منگل، 20 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

معلومات کے سیلاب میں شعور کی موت،تحریر: سائرہ علی

نقطہ نظر

انسان نے صدیوں کی محنت، تحقیق اور تجربے سے علم کے ایسے دروازے کھولے ہیں جن کا تصور کبھی خواب معلوم ہوتا تھا۔ آج دنیا کے ایک کونے میں ہونے والا واقعہ چند لمحوں میں دوسرے کونے تک پہنچ جاتا ہے۔ ایک چھوٹا سا آلہ ہماری ہتھیلی پر پوری دنیا سمیٹے ہوئے ہے۔ خبریں، تجزیے، تصاویر، ویڈیوز، تحقیقی مضامین اور بے شمار معلومات ہر لمحہ ہماری توجہ کی منتظر رہتی ہیں۔ بظاہر یہ انسانی ترقی کا حیرت انگیز دور ہے، لیکن اس چمکتی ہوئی تصویر کے پیچھے ایک خاموش المیہ بھی جنم لے رہا ہے۔ معلومات بڑھ رہی ہیں، مگر شعور کمزور پڑ رہا ہے ۔رابطے بڑھ رہے ہیں، مگر دلوں کے فاصلے مٹنے کے بجائے مزید گہرے ہو رہے ہیں۔ آوازیں بلند ہیں، مگر سچائی کی آواز پہچاننا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم واقعی زیادہ باشعور ہو رہے ہیں، یا معلومات کے اس بے کنار سمندر میں ہماری فکری بصیرت ڈوبتی جا رہی ہے؟ یہ سوال محض ٹیکنالوجی کے استعمال کا نہیں، انسانی وجود، اجتماعی رویوں اور تہذیبی مستقبل کا سوال ہے۔

معلومات اور شعور بظاہر ایک دوسرے کے قریب نظر آتے ہیں، مگر حقیقت میں دونوں کے درمیان ایک بنیادی فرق ہے۔ معلومات ہمیں بتاتی ہیں کہ کیا ہوا، جبکہ شعور ہمیں یہ سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ کیوں ہوا، اس کے نتائج کیا ہوں گے اور اس صورتِ حال میں ہماری ذمہ داری کیا بنتی ہے۔ معلومات ذہن میں حقائق کا اضافہ کرتی ہیں، جبکہ شعور ان حقائق کو پرکھنے، ان کے درمیان تعلق قائم کرنے اور درست نتیجے تک پہنچنے کی صلاحیت پیدا کرتا ہے۔ کسی خبر کو پڑھ لینا علم کی ابتدا ہو سکتا ہے، مگر اس کی حقیقت جانچنا، اس کے پس منظر کو سمجھنا اور جذبات کے بجائے دلیل کی بنیاد پر رائے قائم کرنا شعور کی علامت ہے۔ بدقسمتی سے ہم نے معلومات جمع کرنے کو علم اور اپنی رائے کا اظہار کرنے کو دانش مندی سمجھ لیا ہے۔ چند سرخیاں پڑھ کر ہم ماہر بن جاتے ہیں، مختصر ویڈیو دیکھ کر فیصلے صادر کر دیتے ہیں اور سوشل میڈیا پر کسی مقبول شخصیت کی رائے سن کر اسے حتمی سچائی تصور کرنے لگتے ہیں۔ ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ ہر پُراعتماد لہجے کے پیچھے

حقیقت ضروری نہیں ہوتی اور ہر وائرل خبر صداقت کی سند نہیں رکھتی۔ معلومات کے اس سیلاب میں سب سے بڑا نقصان ہماری سوچنے کی عادت کو پہنچ رہا ہے۔ انسانی ذہن کو غور و فکر، خاموشی، مطالعے اور سوال کرنے کے لیے وقت درکار ہوتا ہے۔ ایک خیال کو سمجھنے، مختلف زاویوں سے دیکھنے اور اس کے نتائج اخذ کرنے میں ذہنی محنت صرف ہوتی ہے۔ لیکن آج ہماری توجہ مسلسل ایک خبر سے دوسری خبر، ایک ویڈیو سے دوسری ویڈیو اور ایک بحث سے دوسری بحث کی طرف منتقل ہوتی رہتی ہے۔ ہم کسی بات پر ٹھہرنے کے بجائے اگلی بات کی طرف بڑھ جاتے ہیں۔ یوں ذہن مصروف تو رہتا ہے، مگر ضروری نہیں کہ اس مصروفیت سے فہم و ادراک میں بھی اضافہ ہو۔ نفسیات میں انسانی توجہ اور یادداشت پر ہونے والی تحقیق اس امر کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ مسلسل توجہ کی تقسیم پیچیدہ کاموں میں ہماری کارکردگی کو متاثر کر سکتی ہے۔ جب ہم ہر چند لمحوں بعد اپنے فون کی اسکرین دیکھتے ہیں تو مطالعے، غور و فکر اور گہری یکسوئی کے لیے درکار وقت کم ہو جاتا ہے۔ نتیجتاً ہم بہت کچھ دیکھتے ہیں، بہت کچھ سنتے ہیں، لیکن اس میں سے بہت کم کو سمجھ کر اپنی فکر کا حصہ بنا پاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج طویل تحریر پڑھنا بعض لوگوں کے لیے دشوار اور چند سیکنڈ کی ویڈیو دیکھنا آسان ہوتا جا رہا ہے۔ مسئلہ مختصر مواد کا وجود نہیں، بلکہ یہ ہے کہ کہیں ہم نے آسانی کی محبت میں گہرائی سے تعلق تو نہیں توڑ لیا؟ زندگی کے اہم سوالات چند جملوں میں حل نہیں ہوتے۔ کردار سازی، معاشرتی اصلاح، تاریخ کی تفہیم اور انسانی رویوں کی پہچان کے لیے صبر، مطالعہ اور مسلسل غور و فکر ضروری ہے۔

اس صورتِ حال کا ایک خطرناک پہلو جھوٹی معلومات کا پھیلاؤ ہے۔ ڈیجیٹل دنیا میں ایک غیر مصدقہ خبر، سیاق و سباق سے کاٹی گئی تصویر یا مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ جعلی ویڈیو ہزاروں نہیں، لاکھوں افراد تک پہنچ سکتی ہے۔ عالمی سطح پر غلط معلومات اور گمراہ کن مواد کو ایک اہم سماجی خطرہ تسلیم کیا جا رہا ہے۔ مسئلہ یہ نہیں کہ جھوٹ پہلے کبھی موجود نہیں تھا، بلکہ یہ ہے کہ اب اسے پھیلانے کی رفتار، اس کی ظاہری حقیقت پسندی اور اس کے اثرات کہیں زیادہ وسیع ہو سکتے ہیں۔

ایک جھوٹی خبر کسی شخص کی عزت پامال کر سکتی ہے، کسی خاندان کو ذہنی اذیت میں مبتلا کر سکتی ہے، معاشرے میں نفرت پیدا کر سکتی ہے اور عوامی رائے کو گمراہ کر سکتی ہے۔ اس کے باوجود ہم میں سے بہت سے لوگ خبر کی تصدیق کرنے سے پہلے اسے آگے پہنچانے میں جلدی کرتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اطلاع پہنچانا ہماری ذمہ داری ہے، مگر یہ نہیں سوچتے کہ اگر اطلاع غلط ہوئی تو اس کے نقصان کی ذمہ داری کون اٹھائے گا۔ یہاں ایک بنیادی اخلاقی اصول یاد رکھنا چاہیے: ہر سنی ہوئی بات آگے بیان کرنے کے قابل نہیں ہوتی۔ خبر کی تصدیق محض صحافتی تقاضا نہیں، انسانی ذمہ داری بھی ہے۔ کسی مواد کو شیئر کرنے سے پہلے اس کے اصل ماخذ، تاریخ، سیاق و سباق اور دوسرے معتبر ذرائع سے اس کی تائید کا جائزہ لینا چاہیے۔ اگر حقیقت واضح نہ ہو تو خاموش رہنا، غلط بات پھیلانے سے بہتر ہے۔ معلومات کے اس طوفان نے ہماری اجتماعی گفتگو کو بھی متاثر کیا ہے۔ اختلافِ رائے، جو کسی معاشرے کی فکری ترقی کا ذریعہ بن سکتا ہے، اکثر ذاتی دشمنی میں بدل جاتا ہے۔ ہم دلیل کا جواب دلیل سے دینے کے بجائے مخالف کی نیت پر حملہ کرتے ہیں۔ کسی کی بات پوری سنے بغیر اسے رد کر دیتے ہیں اور اپنی پسند کے مؤقف کی حمایت میں موجود ہر دلیل قبول کر لیتے ہیں، جبکہ مخالف نقطۂ نظر کی مضبوط دلیل بھی نظرانداز کر دیتے ہیں۔ یہ رویہ شعور کے بجائے تعصب کو تقویت دیتا ہے۔ باشعور انسان اپنی رائے رکھتا ہے، مگر اسے اپنی رائے پر نظرثانی کرنے سے خوف نہیں آتا۔ وہ جانتا ہے کہ غلطی تسلیم کرنا کمزوری نہیں، ذہنی پختگی کی علامت ہے۔ اس کے برعکس جو شخص ہر

اختلاف کو اپنی توہین سمجھتا ہے، وہ سچائی کی تلاش سے زیادہ اپنی انا کی حفاظت میں مصروف رہتا ہے۔ سوشل میڈیا کے الگورتھم بھی اس معاملے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ بہت سے ڈیجیٹل پلیٹ فارم صارفین کی دلچسپی کے مطابق مواد پیش کرتے ہیں۔ اس سے سہولت تو پیدا ہوتی ہے، لیکن بعض حالات میں انسان کو بار بار وہی خیالات اور مؤقف دکھائی دیتے ہیں جن سے وہ پہلے ہی اتفاق کرتا ہے۔ یوں اسے محسوس ہونے لگتا ہے کہ پوری دنیا اسی طرح سوچتی ہے جیسے وہ سوچتا ہے۔ مختلف نقطۂ نظر سے واسطہ کم پڑنے پر اختلاف برداشت کرنے اور اپنی سوچ کا جائزہ لینے کی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ٹیکنالوجی بذاتِ خود ہماری دشمن ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہی ٹیکنالوجی تعلیم، تحقیق، علاج، رابطے اور انسانی ترقی کے بے شمار مواقع فراہم کر رہی ہے۔ ایک طالب علم دور دراز بیٹھ کر معیاری تعلیمی مواد حاصل کر سکتا ہے، ایک محقق دنیا بھر کی تحقیقات تک رسائی حاصل کر سکتا ہے اور ایک عام شہری ان مسائل کو سمجھ سکتا ہے جن سے پہلے وہ ناواقف تھا۔ اصل مسئلہ وسیلے میں نہیں، اس کے استعمال کے طریقے میں ہے۔ چاقو سے پھل بھی کاٹا جا سکتا ہے اور نقصان بھی پہنچایا جا سکتا ہے۔اسی طرح معلومات بھی تعمیر کا ذریعہ بن سکتی ہیں اور تباہی کا سبب بھی۔

لہٰذا ضرورت ٹیکنالوجی سے فرار اختیار کرنے کی نہیں، بلکہ اسے شعور کے تابع کرنے کی ہے۔

اس مقصد کے لیے ہمیں اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں چند بنیادی تبدیلیاں لانا ہوں گی۔ سب سے پہلے مطالعے کو دوبارہ اپنی عادت بنانا ہوگا۔ ایسی کتابیں اور تحریریں پڑھنی ہوں گی جو محض ہماری پسند کی تصدیق نہ کریں بلکہ ہمارے سامنے نئے سوالات بھی رکھیں۔ تاریخ، سائنس، فلسفے، ادب اور معاشرتی علوم کا مطالعہ ہمیں انسانی تجربات کی وسعت سے روشناس کراتا ہے۔ مطالعہ صرف معلومات فراہم نہیں کرتا، بلکہ اگر سنجیدگی سے کیا جائے تو انسان کو دوسروں کے تجربات، احساسات اور نقطۂ نظر سمجھنے کی صلاحیت بھی دیتا ہے۔

دوسرا قدم خبر اور رائے میں فرق کرنا ہے۔ خبر کسی واقعے کے بارے میں قابلِ تصدیق معلومات فراہم کرتی ہے، جبکہ رائے اس واقعے کی تشریح یا اس کے بارے میں کسی شخص کا نقطۂ نظر ہوتی ہے۔ دونوں کو خلط ملط کر دینے سے گمراہی جنم لیتی ہے۔ ہمیں یہ سوال کرنے کی عادت ڈالنی چاہیے کہ اس دعوے کا ثبوت کیا ہے؟ معلومات کہاں سے حاصل کی گئی ہیں؟ کیا دوسرے معتبر ذرائع بھی اس کی تصدیق کرتے ہیں؟ کیا اس میں کوئی اہم پہلو چھپایا گیا ہے؟ ایسے سوالات بدگمانی پیدا کرنے کے لیے نہیں، حقیقت تک پہنچنے کے لیے ضروری ہیں۔ تیسرا قدم اپنی توجہ کی حفاظت کرنا ہے۔ ہر اطلاع فوری توجہ کی مستحق نہیں ہوتی اور ہر بحث میں حصہ لینا ضروری نہیں ہوتا۔ دن کا کچھ وقت موبائل اور سوشل میڈیا سے الگ گزارنا، خاموشی میں سوچنا، خاندان کے افراد سے براہِ راست گفتگو کرنا اور اپنے خیالات کا جائزہ لینا ذہنی توازن کے لیے مفید عادات ہیں۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ زندگی کا ہر قیمتی لمحہ اسکرین پر گزار دینا ترقی نہیں، بعض اوقات اپنی ذات اور اپنے رشتوں سے دوری بھی ہے۔ چوتھا قدم اپنی اخلاقی ذمہ داری کو پہچاننا ہے۔ شعور صرف درست معلومات حاصل کرنے کا نام نہیں، بلکہ ان معلومات کی روشنی میں درست طرزِ عمل اختیار کرنے کا نام بھی ہے۔ اگر ہم معاشرتی ناانصافی کے بارے میں جانتے ہیں مگر اپنے رویے میں انصاف پیدا نہیں کرتے، اگر ہم انسانی حقوق پر گفتگو کرتے ہیں مگر دوسروں کی عزت کا خیال نہیں رکھتے، اگر ہم سچائی کے حامی ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں مگر اپنی پسند کے جھوٹ کو قبول کر لیتے ہیں تو ہماری معلومات ہمارے کردار کو بہتر نہیں بنا رہیں۔ اصل شعور وہ ہے جو انسان کے فیصلوں، رویوں اور معاملات میں دکھائی دے۔ وہ جو اختلاف میں تہذیب، طاقت میں انکسار، علم میں عاجزی اور گفتگو میں ذمہ داری پیدا کرے۔ یہ ذمہ داری صرف ایک فرد تک محدود نہیں۔ تعلیمی اداروں کو طلبہ میں سوال کرنے، دلیل سمجھنے اور معلومات کی جانچ کرنے کی صلاحیت پیدا کرنی چاہیے۔ ذرائع ابلاغ کو سنسنی خیزی کے بجائے تحقیق اور ذمہ دارانہ رپورٹنگ کو ترجیح دینی چاہیے۔ والدین کو بچوں کے ہاتھ میں محض آلات دینے کے بجائے ان کے ساتھ گفتگو، مطالعے اور تنقیدی سوچ کی عادت پروان چڑھانی چاہیے۔ معاشرے کو ایسے افراد کی قدر کرنی چاہیے جو شور مچانے کے بجائے دلیل دیتے ہیں، نفرت پھیلانے کے بجائے مسائل کا حل تلاش کرتے ہیں اور اپنی غلطی تسلیم کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔ آخر میں ہمیں خود سے ایک سوال ضرور کرنا چاہیے: ہم روزانہ کتنی معلومات حاصل کرتے ہیں اور ان میں سے کتنی ہماری سوچ، کردار اور فیصلوں کو بہتر بناتی ہیں؟ ہم کتنی خبریں دوسروں تک پہنچاتے ہیں، اور کتنی بار ان کی سچائی کی تصدیق کرتے ہیں؟ ہم کتنی بحثوں میں حصہ لیتے ہیں اور کتنی مرتبہ کسی دوسرے انسان کو سمجھنے کے لیے خاموشی سے اس کی بات سنتے ہیں؟ یہ سوالات معمولی دکھائی دیتے ہیں، مگر انہی کے جوابات ہمارے فکری مستقبل کا تعین کریں گے۔ دنیا کو معلومات کی کمی سے زیادہ اس شعور کی ضرورت ہے جو معلومات کو حکمت میں بدل سکے۔ ہمیں ایسے ذہن درکار ہیں جو ہر دعوے کے سامنے سوال اٹھا سکیں، ایسے دل درکار ہیں جو علم کے باوجود انسانیت سے خالی نہ ہوں اور ایسے کردار درکار ہیں جو سچائی کو ذاتی مفاد پر ترجیح دے سکیں۔

یاد رکھیے، معلومات کا انبار کسی انسان کو لازماً دانا نہیں بناتا، جیسے کتابوں سے بھری الماری اپنے آپ کسی گھر کو علم کا مرکز نہیں بنا دیتی۔ علم اس وقت زندگی بدلتا ہے جب وہ فہم میں ڈھلتا ہے، فہم اس وقت بامعنی ہوتا ہے جب وہ شعور پیدا کرتا ہے، اور شعور اس وقت اپنی تکمیل کو پہنچتا ہے جب وہ کردار اور عمل میں ظاہر ہوتا ہے۔ آج ہماری ہتھیلیوں میں دنیا سمائی ہوئی ہے، مگر ہمیں اپنے اندر جھانکنے کی فرصت کم ہوتی جا رہی ہے۔ ہم دوسروں کی زندگیوں کی خبریں جانتے ہیں، مگر اپنی ترجیحات سے ناواقف ہیں۔ دنیا کے واقعات پر تبصرے کرتے ہیں، مگر اپنے رویوں کا محاسبہ نہیں کرتے۔ شاید یہی ہمارے عہد کا سب سے بڑا المیہ ہے کہ ہم نے معلومات کی روشنی میں ہر شے کو دیکھنا سیکھ لیا، مگر اپنے باطن کے اندھیروں کو پہچاننا بھول گئے۔ وقت کا تقاضا یہ نہیں کہ ہم معلومات سے منہ موڑ لیں، بلکہ یہ ہے کہ معلومات کے ہجوم میں اپنی سوچ کی آواز سننا سیکھیں۔ ہر خبر کو سچ، ہر مقبول رائے کو درست اور ہر تیز رفتار تبدیلی کو ترقی سمجھنے کے بجائے رکیں،

سوچیں، پرکھیں اور پھر فیصلہ کریں۔ کیونکہ جس دن انسان نے سوال کرنا چھوڑ دیا، اس دن اس کا ذہن دوسروں کی آرا کا اسیر بن جائے گا۔ جس دن اس نے تحقیق کے بجائے تقلید کو ترجیح دے دی، اس دن علم کا راستہ تنگ ہونے لگے گا اور جس دن اس نے معلومات کو شعور کا متبادل سمجھ لیا، اس دن ترقی کے تمام ظاہری مظاہر کے باوجود اس کی فکری زندگی زوال کا شکار ہو سکتی ہے۔ معلومات کا سیلاب ہمیں ڈبوئے یا ساحل تک پہنچائے، اس کا فیصلہ معلومات کی مقدار نہیں، ہمارے شعور کی گہرائی کرے گی۔ ہمیں یہ طے کرنا ہے کہ ہم محض خبریں جمع کرنے والے انسان بننا چاہتے ہیں یا حقیقت کو سمجھنے، سچائی کو پہچاننے اور اپنی زندگی سے دوسروں کی زندگیوں میں بہتری لانے والے باشعور انسان۔ کیونکہ آخرکار تاریخ ان لوگوں کو یاد نہیں رکھتی جنہوں نے صرف بہت کچھ دیکھا اور سنا، بلکہ ان لوگوں کو یاد رکھتی ہے جنہوں نے سمجھا، سوچا، سچ کا ساتھ دیا اور اپنے علم کو انسانیت کی بھلائی کے لیے استعمال کیا۔