منگل، 20 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

خیبرپختونخوا،پی ٹی آئی دور حکومت، محکمہ تعلیم میں ایک سال کے دوران 92 کروڑ روپے کی مبینہ بے ضابطگیاں

sohail afridi
مصنف:

خیبرپختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے دورِ حکومت کے دوران محکمہ تعلیم میں ایک سال کے عرصے میں 92 کروڑ روپے کی مبینہ مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے۔


آڈیٹر جنرل کی رپورٹ میں اساتذہ کو ٹیبلٹس کی فراہمی، مردان تعلیمی بورڈ میں کاغذ کی خریداری، ٹھیکوں اور دیگر اخراجات میں مالی بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ اس عرصے کے دوران شہرام ترکئی صوبائی وزیر تعلیم تھے۔رپورٹ کے مطابق ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افسران کے ذریعے بھرتی ہونے والے نئے اساتذہ کو ٹیبلٹس کی فراہمی کے معاملے میں 37 کروڑ 43 لاکھ روپے کی مبینہ بے ضابطگیاں سامنے آئیں۔ بتایا گیا ہے کہ 15 ہزار افراد میں 42 کروڑ 47 لاکھ روپے مالیت کے ٹیبلٹس تقسیم کیے گئے، تاہم اس حوالے سے تحقیقات کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی۔رپورٹ کے مطابق سکروٹنی کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ صرف ایک ہزار 779 ٹیبلٹس ڈائریکٹوریٹ کو واپس کیے گئے، جبکہ باقی 13 ہزار 221 ٹیبلٹس کے بارے میں کوئی وضاحت سامنے نہیں آئی اور انہیں غائب قرار دیا گیا۔آڈیٹر جنرل کی رپورٹ میں مالی سال 2022-23 کے دوران بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن مردان میں کاغذ کی خریداری کی مد میں 4 کروڑ 87 لاکھ روپے کی بے ضابطگیوں کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔رپورٹ کے مطابق سرکاری قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مبینہ طور پر من پسند فرم کو ٹھیکہ دینے کے نتیجے میں قومی خزانے کو 19 کروڑ 20 لاکھ روپے کا نقصان پہنچا۔ اسی طرح بورڈ کے چیئرمین کی جانب سے ایگزیکٹو الاؤنس کی مد میں 71 لاکھ روپے وصول کیے جانے کی نشاندہی کی گئی، حالانکہ رپورٹ کے مطابق وہ اس کے مجاز نہیں تھے۔آڈٹ رپورٹ میں اسمارٹ فونز کی خریداری میں بھی ایک کروڑ 30 لاکھ روپے کی مبینہ مالی بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔رپورٹ میں سامنے آنے والے ان معاملات نے سرکاری تعلیمی اداروں میں مالی نظم و ضبط، خریداری کے طریقہ کار اور سرکاری وسائل کے استعمال سے متعلق اہم سوالات اٹھا دیے ہیں۔ ان مبینہ بے ضابطگیوں کی مکمل تفصیلات، ذمہ داروں کے تعین اور قومی خزانے کو پہنچنے والے نقصان کی حتمی نوعیت کے لیے متعلقہ ریکارڈ اور تحقیقات کی روشنی میں مزید وضاحت ضروری ہے۔