مشکلات ہی کامیابی کی سیڑھیاں ہیں،تحریر: دانش رحمان
نقطہ نظر
زندگی ایک سیدھا اور آسان سفر نہیں یہ ایک ایسا راستہ ہے جس میں ہر موڑ پر رکاوٹیں آزمائشیں اور مشکلات موجود ہوتی ہیں۔ کچھ افراد ان مشکلات کو دیکھ کر ہمت ہار جاتے ہیں جبکہ کچھ انہیں سیڑھی بنا کر بلندی کی طرف بڑھتے چلے جاتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ مشکلات ہی کامیابی کی سیڑھیاں ہیں۔ بغیر جدوجہد اور آزمائش کے حاصل کی گئی کامیابی نہ پائیدار ہوتی ہے اور نہ ہی اس کی کوئی گہری معنویت جو شخص مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے آگے بڑھتا ہے وہی حقیقی معنوں میں کامیاب کہلانے کا حق دار ہوتا ہے۔
دنیا کی تاریخ ایسے ہی انسانوں کی داستانوں سے بھری پڑی ہے جنہوں نے مشکلات کو موقع میں بدلا۔ ہر بڑی کامیابی کے پیچھے محنت صبر استقامت اور مسلسل جدوجہد کی ایک طویل کہانی موجود ہوتی ہے۔ کوئی بھی عظیم شخصیت بغیر آزمائش کے سامنے نہیں آئی مشکلات انسان کو توڑتی نہیں بلکہ اس کے اندر پوشیدہ صلاحیتوں کو بیدار کرتی ہیں۔ جب فرد مشکل حالات سے دوچار ہوتا ہے تو اس کے اندر سوچنے مقابلہ کرنے اور نئے راستے تلاش کرنے کی قوت جنم لیتی ہےیہی قوت اسے کامیابی کی منزل کی طرف گامزن کرتی ہے۔
آج پاکستانی معاشرے میں کثیر تعداد میں نوجوان مشکلات سے گھبرا کر مایوسی کا شکار ہو جاتے ہیں بے روزگاری مہنگائی تعلیمی دباؤ خاندانی مسائل اور سماجی چیلنجز انہیں اس نتیجے پر پہنچا دیتے ہیں کہ کامیابی ان کے مقدر میں نہیں یہ سوچ خود سب سے بڑی رکاوٹ بن جاتی ہےحقیقت یہ ہے کہ مشکل بذاتِ خود بری نہیں ہوتی برا ہوتا ہے اس کے سامنے ہار مان لیناجو شخص مشکل کو قبول کرتا ہے اور اس سے نبردآزما ہونے کا فیصلہ کرتا ہے وہ آہستہ آہستہ آگے کی طرف بڑھنا شروع کر دیتا ہے۔
مشکلات انسان کو صبر کا درس دیتی ہیں صبر محض خاموش بیٹھے رہنے کا نام نہیں بلکہ مشکلات کے باوجود کوشش جاری رکھنے کا نام ہے۔ جب انسان بار بار ناکامی سے دوچار ہوتا ہے مگر ہمت نہیں ہارتا تو اس کے اندر ایک غیر معمولی قوت پیدا ہو جاتی ہے۔ یہ قوت اسے اگلی کوشش میں زیادہ پختہ اور بہتر بنا دیتی ہے۔ متعدد کامیاب شخصیات کا اعتراف ہے کہ ان کی سب سے بڑی کامیابیاں انھی ناکامیوں کے بعد نصیب ہوئیں جنہوں نے انہیں تقریباً توڑ دیا تھامشکلات نے انہیں جھکا دیا مگر توڑا نہیں۔
مشکل حالات انسان کو خود شناسی بھی عطا کرتے ہیں خوشحالی اور آسانی کے دور میں فرد اکثر اپنے آپ کو صحیح طور پر نہیں پہچان پاتاوہ اپنی کمزوریوں سے غافل رہتا ہے۔ لیکن جب مشکل آتی ہے تو انسان مجبور ہو جاتا ہے کہ وہ اپنے اندر جھانکےوہ اپنی صلاحیتوں اپنی غلطیوں اور اپنی طاقت کو پہچانتا ہے یہ خود شناسی اسے بہتر فیصلے کرنے کے قابل بناتی ہے۔ بہت سے لوگ مشکل کے بعد بالکل نیا انسان بن کر نکلتے ہیں ان کی سوچ ترجیحات اور زندگی کا انداز بدل جاتا ہے۔
مشکلات انسان کو شکرگزاری کا درس بھی دیتی ہیں۔ جب فرد مشکل حالات سے گزر رہا ہوتا ہے تو وہ چھوٹی چھوٹی نعمتوں کی قدر کرنے لگتا ہے۔ صحت خاندان معمولی سی خوشی سب کچھ قیمتی محسوس ہونے لگتا ہے یہ احساس اسے متوازن شخصیت عطا کرتا ہے۔ جو شخص صرف آسانیاں دیکھتا ہے وہ اکثر ناشکرا ہو جاتا ہے اس کے برعکس جو مشکلات سے گزر کر گزرتا ہے وہ زندگی کی حقیقی قدر کو بہتر طور پر سمجھتا ہے۔
کامیابی کا راستہ کبھی سیدھا اور ہموار نہیں ہوتا اس میں گراؤٹ ناکامیاں تنقیدیں اور مایوسیاں شامل ہوتی ہیں جو لوگ صرف آسان راستہ تلاش کرتے رہتے ہیں وہ اکثر منزل تک نہیں پہنچ پاتے۔ جو افراد مشکلات کو قبول کرتے ہوئے مسلسل آگے بڑھتے ہیں وہی منزل تک رسائی حاصل کرتے ہیں۔ کامیابی دراصل انھی سیڑھیوں کا مجموعہ ہے جو مشکلات کی شکل میں سامنے آتی ہیں۔ ہر مشکل ایک سیڑھی ہے اور ہر سیڑھی انسان کو تھوڑا اور بلند کرتی ہے۔
ہمیں اپنی نئی نسل کو یہ باور کرانا ہوگا کہ مشکل سے ڈرنا نہیں چاہیے۔ انہیں یہ سکھانا ہوگا کہ ناکامی کوئی عیب نہیں بلکہ سیکھنے کا ایک قیمتی موقع ہے۔ امتحان میں ناکامی نوکری نہ ملنا یا کاروبار میں نقصان یہ سب زندگی کے فطری مراحل ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ ان حالات میں انسان کیا ردعمل ظاہر کرتا ہےگر وہ ہمت ہار جائے تو مشکل اسے کچل دیتی ہےاگر وہ سنبھل کر دوبارہ کوشش کرے تو وہی مشکل اسے مزید مضبوط بنا دیتی ہے۔
والدین اور اساتذہ کا کردار اس ضمن میں نہایت اہم ہےانہیں اولاد اور شاگردوں کو صرف آسانیاں فراہم کرنے کے بجائے مشکلات کا سامنا کرنے کا حوصلہ عطا کرنا چاہیےضرورت سے زیادہ حفاظت کبھی کبھی نوجوان نسل کو کمزور بنا دیتی ہے انہیں مناسب حد تک مشکلات کا سامنا خود کرنے دینا چاہیے تاکہ وہ مستقبل کی بڑی آزمائشوں کے لیے تیار ہو سکیں۔ جو فرد بچپن سے ہر چیز آسان پاتا ہے وہ بڑا ہو کر معمولی سی مشکل پر بھی متزلزل ہو جاتا ہے۔
معاشرتی سطح پر بھی یہ شعور پیدا کرنا ضروری ہے کہ کامیابی محض قسمت کا لکھا نہیں بلکہ محنت استقامت اور مسلسل جدوجہد کا نتیجہ ہے۔ جو لوگ مشکلات سے نبردآزما ہو کر آگے بڑھتے ہیں ان کی مثالیں نوجوان نسل کے سامنے لانی چاہییں ان کی کاوشیں اور جدوجہد نوجوانوں کو حوصلہ اور سمت عطا کرتی ہیں۔ جب ایک نوجوان دیکھتا ہے کہ کسی نے شدید مشکلات کے باوجود کامیابی حاصل کی تو اس کے اندر بھی امید اور عزم پیدا ہوتا ہے۔
مشکل حالات انسان کو تخلیقی بھی بناتے ہیں جب روایتی راستے بند ہو جاتے ہیں تو ذہن نئے حل تلاش کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ بہت سی اہم ایجادات اور انکشافات مشکلات کے نتیجے میں ہی سامنے آئے۔ جب وسائل محدود ہوتے ہیں تو سوچ زیادہ تیزی سے کام کرتی ہے۔ ضرورت ایجاد کی ماں ہے یہ قول بالکل درست ہے مشکلات انسان کے اندر چھپی صلاحیتوں کو باہر نکالنے پر مجبور کر دیتی ہیں۔
آخر میں یہ حقیقت قبول کرنا ضروری ہے کہ زندگی سے مشکلات کو ختم نہیں کیا جا سکتامشکلات آتی رہیں گی فرق صرف اتنا ہے کہ کچھ لوگ ان کے سامنے ہار مان لیتے ہیں اور کچھ انہیں سیڑھی بنا لیتے ہیں۔ جو شخص مشکل کو دشمن سمجھتا ہے وہ اس سے خوفزدہ رہتا ہے۔ جو اسے استاد سمجھتا ہے وہ اس سے سیکھتا اور آگے بڑھتا ہے۔ کامیابی انھی افراد کے حصے میں آتی ہے جو مشکلات کو سیڑھی بنا کر چڑھنا جانتے ہیں
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم مشکلات سے بھاگنے کے بجائے ان کا سامنا کریں۔ ہر مشکل کے اندر ایک سبق پوشیدہ ہوتا ہے اور ہر سبق ہمیں کامیابی کے قریب تر کر دیتا ہے جو شخص اس حقیقت کو سمجھ لیتا ہے وہ زندگی کے کسی بھی مرحلے میں ہمت نہیں ہارتا وہ جانتا ہے کہ آج کی مشکل کل کی کامیابی کی بنیاد ہے۔
مشکلات ہی کامیابی کی سیڑھیاں ہیں جو ان سیڑھیوں پر چڑھنا سیکھ لے وہ ضرور منزل مقصود تک پہنچتا ہے۔
مزید پڑھیں





