زندگی گزار رہا ہے۔

انفرادی سطح پر شکر گزاری ایک اہم عملی راستہ ہو سکتی ہے مگر شکر گزاری کا مطلب یہ نہیں کہ انسان ناانصافی برداشت کرے اپنی جائز خواہشات ترک کر دے یا مشکلات کے حل کی کوشش چھوڑ دے اس کا اصل مطلب یہ ہے کہ انسان بہتری کی جدوجہد کے ساتھ ساتھ موجود نعمتوں کو بھی پہچانے وہ اپنی صحت کی قدر کرے اپنے خاندان اور مخلص دوستوں کے ساتھ تعلقات کو وقت دے مطالعے فطرت خدمت اور تخلیقی سرگرمیوں کے لیے جگہ نکالے اور اپنی کامیابی کو صرف اس سوال سے نہ ناپے کہ اس کے پاس کتنا کچھ جمع ہو گیا ہے بلکہ یہ بھی دیکھے کہ اس کی زندگی میں کتنا سکون کتنا اعتماد اور دوسروں کے لیے کتنی گنجائش پیدا ہوئی ہے اگر کوئی شخص مالی پریشانی یا مسلسل ذہنی دباؤ کا شکار ہے تو اس کے لیے عملی مدد حاصل کرنا ضروری ہو سکتا ہے اور اگر اداسی طویل عرصے تک برقرار رہے یا روزمرہ زندگی متاثر ہونے لگے تو کسی مستند ذہنی صحت کے ماہر سے رجوع کرنا بھی مناسب ہے خوشی کو محض مثبت سوچ کا مسئلہ سمجھنا ان حقیقی رکاوٹوں کو نظر انداز کر سکتا ہے جن کا سامنا بہت سے انسان کرتے ہیں اس لیے انفرادی کوشش کے ساتھ سماجی تعاون بہتر معاشی مواقع اور ذہنی صحت کی سہولتوں تک رسائی بھی ضروری ہے۔

آخر میں سوال یہ نہیں کہ خوشی خریدی جا سکتی ہے یا نہیں کیونکہ زندگی میں بعض چیزیں واقعی خوشی فراہم کرتی ہیں ایک کتاب علم کا دروازہ کھول سکتی ہے ایک سفر نئی دنیا سے متعارف کرا سکتا ہے ایک مناسب گھر تحفظ دے سکتا ہے اور ایک تحفہ محبت کا احساس پیدا کر سکتا ہے اصل سوال یہ ہے کہ کیا خوشی کو صرف خریداری کے ذریعے حاصل کیا جا سکتا ہے اور کیا انسان اپنی زندگی کی قدر کا فیصلہ ان چیزوں سے کرے گا جنہیں وہ جمع کر سکتا ہے یا ان معنوں سے بھی جو وہ اپنی زندگی میں پیدا کرتا ہے جدید دنیا نے انسان کو بہت کچھ فراہم کیا ہے مگر اس کے ساتھ ایک ایسی دوڑ بھی پیدا کی ہے جس میں ہر منزل کے بعد ایک نئی منزل سامنے آ جاتی ہے اس دوڑ سے مکمل طور پر باہر نکلنا شاید ممکن نہ ہو لیکن انسان یہ فیصلہ ضرور کر سکتا ہے کہ وہ اس میں کس حد تک شریک ہونا چاہتا ہے اور کس مقام پر رک کر اپنی زندگی کو دیکھنا چاہتا ہے خوشی شاید کسی آخری خریداری کسی کامل چہرے کسی بے عیب گھر یا دنیا بھر کی پسندیدگیوں میں چھپی ہوئی نہیں بلکہ اس توازن میں موجود ہے جہاں خواہش انسان کی محنت کو تحریک دیتی ہے مگر اس کی خود اعتمادی کو غلام نہیں بناتی جہاں ترقی کی آرزو برقرار رہتی ہے مگر موجودہ زندگی کی قدر بھی باقی رہتی ہے اور جہاں انسان یہ سمجھ لیتا ہے کہ بہتر زندگی گزارنے کے لیے ہر چیز کا مالک بننا ضروری نہیں بلکہ اپنی زندگی کے مقصد کو پہچاننا اور اس کے مطابق جینا بھی اتنا ہی ضروری ہے دنیا خوشی کے نام پر بے شمار چیزیں فروخت کرتی رہے گی مگر انسان کی اصل آزادی اس دن شروع ہوگی جب وہ ہر فروخت ہونے والی چیز کو اپنی خوشی کی شرط سمجھنا چھوڑ دے گا اور اپنی زندگی کا فیصلہ بازار کے شور کے بجائے اپنے شعور اور اپنی حقیقی انسانی قدروں کی روشنی میں کرنا سیکھ لے گا۔