خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کا صدارتی فرمان قومی اسمبلی میں پیش

اسلام آباد: خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق صدارتی فرمان قومی اسمبلی میں پیش کر دیا گیا، جبکہ اس حوالے سے قرارداد بھی بحث کے لیے ایوان میں پیش کر دی گئی۔
اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے وقفہ سوالات معطل کرنے کی قرارداد پیش کی، جسے اسپیکر نے منظور کر لیا۔ بعد ازاں وفاقی وزیر نے آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق صدارتی فرمان اور قرارداد ایوان میں پیش کی۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں اندرونی خلفشار اور بیرونی دراندازی کے باعث ایمرجنسی کے نفاذ کا فیصلہ کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت کا دہشت گردی کے خلاف رویہ غیر سنجیدہ رہا۔سہیل آفریدی نے اپنی سیاسی سرگرمیوں کو ترجیح دی اور سیکیورٹی فورسز کے اہلکاروں اور عوام کی شہادتوں کو نظر انداز کیا۔
قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ اور پاکستان تحریک انصاف کے رکن شفقت اعوان کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔ اسپیکر سردار ایاز صادق دونوں ارکان کو خاموش کروانے اور صورت حال پر قابو پانے کی کوشش کرتے رہے۔
مزید پڑھیں





