جمعرات، 15 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

خیبرپختونخوا کے محکمہ معدنیات میں 16 ارب 94 کروڑ روپے کی بے ضابطگیوں کا انکشاف

مصنف:

پشاور: خیبرپختونخوا کے محکمہ معدنیات میں صرف ایک سال کے دوران 16 ارب 94 کروڑ روپے کی مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے۔ 2022 اور 2023 کی آڈٹ رپورٹ کے مطابق غیر قانونی کان کنی، ٹھیکے داروں سے واجبات کی عدم وصولی اور دیگر انتظامی و مالی بے ضابطگیوں کے باعث صوبائی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچا۔


آڈٹ رپورٹ کے مطابق غیر قانونی کان کنی کے باعث صوبے کو 8 ارب روپے کا نقصان ہوا، جبکہ نادہندہ ٹھیکے داروں سے 4 ارب 31 کروڑ روپے وصول نہیں کیے جا سکے۔ غیر قانونی مائننگ اور بقایاجات کی عدم وصولی کے نتیجے میں صوبائی خزانے کو مزید 3 ارب 8 کروڑ روپے کا نقصان ریکارڈ کیا گیا۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مختلف اضلاع میں چیک پوسٹوں اور انسپکٹرز کی موجودگی کے باوجود غیر قانونی کان کنی کا سلسلہ جاری رہا، جس سے قومی خزانے کو ایک ارب 83 کروڑ روپے کا نقصان ہوا۔آڈٹ رپورٹ کے مطابق کوئلہ، باکسائٹ، لائم اسٹون اور سوپ اسٹون کی کانوں کے لیز ہولڈرز سے واجبات وصول نہ ہونے پر 81 کروڑ روپے کا نقصان ہوا، جبکہ جوائنٹ وینچر کے دوران ایڈوانس خالص منافع جمع نہ کرانے سے 58 کروڑ روپے کی مالی بے ضابطگی سامنے آئی۔


رپورٹ میں پشاور میں محکمہ معدنیات کی اراضی کے کرائے میں بھی بے ضابطگی کی نشاندہی کی گئی ہے۔ اراضی کا کرایہ 10 ہزار روپے فی ایکڑ کے مقررہ نرخ کے بجائے صرف 200 روپے فی ایکڑ وصول کیا گیا، جس کے باعث 14 کروڑ روپے کا نقصان ہوا۔اسی طرح کوہاٹ، نوشہرہ، صوابی، ہری پور اور دیگر مقامات پر سمال ڈیمز کے لیے مائننگ واجبات وصول نہ کیے جانے سے 53 کروڑ روپے کا نقصان ریکارڈ کیا گیا۔آڈٹ رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ پشاور، کوہاٹ اور ڈیرہ اسماعیل خان میں معدنیات کے باقاعدہ ٹھیکے نہ دینے کے باعث 25 کروڑ روپے کا نقصان ہوا، جبکہ مردان میں رائلٹی کے بقایاجات وصول نہ ہونے سے 6 کروڑ 36 لاکھ روپے کا نقصان سامنے آیا۔رپورٹ میں سامنے آنے والی ان بے ضابطگیوں کے باعث محکمہ معدنیات کے مالیاتی نظام، غیر قانونی کان کنی کی روک تھام اور سرکاری واجبات کی وصولی کے طریقہ کار پر سوالات اٹھتے ہیں۔